وزیراعظم کی جانب سے نگران ڈیزاسٹر مینجمنٹ کونسل کے قیام کا اعلان امدادی کاموں کیلئے میاں نواز شریف اب حکومت پر تکیہ نہ کریں

ـ 21 اگست ، 2010
متاثرین سیلاب کی امداد کے شفاف اور دانشمندانہ طور پر استعمال کیلئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ’’نیشنل اوورسائٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کونسل‘‘ (این او ڈی ایم سی) بنانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا‘ اجلاس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ‘ مسلح افواج کے سربراہان‘ وزیراعظم آزاد کشمیر‘ وفاقی اور صوبائی وزراء اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ یہ کونسل اچھی شہرت اور بے داغ کردار کی حامل شخصیات پر مشتمل ہو گی‘ جن کا تعلق مختلف شعبوں سے ہو گا۔ کونسل کے ارکان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ فنڈز شفاف طریقے سے استعمال اور تقسیم کئے جائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یو این سیکرٹری جنرل بانکی مون کی اپیل کے بعد عالمی برادری کی امداد سے بڑے انسانی المیے سے بچنے میں مدد ملے گی۔ انکے بقول وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور عوام اس سانحہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل متحد ہیں‘ حکومت نے سیلاب زدگان کی عبوری امداد کیلئے 40 ارب روپے مختص کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے ان سے قومی فلڈ کمشن کی تشکیل میں تاخیر پر استفسار کیا جس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس بارے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے بات کرکے انہیں آگاہ کرینگے۔ اسلام آباد میں منعقدہ مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں اس صورتحال پر غور کیا گیا اور وزیراعظم کی جانب سے قومی فلڈ کمشن کے بجائے نگران ڈیزاسٹر مینجمنٹ کونسل کی تشکیل کے اعلان کو میاں نوازشریف کی تجویز سے انحراف کے مترادف قرار دیا۔ مسلم لیگ (ن) نے متاثرین سیلاب کی بحالی و امداد کے سلسلہ میں اپنی پارٹی کی رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے۔
اس وقت جبکہ یو این سیکرٹری جنرل بانکی مون کی اپیل پر عالمی برادری کی جانب سے سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے پاکستان کو امداد اور فنڈز فراہم کرنے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں‘ حکومت کی سطح پر ایسے ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے جانے چاہئیں تھے‘ جس سے امدادی فنڈز کے استعمال کے بارے میں عالمی برادری میں پیدا شدہ تحفظات دور کرنے میں مدد ملتی تاکہ وہ دل کھول کر سیلاب زدگان کی امداد کرتے‘ ایسی پیدا شدہ غلط فہمیوں اور تحفظات کے ازالہ کیلئے میاں نوازشریف نے قومی جذبے کی بنیاد پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے خود ملاقات کی اور انہیں ریلیف کی مشترکہ سرگرمیاں شروع کرنے اور ایک آزاد قومی فلڈ ریلیف کمشن تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جس سے وزیراعظم نے مکمل اتفاق کیا اور پھر وزیراعظم اور میاں نوازشریف نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعہ جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کی سربراہی میں ایک آزاد قومی فلڈ ریلیف کمشن تشکیل دینے کا اعلان کیا جس کے ارکان کی نامزدگی ایک دو روز تک عمل میں لانے اور دیگر تفصیلات طے کرنے کا قوم کو مژدہ سنایا گیا‘ اگر یہ کمشن تشکیل دے دیا گیا ہوتا تو اس سے ملک کے اندر سیاسی رواداری اور اہم قومی معاملات میں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے کی فضاء مستحکم ہوتی اور بیرون ملک امدادی فنڈز کی تقسیم کے بارے میں پیدا شدہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہوتا اور جن ممالک کی جانب سے حکومت پاکستان کو فنڈز فراہم کرنے کے معاملہ میں مختلف تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا‘ اس کا بھی ازالہ ہو جاتا مگر محض اس بنیاد پر کہ مشترکہ امدادی سرگرمیاں شروع کرنے اور ان کا تجویز کردہ آزاد قومی فلڈ کمشن قائم کرنے سے کہیں میاں نوازشریف سیاسی پوائنٹ سکور نہ کرلیں‘ حکومت کی جانب سے متذکرہ کمشن کی تشکیل کے معاملہ میں پس و پیش سے کام لینا شروع کر دیا گیا اور آئینی ماہرین کے حوالے سے خود ساختہ آراء سامنے لائی جانے لگیں کہ ایسے کمشن کی تشکیل آئین کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی جبکہ اس کمشن کی تشکیل کیلئے کوئی قانون موجود ہی نہیں ہے۔ بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ نے یہ کہہ کر اس کمشن کے حوالے سے حکومت کی نیت واضح کر دی کہ محض دو افراد کے اتفاق رائے سے تو قومی کمشن تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ انکے اس مؤقف سے وزیراعظم کے فہم و ادراک کے بارے میں بھی سوال اٹھ سکتا ہے کہ آیا انہوں نے بلاسوچے سمجھے ہی قومی فلڈ کمشن تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا اور اگر ’’دوافراد‘‘ کی جانب سے کئے گئے کسی فیصلے میں وزیراعظم بھی شامل ہوں تو کیا اس فیصلہ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی؟ اب جبکہ وزیراعظم کی جانب سے آزاد قومی فلڈ کمشن کے بجائے نگران ڈیزاسٹر مینجمنٹ کونسل کی تشکیل کا اعلان کر دیا گیا ہے‘ مسلم لیگ (ن) اور میاں نوازشریف کو مزید کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حکومت نے قومی فلڈ کمشن کی تشکیل کے بارے میں انکی تجویز مسترد کر دی ہے۔
اگرچہ وزیراعظم نے میاں نوازشریف کو باور کرایا ہے کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین سے مشورہ کرکے کمشن کی تشکیل کے بارے میں انہیں آگاہ کرینگے‘ تاہم ’’این او ڈی ایم سی‘‘ کے قیام کے اعلان کے بعد حکومت کی سطح پر میاں نوازشریف کے تجویز کردہ کمشن کی تشکیل کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی اور اس معاملہ میں صدر آصف علی زرداری کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے بھی میاں نوازشریف کے ساتھ بدعہدی کی گئی ہے۔
بلاشبہ حالات تو اسی کے متقاضی تھے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں قومی اتحاد و یکجہتی کی فضاء بنائی جاتی اور حکومت تمام قومی سیاسی قائدین کی معاونت سے متاثرین سیلاب کی امداد وبحالی کیلئے سرگرم عمل ہوتی تاکہ مخیر حضرات اور دیگر طبقات زندگی کے لوگوں میں بھی متاثرین کی دل کھول کر امداد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا اور بیرون ملک بھی یہی تاثر جاتا کہ قومی سانحہ سے عہدہ براء ہونے کیلئے پاکستان کے عوام حکومت کے ساتھ ہیں۔ میاں نوازشریف نے قومی یکجہتی کی اسی فضاء کیلئے خود پیشرفت کرکے وزیراعظم سے رابطہ کیا تھا جن کی تجویز پر عملدرآمد شروع ہوتا تو اس سے حکومت کی اپنی ساکھ بہتر ہو جاتی جبکہ اب نازک قومی ایشو پر بھی حکومت کی جانب سے قومی مفاہمت سے گریز کی پالیسی سے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو بھی یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ پاکستانی سیاست دان نمبر بنانے کے بجائے متاثرین کی مدد کیلئے متحد ہو جائیں‘ امدادی فنڈز کی شفاف تقسیم کے معاملہ میں جو ممالک پہلے ہی تحفظات کا شکار ہیں‘ موجودہ صورتحال میں انکے تحفظات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور خدشہ ہے کہ انکی اعلان کردہ امدادی رقوم کی فراہمی کہیں رک نہ جائے۔
یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ مصیبت اور آزمائش کی اس گھڑی میں بھی حکومت کی جانب سے اپنے سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھا جا رہا ہے‘ عوام تو حکومت کی کارکردگی کے معاملہ میں پہلے ہی سخت مایوس ہیں‘ اب سیلاب زدگان کی بحالی کے معاملہ میں حکومت کے غیرسنجیدہ رویے سے عوام کی بدگمانیوں میں مزید اضافہ ہو گا اور میاں نوازشریف کا یہ خدشہ درست ثابت ہو سکتا ہے کہ سیلاب سے تباہ و برباد ہونے والے سکھر کے لوگ کراچی اور مظفرگڑھ کے لوگ لاہور کا رخ کرینگے اور اقتدار کے ایوانوں کو جھنجوڑیں گے۔
حکومت نے تو بہرصورت اپنی پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنا ہے‘ اب میاں نوازشریف کو بھی حکومت کے معاملہ میں مزید کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے اور جس قومی جذبے کے ساتھ وہ سیلاب زدگان کی بحالی کی خاطر حکومت سے تعاون کرنے پر آمادہ تھے‘ اسی جذبے کو بروئے کار لا کر وہ اپنی پارٹی کو ملک گیر امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کیلئے مستعد کریں۔ اب انہیں حکومت پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنے پارٹی پلیٹ فارم پر ہی سیلاب کی تباہ کاریوں میں لوگوں کے ہونیوالے نقصانات کی تلافی کی جامع حکمت عملی طے کرنی چاہیے‘ جس سے انکے قومی قائد ہونے کا تشخص بھی پختہ ہو گا۔
روشنیوں کا شہر
خون میں کیوں ڈوب رہا ہے …؟
کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اے این پی کے راہنما اور پیپلز یونٹی آف پی آئی اے ایمپلائز کے کارکن سمیت 14افراد جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والوں میں 55سالہ سالار عبیداللہ یوسف زئی جو کہ پی آئی اے کارگو سروس میں ملازم اور عوامی نیشنل پارٹی صوبہ سندھ کے معروف راہنما بھی تھے انکے ساتھ کارگو سروس کے ایک اور 44سالہ سلیم اختر بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ دونوں کوجناح ہسپتال لے جایا گیا جہاں بہت سے لوگوں نے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا شہر بھر کے مختلف مقامات پر 14 افراد کی ہلاکت اور بیسیوں افراد کے زخمی ہونے پر شہریوں میں زبردست ہیجان اور غیض و غضب پیدا ہو گیا اور کراچی شہر ایک بار پھر زبردست احتجاجی مظاہروں کا مرکز بن گیا۔ ہر طرف لاقانونیت کا راج نظر آیا اور شہری اپنے گھروں میں بند ہوگئے۔ ایک سیاسی تنظیم کے دفاتر کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک سمیت تین بڑی سیاسی پارٹیوں کے درمیان تحریری معاہدہ ہوجانے کے بعد بھی یہ بد امنی بے گناہ اور نہتے شہریوں کا قتل عام جاری ہے۔ پیپلز پارٹی اے این پی اور ایم کیو ایم کے لیڈر اس ٹارگٹ کلنگ کو بند کرانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اپنی پولیس فورس، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور رینجرز کی حاصل معاونت کے باوجود نہ تو ٹارگٹ کلرز کا سراغ لگا سکے ہیں اور نہ ہی شہر میں دندناتے ہوئے قاتلوں کو پکڑ سکے ہیں۔ اتنی بڑی پولیس فورس اور خفیہ ایجنسیوں کا کیا فائدہ؟ تین اہم ترین پارٹیوں کے لیڈر قاتلوں کو پکڑنا چاہتے ہیں۔ کراچی کے تمام شہری ایم پی اے ایم این اے اور سینیٹرز کراچی میں امن و امان بحال کرناچاہتے ہیں۔ اسکے باوجود یہ کون لوگ ہیں جو روشنیوں کے شہر کراچی کو ہمہ وقت لہولہان کرتے ہیں؟ صوبہ سندھ میں اگر کوئی حکومت ہے تو انہیں اس سلسلہ میں فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
آرمی چیف کا مستحسن اقدام
آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے تھیلیسمیا میں مبتلا بچے عبدالباسط کی خواہش پر اسے ایک دن کا فوجی بنا دیا۔ آرمی چیف سینے میں اچھا دل رکھتے ہیں اور احساس کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں۔ انہوں نے تھیلیسمیا میں مبتلا بچے کی خواہش پوری کر دی‘ بہت اچھا کیا مگر کیا ہی بہتر ہوتا کہ وہ اس بچے کا علاج اپنے ادارے کے ذمہ لے لیتے اور اسے تربیت دیکر باقاعدہ فوج میں بھرتی کرلیتے۔ ایک دن کی خوشی تو بچہ سقہ کو بھی افغانستان کے بادشاہ نے دیدی تھی۔ مزہ تو جب ہے کہ آرمی چیف مستقلاً اس بچے کی خواہش کو پورا کر دیں‘ موت و حیات کا مالک تو خدا ہے‘ مگر انسانی نیک ارادوں میں وہ برکت ضرور ڈالتا ہے۔ پاکستانی فوج کا تو ہر فوجی وطن کی خاطر جان ہتھیلی پر لئے پھرتا ہے‘ اگر اس بچے کا باقاعدہ علاج کیا جائے تو یہ تندرست ہو کر ممکن ہے‘ ملک کیلئے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیدے کیونکہ یہ بچہ بنیادی طور پر ایک سپاہی ہے اور اسکی سپاہیانہ صلاحیت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اگر جنرل کیانی یہ کام کر گزریں تو یہ انکا صدقہ جاریہ ہو گا۔
بھارت میں قید پاکستانیوں کی حالت زار
بھارتی جیلوں میں قید تین پاکستانی جاں بحق ہو گئے‘ وزارت داخلہ کیمطابق تینوں پاکستانیوں کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے انکی میتوں کی پاکستان میں منتقلی میں مشکلات ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بھارتی جیلوں میں جاں بحق ہونے والے تینوں قیدی ذہنی توازن کھو چکے تھے‘ جن کے نام مختار‘ بشیر احمد اور منشیا بتائے گئے ہیں۔ انکی تصاویر بھی موصول ہو گئی ہیں‘ بھارتی حکام نے پاکستانی سفارت خانہ کو اطلاع دی ہے کہ تین پاکستانی جو کہ غلطی سے سرحد عبور کرکے بھارت میں داخل ہو گئے تھے‘ انکی لاشیں دہلی کے ایک ہسپتال میں پڑی ہیں۔
دنیا بھر میں اصول رائج ہے کہ غلطی سے سرحد عبور کرنے والوں کو چند گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد اس ملک کے حوالے کر دیا جاتا ہے‘ جہاں کے وہ شہری ہوں‘ مگر بھارتی پولیس ایسے افراد کو جان بوجھ کر خوفناک تشدد کا نشانہ بناتی ہے‘ کئی کئی سال انہیں جیل میں بند کرکے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے‘ انکی شناختی دستاویزات بھارتی پولیس غائب کر دیتی ہے اور بھارت کے ایجنٹ اور جاسوسوں کو یہ کاغذات دیئے جاتے ہیں کہ وہ پاکستان میں جعلی پاسپورٹ اور دیگر شناختی کاغذات لیکر داخل ہوں۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ پاکستان میں موجود بھارتی قیدیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے اور ان سے خوب معلومات حاصل کی جائیں اور بھارت جو اب تک بیسیوں افراد کی نعشیں پاکستان بھیج چکا ہے‘ مگر پاکستان سے جو قیدی بھارت کے حوالے کئے جاتے ہیں‘ یہ سب بقائمی ہوش و حواس ہوتے ہیںاور انہیں پروٹوکول دیکر بھجوایا جاتا ہے۔ پاکستانی سفارت خانہ کو چاہیے کہ بھارتی جیلوں میں محبوس پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات اکٹھی کی جائیں اور ان سب کی باعزت رہائی کیلئے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ریڈکراس انٹرنیشنل کی مدد بھی حاصل کی جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter