وزیراعظم کا غلطی کا اعتراف اور ججوں کی خالی اسامیوں پر تقرر ..... اب فوری اور سستے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں
ـ 19 فروری ، 2010
صدر آصف علی زرداری کی جانب سے سپریم کورٹ اور لاہور و سندھ ہائیکورٹس میں ججوں کے تقرر سے متعلق بھجوائی گئی سمریوں پر دستخط ہونے کے بعد گذشتہ شب ان تینوں اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے تقرر کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا اور جمعرات کے روز مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ کے مستقل جج اور مسٹر جسٹس خلیل رمدے نے ایڈہاک جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے ان سے حلف لیا۔ اسی طرح سندھ ہائیکورٹ کے 9 ایڈیشنل ججوں نے بھی گذشتہ روز حلف اٹھایا جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے 22 ایڈیشنل جج آج بروز جمعتہ المبارک اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی خالی اسامیوں کے تقرر کیلئے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ نے بھی گذشتہ روز ججوں کے تقرر میں تاخیر کیخلاف دائر تمام آئینی درخواستیں غیر موثر قرار دے کر نمٹا دیں۔
دوسری جانب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے یقین دلایا ہے کہ حکومت این آر او سمیت سپریم کورٹ کے تمام فیصلوں پر عمل کریگی۔ انکے بقول غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہیں جبکہ مل کر فیصلے کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم گیلانی کی چیف جسٹس کی دعوت میں ’’گیٹ کریشنگ‘‘ کے بعدبدھ کی شام وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی ملاقات اور دونوں کی جانب سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا جس کیمطابق چیف جسٹس نے اس امر کا اظہار کیا کہ عدلیہ ملک میں قانون و آئین کی حکمرانی کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور پاکستان کی ترقی اور جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے اپنا کردار نبھائے گی۔ جبکہ وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ قانون کی حکمرانی ہر حال میں یقینی ہونی چاہئے اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ریاست کے تمام اداروں کے درمیان مشاورتی عمل جاری رہنا چاہئے۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بقول بی بی سی صدر زرداری کو ایک دفعہ پھر بچاتے ہوئے خود پیشرفت کر کے ججوں کے تقرر کے معاملہ میں آئینی تقاضے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری سے مشاورتی عمل شروع کیا اور اس معاملہ میں چیف جسٹس کے مشاورتی آئینی کردار کو تسلیم کرا کے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی خالی اسامیوں پر چیف جسٹس پاکستان اور متعلقہ ہائیکورٹوں کے چیف جسٹس حضرات کی سفارشات کی روشنی میں تقرر کا نوٹیفکیشن بھی جاری کرا دیا جس نے نہ صرف دو اہم آئینی اداروں میں تصادم کا خطرہ ٹل گیا بلکہ جمہوری نظام کے تحفظ و استحکام کی راہ بھی ہموار ہو گئی اور عوام نے بھی سکھ کا سانس لیاجبکہ ایوان صدر کے 13 فروری کے اقدام نے ملک میں افراتفری اور سسٹم کی بقا کے حوالے سے مایوسی کی فضا پیدا کر دی تھی۔ اس صورتحال میں سپریم کورٹ کی جانب سے ایوان صدر کا جاری کیا گیا 13 فروری کا نوٹیفکیشن معطل کئے جانے کے بعد حکمران پیپلز پارٹی کی تنظیموں نے گھیرائو جلائو پر مبنی احتجاج کا جو راستہ اختیار کیا اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس پاکستان کے پتلے اور عدالتِ عظمٰی کے 13 فروری کے عبوری احکام کی کاپیاں بھی نذر آتش کیں‘ اس سے پورے سسٹم کے تہہ و بالا ہونے کی فضاء بن گئی تھی۔ اگر دہکتے ہوئے اس سیاسی ماحول میں وزیراعظم دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس سے ملاقات کیلئے منگل کی شب سپریم کورٹ نہ جاتے تو آج ایوان صدر کی جانب سے بھڑکائی گئی آگ پورے سسٹم کو دامن گیر ہو چکی ہوتی اور جس طرح مسلم لیگ (ن) اور حکمران پیپلز پارٹی کی تنظیمیں ایک دوسرے کیخلاف صف آراء ہو گئی تھیں‘ سپریم کورٹ میں ججوں کے تقرر میں تاخیر کے کیس کی سماعت کے موقع پر مارا ماری کی نوبت آچکی ہوتی۔
اگرچہ اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی وزیراعظم سے ملاقات قانون و آئین کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے کوئی مثالی صورتحال نہیں ہے تاہم اگر وزیراعظم اس ملاقات کیلئے پیش رفت نہ کرتے تو اداروں کا ٹکرائو روکنا ناممکن نظر آرہا تھا۔ اس لئے وزیراعظم کے اس اقدام کو چاہے نظریہ ضرورت کا نام دیا جائے یا ناقدین کسی دوسرے انداز میں اپنی تنقید کا شوق پورا کریں‘ یہ حقیقت ہے کہ سسٹم کو بچانے کیلئے وزیراعظم کا یہی اقدام موثر ثابت ہوا ہے جبکہ 13 فروری سے 17 فروری تک حکومت کے اپنے پیدا کردہ بحران اور سنگین محاذ آرائی پر مبنی یہ پانچ دن ملک و قوم پر بہت بھاری گزرے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر امریکی ایماء پر جاری اپریشن‘ ڈرون حملوں اور ردعمل میں ہونے والے خودکش حملوں نے پہلے ہی قومی معیشت کا بیڑہ غرق کیا ہوا تھا‘ قومی ترقی کا پہیہ جامد ہو گیا تھا اور اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کا عمل رک گیا تھا جبکہ ایوان صدر کے 13 فروری کے اقدام نے قومی معیشت کو مزید دھچکا لگایا اور غیریقینی کی فضاء میں سسٹم کے ساتھ ساتھ ملک کا مستقبل بھی دائو پر لگ گیا جس کی ذمہ داری سے حکمران پیپلز پارٹی اور اسکی قیادت خود کو کسی صورت نہیں بچا سکتی تھی۔
اب جبکہ وزیراعظم اور چیف جسٹس پاکستان کے مابین ملاقات کی بنیاد پر افہام و تفہیم کی فضاء بحال ہو گئی ہے‘ اداروں اور سسٹم کے تحفظ و استحکام کے واضح امکانات پیدا ہو گئے ہیں اور قانون و آئین کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنے کے آثار بھی نظر آنے لگے ہیں‘ حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ اسکی صفوں میں کون سے ایسے عناصر موجود ہیں جو سلطانی ٔ جمہور کو خوش اسلوبی سے چلتا نہیں دیکھنا چاہتے اور محلاتی سازشوں کے ذریعہ آئے روز کوئی نہ کوئی بحران اور تنازعہ کھڑا کرکے جمہوری نظام کو کدالیں مارتے ہوئے جڑ سے اکھاڑنے کی کوششوں میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں اور کیا اب یہی مناسب وقت نہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور حکومت اپنی پارٹی میں موجود ان موقع پرستوں سے اپنی اور قوم کی خلاصی کرالے تاکہ انہیں اپنے مخصوص مقاصد اور مفادات کی بنیاد پر پھر ملک میں افراتفری پیدا کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ اب جہاں حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدلیہ کے احترام کے محض دعوے ہی نہ کرے بلکہ این آر او سمیت عدلیہ کے تمام فیصلوں پر انکی روح کے مطابق عملدرآمد کرے۔ کسی دوسرے آئینی ادارے میں مداخلت کو اپنا شعار نہ بنائے‘ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے مابین اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر طے پانے والے میثاق جمہوریت کو عملی جامہ پہنائے‘ پارلیمنٹ کی بالادستی قائم کرنے کیلئے 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کا بل پارلیمنٹ میں لائے اور اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر کے مروجہ آئینی طریقہ کار میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔ وہاں اب چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرتی بے انصافیوں کے ستائے ہوئے اس ملک کے محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ اور فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ بلاشبہ عدلیہ میں اوپر سے نیچے تک کرپشن کے تدارک کیلئے انکے اقدام اور کوششیں خاصی موثر ثابت ہوئی ہیں تاہم حصول انصاف کے حوالے سے اس وقت لوگوں کا بڑا مسئلہ انصاف میں تاخیر کا ہے جس میں بلاشبہ ججوں کی کمی کا بھی عمل دخل رہا ہے۔ تاہم اب عدلیہ میں ججوں کی مطلوبہ تعداد بھی پوری ہو چکی ہے اور آزاد عدلیہ کے دیگر تقاضے بھی بتدریج پورے ہو رہے ہیں‘ اس لئے اب مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کے معاملہ میں کوئی عذر پیش ہونا چاہئے‘ نہ چیف جسٹس کو قابل قبول ہونا چاہئے۔ اگر اپنے اپنے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے تمام ریاستی‘ آئینی ادارے اپنے اپنے فرائض تندہی سے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے جذبے سے سرانجام دیں تو اب کوئی وجہ نہیں کہ سسٹم مستحکم نہ ہو‘ قانون و آئین کی حکمرانی نہ ہو‘ گڈگورننس نہ ہو اور ہم تعمیر و ترقی کے رکے ہوئے سفر پر دوبارہ گامزن نہ ہوں۔ ملک کا مستقبل اور عوام کا مقدر سنوارنے کا یہی بہترین وقت ہے بشرطیکہ حکمران پیپلز پارٹی اپنی صفوں میں موجود غیرجمہوری عناصر کی ریشہ دوانیوں سے خود کو بچالے۔
مذاکرات اور بھارتی ’’چکرویو‘‘
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ 25 فروری کو پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات نہیں رسمی بات چیت ہو گی تاہم پاکستان کے تمام تحفظات دور کرنے کو تیار ہیں جبکہ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کیساتھ بامقصد مذاکرات چاہتے ہیں جبکہ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات میں دہشت گردی کا موضوع ہی زیربحث رہے گا کیونکہ ممبئی حملوں سے متعلق کئی معاملات حل طلب ہیں اور پاکستان نے کئی سوالوں کے جواب فراہم نہیں کئے۔
بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ بامقصد جامع مذاکرات کا اعلان کرکے بات چیت شروع کرنی ہے مگر ساتھ ہی بھارتی وزیر خارجہ کرشنا نے یہ کہہ دیا ہے کہ یہ مذاکرات دہشت گردی اور ممبئی حملوں کے بارے میں ہی ہوں گے جبکہ بھارتی وزیر مملکت دفاع نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ بھارتی حکومت ہمیشہ جامع مذاکرات کا نام لے کر جزوی اور ثانوی موضوعات تک مذاکرات کو محدود رکھنے کی عادی ہے اور صرف ان ہی موضوعات پر بات چیت کرتی ہے جو ان کے سامنے ہوتے ہیں۔ پاک بھارت مذاکرات کا موضوع مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی اور انہیں اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دینا ہے نیز بھارتی حکومت پاکستان کی طرف آنے والے تمام ندی نالوں کا پانی روک کر یہاں تقریباً 62 ڈیم بنا رہی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان دریائوں کا پانی مکمل طور پر روکے ہوئے ہے جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ پاکستان بنجر صحرا بن جائیگا۔ بھارت اس موضوع پر بات چیت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور نہ ہی بھارت بلوچستان، صوبہ سرحد اور پاکستان کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کا وسیع نیٹ ورک پھیلائے ہوئے ہے۔ بھارت اس پر بھی بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ صرف اپنے منتخب کردہ موضوعات پر بات کرنا چاہتا ہے جن میں پاکستان پر دبائو ڈالا جا سکے۔ پاکستانی وفد کو چاہئے کہ بھارت کی طرف سے اگر یہ مذاکرات محدود کئے جاتے ہیں تو پاکستانی وفد اس پر اپنے تحفظات کو بھارت کے ساتھ زیر بحث لائے اور جب تک مذاکرات کو جامع مذاکرات میں تبدیل کرلیں تو بہتر وگرنہ محض دہشت گردی پر مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ دہشت گردی کا شکار پاکستان خود ہے بھارتی زعماء کو اس پر بات کرنی ہے تو پہلے بھارت خود پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی کا نیٹ ورک ختم کرے افغانستان میں سولہ سترہ قونصلیٹ کھولنے کا کیا مقصد ہے۔ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان مخالفت اور دہشت گردی کیلئے استعمال نہ کرے۔ مگر بھارت اس سلسلہ میں اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں‘ اس لئے ان مذاکرات کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ بھارت دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہم مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔ اب حکومت پاکستان کو چاہئے کہ عالمی میڈیا کو بھارت کی اس مکارانہ اور عیارانہ چال سے آگاہ کرے اور مذاکرات کا ایجنڈہ تیار کرکے اسی پر بات چیت کی جائے۔
اساتذہ کی تنخواہیں بھی دگنا کی جائیں
تعلیم کے بغیر کوئی ملک اور معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اور تعلیم کے فروغ میں اولین کردار بلاشبہ استاد کا ہی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں استاد کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ گزشتہ دور کے حکمرانوں کو خواب بھی تعلیم کے آئے تھے‘ موجودہ حکمرانوں کے بھی تعلیم کے فروغ کیلئے دعوے کم نہیں‘ جس کا عملی مظاہرہ ٹاپ کرنے والے طلباء و طالبات کیلئے پانچ دس اور 25 لاکھ روپے تک کے انعامات کی بارش کی صورت میں ہوتا رہتا ہے لیکن اس طرف توجہ دینے کی ضرورت گزشتہ حکومت نے محسوس کی نہ موجودہ نے کہ طلباء و طالبات کو اس مقام پر لانے میں جس استاد کا کردار ہے‘ وہ خود کس حالت میں زندگی بسر کر رہا ہے؟ اسکی دال روٹی بھی پوری ہو رہی ہے یا نہیں؟
آج کے پسے ہوئے طبقات میں اساتذہ سرفہرست ہیں‘ اسکے باوجود انکی خدمات قابل تحسین ہیں کہ نئی نسل کو پوری تندہی محنت اور لگن کے ساتھ زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ انکی ضروریات کا ادراک حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چاہئے۔ پولیس اور فوج سمیت کئی اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں دوگنا کردی گئی ہیں‘ یہ اچھے اقدامات ہیں‘ لیکن یہ چند محکموں میں محدود نہیں رہنے چاہئیں‘ دیگر کم تنخواہ کے حامل ملازمین خصوصی طور پر اساتذہ کی تنخواہیں بھی دگنا ہونی چاہئیں تاکہ یہ لوگ بھی موجودہ مہنگائی کے دور میں جسم و جان کا رشتہ اچھے طریقے سے برقرار رکھ سکیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں