صدر زرداری کا دورۂ روس اور سوچی سربراہ کانفرنس کے ممکنہ مثبت اثرات

ـ 20 اگست ، 2010
پاکستان‘ روس‘ افغانستان اور تاجکستان نے خطے کے مستقبل کو دنیا کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی تعاون کے ذریعے ہی خطے کو درپیش چیلنجوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار روس کے صدر ومتری میدیدوف‘ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری‘ افغان صدر حامد کرزئی اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے روسی حکومت کی دعوت پر روس کے شہر سوچی میں منعقد کی گئی چہار ملکی سربراہ کانفرنس میں خطاب کے دوران کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس خطے کا مستقبل دنیا کا مستقبل ہے اور پاکستان علاقائی تعاون کے عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے‘ ہم علاقائی سطح پر متحد ہونگے تو تمام چیلنجوں پر قابو پا سکیں گے۔ پاکستان میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت پوری دنیا کی مدد کی ضرورت ہے‘ پاکستان کو اپنی تاریخ کے مشکل ترین لمحات کا سامنا ہے‘ روس کے صدر نے سیلاب کے نقصانات پر صدر زرداری اور پاکستانی عوام سے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ روس مکانوں کی تعمیر اور بحالی کے عمل میں پاکستان کی مدد کریگا۔ انہوں نے دہشت گردی اور منشیات کی لعنت کو مشترکہ مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے مل کر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں چاروں ممالک کے مابین توانائی‘ تجارت اور مواصلات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کے پہلوئوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر 13 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں پاکستانی حکومت اور عوام سے سیلاب میں جانی و مالی نقصانات پر ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی مدد کرے۔ ان چاروں ممالک کے صدور کا آئندہ اجلاس اب دوشنبے میں ہو گا۔
اس وقت امریکہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ سے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے اور امریکی عمل دخل اور سرپرستی کے ساتھ بھارت کو علاقے کا تھانیدار بنانے کی جو سازش پروان چڑھ رہی ہے‘ اسکے اثرات کو زائل کرنے اور امریکہ پر اس خطے کی سٹریٹجیکل اہمیت واضح کرنے کیلئے سوچی میں اس خطے کے چار ممالک کا سربراہی اجلاس ایک اہم پیش رفت ہے‘ بالخصوص پاکستان کی مستقبل کی خارجہ حکمت عملی کیلئے یہ اجلاس مثبت اور حوصلہ افزاء نتائج لا سکتا ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعے پاکستان کی جانب سے روس کے ساتھ پہلی بار باضابطہ رابطہ کیا گیا ہے جس سے یقیناً پاکستان کی خارجہ حکمت عملی میں اپنی علاقائی ضرورتوں اور ملکی و قومی مفادات کی روشنی میں تبدیلی عمل میں لانے میں مدد ملے گی۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان نے باضابطہ دورۂ روس کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے دورۂ امریکہ کی دعوت قبول کی تھی جس کی بنیاد پر امریکہ پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کا محور بن گیا اور نظریاتی بنیادوں پر بھی روس کے ساتھ تعلقات استوار کرنا مناسب نہ سمجھا گیا‘ کیونکہ روس کے سرخ انقلاب کے تصور کے ساتھ بندھے ہوئے اشتراکی نظام کو دین اسلام میں وضع کردہ طرز زندگی و معاشرت کے منافی سمجھا جاتا تھا اور پاکستانی سرخ بھی خود کو روس کا زرخرید غلام سمجھتے تھے‘ چنانچہ سوویت یونین سے منسوب کمیونزم اور سوشلزم پر امریکی سامراج کو ترجیح دی گئی اور اس طرح دنیا کی دو سپرپاورز میں سے پاکستان کا جھکائو ہمیشہ امریکہ کی جانب رہا‘ جس کا ہمیں آج تک خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے کیونکہ امریکہ صرف اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر بین المملکتی تعلقات بناتا اور بگاڑتا ہے‘ اسے کسی ملک کے نظام یا وہاں ترقی کے عمل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اور اپنے مفادات کی بنیاد پر عالمی تعلقات کے معاملہ میں اسکی ترجیحات تبدیل ہوتی رہتی ہیں‘ چنانچہ دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں اس خطہ میں امریکی مفادات کی جنگ میں اسکے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کرکے اور خطیر جانی و مالی نقصان اٹھا کر بھی ہمیں امریکہ کی جانب سے بھارت جیسی قبولیت کا درجہ بھی نہیں مل سکا‘ کیونکہ اس خطہ میں اور مسلم امہ کیخلاف امریکہ اور بھارت کے عزائم اور مفادات یکجا ہو گئے ہیں جس کی بنیاد پر امریکہ بھارت کو اپنا فطری اتحادی سمجھتا ہے اور بھارت جس کا کبھی اپنے سیکولر سسٹم کی وجہ سے روس کی جانب جھکائو تھا‘ اپنے مفادات کی بنیاد پر اب امریکہ کے ساتھ دوستی میں زیادہ سہولت محسوس کر رہا ہے۔
اگر امریکہ کی ہمارے دشمن بھارت کے ساتھ مفاداتی دوستی استوار ہو چکی ہے تو ہمارے دشمن کا یہ دوست کسی صورت ہمارا دوست نہیں بن سکتا‘ وہ بھارتی مفادات کا تحفظ کریگا تو لامحالہ ہمارے ساتھ دشمنی کریگا چنانچہ ہمارے ساتھ دشمنی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ہی امریکہ نے بھارت کو جدید ایٹمی اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس کر دیا ہے اور اسکے ساتھ دفاعی تعاون کے متعدد معاہدے کرکے اس خطہ میں طاقت کا توازن بھی بگاڑ دیا ہے‘ جب امریکہ نے ہمارے ساتھ بھارت جیسے ایٹمی تعاون کے معاہدے سے انکار کیا تو اسکے بعد ہمارے لئے اس کا فرنٹ لائن اتحادی بنے رہنے کا جواز بھی ختم ہو جانا چاہیے۔
اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا مثبت قدم اٹھایا گیا جس کے نتیجہ میں پاکستان چین کے مابین ایٹمی تعاون کا معاہدہ ہوا اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کیلئے بھی پیش رفت ہوئی۔ چین پہلے بھی سرخ ہونے کے باوجود ہمارا قابل اعتماد دوست پڑوسی ملک تھا‘ اس نے پاکستان میں سرخ بھرتی کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی‘ جبکہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کے بعد جس انداز میں چین کے ساتھ ہمارے سٹریٹیجکل روابط میں اضافہ ہوا‘ اس سے یقیناً امریکہ کا دنیا کی واحد سپرپاور کا گھمنڈ بھی ٹوٹا ہو گا اور بھارت کا اس خطے کی تھانیداری حاصل کرنے کا خواب بھی چکناچور ہوا ہے۔ اسی تناظر میں اب پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات استوار ہونا‘ اس خطے کی امن و سلامتی کی بھی ضمانت بن سکتا ہے‘ چونکہ اب چین کی طرح روس میں بھی کمیونزم کا تصور پہلے جتنا پختہ نہیں رہا‘ اس لئے اب کسی قسم کے نظریاتی اختلافات بھی پاکستان روس کے مابین اچھے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے‘ اس لئے باوجود اسکے کہ سیلاب کی ٹوٹی ہوئی آفت کی بنیاد پر قوم میں صدر زرداری کے دورۂ روس کے بارے میں تحفظات موجود ہیں‘ ان کا یہ دورۂ علاقائی تعاون کی حکمت عملی کے حوالے سے مفید اور دوررس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اگر بھارت اپنے مفادات کی بنیاد پر روس کی جانب جھکائو ترک کرکے امریکہ کے کیمپ میں جا سکتا ہے تو اپنے اور اس خطہ کے بہترین مفادات کی بنیاد پر پاکستان کو بھی امریکہ کی جانب جھکائو پر مبنی اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرکے چین کے ساتھ ساتھ روس سے بھی سٹرٹیجکل تعاون کے راستے کھولنے چاہئیں۔ صدر زرداری کی سوچی سربراہ کانفرنس میں شمولیت سے یقیناً اس خطہ میں امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کا توڑ کرنے میں مدد ملے گی۔
سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجہ میں پاکستان اس وقت جس کٹھن صورتحال میں گھرا ہوا ہے‘ اسے بہرصورت عالمی تعاون کی ضرورت ہے اور سوچی سربراہ کانفرنس میں صدر زرداری کی شمولیت اس حوالے سے بھی مثبت نتائج کا باعث بنے گی کیونکہ تاجکستان کی طرح روس کی بہت سی ریاستیں مسلمان ہیں اور اس کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں عالمی برادری سے بھی پاکستان کی مدد کی اپیل کی گئی ہے اور کانفرنس میں شریک دیگر تین ممالک کی جانب سے بھی پاکستان کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کے بعد اب پاکستان کی امداد کیلئے سوچی سربراہ کانفرنس کی اپیل سے بھی عالمی برادری کو متحرک کرنے میں مدد ملے گی‘ اس لئے اس مرحلہ پر اگر ضرورت ہے تو وہ پاکستان کی سیاسی حکومتی قیادت کی جانب سے خود پر عالمی برادری کا اعتماد بحال کرنے اور اسکے تحفظات دور کرنے کی ہے‘ جس کیلئے گیلانی نواز ملاقات میں آزاد فلڈ کمشن کی تشکیل پر اتفاق سے نادر موقع بن گیا تھا مگر حکومت کی جانب سے اس کمشن کی تشکیل کے بارے میں بھی پس و پیش سے کام لے کر بداعتمادی کی فضاء کم کرنے کے بجائے مزید مستحکم بنائی جا رہی ہے اور اب مسلم لیگ (ن) نے اس حوالے سے اپنی قومی کمیٹی کا اعلان کر دیا ہے‘ کیونکہ وزیر اطلاعات نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ دو آدمیوں کے اعلان سے ایسے کمیشن نہیں بنا کرتے۔
ڈاکٹروں کی ہڑتال کیا یہ احتجاج کا وقت ہے؟
مظفر گڑھ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف میں جھگڑے پر ہڑتال کے باعث سیلاب زدہ علاقوں سے لائے گئے مریضوں کو طبی امداد نہ ملنے پر 8 مریضوں نے سسک سسک کر جان دے دی۔
ہمارے ہاں ڈاکٹر طبقے کو مسیحا کے نام سے پکارا جاتا ہے‘ جب انسان موت کے منہ میں جا رہا ہوتا ہے تو یہ مسیحا کی شکل میں مریض کو گولی اور ٹیکہ لگا کر موت کے منہ سے کھینچ لاتا ہے۔ لیکن مظفرگڑھ کے ڈاکٹرز نے نہ جانے کیوں مسیحا بننے کے بجائے درندہ بننے کو ترجیح دی اور آٹھ خاندانوں کی دنیا اندھیر کر دی۔ ڈاکٹروں کا کام تو دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہے‘ نہ کہ انسان کو مزید دکھی بنانا۔
ایم ایس ہسپتال کا سربراہ ہوتا ہے اور سربراہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملے سے کام اور چھٹیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرے‘ ٹیکنیشن کو ڈاٹنے سے کوئی آسمان تو نہیں ٹوٹ پڑا تھا‘ آخر ٹیکنیشن نے اس کو انا کا مسئلہ بنا کر اپنی مسیحائی کو درندگی میں کیوں تبدیل کیا؟اور آٹھ افراد کو موت کی آغوش میں دھکیلنے کا باعث بنے‘ ان آٹھ افراد کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟
مصیبت کی اس گھڑی میں اداروں میں سیاست کرنا‘ اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی سعی کرنا‘ انسانیت کے منافی ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کیلئے ہر انسان مذہب‘ ملک‘ زبان اور دیگر اپنی ذاتی پہچان کو پس پشت ڈال کر میدان عمل میں آچکا ہے‘ وہاں مسیحائی کے مقدس پیشے سے وابستہ کچھ لوگوں کی ایسی حرکات افسوسناک ہیں‘ انہوں نے بے حسی کی مثال قائم کر دی ہے‘ وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹرز کی اس انسانیت سے گری ہوئی حرکت کا نوٹس لے کر ذمہ داران کو قرارواقعی سزا دیں تاکہ آئندہ ایسا کوئی افسوسناک سانحہ نہ ہونے پائے۔
سحری اور افطاری میں بد ترین لوڈشیڈنگ
حکومتی دعوئوں کے باوجود رمضان المبارک میں بھی بجلی کی طویل ترین لوڈشیڈنگ جاری ہے شہروں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 12اور دیہاتوں میں 18گھنٹے تک پہنچ گیا۔لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے 2افراد ہلاک درجنوں زخمی کروڑوں کا سامان جل گیا۔
حکومت نے اگر اب بھی بجلی کی کمی پر قابو پانے کیلئے اقدامات نہ کیے تو یہ مظاہرے ہنگاموں کی شکل اختیار کرجائیں گے اور حکومت کا ان پر قابو پانا مشکل ہوجائیگا۔ سحری اور افطاری کے وقت بھی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ نماز تراویح بھی گرمی اور حبس میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ حکومت اپنے اَللوں تَللوں میں مصروف ہے آج تک اس نے کسی بھی بحران پر قابو پانے کیلئے تو حکمت عملی ترتیب نہیں دی۔ صدر پاکستان کو بیرونی دوروں سے فرصت نہیں۔ ملک کے چیف ایگزیکٹو کو اپنے اتحادیوں کے گلے شکوے دور کرنے سے فرصت نہیں مل رہی۔ آدھا ملک سمندر کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے اور حکومتی منصوبے صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔
گرمی اور حبس کے اس موسم میں لوڈشیڈنگ روزہ داروں کیلئے بہت بڑا عذاب ہے‘ کم از کم سحری افطاری اور نمازوں کے اوقات کو تو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کیاجائے‘ جس حکومت کی طرف سے اعلان بھی کیا گیا تھا۔ اگر پیداواری صلاحیت کم ہے تو اس کمی کو پورا کون کرے گا۔ کیا یہ ارباب اقتدار کی ذمہ داری نہیں ہے۔ خدارا عوام کو اپنے حقوق چھیننے پر مجبور مت کیا جائے‘ عوامی غضب کا لاوا پک چکا ہے۔ جب یہ پھٹے گا تو خونی انقلاب آئیگا۔جس کا راستہ روکنا حکمرانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔
حکمرانوں کے پاس اب بھی موقع ہے کہ مختلف علاقوں میں چھوٹے بڑے ڈیم بنائیں کالا باغ ڈیم کیلئے عوام کا فیصلہ لینے کیلئے نوائے وقت نے ریفرنڈم کا اہتمام کیا ہے۔ اس ریفرنڈم کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا لیکن اس کے بعد ضروری ہوگا کہ حکمران ریفرنڈم کے ذریعے عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے فوری طورپر کالا باغ ڈیم بنانے کا کام شروع کردیں۔ ان ڈیموں کے ذریعے ہم اس بحران پر قابو پاسکتے ہیں لیکن فی الوقت حکومت سحری و افطاری اور نماز تراویح کے دوران لوڈشیڈنگ پر قابو پائے تاکہ عوام اپنے اس مذہبی فریضے کو تو احسن انداز میں پورا کر سکیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter