میمو کیس .... حکمران صبر سے عدالتی فیصلے کا انتظار کریں

ـ 18 دسمبر ، 2011
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے مابین ہونیوالی تین گھنٹہ طویل ملاقات میں میمو سکینڈل پر حکومت اور فوج کے درمیان محاذ آرائی کی افواہیں مسترد کرنے‘ قومی سلامتی و خودمختاری کو ہر صورت میں مقدم رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم ہاﺅس کے اعلامیہ کے مطابق میمو گیٹ کے معاملے پر اداروں میں ٹکراﺅ کی افواہوں کا سختی سے نوٹس لیا گیا۔ وزیراعظم نے ٹکراﺅ کی افواہوں کو مسترد کر دیا اور کہا کہ میموگیٹ کے معاملے پر فوج اور حکومت میں کوئی محاذ آرائی نہیں۔ آرمی چیف نے یقین دلایا کہ فوج میموگیٹ کی تحقیقات میں مکمل تعاون کریگی۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ آرمی چیف اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی نے عدالتی حکم پر مروجہ طریقہ کار کے مطابق سپریم کورٹ میں جوابات داخل کرائے۔ دونوں نے اس بات پر بھی رضا مندی ظاہر کی کہ اداروں میں ٹکراﺅ سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ دریں اثناءوزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا‘ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے حکومت سے کہا کہ وہ میمو ایشو پر فرنٹ فٹ پر کھیلے‘ کوئی دباﺅ قبول نہ کیا جائے۔ کسی کے سامنے سرنڈر نہ کریں‘ ارکان اسمبلی حکومت کی پشت پر ہیں۔ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے ارکان کو میمو گیٹ سکینڈل کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میمو معاملہ میں کوئی صداقت نہیں‘ یہ حکومت اور جمہوریت کیخلاف سازش ہے۔
میمو سکینڈل نے جہاں پوری قوم کو گرفت میں لے رکھا ہے‘ وہیں فوج کے سربراہ جنرل کیانی اور وزیراعظم گیلانی کی ملاقات ایک اچھا شگون ہے۔ ملاقات کے جاری ہونےوالے اعلامیہ میں اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ تمام معاملات مل جل کر چلائے جائیں‘ کیونکہ قوم کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے وسیع تر قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ جہاں اعلیٰ سطح پر اس نوعیت کی افہام و تفہیم کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے‘ وہیں پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماﺅں کی جانب سے عدالت عظمٰی کیلئے جو زبان استعمال کی گئی ہے‘ اس کا کسی نہ کسی سطح پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر این آر او کی اپیل مسترد کئے جانے کے فوری بعد اور گزشتہ روز بابر اعوان نے جو الفاظ مسلم لیگ (ن) کی قیادت‘ عدالت عظمٰی اور فوج کے بارے استعمال کئے ہیں‘ وہ نہ صرف غیرضروری ہیں بلکہ توہین آمیز اور توہین عدالت کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی نے اپنی قیادت کو جو مشورے دیئے‘ وہ بھی افہام و تفہیم کے بجائے معاملات کو مزید الجھانے اور محاذ آرائی کی طرف لے جانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ پارلیمانی پارٹی کا یہ کہنا کہ میمو ایشو پر فرنٹ فٹ پر کھیلیں اور سرنڈر نہ کریں‘ اس امر کا غماز ہے کہ صورتحال کو بہتری کی طرف لے جانے کی کوئی خواہش موجود نہیں۔
سپریم کورٹ نے جن افراد کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا‘ ان میں سے صدر آصف علی زرداری کے سوا تمام کے جوابات مروجہ طریقہ کے مطابق عدالت کو موصول ہو چکے ہیں۔ صدر کے جواب داخل نہ کرنے پر عدالت عظمٰی کس ردعمل کا مظاہرہ کریگی‘ یہ کہنا قبل ازوقت ہو گا لیکن قانونی ماہرین کے مطابق اسے توہین عدالت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق کی طرف سے ابھی تک صدر کے مستثنیٰ ہونے کی بات نہیں کی گئی۔ ان ماہرین کے مطابق صدر کو آئینی طور پر پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن جواب داخل نہ کرنا بہرحال توہین عدالت ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ صدر مملکت بیمار ہوں یا لمبے عرصے تک ملک سے باہر رہیں تو آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت انکے ہٹائے جانے کی آئین میں گنجائش موجود ہے جو عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صدر مملکت نے خود کو مکمل طور پر صحت یاب قرار دیا ہے تاہم ڈاکٹروں کی طرف سے اجازت نہ ملنے کو بنیاد بنا کر ملک سے باہر رہنے کا جواز پیش کیا ہے مگر اسکے ساتھ ہی انہوں نے یہ بیان بھی جاری کر دیا کہ انہیں آرٹیکل 47 کے تحت ہٹایا جانا قبول نہیں اور اگر زبردستی اسے لاگو کیا گیا تو ان کا منشور ”ایسے دستور کو میں نہیں مانتا“ ہو گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ وہ تو وطن واپسی کیلئے تیار ہیں‘ ان کا بس چلے تو ابھی جہاز لے کر واپس آجائیں لیکن اس وقت وہ ڈاکٹروں کے قیدی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی طرف سے مزید ایک درخواست عدالت کو موصول ہوئی ہے جس میں انہوں نے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر اور دو صحافیوں کو میمو کیس میں فریق بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ واجد شمس الحسن نے ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ 2 مئی کے حملوں کا فوجی قیادت کو قبل ازوقت علم تھا۔ واجد شمس الحسن نے سفرا کانفرنس میں شرکت نہیں کی‘ میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں کہ وہ لندن میں صدر زرداری کی ممکنہ آمد کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان ہائی کمشنر کا پاک فوج کیخلاف بیان پر حکومت کا نوٹس لینا فوج اور حکومت کے مابین اختلافات کی افواہوں کا سبب بن رہا ہے۔ کچھ حلقے آج مارشل لاءکی افواہیں پھیلا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے وثوق سے یہ کہا ہے کہ جنرل کیانی کا جمہوری نظام ختم کرنے کا ارادہ ہے اور نہ ہی وہ (شہباز شریف) کسی غیرآئینی اقدام کی حمایت کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل کیانی جمہوریت دوست ہیں اور انہیں کسی غیرآئینی اقدام کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتا۔ حکومتی حلقے مارشل لاءکے نفاذ کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے شہباز شریف کے بیان پر یقین کرلیں تو ان کو ذہنی سکون مل سکتا ہے۔
سابق امریکی ایڈوائزر جیمز جونز جنہوں نے میمو کو جنرل مائیک مولن تک پہنچایا تھا‘ نے تین صفحات پر مشتمل رضاکارانہ اپنا ایک بیان حلفی حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر کو ارسال کیا ہے‘ اس بیان کے مندرجات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ وہ حسین حقانی کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ حسین حقانی جن کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ انکی حرکات و سکنات اور رابطوں پر قدغن ہے‘ نے اپنے ایک بیان میں یہ کہا ہے کہ اس مقدمے کے حوالے ے بعض لوگ خود ہی گواہ‘ جج اور پراسیکیوٹر بننا چاہتے ہیں۔ شاید انکی نظر میمو کیس کو سازش اور لغو قرار دینے والوں پر نہیں ہے۔ خود وزیراعظم گیلانی ایک طرف میمو کیس آئینی طریقہ کے مطابق چلائے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں تو دوسری طرف اسے سازش اور جھوٹ کا پلندہ بھی قرار دیتے ہیں۔ یہ دوغلی پالیسی اور دہرا معیار نہ صرف انکی پارٹی بلکہ جمہوریت کیلئے ضرررساں ہو گا۔
پوری قوم حالات و واقعات کی روشنی میں عدالت عظمٰی سے یہ توقع کرتی دکھائی دیتی ہے کہ عدالت عظمٰی تمام حالات اور شواہد کی روشنی میں غیرجانبدارانہ انداز میں اس نزعی مسئلہ کا فیصلہ کریگی کیونکہ میمو کے مندرجات سے پاکستان کی سلامتی اور سرحدوں کا تحفظ جیسے پیچیدہ معاملات جڑے ہیں‘ بظاہر عدالت کی غیرجانبداری پر شبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اسے آزادانہ طور پر اپنا کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ عدالت کے حوالے سے تیز و تند بیانات اور رویہ اسکے کام کو مشکل ضرور بنا دیگا جس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔ حکومتی بزرجمہرواویلا مچانے اور میمو کو سازش قرار دینے کے بجائے عدالتی فیصلے کا انتظار کریں۔
بھارتی آبی دہشت گردی ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے
وفاقی وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر نے کہا ہے کہ بھارت مغربی دریاﺅں پر مزید ڈیموں کی تعمیر کی منصوبہ بندی کر رہاہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت پابند ہے کہ نیا منصوبہ شروع کرنے سے 8 ماہ پہلے پاکستان کو آگاہ کرے مگر وہ ایسا نہیں کر رہا، اس پر عالمی عدالت میں جائیں گے۔
19 ستمبر1960ءکو پاکستان اور بھارت کے مابین طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی بھارت شروع دن سے ہی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق پاکستان اور بھارت کوئی بھی منصوبہ شروع کرنے سے 8 ماہ پہلے ایک دوسرے کو آگاہ کرنے کے پابند ہیں لیکن بھارت ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے بغیر کسی اطلاع کے دریائے چناب پر چھوٹے بڑے 11 ڈیم بنا چکا ہے۔ جبکہ 24 ڈیموں پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ دریائے جہلم پر54 غیر قانونی ڈیموں پر بھارت نے کام شروع کر رکھا ہے۔ جن میں بڑے اور چھوٹے 23 ڈیم مکمل ہو چکے ہیں۔ دریائے سندھ پر 14 چھوٹے ڈیم مکمل ہو چکے ہیں۔ بھارت اگر ان ڈیموں کے خود کار گیٹ کھول دے تو صرف 48 گھنٹے میں پاکستان کے وسیع حصے کو ڈبو سکتا ہے جس کا اس نے گزشتہ سال مظاہرہ بھی کیا تھا۔ اس طرح تمام گیٹ بند کر کے قحط کا بم گرا سکتا ہے۔ بھارت ان ڈیموں پر عرصہ دراز سے کام شروع کئے ہوئے ہے لیکن پاکستانی حکام خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ہمارا ملک بنجر ہو رہا ہے۔ ہم مسلسل غذا کی کمی کا شکار ہیں۔ پانی کی کمی خوفناک حد تک پہنچ چکی ہے لیکن ہمارے ارباب بست و کشاد ابھی تک صرف بیان کی حد تک عالمی عدالت پہنچے ہیں۔ آخر کیوں؟ اس انتہائی اہم مسئلہ کو التوا میں ڈال کر ملک و قوم کیساتھ غداری کون کر رہا ہے۔ اب ایک ایک دن کی تاخیر قومی خود کشی کے مترادف ہے۔
جس طرح نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا حصول پاکستان کیلئے اشد ضروری تھا۔آج اسی طرح آبی وسائل کا دفاع بھی ناگزیر ہے، اس وقت پانی سر سے گذر چکا ہے۔ عالمی عدالت انصاف میں مسئلہ پڑا رہے گا جبکہ بھارت تمام متنازع ڈیم مکمل کرےگا۔ ہمیں بزور بازو بھارت کو ڈیموں کی تعمیر سے روکنا ہو گا کیونکہ پانی ہماری موت و حیات کا مسئلہ ہے۔ پانی کی بوند بوند کو ترس کر مرنے سے بہتر ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت میدان میں نکلے اس سلسلے میں اگر ایٹمی جنگ کرنی پڑے تو اس سے بھی گریز نہیں کرنا چاہئے۔ دوسری طرف کالاباغ ڈیم سمیت دیگر تمام ڈیموں پر کام فی الفور شروع کیا جائے۔ اسکے راستے میں اگر کوئی رکاوٹ آتی ہے تواسے طاقت سے ہٹایا جائے۔ اس طرح نیموباز گو پراجیکٹ میں غفلت برتنے پر جماعت علی شاہ اور اسکے ساتھ شامل دیگر افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اگر آج ہم نے بھارت کی اس سرد جنگ کیخلاف صف بندی نہ کی تو18کروڑ انسانوں کی زندگیوں کو نگل جائےگا۔
بڑے جاگیرداروں سے ٹیکس پہلے وصول کیا جائے
قومی مالیاتی کمیشن نے زراعت پر انکم ٹیکس سے متعلق چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ کی کمیٹی قائم کر دی گئی۔ کرپشن، لوٹ اور ٹیکس چوری نے ملکی معیشت کو تباہ کر رکھا ہے، کسی بھی محکمے کو دیکھ لیں، اسکے نائب قاصد سے لیکر سربراہ تک سبھی حصہ بقدر جُثہ کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ بڑے بڑے زمیندار انکم ٹیکس کی چوری کرتے ہیں، جبکہ چھوٹے کسان حکومتی پالیسیوں کی چکّی میں رگڑے جاتے ہیں، قومی مالیاتی کمیشن کا زراعت پر انکم ٹیکس کے متعلق کمیٹی بنانا مستحسن فیصلہ ہے لیکن پہلے یہ تو بتایا جائے کہ اسمبلیوں میں بیٹھے بڑے بڑے جاگیرداروں میںسے آج تک کس نے کتنا ٹیکس دیا ہے، جو صوبہ زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے اس کو اس قدر ترقیاتی فنڈز بھی دینے چاہئیں۔لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ سب سے بڑے صوبے کو دیگر صوبوں سے ایک دن کے مقابلے میں تین دن گیس سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
پنجاب کے وزیر خزانہ کامران مائیکل وفاق کی طرف سے صوبے کے ساتھ زیادتی کا رونا رو رہے ہیں جبکہ بلوچستان کے وزیر خزانہ عاصم کرد کہتے ہیں کہ فنڈز کے حصول کیلئے صدر کی منتیں کرنی پڑتی ہیں، وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں صوبوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، جتنی انکم ٹیکس کی رقم اکٹھی کی جائے، اس قدر صوبوں کو فنڈز مہیا بھی کیے جائیں، آج بڑے بڑے جاگیردار اسمبلی میں بیٹھ کر انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے جبکہ اس کا بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے، سب سے پہلے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے بڑے مگرمچھوں کو پکڑا جائے، انکے گرد گھیرا تنگ کیا جائے، پھر متوسط طبقے کو ٹیکس دینے کا کہا جائے تو وہ بلا چوں چُراں ٹیکس دینگے۔ حکومت اس سلسلے میں سخت قانون سازی کرے تاکہ کوئی بھی ٹیکس چوری نہ کر سکے۔
ایئرمارشل (ر) نور خان کا سانحہ¿ ارتحال
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا سامنا سب کو کرنا ہے‘ لیکن بعض اموات ایسی ہوتی ہیں کہ کسی ایک کے مرنے سے بہت کچھ مر جاتا ہے۔ مرحوم ایئرمارشل (ر) نورخان دو روز قبل ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ مرحوم ایئرمارشل (ر) نورخان کی پوری زندگی کارناموں‘ اعلیٰ مناصب اور بے مثال خدمات سے معمور تھی‘ انہوں نے اسرائیلی فضائیہ سے بھی ٹکرلی تھی اور بعد میں وزیر دفاع اسرائیل نے انکی مہارت کو تسلیم بھی کیا تھا۔ وہ ایئرمارشل (ر) اصغر خان کے بعد پاکستان ایئرفورس کے سربراہ بنے۔ اگر انکی عسکری اور بعد میں سول زندگی کا جائزہ لیا جائے تو لامحالہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ پاکستان کو مستحکم ترقی یافتہ دیکھنے کے آرزو مند تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پی آئی اے‘ پاکستان ہاکی فیڈریشن اور کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رہے۔ انکی سربراہی میں پی آئی اے‘ ہاکی اور کرکٹ نے عروج حاصل کیا۔ وہ 88 برس کی عمر میں سی ایم ایچ راولپنڈی میں طول علالت کے بعد وفات پا گئے‘ انکی زندگی ملک و قوم کی خدمت اور حفاظت میں گزری‘ یہی ان کا بہت بڑا اعزاز ہے وگرنہ رسمی اعزازات تو انہوں نے بے شمار حاصل کئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر و حوصلے سے نوازے۔ ایں دعا از من وجملہ جہاں آمین باد۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں