توہین عدالت کے کیس میں وزیراعظم کی سپریم کورٹ میں پیشی اور طویل مہلت لینے کی حکمت عملی .... اب بہتر ہو گا کہ صدر کے استثنیٰ کا فیصلہ بھی ہو جائے

ـ 20 جنوری ، 2012
سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کے سات رکنی وسیع تر بینچ نے این آر او عملدرآمد کیس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کیخلاف توہین عدالت کے نوٹسوں پر کارروائی یکم فروری تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت کیلئے وزیراعظم کو عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ قرار دیدیا۔ گزشتہ روز دوران سماعت وزیراعظم گیلانی اتحادی جماعتوں کے قائدین چودھری شجاعت حسین‘ اسفندیار ولی‘ پنجاب اور خیبر پی کے کے گورنروں‘ متعدد وفاقی وزراءاور پیپلز پارٹی کے عہدیداروں کی معیت میں فاضل عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور بیان قلمبند کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ عدلیہ کے عدم احترام کا سوچ بھی نہیں سکتے‘ تاہم انہوں نے صدر مملکت کیخلاف سوئس حکام کو اس لئے مراسلہ نہیں بھجوایا کہ صدر کو آئین کی دفعہ 248 کے تحت استثنیٰ حاصل ہے جبکہ صدر کو یہ استثنیٰ اپنے ملک میں ہی نہیں‘ دنیا بھر میں حاصل ہے اس لئے وہ مراسلہ بھجوا کر آئین کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتے۔ دوران سماعت وزیراعظم کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے بھی آئین کی دفعہ 248 کے تحت صدر کے استثنیٰ کا ایشو اٹھایا اور کہا کہ جب صدر کو حاصل یہ استثنیٰ ختم ہو جائیگا اور صدر اپنے منصب پر برقرار نہیں رہیں گے تو فاضل عدالت کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے سوئس حکام کو مراسلہ بھجوا دیا جائیگا۔ انکے بقول وزیراعظم کا عدالتی حکم سے روگردانی کا کوئی ارادہ نہیں جبکہ مراسلہ نہ بھجوانے پر وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا شاید صحیح طریقہ نہیں۔ انہوں نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ انہیں این آر او کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کے سلسلہ میں تمام متعلقہ سمریز اور سوئس ریکارڈ کے معائنہ کیلئے ایک ماہ کی مہلت درکار ہے۔ فاضل عدالت نے انہیں باور کرایا کہ متعلقہ ریکارڈ تو دو تین روز میں دیکھا جا سکتا ہے‘ تاہم اعتزاز احسن کے اصرار پر فاضل عدالت نے انہیں دو ہفتے کی مہلت دیکر سماعت یکم فروری تک ملتوی کردی۔
این آر او کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کے سلسلہ میں عدالت عظمٰی کی جانب سے وزیراعظم کےخلاف شروع کی گئی توہین عدالت کی کارروائی بلاشبہ غیرمعمولی ہے جبکہ اب یہ توہین عدالت سے زیادہ صدر کے استثنیٰ کا کیس بن گیا ہے اس لئے جہاں اس کیس پر قانون‘ آئین اور انصاف کی عملداری کا انحصار ہے‘ وہیں اس کیس کے حوالے سے ملک کا سسٹم بھی داﺅ پر لگا نظر آرہا ہے اس لئے ہر صورت میں اس کیس کا فیصلہ بلاتاخیر ہونا ہے۔ وزیراعظم نے فاضل عدالت کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے خود عدالت میں پیش ہو کر اچھی مثال قائم کی ہے جس کی فاضل عدالت نے بھی گزشتہ روز دوران سماعت ستائش کی جبکہ خلاف توقع حکمران پیپلز پارٹی کی جانب سے اس کیس کی سماعت کے موقع پر ایسا طرز عمل اختیار کرنے سے بھی گریز کیا گیا جس سے خدانخواستہ 1997ءکی طرح عدالت پر پارٹی کارکنوں کے حملہ آور ہونے کی نوبت آتی۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے عہدیداران اور کارکن کثیر تعداد میں سپریم کورٹ کے باہر جمع تھے جن میں سے متعدد کارکن سپریم کورٹ کے احاطہ میں داخل ہونے اور وہاں نعرہ بازی کرنے میں بھی کامیاب ہوئے اسکے باوجود پیپلز پارٹی کی کسی قسم کے تصادم سے گریز کی حکمت عملی کامیاب رہی تاہم کیس کی سماعت کے بعد چودھری اعتزاز احسن کو کمرہ عدالت کے باہر اپنی ہی وکلاءبرادری کی سخت مزاحمت اور مخالفانہ نعرہ بازی کا سامنا کرنا پڑا جو سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملہ میں انکے موقف بدلنے پر برافروختہ تھے اور اسی تناظر میں نعرے لگا رہے تھے کہ ”حکومت کا جو یار ہے‘ غدار ہے“ اس پر بھی یقیناً بیرسٹر اعتزاز احسن کو اپنے ضمیر کے حوالے سے جائزہ لینا چاہیے تاہم انہوں نے وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کے کیس میں جو موقف اختیار کیا اور کیس کی تیاری کے نام پر طویل التواءحاصل کرنے کی کوشش کی‘ اس سے بادی النظر میں یہی تاثر ملتا ہے کہ انہوں نے حکومتی حکمت عملی کے تحت عدالت کے روبرو اس کیس کو معرضِ التواءمیں ڈلوانے کی کوشش کی ہے تاکہ حکومت کو سینٹ کے انتخابات تک مہلت مل جائے اور اسکے بعدعوامی طاقت کا سہارا لے کر دمادم مست قلندر کیا جائے۔ اسکے باوصف قانون اور آئین کے معاملات اور انصاف کی عملداری پر سیاست حاوی نہیں ہو سکتی جبکہ وزیراعظم اور انکے وکیل نے عدالت سے غیرمشروط معافی کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے کیس کے دفاع کا راستہ اختیار کرکے اپنے لئے اس کیس کو مزید پیچیدہ بنا لیا ہے کیونکہ اب ان کیلئے معافی کی گنجائش تو ختم ہو گئی ہے اور اب میرٹ پر اس کیس کا فیصلہ ہونا ہے جس میں اب صدر کے آئینی استثنیٰ کا بھی فیصلہ ہو گا تو وزیراعظم کے ساتھ ساتھ صدر مملکت بھی زد میں آئینگے۔ گزشتہ روز فاضل عدالت نے بھی وزیراعظم کو یہی باور کرایا کہ آپ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں تو عدالت کے جاری کردہ احکام پر کیوں عملدرآمد نہیں کرتے جبکہ این آر او کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کے سلسلہ میں عدالت کی جانب سے وفاقی وزارت قانون کو متعدد بار سوئس حکام کو خط لکھنے کی سمری بھجوانے کی ہدایت کی گئی جسے درخوراعتناءہی نہیں سمجھا گیا۔
یہ تو آئین کی دفعہ 248 کے تحت صدر کے استثنیٰ کے دعویداروں کے سوچنے کی بات ہے کہ اس آئینی دفعہ کی موجودگی میں عدالت عظمٰی کے تمام کے تمام فاضل ججوں نے این آر او کو کالعدم قرار دینے کے بعد صدر مملکت کیخلاف سوئس کیسز کھلوانے کیلئے سوئس حکام کو مراسلہ بھجوانے کی ہدایت کی ہے تو یہ نتیجہ اخذ کرکے ہی فاضل عدالت نے یہ ضرورت محسوس کی ہو گی کہ اب صدر مملکت کیخلاف نیب کے مقدمات کھلوانا بھی ضروری ہے جبکہ اس حوالے سے فاضل عدالت عظمٰی این آر او کیس کے فیصلہ اور اس پر وفاقی حکومت کی نظرثانی کی اپیل میں بھی رولنگ دے چکی ہے کہ صدر کا استثنیٰ لامحدود ہرگز نہیں۔ اس سلسلہ میں گزشتہ روز بھی فاضل عدالت کی جانب سے وزیراعظم اور انکے وکیل کو باور کرایا گیا کہ اگر کوئی فریق استثنیٰ کا دعویدار ہے تو اس کیلئے وہ عدالت میں آئے۔ اسی تناظر میں فاضل عدالت نے چودھری اعتزاز احسن سے استفسار کیا کہ اگر عدالت یہ فیصلہ کر دیتی ہے کہ صدر کو اس کیس میں آئین کی دفعہ 248 کا استثنیٰ حاصل نہیں ہے تو کیا انکے موکل سوئس حکام کو مراسلہ بھجوا دینگے؟ آئندہ تاریخ سماعت پر اب توہین عدالت کے کیس سے پہلے یقیناً صدر کے استثنیٰ کا معاملہ ہی زیر بحث آئیگا جس کا موقع استثنیٰ کا دعویٰ کرکے خود وزیراعظم اور انکے وکیل نے فراہم کیا ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ اب لگے ہاتھوں اعلیٰ حکومتی شخصیات کے آئینی استثنیٰ کا فیصلہ بھی ہو جائیگا کہ وہ کس حد تک لاگو ہو سکتا ہے۔ اس معاملہ میں آئین کی تشریح کی مجاز اتھارٹی بھی خود عدالت عظمٰی ہی ہے اس لئے اس کیس کے فیصلہ میں آئین کی دفعہ 248 کی جو تشریح سامنے آئیگی‘ وہی آئندہ کیلئے مستعمل ہو گی۔
زیر التواءکیس کے دوران کسی متوقع عدالتی فیصلہ کا قیافہ لگانا تو کسی صورت مناسب نہیں تاہم ملک کے اندر اور ملک سے باہر کسی عدالتی کارروائی سے صدر کے استثنیٰ کی جو تاویل وزیراعظم اور انکے وکیل کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے‘ وہ بادی النظر میں حقائق و شواہد سے مطابقت نہیں رکھتی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آئین کے دیباچے کی صورت میں آئین پاکستان کا حصہ بننے والی قرارداد مقاصد کی موجودگی میں آئین کی دفعہ 248 کا استثنیٰ حاصل کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا کیونکہ یہ استثنیٰ قرآن و سنت کی روح کے منافی ہے جبکہ قرارداد مقاصد کے تحت پہلے ہی متعین کیا جا چکا ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون اور کوئی آئینی شق وضع ہو سکتی ہے‘ نہ برقرار رہ سکتی ہے۔ اس حوالے سے مستند آئینی اور قانونی ماہرین کی آراءبھی سامنے آچکی ہیں اور یقیناً اسی تناظر میں اب توہین عدالت کے اس کیس میں بھی آئین کی دفعہ 248 کا جائزہ لیا جائیگا جس میں قرآن و سنت کے حوالے سے صدر یا کسی دوسری اعلیٰ حکومتی شخصیت کےلئے استثنیٰ کی گنجائش مشکل ہی سے نکل پائے گی۔ اگر حضرت نبی آخرالزمان نے بے لاگ انصاف کا یہ اصول متعین فرما دیا تھا کہ اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرے تو وہ بھی ہاتھ کاٹنے کی متعینہ سزا کی مستوجب ہونگی اور اگر خلفیة المسلمین حضرت عمر فاروقؓ کو قاضی القضاة کے روبرو پیش ہو کر اپنی قمیض پر لگنے والے زیادہ کپڑے کی صفائی پیش کرنا پڑتی ہے تو آئین پاکستان کا حصہ بننے والی قرارداد مقاصد کی موجودگی میں صدر پاکستان یا کوئی دوسری اعلیٰ حکومتی شخصیت کیسے اپنے لئے عدالتی استثنیٰ طلب کر سکتی ہے۔
جہاں تک بیرون ملک صدر کے استثنیٰ کا معاملہ ہے تو اس بارے میں بھی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ ویانا کنونشن کی موجودگی میں بھی اعلیٰ حکومتی شخصیات کا استثنیٰ قبول نہیں کیا گیا۔ اس سلسلہ میں امریکہ کے دو صدور رچرڈ نکسن اور بل کلنٹن کی مثالیں موجود ہیں۔ نکسن کو واٹر گیٹ سکینڈل میں استثنیٰ کے حق سے محروم ہونا پڑا جبکہ کلنٹن کا مونا لیونسکی سکینڈل کیس میں استثنیٰ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ اسی طرح اٹلی کے وزیراعظم برلیسکونی کو بھی عدالت میں بطور وزیراعظم اپنے خلاف بدعنوانی کے کیس کا سامنا کرنا پڑا تو وہ بھی استثنیٰ کا سہارا نہیں لے پائے تھے اور بالاخر انہیں مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اس تناظر میں منی لانڈرنگ کے سنگین مقدمات میں صدر زرداری کا ملکی اور غیرملکی عدالتوں میں استثنیٰ کا کلیم کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے جبکہ استثنیٰ کا دعویٰ کرکے وزیراعظم اور انکے وکیل نے اپنے لئے ہی نہیں‘ بادی النظر میں صدر مملکت کیلئے بھی قانونی شکنجے کا راستہ نکال لیا ہے۔ وکالتی موشگافیوں سے قطع نظر اب بیرسٹر اعتزاز احسن کیلئے بھی ضمیر کی خلش ضرور پیدا ہو گی کہ وہ کل کے دن تک اس بات کے قائل تھے جس کا وہ کھلم کھلا اظہار بھی کرتے رہے کہ عدالت کے احکام کی تعمیل میں وزیراعظم کو سوئس حکام کیلئے خط لکھنا ہی پڑےگا کیونکہ یہ عدالتی احکام کا لازمی تقاضہ ہے تو اب یکایک انکی کایا کیسے پلٹ گئی اور اب وہ کیسے اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ وزیراعظم کا سوئس حکام کو خط لکھنا ضروری نہیں اور ان کا خط نہ لکھنے کا عمل توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا۔ اب ”گلگلوں“ سے پرہیز کی پالیسی تو بہرصورت نہیں چل سکتی اور انصاف کی عملداری کا جو بھی تقاضہ ہے‘ وہ پورا کرنا ہی پڑیگا‘ بصورت دیگر سزا بھگتنا ہو گی اور گھر جانا ہو گا۔ اب گرد اڑا کر انصاف کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جا سکتی جبکہ قانون تو ویسے ہی اندھا ہوتا ہے۔
ورلڈ بنک کے مشورے پر کان دھریں
عالمی بنک نے کہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں‘ پالیسیوں میں عدم تسلسل ہونے کے باعث معاشی اہداف حاصل نہیں ہو رہے۔ عالمی ادارے نے مشورہ دیا ہے کہ مہنگائی اور مالی خسارہ دور کرنے کیلئے پالیسی بنائی جائے۔
مشرف کی آمریت سے جان کیا چھوٹی‘ ملک بحرانوں میں گھرتا اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بجلی و گیس کی شدید قلت سے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں‘ بیروزگاری کا دور دورہ ہے‘ لاقانونیت‘ کرپشن اور اقرباپروری روبہ عروج ہے۔ مذکورہ بدعملیوں میں سے ہر ایک اپنی جگہ ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے‘ ملک و قوم کا بحران اور مشکلات میں گھر جانا ایک بدقسمتی ہے‘ اس سے بڑی بدقسمتی جمہوری حکمرانوں کی طرف بحرانوں اور مشکلات پر قابو پانے کیلئے عزم و ارادے کا فقدان ہے۔ حکومتی معاملات چلانے اور اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے حکمران جہاں نئے ٹیکس لگاتے اور پرانے ٹیکسوں میں اضافہ کرتے ہیں‘ وہیں عالمی مالیاتی اداروں سے کڑی اور عوام کا عرصہ حیات تنگ کرنیوالی شرائط پر بھاری قرض لیتے ہیں۔ قرض ایسے کھلے دل سے لیا جاتا ہے جیسے واپس ہی نہ کرنا ہو۔ حکمرانوں نے ”ماردھاڑ“ میں چار سال گزار دیئے‘ آخری سال عوامی مفاد میں پالیسیاں بنا کر ان کو ریلیف دینے کی کوشش کریں۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں‘ ان کو بروئے کار لایا جائے۔ آج انرجی بحران شدید تر ہے‘ تھرکول منصوبے کے سربراہ ثمرمبارک مند ملک کو بجلی و گیس کے معاملے میں خودکفیل کرنے کا یقین دلا رہے ہیں۔ ان کو مطلوبہ وسائل فراہم کریں تاکہ قوم کی گیس و بجلی و پٹرول کی قلت پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔ اس سے ملک بھی ترقی کریگا اور حکمرانوں کے حصے میں بھی نیک نامی آئیگی۔ حکمران ورلڈ بنک کے مشورے پر کان دھریں‘ سیاسی استحکام کا حصول انتہائی آسان ہے اس کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
سینئر افسران کو ان کا مقام دیا جائے
اوگرا کے قائم مقام چیئر مین صابر حسین نے پانچ ماہ بعد ہی افسران کے رویے سے تنگ آکر عہدے سے استعفیٰ دےدیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس متنازعہ ادارے میں کام نہیں کر سکتا، جہاں انکے احکامات پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔پیپلز پارٹی حکومت کو اقتدار سنبھالے ہوئے چار سال کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن ماتحت ادارے ابھی تک مضبوط نہیں ہو سکے۔ حکومت من پسند کاموں کیلئے اپنے پسندیدہ افراد کو اداروں میں تعینات کرتی ہے، اس بات سے قطع نظر و ہ اس عہدے کا اہل بھی ہے یا نہیں، اوگرا کے قائم مقام چیئر مین بھی اپنے ماتحت افسران کے رویے سے تنگ آکر عہدے سے مستعفی ہو گئے، جونیئر افسران کو سیاسی آشیر باد حامل ہو گی جس بنا پر وہ اعلیٰ افسران کے راستے میں روڑے اٹکاتے ہونگے، ا س طرح سٹیٹ بنک کے گورنر بھی مستعفی ہو چکے ہیں۔ وزیر خزانہ تبدیل کیے گئے، کیونکہ نااہل افراد سے ادارے نہیں چلائے جاتے، انہیں سپریم کورٹ ہٹا دیتی ہے، جبکہ اہل افراد حکومتی پالیسیوں سے تنگ آکر عہدوں سے الگ ہو جاتے ہیں۔ حکومت کو اس سلسلے میں اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے، انکی ناقص پالیسیوں کی بدولت ادارے تباہ ہو رہے ہیں۔حکومت ہوش کے ناخن لے اور اداروں کو تباہ مت کرے، اداروں کو بنانا مشکل کام ہوتا ہے، نااہل افراد کے ذریعے انہیں تباہ مت کریں، اقتدار ملک و قوم کی امانت ہوتی ہے، اسے ایمان داری سے چلائیں، جس طرح مضبوط ادارے قوم نے چار سال قبل آپکے سپرد کیے تھے، انہیں اسی طرح واپس کریں اور اقتصادی پالیسی سے گریز کریں۔ سینئر افسران کو ان کا مقام دلوایا جائے۔ انہیں عزت و احترام دیا جائے تاکہ ادارے بہتر انداز سے چل سکیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں