نوازشریف کے دس نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے وفاقی حکومت کی سرخ جھنڈی بہتر ہے اب پیپلز پارٹی کے ساتھ فائنل رائونڈ کھیل ہی لیا جائے
ـ 20 فروری ، 2011
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نوازشریف نے حقیقی سیاسی تبدیلیوں کو ملک کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس کیلئے جدوجہد میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے ہمیں ایسے ساتھیوں کا انتخاب کرنا ہے جو مشکل اور کٹھن وقت میں ثابت قدم رہیں۔ گذشتہ روز ماڈل ٹائون لاہور میں اپنی پارٹی کے تنظیمی اجلاسوں کے دوسرے روز پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتیں ناکام ہو سکتی ہیں مگر جمہوریت ناکام نہیں ہوتی۔ جمہوریت کی طاقت سے ہی پاکستان معرض وجود میں آیا اور جمہوری حکومتوں نے ہی ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔ ان کے بقول ملک میں بے چینی اور مایوسی کی وجہ آمرانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ ہم نے قومی مفاد میں دس نکاتی ایجنڈہ پیش کیا مگر حکمرانوں نے جمہوری ڈگر اپنانے کے بجائے آمرانہ پالیسیوں کو ترجیح دی۔ ہم اس ایجنڈہ کو یقینی بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے باور کرایا کہ ہم نے پاکستان کی قسمت سنوارنے کیلئے صدر زرداری سے معاہدہ کیا مگر انہوں نے ایک مہینے کے اندر ہی معاہدہ توڑ دیا اور ہماری بہتری کی ہر کوشش ناکام بنا دی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جرنیلی آمریتوں کے تلخ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے میاں نوازشریف نے آئندہ کیلئے جمہوریت کو طالع آزمائوں کی سازشوں سے بچانے کی خاطر جمہوری سیاسی قوتوں کے باہمی اتحاد و اتفاق کی ضرورت کا احساس کیا تھا اور اسی جذبے کے تحت انہوں نے اپنی حریف جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ اپوزیشن اتحاد اے آر ڈی میں اشتراک عمل طے کیا اور پھر لندن جا کر محترمہ بے نظیر بھٹو اور اے آر ڈی کے دیگر قائدین کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کئے جس میں جمہوری سیاسی قوتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ عہد کیا تھا کہ وہ آئندہ کسی بھی جمہوری سیٹ اپ پر شب خون مارنے کی نہ جرنیلی طالع آزمائوں کو اجازت دیں گے اور نہ ان کے ساتھ شراکت اقتدار کی خاطر انہیں جمہوری نظام کو گرانے کیلئے ماضی کی طرح اپنا کندھا پیش کریں گے۔
مشرف کی جرنیلی آمریت کے خلاف عوام نے 18 فروری 2008ء کے انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے خاموش انقلاب برپا کیااور اس آمریت کو اس کی باقیات سمیت مسترد کر کے سلطانیٔ جمہور کی راہ ہموار کی تو میاں نوازشریف نے میثاق جمہوریت کی بنا پر ہی پیپلز پارٹی کے ساتھ سلسلۂ جنبانی شروع کیا اور اس پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ اسلام آباد اور بھوربن کی میٹنگوں میں زبانی اور تحریری معاہدے کر کے وفاقی حکومت میں شراکت قبول کی۔ ان معاہدوں کے تحت حکومت نے مشرف آمریت کی معزول کی گئی عدلیہ کو بحال کر کے اور 17ویں آئینی ترمیم کے تحت مشرف کے آمرانہ اقدامات کو آئین کا حصہ بنانے والی آئینی دفعات کو پارلیمنٹ کے ذریعہ منسوخ کرا کے ملک میں سلطانیٔ جمہور کے استحکام کی راہ ہموار کرنی تھی مگر حکمران پیپلز پارٹی نے اپنے ایجنڈے کے تحت نہ صرف ان معاہدوں پر عملدرآمد سے گریز کیا بلکہ ملکی اور قومی معاملات میں مشرف آمریت کی اختیار کی گئی ڈگر پر ہی چلنا شروع کر دیا۔ چنانچہ مسلم لیگ (ن) کو اقتدار سے الگ ہو کر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا پڑا مگر اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے میاں نوازشریف جمہوریت کو بچانے کے عہد پر کاربند ہو کر وفاقی حکمرانوں کی بداعمالیوں، بے ضابطگیوں اور آئین و قانون کی حکمرانی کے خلاف ان کی سازشوں کو بھانپ کر بھی انہیں گرنے سے بار بار بچاتے رہے اور خود پر فرینڈلی اپوزیشن کا لیبل لگواتے رہے۔ انہوں نے حکومت کیلئےآنے والے ہر مشکل مرحلے میں جمہوریت کی بقا و استحکام کی خاطر وفاقی حکمرانوں کو سہارا فراہم کیا جبکہ اس کے برعکس حکمران پیپلز پارٹی کی حکومتی اور جماعتی قیادتوں نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور ڈوگر کورٹ کے ذریعے میاں شہباز شریف کو نااہل قرار دلوا کر پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے میں ذرہ بھر دیر نہ لگائی، پھر عدالتی عملداری پر میاں شہباز شریف کی بحالی کے بعد مسلم لیگ (ن) کا اقتدار بھی بحال ہوا تو پیپلز پارٹی نے شریک اقتدار ہونے کے باوجود پنجاب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں جاری رکھیں۔
سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی کی اس فضا میں بھی میاں نوازشریف نے سسٹم کے استحکام کی خاطر صدر زرداری سے ملاقات کی اور میاں شہباز شریف نے بھی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ذریعہ وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات کار برقرار رکھے۔ میاں نوازشریف نے قومی جذبے کے تحت حکمران پیپلز پارٹی سمیت تمام قومی سیاسی جماعتوں کو 25 سال کے میثاق پاکستان کی تجویز بھی پیش کی مگر حکمران پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی تعاون کی ہر پیشکش پر نہ صرف سردمہری کا مظاہرہ کیا گیا بلکہ عملاً مسلم لیگ (ن) کو دیوار سے لگانے کی سازشیں بھی کی جاتی رہیں۔ گذشتہ ماہ کے آغاز ہی میں ایم کیو ایم متحدہ اور جمعیت علما ء اسلام کے حکومت سے الگ ہو کر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کے نتیجہ میں جب پیپلز پارٹی کا اقتدار خطرات میں گھرا اور وزیراعظم کیلئے دوبارہ اعتماد کے ووٹ کی نوبت آنے لگی تو انہوں نے پھر میاں نوازشریف کا دامن تھام لیا۔ چنانچہ میاں نوازشریف نے عوام کی بہتری اور سسٹم کے استحکام کی خاطر گڈ گورننس کے لئے وفاقی حکومت کو اپنا دس نکاتی ایجنڈہ پیش کیا جس پر عملدرآمد کیلئے حکومت کو 45 روز کی مہلت دی گئی جس پر وزیراعظم نے ٹیلی ویژن پر آ کر ہاں کی مگر اس ایجنڈے پر عملدرآمد کے لئے کوئی پیشرفت کرنے کے بجائے وہ نائن زیرو کراچی جا پہنچے اور ایم کیو ایم کو سرکاری بنچوں پر واپس لے آئے جس کے بعد میاں نوازشریف کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے معاملہ میں بے کار مذاکرات کا سلسلہ شروع کرا کے وقت گزارنے کی پالیسی اختیار کی گئی اور اسی دوران سرکاری بنچوں کی طے شدہ حکمت عملی کے تحت ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) نے بھی اپنے اپنے مبینہ اصلاحاتی ایجنڈے حکومت کو پیش کر دئیے جس کا مقصد میاں نوازشریف کے پیش کردہ ایجنڈے کو ناکام بنانا تھا۔
اب جبکہ میاں نوازشریف کے ایجنڈے پر عملدرآمد کی ڈیڈ لائن پوری ہونے میں صرف دو روز باقی رہ گئے ہیں۔ حکمران پیپلز پارٹی کی جانب سے اس ایجنڈے کے کسی ایک نکتے پر بھی عملدرآمد نہیں کرایا جا سکا۔ جبکہ اب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے یہ کہہ کر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اس کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے معاملہ میں سرخ جھنڈی دکھا دی ہے کہ میثاق جمہوریت کا جہاز اب ڈوبنے والا ہے۔ وہ نائین زیرو کراچی پہنچ کر ایم کیو ایم کے ساتھ حکومتی اتحاد و تعاون برقرار رکھنے کیلئے تجدید عہد بھی کر آئے ہیں اس لئے اب پنجاب کے اقتدار میں پیپلز پارٹی کی ساجھے کی ہنڈیا اب بیچ چوراہے میں پھوٹنے ہی والی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت پہلے بھی دما دم مست قلندر کے نعرے لگاتی رہی ہے جبکہ پنجاب میں اقتدار سے نکلنے کے بعد سیاسی محاذ آرائی میں گرما گرمی کے ساتھ کشیدگی اور منافرت کی فضا بھی پیدا ہو سکتی ہے جس کے اثرات سسٹم کی کمزوری کی صورت میں ہی مرتب ہوں گے جبکہ اسی خطرے کی بنیاد پر میاں نوازشریف وفاقی حکومت کو کوئی گزند نہ پہنچنے دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
جب وفاقی حکمرانوں کو سسٹم کو لاحق اس خطرے کا خود ہی احساس نہیں ہے اور وہ ملک کے ہر طبقہ زندگی کے لوگوں کی کڑی تنقید کے باوجود اپنی حکمرانی میں کسی قسم کی اصلاح پر آماددہ نہیں اور اپنے آمرانہ انداز میں حکومت کرنے پر ہی مصر ہیں تو میاں نوازشریف کیلئے سسٹم کو بچانے کے جذبے کے تحت پھر وفاقی حکمرانوں کو سہارا دینے کا نہیں، اس کرپٹ نظام سے نجات کے لئے عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا وقت ہے۔ اب انہیں حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہئے اور اپنے دس نکاتی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سرگرم ہو جانا چاہئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے 22 فروری کو پنجاب حکومت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ فائنل رائونڈ کا اعلان کیا ہے تو اب یہ فائنل رائونڈ کھیل ہی لیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے بھی اپنے قائدین کو یہی مینڈیٹ دیا ہے اور قوم بھی آمریت کے لبادے میں لپٹے موجودہ سسٹم کے خاتمہ کیلئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے یہی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہے۔ اس سسٹم کے پیدا کردہ مسائل کے انبار میں جو قیادت عوام کی توقعات پر پورا اتریگی وہی مستقبل کی سیاست میں سرخرو ہو گی، توقع کی جانی چاہئے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اس صورت حال کا مکمل احساس و ادراک ہو گا۔
اشتعال انگیزی سے بچنے کیلئے امریکہ دوہرا معیار ختم کرے
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کیخلاف اشتعال انگیزی روک دے ۔ پاکستان اور امریکہ کو ملکر اختلافات دور کرنے ہونگے جبکہ دوسری طرف آئی ایس آئی کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے امریکی سی آئی اے کے ساتھ تعلقات ہیں۔ امریکہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے مختلف ممالک میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بد امنی کی فضا قائم کرنیکاماسٹر ہے۔ ماضی میں وہ آخری وقت تک اپنے من پسند ڈکٹیٹروں کا ساتھ دیتا رہا لیکن ایرانی انقلاب کے بعد عوامی غیض و غضب کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے اب عوام کا ساتھ دینا شروع کردیا ہے۔ تیونس اور مصر میں امریکہ عوام کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ پاکستان میں امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کی مذموم کارروائی کے بعد پاکستانی عوام میں امریکہ کیخلاف اشتعال انتہائی درجے کا پایا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام کا برانگیختہ ہونا حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ امریکہ دہشت گردی کی نام نہاد جنگ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں تک پہنچا چکا ہے۔اسرائیل اور بھارت کی سرپرستی کرکے پاکستان کی سالمیت کو سنگین خطرات لاحق کرچکا ہے امریکہ جانے والے پاکستانیوں کی اپنے ائیر پورٹوں پر تذلیل کرتا ہے جبکہ پاکستان میں اپنے ہر ایرے غیرے کیلئے سفارتی استثنیٰ کا مطالبہ کرتا ہے ایسے حالات میں عوام کے دلوں میں نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا موقف درست ہے کہ ہم امریکی امداد کی خاطر ملکی وقار کا سودا نہیں کرسکتے، بقول قریشی اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کا وقت آگیا ہے امریکہ کو پاکستان کیساتھ دوہرا معیار ختم کرنا ہوگا جب تک دوہرا معیار ختم نہیں ہوتا اس وقت تک امریکہ مخالف نظریات زائل نہیں ہونگے۔ امریکی صدر اور وزیر خارجہ قاتل ریمنڈ کیلئے استثنیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں کیا وہ امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ نہیں ہے۔ریمنڈ کے سی آئی اے سے تعلقات نے پاک امریکہ تعلقات پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔کیا سی آئی اے کی ایسی حرکتوں سے پاک امریکہ تعلقات خوشگوار رہ سکیں گے؟ ہیلری کلنٹن اگر پاکستانی عوام کے دلوں سے امریکہ کیخلاف کدورتیں ختم کروانے کی خواہاں ہیں تو انہیں بھارت اور اسرائیل سے بڑھ کر پاکستان کیساتھ تعلقات استوار کرنا ہونگے اور سی آئی اے کے ایجنٹوں کو فی الفور پاکستان کیخلاف زہر اگلنے سے روکنا ہوگا،بصورت دیگر ایرانی عوام سے بڑھ کر پاکستانیعوام کے امریکہ مخالف جذبات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔
ایڈہاک ججوں کی تقرری کے معاملہ میں بنچ اور بار کا اظہار یکجہتی
فیڈرل جوڈیشل کمیشننے چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں اپنی میٹنگ میں گزشتہ روز سپریم کورٹ کے ایڈہاک ججوں کیلئے جسٹس خلیل رمدے اور جسٹس رحمت حسین جعفری کے ناموں پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث اس تقرر کو مؤخر کر دیا جب کہ سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی سفارش کر دی گئی۔ اجلاس میں کمشن کے ارکان وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان اور اٹارنی جنرل کے علاوہ پاکستان بار کونسل کے نمائندے ڈاکٹر خالد رانجھا نے بھی ججوں کے ایڈہاک تقرر اور سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کیلئے متذکرہ دونوں شخصیات کی مخالفت کی جس پر کمشن نے ان کے تقرر کا معاملہ مؤخر کر دیا۔
جوڈیشل کمشن کا یہ فیصلہ اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ اس سے بار اور بنچ میں ممکنہ کشیدگی کی فضا ٹل گئی ہے اور جسٹس خلیل رمدے اور جسٹس رحمت حسین جعفری کے دوبارہ سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کے تقرر کی مخالفت کرنے والی وکلا تنظیموں نے پھر سے آزاد عدلیہ اور جوڈیشل کمشن کی سفارشات سے ججوں کے تقرر کے وضع کردہ طریق کار پر اعتماد کا اظہار کر دیا ہے جس سے بار اور بنچ کے ایک گاڑی کے دو پہیئے ہونے کا تاثر پختہ ہو گا اور اپنے مخصوص مفادات کی خاطر بار اور بنچ کو ایک دوسرے سے لڑانے کی سازش کرنیوالے عناصر کو منہ کی کھانا پڑیگی۔ اگرچہ آئین میں ایڈہاک ججوں کے تقرر کی گنجائش موجود ہے اور اس تقرر کیلئے چیف جسٹس پاکستان کی سفارشات ہی حتمی قرار پاتی ہیں تاہم فیڈرل جوڈیشل کمشن میں عدلیہ کی غالب اکثریت ہونے کے باوجود چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے فہم و فراست سے کام لیکر اداروں کے ٹکرائو کی فضا پیدا کرنیوالے عناصر کو اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ سپریم کورٹ بار کی صدر بیگم عاصمہ جہانگیر نے جنہوں نے جوڈیشل کمشن کے اجلاس سے ایک روز قبل چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات بھی کی تھی، سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججوں کے تقرر کو مؤخر کرنے پر جوڈیشل کمشن کا شکریہ ادا کیا ہے جو درحقیقت بار کی جانب سے بنچ کیلئے خیرسگالی کے پیغام کا اعادہ ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ قانون و انصاف کی عملداری کیلئے بھی بار عدلیہ کی کوششوں کا مکمل ساتھ دیگی اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائیگا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں