وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے مابین ملاقات میں سیلاب سے پیدا ہونیوالی صورتحال‘ متاثرین اور متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور طے کیا گیا کہ سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال کو چیلنج سمجھتے ہوئے حکومت اور حکومتی ادارے اپنا بھرپور کردار بروئے کار لائیں گے اور بحالی کے عمل کی باہم مل کر تکمیل کرینگے۔ اس موقع پر میاں شہباز شریف نے متاثرین سیلاب کو محفوظ علاقوں تک لانے اور انکی بحالی کے عمل میں فوج کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ فوجی جوانوں نے حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر قومی جذبہ کے تحت جو کام سرانجام دیا‘ وہ لائق تحسین ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ تباہی و بربادی کے اس عمل کا مل جل کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے‘ اس سلسلہ میں انہوں نے حکومت کو متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔ میاں شہباز شریف نے اس ملاقات کو سیلاب کی پیدا کردہ صورتحال سے نمٹنے کے معاملہ میں نتیجہ خیز قرار دیا۔
یہ حقیقت ہے کہ سیلاب سے ملک کے طول و عرض میں جس وسیع پیمانے پر تباہ کاریاں ہوئی ہیں‘ ان سے حکومت یا کوئی حکومتی ادارہ تنہاء عہدہ براء نہیں ہو سکتا‘ ملک کے تمام صوبوں میں بستیوں کی بستیاں اجڑ کر صفحۂ ہستی سے غائب ہو گئی ہیں‘ خاندانوں کے خاندان اپنے گھروں‘ گھریلو سامان اور جمع پونجی سمیت سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ ہزاروں ڈھور ڈنگر بھی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں‘ لاکھوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں‘ ذخیرہ کی گئی گندم اور دوسری اجناس بھی ٹنوں کے حساب سے سیلابی ریلوں کی زد میں آکر برباد ہوئی ہے‘ صنعتیں‘ کارخانے‘ مارکیٹیں‘ چلتے کاروبار غرض سب کچھ سیلاب کی لپیٹ میں آگیا ہے‘ جس سے ابتدائی تخمینوں کے مطابق کھربوں ڈالر کے نقصان کی نشاندہی ہو رہی ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں ابھی جاری ہیں اور تیسرے مرحلے کے سیلاب کی آمد کا خطرہ بھی سروں پر منڈلا رہا ہے۔ لاکھوں متاثرین سیلاب پہلے ہی بے یارومددگار پڑے ہیں‘ جن تک حکومتی وسائل سے ابھی تک کسی قسم کی مدد نہیں پہنچ پائی‘ سیلاب کی تباہ کاریاں اسی طرح جاری رہیںتو صرف یہی نقصان ہی ناقابل تلافی نہیں ہو گا‘ بلکہ سیلاب کے بعد غذائی قلت کا جو بحران پیدا ہو گا‘ وہ انسانی بے بسی اور مسائل و مصائب میں مزید اضافہ کا باعث بنے گا۔
متاثرین سیلاب کیلئے تو اس وقت بھی زندگی گزارنا مشکل ہو رہا ہے‘ جو سیلاب میں بچتے بچاتے خشکی پر آئے ہیں تو نہ انکی خورد و نوش کی ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں اور نہ ہی وبائی امراض سے بچنے کیلئے انہیں کسی قسم کی طبی سہولت میسر ہے۔ ملک میں سیلاب کی آفت آئے تین ہفتے کے قریب ہو چکے ہیں‘ مگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے متاثرین سیلاب کی بحالی کیلئے ابھی تک کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی جا سکی۔ حکمران طبقہ کو پہلے ہفتے تک تو سیلاب زدہ علاقوں میں جانے کی ہی فرصت نہیں ملی اور نہ ہی انہوں نے متاثرین سیلاب کی زبانی کلامی ڈھارس بندھانے کی کوئی ضرورت محسوس کی جبکہ صدر مملکت تو ملک پر ٹوٹی ہوئی اس قیامت کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے دورۂ یورپ کیلئے روانہ ہو گئے جو اس دورے پر ہونیوالی اندرونی اور عالمی سطح کی سخت تنقید کے باوجود پھر بیرونی دورے پر روس چلے گئے ہیں۔
بے شک سیلاب کی شدت بہت زیادہ ہے اور پچھلی صدی میں بھی اس نوعیت کے سیلاب کی کوئی مثال نہیں ملتی‘ پھر بھی بروقت منصوبہ بندی کرکے اور بہتر حکمت عملی اختیار کرکے سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کیا جا سکتا تھا‘ مگر اس معاملہ میں بالخصوص وفاقی حکومت کے کریڈٹ میں کوئی چیز نظر نہیں آرہی۔ صرف وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف پہلے ہی دن سے متحرک ہوئے اور پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں خود جا کر امدادی کاموں کی نگرانی کی جبکہ ملک کی مسلح افواج نے ایک ٹیم ورک کے تحت محنت و جانفشانی کے ساتھ متاثرین سیلاب کو بچانے اور انہیں ضروری امداد فراہم کرنے کی ذمہ داریاں ادا کیں‘ کسی ادارے کی جانب سے سیلاب زدگان کو اگر سب سے زیادہ امداد فراہم کی گئی ہے تو وہ صرف پاک فوج ہے‘ جس کی وساطت سے ہونیوالے امدادی کاموں پر قوم کو بھی اعتماد ہے چنانچہ لوگ پاک فوج کے ریلیف کیمپوں میں ہی سب سے زیادہ سامان خورد ونوش اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء پہنچا رہے ہیں جو بروقت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھجوایا بھی جا رہا ہے۔ اسی طرح نوائے وقت گروپ کے قائم کردہ فلڈ ریلیف فنڈ کے ذریعہ بھی ہمارے کارکن مظفرآباد اور شانگلہ ایسے دور دراز علاقے میں بھی امدادی سامان خوردو نوش لے کر پہنچے ہیں‘ لوگ بھی امدادی سامان اور رقوم متاثرین سیلاب کیلئے بھجوا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کی اپیل پر اب بیرون ملک سے بھی کافی امدادی سامان اور فنڈز حاصل ہو رہے ہیں‘ او آئی سی نے جدہ میں اپنے اجلاس میں اس مشکل وقت میں پاکستان کی بھرپور مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے مگر اسکے باوجود حکومتی سطح پر اب تک متاثرین سیلاب کی بحالی کیلئے کسی قسم کی پیش رفت نظر نہیں آرہی‘ سوائے اسکے کہ بعض مخصوص علاقوں میں وزیراعظم اور وزراء پورے پروٹوکول کے ساتھ فضائی دورے پر جاتے ہیں اور حقیقی متاثرین سیلاب کی خبر گیری کے بجائے حکومتی ایجنسیوں کے قائم کردہ فرضی ریلیف کیمپوں میں جا کر امدادی چیک اور سامان تقسیم کر آتے ہیں‘ جو متاثرین کے بجائے قطعی غیرمستحق لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ایسے ہی ایک فرضی کیمپ کا دورہ کرادیا گیا ہے جس سے حکومت کی گڈگورننس پر ہی حرف نہیں آرہا‘ بیرون ملک بھی ہمارا تشخص بری طرح مجروح ہو رہا ہے۔
اس بداعتمادی کی فضاء میں اندرون ملک ہی نہیں‘ بیرون ملک سے بھی حکومتی مشینری کے ذریعہ امدادی سامان کی تقسیم کے بارے میں تحفظات سامنے آتے رہے ہیں‘ چنانچہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے قومی جذبے کے تحت حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے خود رابطہ کیا اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کیلئے انہیں بے لوث تعاون کی پیشکش کی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کی ملاقات میں امدادی کارروائیاں مشترکہ طور پر شروع کرنے کا طے کیا گیا اور میاں نواز شریف نے ایک آزاد فلڈ کمشن قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی جس سے وزیراعظم نے اتفاق کیا اور مشترکہ امدادی کارروائیوں اور آزاد فلڈ کمشن قائم کرنے کا اعلان خود وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے میاں نواز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا مگر اس اعلان کے ایک ہفتے کے بعد بھی مشترکہ امدادی کارروائیاں شروع ہو پائی ہیں‘ نہ آزاد فلڈ کمشن تشکیل دیا جا سکا ہے جس کے بارے میں یہ افواہیں بھی زیر گردش ہیں کہ آزاد فلڈ کمشن کی تشکیل کی راہ میں ایوان صدر کی جانب سے رکاوٹ ڈالی گئی ہے تاکہ حکومت کو اندرون و بیرون ملک سے ملنے والی امداد خود تقسیم کرنے اور تقسیم کے اس عمل میں کسی اور کو دخل اندازی کا موقع نہ مل سکے۔ میاں نواز شریف نے اسی تناظر میں گزشتہ روز حکومت کو باور کرایا کہ فلڈ ریلیف کمشن کے قیام کے معاملہ میں وزیراعظم ابھی تک کچھ بھی نہیں کر پائے اور اگر یہی صورتحال رہی تو متاثرین سیلاب کی امداد کیلئے ہم اپنی الگ حکمت عملی بنائیں گے اور جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں ‘ مسلم لیگ (ن) کا عوامی اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو متاثرین سیلاب کے بڑھتے ہوئے مسائل اور انکے اضطراب کے پیش نظر ملک کی مسلح افواج کو حکومتی مشینری کے حصے میں آنیوالے امدادی کاموں کا بیڑہ بھی خود ہی اٹھانا پڑیگا جس کیلئے آرمی چیف کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کو اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر مصیبت اور آزمائش کے وقت بھی منتخب حکمرانوں نے کان لپیٹ رکھے ہوں اور امداد کے منتظر عوام کی جانب آنکھیں بند کر رکھی ہوں تو ان بے بس اور مجبور عوام کو کب تک بے یارومددگار پڑے رہنے دیا جا سکتا ہے‘ اس لئے اگر حکومت اندرون اور بیرون ملک سے موصول ہونیوالے امدادی سامان اور فنڈز کی متاثرہ علاقوں میں تقسیم کیلئے اپنی مصلحتوں کی بنیاد پر میاں نواز شریف کا تجویز کردہ آزاد فلڈ کمشن تشکیل نہیں دیتی تو موصول ہونیوالے سارے امدادی سامان اور فنڈز کی مساویانہ تقسیم کا فریضہ بھی مسلح افواج کو خود سرانجام دینا چاہیے تاکہ اس سامان اور فنڈز کی تقسیم شک و شبہ سے بالا ہو‘یہ وقت سیاست کا ہے نہ اپنے ذاتی مفادات کی نگہداشت کا‘ اگر حکومتی مشینری اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ براء نہیں ہوتی تو متاثرین سیلاب کو بے یارومددگار نہیں رکھا جا سکتا‘ انہیں اس وقت فوری امداد کی ضرورت ہے‘ اس عمل میں اگر ملک کی مسلح افواج قوم کے دل جیت رہی ہیں تو منتخب جمہوری حکمرانوں کو اپنے اعمال درست کرنے چاہئیں اور ایسا موقع فراہم نہیں کرنا چاہیے کہ فوج کے آنے پر لوگ ماضی کی طرح مٹھائیاں تقسیم کرتے نظر آئیں۔
کالاباغ ڈیم ‘نوائے وقت کا ریفرنڈم!
تحریک صوبہ ہزارہ کے قائد بابا حیدر زمان خان نے کہا ہے کہ پاکستان میںبھوک ننگ اور غربت کے علاوہ پانی بجلی کے بحران کا واحد حل کالاباغ ڈیم کی تعمیر ہے‘ حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں فوری قدم اٹھانا چاہیے۔ ’’وقت نیوز‘‘ کے پروگرام ’’اگلا قدم‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے بابا حیدر زمان نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے حکومت پاکستان کو کسی تردد کی ضرورت نہیں ہے‘ یہ پاکستان کے سترہ کروڑ عوام کی ترقی و خوشحالی کا پروگرام ہے اور یہ پاکستان بھر کے عوام کا مطالبہ ہے اس لئے وفاقی حکومت فوری طور پر اسے شروع کر دے۔ یہی ڈیم ہے جو آئندہ بارشوں اور سیلابی پانی جمع کرنے کیلئے بنایا جائیگا۔ ڈیم سے بجلی بھی پیدا ہو گی اور ملک بھر کی زراعت کو بھی پانی مل سکے گا۔
بابا حیدر زمان خان ٹھیک کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کیلئے اہلیت کی ضرورت تھی اور اسفندیار ولی کو صوبہ دلوانا تھا تاکہ وہ اس کا نام پختونخواہ رکھ سکیں۔ اگر یہ خود غرضی اور ذاتی لالچ درمیان میں نہ ہوتا اور مسلم لیگ کے قائد کو بابائے قوم کے نظریات و افکار سے معمولی سی آگاہی بھی ہوتی تو وہ اس ٹریپ میں کبھی نہ پھنستے۔
موجودہ تباہی و بربادی ہونے کے بعد بھی اگر پاکستان کے سیاست دانوں کو عقل نہیں آئی اور انہیں کالاباغ ڈیم اور دیگر ڈیموں کی تعمیر کا آغاز کرنے کی توفیق نہیں ہو رہی تو قومی اسمبلی میں بعض ارکان کی یہ باتیں بالکل درست سمجھی جائیں گی کہ بھارت ہر سال چھ ارب روپے صرف کالاباغ ڈیم کے مخالفوں میں تقسیم کرتا ہے۔ کالالاغ ڈیم پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا ایک عظیم منصوبہ ہے‘ اس پر عملدرآمد سے پاکستان کے غریب عوام کو بہت ہی سستی بجلی ملے گی‘ پاکستان میں صنعت و حرفت ترقی کریگی‘ فیکٹریاں اور کارخانے چلیں گے‘ غریب عوام کو نوکریاں ملیں گی اور پاکستان میں ترقی ہو گی۔ نوائے وقت گروپ نے عوام کا فیصلہ حاصل کرنے کیلئے ریفرنڈم کا اہتمام کیا ہے‘ انشاء اللہ یہ بالکل ٹرانسپرنٹ یعنی شفاف ہو گا۔ پانچوں صوبوں میں بھاری اکثریت کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں ہے۔ ہمار ی قارئین سے اپیل ہے کہ وہ اس میں اپنے نام پتہ اور شناختی کارڈ کی کاپی کے ساتھ حصہ لیں اور اس اہم ترین قومی مسئلہ میں اپنی رائے دیں۔
ڈیزل‘ پٹرول کی قلت
سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث جہاں ملک بھر کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے‘ وہیں اسکے ساتھ ساتھ اشیاء ضروریہ کی کمی جیسے مسائل سے بھی عوام دو چار ہو رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں 37 دن کا ڈیزل 19 دن کا فرنس آئل اور گیارہ دن کا پٹرول رہ گیا ہے جبکہ دفاعی مقاصد کیلئے ایندھن کے ذخائر 40 ایام کے موجود ہیں۔
قدرتی آفات کے باعث ملک کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے‘ ذرائع نقل و حمل جامد ہو چکے ہیں‘ اب پٹرول اور ڈیزل کی کمی رہی سہی کسر نکال دے گی۔ عوام پہلے ہی دربدر ہو چکے ہیں‘ ہر تاجر اور ٹرانسپورٹر مجبوری کے اس عالم میں منہ مانگے دام وصول کررہا ہے۔ نہ جانے ہمارے ضمیر مردہ کیوں ہو چکے ہیں‘ ہم مصیبت کی گھڑی میں اگر اپنے بھائیوں کی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم ان سے زندہ رہنے کا حق تو نہ چھینیں۔
ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر ہی نہیں آرہی‘ چند خوف خدا رکھنے والے افراد کے علاوہ نہ جانے باقی کہاں چلے گئے ہیں۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی کمی کو پورا کرنے کیلئے جلد از جلد بندوبست کرے‘ اگر انفرانسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے‘ تو کیا اس کا کوئی متبادل بندوبست بھی نہیں کیا جا سکتا‘ حکومت جنگی بنیادوں پر اس کا کوئی متبادل حل تلاش کرے اور موجودہ پٹرولیم مصنوعات کو فضول استعمال کرنے سے گریز کرے۔ سرکاری سطح پر اس کا استعمال کم کیا جائے اور عوام الناس کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا جائے اور جس جس پٹرول پمپ پر پٹرول اور ڈیزل بلیک کرکے یا زیادہ دام وصول کرکے فروخت کیا جا رہا ہے‘ ان کا محاسبہ کیا جائے معیار اور مقدار کو مستحکم رکھنے کیلئے چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے۔