سیاسی محاذ آرائی کے اندیشے۔جمہوری قوتوں کا فرض

ـ 19 جون ، 2009
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ہماری پارلیمنٹ مضبوط ہونی چاہئے اختلاف رائے جمہوریت کا حصہ ہے سیاسی جماعتیں خود بھی مضبوط ہوں اور پارلیمنٹ کو بھی مضبوط کریں۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سی این جی پر کاربن ٹیکس ختم کرنے اور پٹرول و ڈیزل پر عائد کاربن ٹیکس پر نظرثانی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غریب عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مضبوط پارلیمنٹ ہی کسی ملک میں نہ صرف قومی مفادات کا تحفظ فراہم کرسکتی ہے بلکہ عوام کے انسانی و جمہوری حقوق کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری سے بھی عہدہ براء ہوسکتی ہے اور انتظامیہ کو عوام کی خدمت کے بنیادی فریضے کی ادائیگی پر مجبور کرنا بھی اس کے دائرہ اختیار میں ہے۔ مضبوط پارلیمنٹ اسی وقت وجود میں آسکتی ہے جب سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں، ان میں جمہوری کلچر فروع پائے، آئین کی پاسداری کا جذبہ موجود ہو اور شخصیات کے بجائے ادارے فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ جمہوری ادارے مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان آج جن مسائل کا شکار ہے ان سے نجات کی واحد صورت بھی یہی ہے کہ تمام ادارے اور شخصیات آئین کی پیروی کو شعار بنائیں اور اختلاف رائے کے جمہوری حق کا احترام کرنے کے ساتھ اسے ذاتی دشمنی میں تبدیل نہ کریں۔ اس کے علاوہ حکمرانی کا بنیادی اصول عوام کی خدمت اور ملک کی فلاح و بہبود ہے۔
موجودہ وفاقی بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے اکثر ارکان نے نافذ کئے جانے والے ناروا ٹیکسوں کے بوجھ اور حکومت کے میڈیا منیجروں کے وژن پر تنقید کی اور کاربن ٹیکس کی واپسی کا مطالبہ کیا جسے وزیراعظم نے پذیرائی بخشی تاہم بجٹ پر بحث کے دوران صدر آصف علی زرداری ارکان کی خصوصی تنقید کا نشانہ بنے جس پر پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب اور رکن اسمبلی مہرین انور راجہ نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا اور مفاہمت کی علمبردار دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے مابین کشیدگی اور محاذ آرائی کا ماحول پیدا ہوا۔ اگرچہ جمہوری نظام میں اختلاف رائے اور پارلیمنٹ میں بحث و تمحیص جو بسااوقات تلخی کا باعث ہی بنتی ہے کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ پارلیمانی جمہوری نظام کا حسن ہے لیکن ملک اس وقت جن غیر معمولی اور پریشان کن حالات سے گزر رہا ہے اور عدلیہ بحالی کی تحریک کی وجہ سے جس بڑے بحران سے بمشکل نکلا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ تمام سیاسی و جمہوری قوتیں نہ سہی لیکن کم از کم دو بڑی جماعتیں جو مرکز اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں برسراقتدار ہیں وہ تلخی، محاذ آرائی اور کشیدگی سے گریز کریں اور ایسے حالات پیدا نہ کریں کہ غیر جمہوری قوتوں کو ایک بار پھر سر اٹھانے اور 1980، 1990ء کی دہائی کی ناخوشگوار یادیں تازہ کرنے کا موقع ملے۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں 17ویں ترمیم کے خاتمے اور میثاق جمہوریت پر اس کی روح کے مطابق عملدآرمد پر اتفاق رائے ہو چکا ہے جبکہ دونوں جماعتیں آئندہ پانچ سال تک ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کی حکومتوں کو عدم استحکام سے دوچار نہ کرنے کے وعدے کر رہی ہیں، مقصد یہی ہے کہ مل جل کر عوام کی خدمت کی جائے۔ آمرانہ دور میں پیدا شدہ سیاسی، اقتصادی اور معاشی بحرانوں کا خاتمہ کیا جائے اور مہنگائی، بے روزگاری، غربت و افلاس اور بدامنی کے علاوہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا عوام کو ریلیف دیا جائے لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پچھلے بجٹ کی طرح موجود بجٹ بھی وار بجٹ کے طور پر سامنے آیا ہے اور اس میں عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینا تو درکنار، نئے ٹیکس متعارف کرائے گئے ہیں اور بجلی پر زرتلافی ختم کرکے عوام کی معاشی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے ایسی صورتحال میں اگر سیاسی محاذ آرائی کا آغاز بھی ہوتا ہے جس کے آثار قومی اسمبلی میں دونوں جماعتوں کے اراکین کی تقاریر اور مولانا فضل الرحمن کے علاوہ اسفند یار ولی کی ناراضگی کی وجہ سے بجٹ پر تقریر سے انکار کی صورت میں سامنے آرہے ہیں جبکہ ایم کیو ایم نے بجٹ کی منظوری میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ ملک و قوم کی بدقسمتی ہوگی۔ طیارہ کیس میں سندھ حکومت کے وکیل نے جس طرح جنرل پرویز مشرف کے موقف کی حمایت کی اور میاں نوازشریف کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی اس سے بھی مستقبل کے اندیشوں کو تقویت ملتی ہے۔
لہٰذا حکومت بالخصوص صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم گیلانی کا فرض ہے کہ جہاں ایک طرف وہ وفاقی بجٹ کو عوام دوست بنانے کیلئے ہدایات جاری کریں وہاں 17ویں ترمیم کے خاتمے، میثاق جمہوریت پر عملدرآمد اور اپوزیشن سے مفاہمت کے ضمن میں اپنے سابقہ دعوے فی الفور پورے کریں تاکہ ملک میں مفاہمت اور مصالحت کا کلچر فروغ پائے اور خواجہ آصف نے موجودہ جمہوری نظام کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے ان کا ازالہ ہوسکے۔ ساڑھے آٹھ سالہ فوجی آمریت کے بعد بحال ہونے والی جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے تمام سیاسی قوتیں بالخصوص دونوں بڑی جماعتیں اخلاص کے ساتھ اپنا فرض اور کردار ادا کریں اور کسی طرف سے بھی کوئی ایسی حرکت نہیں ہونی چاہئے جس سے فائدہ غیر جمہوری قوتیں اٹھا سکیں۔ یہ ملکی بقا اور قومی استحکام کیلئے سخت نقصان دہ صورتحال ہوگی۔
ڈرون حملوں میں تیزی
جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر ملا نذیر کے تربیتی کیمپ پر دو امریکی ڈرون طیاروں کے حملے میں غیر ملکیوں سمیت 13 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے جبکہ سوات‘ مالاکنڈ‘ باجوڑ‘ جنوبی وزیرستان سمیت دیگر علاقوں میں جاری اپریشن کے نتیجہ میں گذشتہ روز 34 شدت پسند ہلاک اور متعدد کے ٹھکانے تباہ ہو گئے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بیت اللہ محسود کے ٹھکانوں پر بمباری جاری ہے جبکہ اپریشن کے باعث متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی میں بھی تیزی آ گئی ہے۔
جنوبی وزیرستان میں فوجی اپریشن کے دوران جس انداز میں تھوک کے حساب سے امریکی ڈرون حملے کئے گئے ہیں اس سے محسوس یہی ہوتا ہے کہ یا تو حکومت نے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری اپریشن کو ناکافی سمجھتے ہوئے ڈرون حملوں کی شکل میں خود ہی امریکہ سے کمک طلب کی ہے یا امریکہ نے فوجی اپریشن کے ذریعے اپنے مقاصد پورے نہ ہوتے پا کر اس اپریشن کے ساتھ ساتھ ڈرون حملوں میں تیزی لانا بھی ضروری سمجھا ہے جس کا مقصد ہمارے حکمرانوں کو یہ باور کرانا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ہمارے احکام کی تعمیل نہیں کریں گے تو ہم آپ کے ملک کے اندر خود فوجی کارروائی کریں گے۔
ہر دو صورتوں میں ڈرون حملوں کا سلسلہ انتہائی افسوسناک ہے اور زیادہ تشویش کی یہ بات ہے کہ اب امریکی ڈرون حملوں کو بھی فوجی اپریشن کا حصہ بنا کر ان حملوں کا جواز نکال لیا گیا ہے۔ اس لئے اب ان حملوں پر کسی حکومتی و عسکری نمائندے کی رسمی مذمت کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی جبکہ یہ حملے ملکی و قومی خود مختاری کے ہی منافی نہیں‘ ان سے بے گناہ شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہو رہی ہیں‘ جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر ملا نذیر کے تربیتی کیمپ کو ڈرون حملوں کاٹارگٹ کرنے اور بیت اللہ محسود کے ٹھکانوں کو نظر انداز کرنے سے طالبان کمانڈر ترکستان بینٹی کے اس الزام کوبھی تقویت حاصل ہوتی ہے کہ بیت اللہ محسود کو امریکہ اور بھارت کی جانب سے مدد مل رہی ہے۔
حکومتی اور عسکری قیادت کو اس حقیقت کا بہرصورت ادراک کرنا چاہئے کہ فوجی اپریشن اور ڈرون حملوں سے عسکریت پسندوں کی کمر تو شاید ہی ٹوٹ پائے گی‘ اس کے ردعمل میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دیگر وارداتوں میں ضرور اضافہ ہو جائے گا اس لئے ملک کے شہریوں کی زندگیوں اور ملک کی سالمیت کو خطرات کی زد میں لانے سے بہرصورت گریز کیا جانا چاہئے اور جتنی جلدی ممکن ہو فوجی ا پریشن کو سمیٹ کر متاثرین اپریشن کی اپنے گھروں کو واپسی کی راہ ہموار کی جائے اور امریکہ کو ڈرون جہازوں سمیت اپنی افواج اس خطہ سے واپس لے جانے پر مجبور کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر یہاں قیام امن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
رہبر ایران خامنہ ای کی معاملہ فہمی
رہبر ایران آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب کے نتائج سے پوری دنیا میں ایران کے سیاسی مخالفین میں زلزلہ آگیا ہے۔ ہمارا سسٹم دھاندلی کا متحمل ہوسکتا ہے نہ ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ووٹروں کی موجودگی میں کوئی دھاندلی کی جرأت کرسکتا ہے۔ گزشتہ روز تہران یونیورسٹی میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب میں ایرانی عوام کی بھرپور شرکت ایران کے اسلامی نظام انتخاب پرمکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ انتخابات مکمل آزادانہ اور شفاف تھے اور اگر مخالفین یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے تو ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے اس الزام کی حقیقت بھی سامنے آ جائے گی۔
ایران کے صدارتی انتخاب میں صدر محمود احمدی نژاد کی دوبارہ کامیابی پر بلاشبہ امریکہ، اسرائیل اور اسلام دشمن مغربی ممالک کو مایوسی ہوئی ہے جبکہ صدر احمدی نژاد کے مخالف امیدوار حسین موسوی کی تحریک پر ایران میں احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ اس تحریک کے سسٹم کی تباہی کی نوبت لانے سے پہلے ہی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا فیصلہ کرکے نہ صرف سسٹم کو بچایا گیا ہے بلکہ اسلامی ایران کے مخالفین کیلئے مزید مایوسی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ایرانی قیادت کے اس اقدام سے بالخصوص ہماری مذہبی اور سیاسی قیادتوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے۔ اگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف کوئی تحریک چل رہی ہوتی تو ہمارے قائدین کو سسٹم کو بچانے کی کبھی عقل نہ آتی اور اس تحریک کو مارشل لاء کے انجام سے دوچار کردیاگیا ہوتا۔ ممکن ہے ایران کے صدارتی انتخاب میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی ریلیوں کے پیچھے بھی ایران کے اسلامی نظام کے مخالفین کا عمل دخل ہو تاہم ایرانی قائدین نے معاملہ فہمی اور بصیرت سے کام لے کر دشمنان ایران کی سازشیں ناکام بنا دی ہیں جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
20 ٹوئنٹی ورلڈکپ‘ سیمی فائنل میں شاندار کامیابی
پاکستان کے زندہ دل عوام تمام دکھوں‘ پریشانیوں اور مصیبتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے قومی ٹیم کی سیمی فائنل میں کامیابی پر خوشیاں منا رہے ہیں‘ مبارکبادیں دی جا رہی ہیں اور فائنل میں کامیابی کیلئے دعائوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دعائیں بین الاقوامی سطح پر ہماری کامیابیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اسکا ثبوت ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سیمی فائنل میں قومی ٹیم کی کامیابی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اسکی واضح مثال 1992ء کا ورلڈکپ ہے۔ ڈرون حملے‘ متاثرین سوات کا دکھ‘ ہوشربا مہنگائی‘ لوڈشیڈنگ کا عذاب اور اسکے علاوہ بہت سے ایسے مسائل ہیں کہ عام آدمی بے ساختہ ہنسنا‘ مسکرانا اور کھلکھلانا بھولتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں کرکٹ ایسا کھیل ہے جو دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا قوم کو خوشیاں دے سکتا ہے۔ قومی ٹیم ردھم میں آچکی ہے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کامیابی اب صرف ایک قدم کے فاصلے پر ہے۔ ٹورنامنٹ کے آغاز میں کھلاڑیوں میں جوش و جذبے کا فقدان تھا جو کہ اب پوری ٹیم میں سرایت کرچکا ہے۔ جنوبی افریقہ جسے ورلڈکپ کی ہاٹ فیورٹ ٹیم کہا جا رہا تھا اور وہ ناقابل شکست بھی تھی‘ اسے ہرانے کے بعد کھلاڑیوں کے اعتماد میں یقینی طور پر اضافہ ہوا ہے اور ان میں جیت کی لگن‘ جستجو اور جذبہ بڑھا ہے۔ قوم کی دعائیں ان کیلئے ٹانک کا کام کریں گی۔ ہماری ٹیم کی گاڑی پوری رفتار سے چل رہی ہے۔ شاہد آفریدی کا بلا رنز اگلنے لگا ہے۔ عمر گل اور سعید اجمل کی گیندیں مخالف کھلاڑیوں کی سمجھ سے باہر ہیں۔ 1992ء میں ٹیم کے کپتان عمران خان تھے‘ اب یونس خان ہیں۔ دعا ہے کہ کھلاڑی متحد ہو کر وطن کیلئے ذاتی اختلافات کو بھلا کر صرف اور صرف سبز ہلالی پرچم کو بلند رکھنے کی نیت اور جیت کے جذبے سے میدان میں اتریں اور یونس خان‘ عمران خان والی تاریخ دہرائیں اورٹوئنٹی 20 ورلڈکپ ٹرافی کے ساتھ وطن واپس لوٹیں۔ آمین!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں