چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے نتیجہ میں ایوان صدر سے جاری کردہ 13؍ فروری کا نوٹیفکیشن واپس لے کر سپریم کورٹ کی دو خالی اسامیوں پر تقرر کا نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے‘ جس کے تحت لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کردیا گیا ہے اور سابق جج سپریم کورٹ مسٹر جسٹس خلیل رمدے کو ایک سال کیلئے سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج مقرر کیا گیا ہے جبکہ مسٹر جسٹس خواجہ محمد شریف بدستور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز رہیں گے‘ اسی طرح لاہور‘ سندھ اور سرحد ہائیکورٹ میں ججوں کی خالی اسامیوں پر بھی متعلقہ ہائیکورٹوں کے چیف جسٹس حضرات کی سفارشات کی روشنی میں تقرر عمل میں لانے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ تقریباً اڑھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد وزیراعظم نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ چیف جسٹس پاکستان کی ان سے ملاقات ججوں کے تقرر کے سلسلہ میں مشاورت کے آئینی عمل کا حصہ ہے‘ جبکہ مشاورت کا یہی مناسب راستہ تھا جو اختیار کیا گیا۔
وزیراعظم نے گزشتہ رات چیف جسٹس کے عشائیہ میں اچانک شریک ہو کر چیف جسٹس کو ملاقات کیلئے وزیراعظم ہائوس مدعو کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ قوم 18 فروری کو خوشخبری سنے گی۔ وزیراعظم ہائوس میں چیف جسٹس کی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران پوری قوم خوشخبری کی منتظر رہی جبکہ ملاقات کے بعد وزیراعظم کی جانب سے کئے گئے اعلانات سے ملکی و قومی حالات کی بہتری اور سسٹم کے استحکام کیلئے فکرمند حلقوں اور قوم نے یہ تصور کرکے سکون کا سانس لیا کہ اب اداروں کے ٹکرائو کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ اس ملاقات کے نتیجہ میں ججوں کے تقرر سے متعلق تمام تنازعات طے ہو گئے ہیں اور ججوں کے تقرر میں چیف جسٹس کے آئینی مشاورتی کردار کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔ تاہم بالخصوص این آر او کیس اور بنک آف پنجاب کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر حکومت کی جانب سے عملدرآمد سے گریز کے نتیجہ میں آئین و قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کا تاثر مجروح ہونے کی فضاء بدستور برقرار ہے۔
وزیراعظم ہائوس میں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ اس ون ٹو ون ملاقات کو اگرچہ آئینی اور قانونی حلقوں نے مستحسن قرار نہیں دیا اور جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد‘ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور‘ سابق صدور محمد اکرم شیخ اور حامد خان اور ایس ایم ظفر‘ خالد رانجھا اور فروغ نسیم سمیت کم و بیش تمام آئینی ماہرین اپنی الگ الگ آراء میں اس امر پر متفق نظر آتے ہیں کہ بالخصوص ان حالات میں جبکہ ججز کے تقرر کے معاملہ میں وفاقی حکومت اور وفاق پاکستان کیخلاف کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے‘ چیف جسٹس کو وزیراعظم سے ملاقات کیلئے وزیراعظم ہائوس نہیں جانا چاہئے تھا۔ انکی رائے میں چیف جسٹس کی وزیراعظم سے ون ٹو ون ملاقات سے شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں‘ اس لئے اگر ملاقات ضروری تھی تو پوری سپریم کورٹ کے ساتھ ہوتی‘ تاہم ان تحفظات کے باوجود موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ملاقات عدلیہ کے معاملات میں متعدد حکومتی اقدامات کے باعث سسٹم کو لاحق ہونے والے خطرات کو ختم یا کم کرنے میں ممدومعاون ہو گی اور اس سے آئینی اداروں کو افہام و تفہیم کے ساتھ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں فرائض سرانجام دینے اور عوام کو درپیش گوناں گوں مسائل حل کرنے کا موقع ملے گا۔
اگر تو اس ملاقات میں وزیراعظم نے عدالتی فیصلوں کے عدم احترام کی حکومتی روش ترک کرنے اور این آر او کیس اور ججز کیس سمیت عدلیہ کے تمام فیصلوں پر انکی روح کے مطابق عملدرآمد کرنے کا یقین دلا دیا ہے اور اسکے جواب میں چیف جسٹس نے قانون و آئین کی حکمرانی‘ عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی عملداری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا تو جوڈیشل کوڈ آف کنڈکٹ کے تقاضوں کے منافی ہونے کے باوجود یہ ملاقات بالخصوص سسٹم کے استحکام کیلئے مثبت اور دوررس نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔
عدلیہ کی آزادی کی مثالی صورتحال تو وہی ہو سکتی ہے جو پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور میں قائم ہوئی تھی جب وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری نے رجسٹرار فیڈرل کورٹ کو وزیراعظم کی جانب سے درخواست پیش کی کہ اگر چیف جسٹس فیڈرل کورٹ مناسب سمجھیں تو انکے ساتھ چائے پینے آجائیں تاہم چیف جسٹس فیڈرل کورٹ سر عبدالرشید نے اس بنیاد پر وزیراعظم سے ملاقات سے معذرت کرلی کہ اس وقت وفاق پاکستان کیخلاف متعدد مقدمات فیڈرل کورٹ میں زیر سماعت ہیں‘ اس لئے انکی وزیراعظم سے ملاقات کا اچھا تاثر پیدا نہیں ہو گا۔ جوڈیشل کوڈ آف کنڈکٹ میں بھی جس کی گزشتہ سال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ہی تشکیل نو کی گئی ہے‘ کسی زیرسماعت مقدمے کے کسی فریق یا فریقین کے ساتھ متعلقہ جج کے رابطے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کے فلسفے کی بنیاد پر بھی وزیراعظم ہائوس میں چیف جسٹس کی وزیراعظم سے ملاقات کو خوشگوار تاثر قرار نہیں دیا جا سکتا اور قانونی اور آئینی حلقوں کی جانب سے یہ رائے سامنے آرہی ہے کہ عدلیہ سے متعلق تصفیہ طلب امور کسی بارگیننگ کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئین اور قانون کے تقاضوں کے مطابق ہی طے ہونے چاہئیں‘ جس کی حکومت پابند بھی ہے۔
اگرچہ یہ بات قرین قیاس نہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری‘ جنہوں نے چھ باوردی جرنیلوں کی موجودگی میں سابق فوجی آمر مشرف کے روبرو انکے جرنیلی احکام تسلیم کرنے کے معاملہ میں جرأت انکار کا مظاہرہ کیا تھا۔ عدلیہ کی آزادی کے تقاضوں میں کسی قسم کی نرمی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہو گا۔ جبکہ وکلاء تنظیموں‘ سول سوسائٹی اور میڈیا کے متحرک کردار کی بنیاد پر بھی چیف جسٹس سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران عدلیہ کی آزادی کے تقاضوں کے منافی کسی بات پر رضامندی ظاہر کی ہو گی۔
اسکے باوجود مناسب یہی ہوتا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری گزشتہ رات اپنے عشائیہ میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے وزیراعظم ہائوس میں ملاقات کی خواہش کے اظہار پر خوشگوار انداز میں ان سے معذرت کر لیتے اور انہیں باور کرا دیتے کہ اس وقت چونکہ ججوں کے تقرر کے معاملہ میں وفاقی پاکستان اور وفاق حکومت کیخلاف مقدمہ عدالتِ عظمٰی میں زیر سماعت ہے‘ اس لئے ان کا ملاقات کیلئے وزیراعظم ہائوس آنا مناسب نہیں ہو گا۔ اگر حکومت فی الواقع عدلیہ کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عدلیہ سے متعلق تمام تنازعات کو ختم کرنے میں مخلص ہو تو اس کیلئے حکومت کے پاس واضح راستہ موجود ہے کہ وہ این آر او کیس اور بنک آف پنجاب کیس میں سپریم کورٹ کے جاری کردہ احکام کی تعمیل کرتے ہوئے حکومتی اور سرکاری عہدوں پر فائز متعلقہ شخصیات کیخلاف کارروائی عمل میں لائے اور جن لوگوں نے عدلیہ سے ٹکرائو مول لینے کا صدر کو غلط مشورہ دیا‘ ان سے فی الفور خلاصی حاصل کرلے۔ اگر تو حکومت کی جانب سے یہ تمام اقدامات پہلے ہی کرلئے گئے ہوتے اور اسکی بنیاد پر ججوں کے تقرر کے بارے میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس نمٹایا جا چکا ہوتا تو اسکے بعد چیف جسٹس کی جانب سے وزیراعظم کی ملاقات کی خواہش پوری کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا بلکہ اس سے قانون اور آئین کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کا ایک نیا اور خوشگوار تاثر پیدا ہوتا جبکہ اب قانون اور آئین کی حکمرانی اور جمہوری نظام کے استحکام کیلئے فکر مند حلقے اس حوالے سے بجا طور پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان کی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کا اہتمام کرانے والوں نے عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کے حوالے سے چیف جسٹس پاکستان کا امیج خراب کرانے کی سازش تو نہیں کی؟ جبکہ وزیراعظم نے اس ملاقات کو مشاورتی آئینی عمل کا حصہ قرار دے کر اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ ہفتے کے دوران عدلیہ کے ایشو پر جس جارحانہ انداز میں صدر زرداری کے اقدامات اور فیصلوں کا دفاع کیا‘ اسکے پیش نظر نظریہ تصور کرنا بے معنی ہو گا کہ وزیراعظم نے ایوان صدر سے بالا بالا چیف جسٹس کو وزیراعظم ہائوس میں مدعو کرنے کا ازخود فیصلہ کیا ہو گا ۔ تاہم اگر یہ ملاقات جمہوریت اور اداروں کے استحکام اور قانون و آئین کی حکمرانی تسلیم کرانے میں ممدو معاون ہوتی ہے تو اسی کو قوم کیلئے خوشخبری قرار دیا جا سکتا ہے اور اس خوشخبری کی بنیاد پر اس ملاقات کے نتیجہ میں عدلیہ کی آزادی پر زد پڑنے کے تاثر کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے‘ حکومت نے جو اقدامات اس ملاقات کے نتیجہ میں کئے ہیں‘ اگر آئین و قانون کے تقاضے کے مطابق ازخود کرلئے گئے ہوتے تو اس سے آئین و قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے کہیں بہتر اثرات مرتب ہوتے۔
امریکہ‘ پاک بھارت تعلقات
امریکی سنیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ کشمیر اور پانی کے مسئلہ سمیت تمام مسائل پر پاکستان بھارت مذاکرات شروع کرانے کیلئے معاونت کرنے کیلئے تیار ہے۔ جبکہ صدر زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سینٹر کیری سے ملاقات کے دوران زور دیا کہ امریکہ اتحادی سپورٹ فنڈ کی روکی ہوئی رقم جلدی ادا کرے وگرنہ سوات اور مالاکنڈ کے منصوبے بری طرح متاثر ہونگے۔ پاکستان کا نام سکریننگ لسٹ سے خارج کیا جائے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی جو کہ آٹھ برسوں سے امریکہ کی تحویل میں ہے‘ اسکو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
سینٹر جان کیری بار بار پاک بھارت مذاکرات میں پاکستان کی مدد کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں‘ حکمرانوں کو کہا جائے کہ 1969ء تک امریکہ کی مدد سے ہی اقوام متحدہ میں آزادی کشمیر کی قراردادیں منظور ہوتی رہی ہیں۔ امریکہ خود اقوام متحدہ میں آزادی کشمیر کیلئے پاکستان کا معاون رہا ہے اور روسی حکومت اسے ویٹو کرتی رہی ہے۔ آج امریکہ اس مسئلہ کی حمایت کیوں نہیں کرتا‘ اس کیلئے امریکہ کا مذاکرات میں بیٹھ جانا تو ضروری نہیں‘ امریکہ پاک بھارت مذاکرات میں مدد کرنا چاہتا ہے تو وہ فوری طور پر اعلان کرے کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو خودارادیت دے اور امریکہ خود اپنی نگرانی میں دیگر پاک بھارت اختلافات کا بھی جائزہ لے اور اس کیلئے انصاف کرے۔ اگر امریکہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کیلئے دلچسپی لے تو جنوبی ایشیاء میں امن و امان کی گارنٹی پاکستان دینے کیلئے تیار ہے مگر امریکہ کوئی مسئلہ حل کرنے کی بجائے بھارتی حکمرانوں کو بے جا امداد دے رہا ہے۔ بھارت کو اسلحہ دے رہا ہے‘ نیوکلیئر ہتھیار دیئے جا رہے ہیں اور امریکہ کے وزیر بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کو دھمکیاں دیتے ہیں اور بھارتی لیڈروں کی زبان بولتے ہیں۔ اس لئے امریکی لیڈر پاک بھارت مذاکرات کی مانیٹرنگ کرتے رہیں مگر اس میں دخل اندازی نہ کریں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں 17 مرتبہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کرچکا ہے‘ فلیگ سٹاف میٹنگ میں اس پر احتجاج بھی کیا گیا مگر بھارت نے اس کے بارے میں کوئی مثبت رویہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی امریکی مبصر اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ امریکہ اگر چاہے تو پاک بھارت تنازعات چند ماہ میں ختم ہو سکتے ہیں اگر ایسا ہو جائے تو امریکہ برطانیہ اور دیگر ممالک کا تیار کردہ اسلحہ کس کام آئیگا اس لئے اہل پاکستان کو امریکہ اور مغربی ممالک سے کسی بھلے کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔
ملاوٹ اور جعلسازی کیخلاف مہم
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس میاں ثاقب نثار نے مضرِ صحت پانی کی فروخت کیخلاف دائر درخواست پر پانی فروخت کرنیوالی 17کمپنیوں کو سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کمپنیوں کی بوتلوں کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور فروخت پر بھی پابندی عائد کر دی۔
جعل سازی اور فراڈ صرف منرل واٹر تک ہی محدود نہیں، اکثر دیگر اشیاء بھی دھڑلے سے نقلی تیار ہوتی ہیں اور ایکسپورٹ تک کر دی جاتی ہیں جس سے بدنامی وطنِ عزیز کی ہوتی ہے۔ ظلم اور انسانیت دشمنی کی انتہا ہے کہ اکثر کاروباری لوگ راتوں رات امیر بننے کے چکر میں اشیائے خوردنی میں ملاوٹ سے بھی باز نہیں آتے گھریلو استعمال کی اکثر اشیاء دودھ، پتی، مرچ مصالحوں وغیرہ میں اندھا دھند ملاوٹ کی جاتی ہے جو انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے۔ ان ملاوٹ کرنیوالوں کی وجہ سے ہسپتال کلینک مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔
وزیراعلیٰ شہباز شریف نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے ضلعی فوڈ کمیٹیاں بنائی ہیں۔ لاہور میں ضلعی فوڈ کمیٹی آج کل کافی متحرک ہے دیگر شہروں کی فوڈ کمیٹیوں کو بھی جاگنا چاہیے اگر کسی ضلع میں فوڈ کمیٹی نہیں ہے تو ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تو ضرور موجود ہے‘ اس کو اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کرنا چاہئیں۔ اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے جسم کا تندرست ہونا بھی لازمی ہے۔ یہ اسی صورت ہو سکتا ہے جب خوراک خالص ہو گی، ملاوٹ کرنیوالے یقیناً انسان نہیں بھیڑیے ہیں۔ معاشرے کو ان ناسوروں سے نجات دلانے کیلئے عدالت عالیہ کا اقدام بروقت ہے۔ حکومت کو بھی بلاامتیاز ملاوٹ کرنے والوں پر آہنی ہاتھ ڈالتے ہوئے ان کو عبرت ناک انجام سے ہمکنار کرنے کیلئے پوری مشینری کو بروئے کار لانا چاہیے۔