مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے فوجی مظالم اور پاکستان
ـ 19 اکتوبر ، 2009
امریکی جریدہ ٹائم نے اپنے تازہ شمارے میں بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے اپنے موقف میں تبدیلی لائے، جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ وادی بھارتی فوج کے قبضے میں ہے بھارتی فوج کے پاس وادی میں کسی کو گرفتار، قید حتیٰ کہ قتل کرنے کے اختیارات ہیں۔ کشمیری نوجوانوں نے بھارتی مظالم سے تنگ آ کر ہتھیار اٹھائے ہیں انہیں بہتر زندگی گزارنے کی کوئی امیدنظر نہیں آتی۔
مسئلہ کشمیر بھارت کی ہٹ دھرمی، امریکہ و برطانیہ جیسی بڑی طاقتوں کی لاپروائی اور بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے اب تک لاینحل چلا آرہا ہے اور پاکستان کی مختلف حکومتوں نے بھی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے بعض سنہری مواقع ضائع کئے ہیں۔ تاہم کشمیری عوام نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی جدوجہد نامساعد حالات اور ناکافی وسائل کے باوجود جاری رکھی، بھارت نے کشمیری نوجوانوں کی طرح سے بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف بندوق اٹھانے کے عمل کو دہشت گردی قرار دیکر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا اور امریکہ کی 9/11 کے بعد وضع کی گئی مسلم دشمن پالیسی سے فائدہ اٹھایا لیکن اب ٹائم جیسے موقر امریکی جریدے کو بھی یہ اعتراف کرنا پڑ رہا ہے کہ کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں نے بھارتی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں، خواتین کی عصمت دری، بچوں اور بوڑھوں کو بلاتفریق ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنانے اور ریاست کو وسیع جیل خانے میں بتدیل کرنے کی پالیسی سے تنگ آ کر ہتھیار اٹھائے اور قربانیوں کی ایک نئی اور بے مثال تاریخ مرتب کی۔
اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری باشندے بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں اور سات لاکھ بھارتی فوج ان کی جدوجہد کو کچلنے میں ناکام رہی ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے امریکی دبائو پر کشمیری عوام کی جدوجہدسے منہ موڑ کر آزاد کشمیر اور پاکستان کی سرزمین کو ان مجاہدین کیلئے علاقہ غیربنانے کی کوشش کی جو اپنے حق خودارادیت کیلئے لڑ رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کا مطالبہ کرتے ہیں مگر کشمیریوں کی جدوجہد میں کمزوری نہیں آئی۔کشمیریوں کو مایوس کرنے کیلئے اعتماد سازی کے جو اقدامات ہوئے اور جو بے مقصد مذاکرات جاری رکھے گئے اس کے علاوہ پرویزمشرف نے امریکہ کو خوش کرنے کیلئے تقسیم کشمیر کے جو بے ہودہ فارمولے پیش کئے وہ ممبئی حملوں کے بعد اپنی موت مر چکے ہیں پاکستان اور بھارت آج ایک بار پھر دشمنی کی اس سطح پر ہیں جو قیام پاکستان کے دن سے چلی آرہی ہے بھارتی وزیر داخلہ چدم برم گزشتہ روز دھمکی دے چکے ہیں کہ ان کے ملک میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوا تو پاکستان کے خلاف ہمارا ردعمل فیصلہ کن اور فوری ہوگا جبکہ بھارت نے دو طرفہ مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات کے دوران ایک بار پھر مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی البتہ وہ امریکہ کے ذریعے پاکستان پردبائو ڈال کر جہاد کشمیر میں ملوث ان تنظیموں اور افراد کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی کرانا چاہتا ہے جو افغان جہاد میں ملوث تنظیموں کے خلاف کرکے ہم امریکہ کی جنگ کو پاکستان میں لے آئے ہیں۔
بھارت نے چونکہ پاکستان کو آج تک دل سے قبول نہیں کیا اور امریکہ بھی اسلامی تشخص کی حامل ایک نیو کلیر ریاست سے خائف ہے کیونکہ یہ مسلم بلاک کے قیام اور چین کے ساتھ مل کر خطے میں استحکام لانے کیلئے مددگار ثابت ہوسکتی ہے اس لئے دونوں مسئلہ کشمیر کو حل کرکے کشیدگی ختم کرانے اور امن و سلامتی کا ماحول پیدا کرنے میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں رکھتے اور پاکستان کو اتنا کمزور کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ نہ صرف کشمیری عوام کی اخلاقی تائید و حمائت سے دستبردار ہو جائے بلکہ بھارت کی سیاسی، اقتصادی اور فوجی بالادستی بھی تسلیم کرے اسی بنا پر امریکہ کو جموں و کشمیر میں نہ تو بھارتی فوج کے مظالم نظر آتے ہیں، نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور نہ اقوام متحدہ کی ایسی قراردادیں جنہیں بھارت خود تسلیم کرچکا ہے امریکہ سے شہ پا کر ہی بھارت نے جموں و کشمیر میں فوج کو لامحدود اختیارات دے رکھے ہیں جس کا تذکرہ امریکی جریدہ ٹائم نے کیا ہے امریکہ کی منافقت اور دوعملی کا تو یہ عالم ہے کہ کلنٹن کی طرح اوبامہ نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کا اپنی انتخابی تقریروں میں ذکر کیا اور کہا کہ اس کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جاسکتی مگر اقتدار میں آنے کے بعد ایک بار بھی انہوں نے مسئلہ کشمیر کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے برعکس بھارت کو جدید ترین ہتھیار بھی فراہم کئے جا رہے ہیں اور اسے چین کے مقابلے میں اقتصادی و فوجی سپر پاور بنانے کیلئے بھرپور امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے حالانکہ اگر خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور استحکام مطلوب ہے تو اولیں ترجیح مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔
اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کیلئے مسئلہ کشمیر تمام بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے،صدر زرداری نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر کا ذکر نہ کرکے زیادتی کی ہے وہ چاہتے تو اپنے تقریر نویس مارک سیگل کو چند نکات شامل کرنے کی تلقین کرسکتے تھے وہ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے جانشین ہیں لیکن اگر اپنی این آر او سیاست کی وجہ سے وہ اس پر آمادہ نہیں تو وزیراعظم گیلانی کو یہ فرض کفایہ ادا کرنا چاہئے اور بھارتی مظالم بند کرانے کے علاوہ یو این قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے بھرپور مہم کا آغاز کرنا چاہئے اور امریکہ کو باور کرانا چاہئے کہ جب تک وہ بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل پر مجبور نہیں کرتا ہم دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ میں موثر کردار ادا نہیں کرسکتے کیونکہ ہماری اپنی سلامتی خطرے میں ہے اور اس کا تحفظ ہماری اولیں ترجیح ہے۔ ٹائم کی رپورٹ ہماری حکومت، دفتر خارجہ اور امریکی انتظامیہ کیلئے چشم کشا ہے جبکہ بھارت کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کیونکہ یہ مسئلہ بالآخر ایٹمی جنگ کا نقطہ آغاز ہوسکتا ہے۔
پانی کی تقسیم کا مسئلہ
پنجاب نے پانی کی تقسیم کا مسئلہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں حل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اس سلسلہ میں حکومت پنجاب کی جانب سے وفاقی وزارت پانی و بجلی کو ایک مراسلہ بھجوایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ پانی کی تقسیم 1991ء کے معاہدے کے پیرا دو کے مطابق چاہتا ہے جبکہ پنجاب اس معاہدے کے پیرا 14 کے تحت پانی کی تقسیم چاہتا ہے جس کے تحت صوبوں کے مابین کسی تنازعہ کے تصفیہ کیلئے مشترکہ مفادات کی کونسل سے رجوع کرنا لازمی ہوتا ہے۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پنجاب کی زرخیز زرعی اراضی پر اگنے والی فصلیںصرف اس صوبے ہی نہیں پورے ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں ممدو معاون ہوتی ہیں اور خودکفالت کے بعد اگر گندم برآمدکرکے ملک کیلئے زرمبادلہ کمایا جاتا رہا ہے تو اس میں بھی بڑا حصہ پنجاب ہی کارہا ہے اس لئے پنجاب کی زرعی اراضی کو فصلوں کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کیلئے سیراب رکھنا پورے ملک کے مفاد میں ہے مگر بدقسمتی سے محض سیاسی نعرہ بازی کے تحت پنجاب کا استحصال بھی کیا جاتا رہا ہے اور پنجاب کی جانب سے دوسرے صوبوں کو زیادہ سے زیادہ وسائل مہیا کرنے کی خاطر اپنے جائز حقوق کی قربانی بھی دی جاتی رہی ہے جس میں پانی بھی شامل ہے جو سندھ طاس معاہدے کے تحت صوبوں کے مابین تقسیم ہوتا ہے۔موجودہ ربیع اور خریف کی فصلوں کے دوران تو پنجاب کو اس لئے بھی پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا کہ بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کے تحت کشمیر کے راستے ہماری جانب آنے والے دریائوں پر 62 ڈیم تعمیر کرکے ہمارے حصے کا پانی بھی روک لیا جس کے بعد طرقہ تماشہ یہ ہوا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ سے پنجاب کے حصے میں آنے والے پانی میں بھی کٹوتی کرلی گئی جس کے نتیجہ میں پنجاب کو عملاً خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا جس کے لازمی طور پر قومی معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہوں گے اور مکروہ بھارتی سازشوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں پنجاب کی زرعی اراضی سے حاصل ہونے والی غذائی پیداوار میں نمایاں کمی ہوگی جو ملک میں غذائی قلت کے سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ یقینا اس تشویش ناک صورت حال کی بنیاد پرہی پنجاب کی جانب سے پانی کی تقسیم کاتنازعہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے ذریعہ حل کرانے کیلئے وفاقی وزارت پانی و بجلی کو مراسلہ بھجوایا گیا ہے جس پر کسی قسم کے تعصبات کو پیش نظر رکھے بغیر وفاقی حکمرانوں کو بہترین قومی مفاد میں فیصلہ کرنا چاہئے اور مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس طلب کرکے پنجاب کے ساتھ دیگر صوبوں کا پیدا شدہ پانی کا تنازعہ حل کرانا چاہئے تاکہ پنجاب کی زرعی اراضی قومی معیشت کی تعمیر و ترقی میں بروئے کار لائی جاتی رہے۔ مکار دشمن بھارت کی مذموم سازشوں کی موجودگی میں صوبوں کے مابین کسی قسم کی غلط فہمی پیدا ہونا اس ازلی دشمن کے حوصلے بڑھانے اور ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا اس لئے وفاقی وزارت پانی و بجلی کو پنجاب کی جانب سے موصول ہونے والے مراسلہ پر قومی تعمیر و ترقی کے جذبہ کے تحت غورکرنا چاہئے۔
امن و امان کی خرابی، ذمہ دار کون؟
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ گزشتہ روز ملتان ائرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے لئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کہیں گے تاکہ ملک کو ترقی دینے کے ساتھ بیروزگاری کو بھی ختم کیا جا سکے۔ ان کے بقول ملکی ترقی کے لئے بجٹ میں 40 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
وطنِ عزیز اس وقت جس بے دردی کے ساتھ پرائی آگ میں جھلسایا جا رہا ہے اس کی بنیاد پر ملک میں امن و امان کی مستقل بحالی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا سوات، مالا کنڈ کے بعد اب آپریشن راہ نجات کے نام پر جنوبی وزیرستان میں ملک کے شہریوں کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے اس کے ردعمل میں ملک کا امن و امان بھلا کہاں برقرار رہ پائے گا جبکہ ملک اور اس کے شہری پہلے ہی بدترین دہشت گردی اور خودکش حملوں کی لپیٹ میں ہیں جس سے ہمارے مکار دشمن بھارت کو بھی ہماری سالمیت کے خلاف کھل کھیلنے کا مکمل موقع مل رہا ہے۔ اس فضا میں غیر ملکی سرمایہ کار تو کجا ملکی سرمایہ کار بھی یہاں سرمایہ کاری سے گریز کریں گے اور یقیناً اس وقت امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے قومی معیشت تباہی کے دہانہ پر کھڑی ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو شاہراہ ترقی پر ہماری منزل بھی کوسوں دور چلی جائے گی۔
اس صورتحال میں حکومت کو سوچنا چاہئے کہ مشرف آمریت والی امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کی پالیسی برقرار رکھ کر اور اپنے ہی شہریوں پر فوج کشی کر کے ملک و قوم کے لئے کیا حاصل کیا گیا ہے جبکہ اس پالیسی سے حکومت کے اپنے استحکام میں بھی کوئی مدد نہیں ملی اور حکومت کے غیر مستحکم ہونے کی افواہیں آئے روز گردش کرتی رہتی ہیں۔ اندریں حالات اگر اس وطن عزیز کو امن و امان کا گہوارہ بنانا مقصود ہے تو پھر ان تمام اسباب و محرکات کا سدباب کرنا ہو گا جو دہشت گردی اور خودکش حملوں کا باعث بن رہے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ خود کو امریکی مفادات کی جنگ سے باہر نکال کر ملکی اور قومی مفادات کا تحفظ کیا جائے اور دہشت گردی کے خاتمہ کی امریکی جنگ کو امریکہ ہی کی جانب دھکیل دیا جائے، جب تک امریکی اتحادی اس سرزمین پر موجود ہیں یہاں امن و امان کی بحالی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں