پنجاب حکومت نے متاثرہ اضلاع میں ہونیوالی تباہی و بربادی سے نمٹنے اور متاثرین سیلاب کی بحالی کیلئے تمام ممکنہ فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ متاثرین کی بحالی کے عمل میں حکومت اور حکومتی ادارے کسی قسم کی سستی‘ کاہلی اور غفلت سے کام نہیں لیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کے اجلاس میں اس سلسلہ میں سستی روٹی سکیم بند کرکے اسکے تمام فنڈز اور ترقیاتی و غیرترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ سیلاب زدگان کی امداد کیلئے خرچ کرنے اور اشرافیہ پر فلڈ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران میاں شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فلڈ کمشن کی تشکیل پر پنجاب بھرپور تعاون کریگا اور کمشن کی آراءاور تجاویز پر عملدرآمد کیلئے اسے ہر ممکن سہولت مہیا کی جائیگی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں سیلاب سے 85 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور 80 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے‘ ہمارا موقف ہے کہ جس صوبے میں بھی زیادہ تباہی ہوئی ہے‘ اسے اس حساب سے فنڈز ملنے چاہئیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں آنےوالا موجودہ سیلاب موجودہ اور سابقہ صدی کے دوران اس خطہ میں آنیوالا سب سے بڑا اور تباہ کن سیلاب ہے‘ جس کی تباہ کاریاں ابھی تک جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون خود بھی صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ پاکستان میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات کا جائزہ لے چکے ہیں اور تسلیم کر چکے ہیں کہ اس سیلاب کی تباہ کاریاں سونامی‘ قطرینہ اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اکتوبر 2005ءکے زلزلہ کی تباہ کاریوں سے بھی زیادہ ہیں۔ چونکہ سیلابی ریلے ابھی جاری ہیں اور پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان کے دوسرے علاقے بھی اسکی زد میں آرہے ہیں اس لئے مجموعی نقصانات کا اندازہ تو سیلاب ختم ہونے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔
میاں شہباز شریف نے صرف پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی جو تفصیلات بتائی ہیں‘ وہ بھی اتنی زیادہ ہیں کہ تنہا پنجاب حکومت متاثرین سیلاب کی بحالی کی ذمہ داریوں سے عہدہ براءنہیں ہو سکتی‘ بلاشبہ صوبہ خیبر پی کے‘ سندھ اور بلوچستان میں بھی سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کا ازالہ کرنا وہاں کی صوبائی حکومتوں کے بس کی بات نہیں ہو گی چنانچہ وفاق اور صوبوں کو باہم مل کر ایک دوسرے کے تعاون سے سیلاب زدگان کی بحالی کا فریضہ ادا کرنا ہو گا جس کیلئے ضروری ہے کہ اندرون اور بیرون ملک سے ملنے والی ہر قسم کی امداد کو مکمل شفاف رکھا جائے‘ اسے غلط ہاتھوں میں نہ جانے دیا جائے اور اسکی تقسیم کا طریق کار بھی شفاف بنایا جائے۔ اس سلسلہ میں وزیراعلیٰ پنجاب کی یہ تجویز زیادہ مناسب ہے کہ جس صوبے کا جتنا نقصان ہوا ہے‘ باہر سے ملنے والی امداد میں سے اسے اسی تناسب سے حصہ دیا جائے‘ یقیناً یہ تخمینہ بھی سیلاب کے بعد ہی لگایا جا سکے گا کہ سیلاب سے کس صوبے کا مجموعی کتنا نقصان ہوا ہے تاہم اس وقت فوری کرنے کا کام سیلاب زدگان کو خوراک‘ پینے کے پانی اور ادویات کی فراہمی کا ہے‘ جس کے بارے میں میڈیا کے ذریعے اکثر یہی شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ حکومت کی سطح پر اب تک کسی بھی سیلاب زدہ علاقے میں متاثرین کیلئے امدادی کیمپ قائم کئے گئے ہیں‘ نہ انہیں خوراک اور ادویات کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ نتیجتاً اب سیلاب کے مابعد اثرات کے تحت سیلاب زدگان بالخصوص خواتین اور بچے وبائی امراض کا شکار ہو رہے ہیں‘ جبکہ مجبوراً سیلاب کا آلودہ پانی پینے سے سیلاب زدگان گیسٹرو‘ ہیضے‘ ٹائیفائیڈ‘ ہیپاٹائٹس اور پیٹ کے دیگر پیچیدہ امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان انسانی امور موریزو گیلینو نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں 35 لاکھ بچے سیلاب سے پیدا ہونیوالی بیماریوں کے خطرے میں ہیں اور یہ تعداد بڑھ کر 60 لاکھ بھی ہو سکتی ہے
صدر زرداری کے بقول متاثرین سیلاب کی آباد کاری اور بحالی کیلئے تین سالہ ایکشن پلان بنا لیا گیا ہے جبکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کم و بیش تمام سیلاب زدگان کسمپرسی کی حالت میں بے یارومددگار پڑے ہیں‘ انکے نقصانات کی تلافی تو بعد کی بات ہے‘ ابھی تو انکی خوراک و ادویات کی ضرورت بھی پوری نہیں ہو رہی اور ان کیلئے ریلیف کیمپوں کی شکل میں عارضی پناہ گاہیں بھی نہیں بن پائیں۔ ان حالات میں تو انکی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق رہے گا‘ اس لئے سب سے پہلے سیلاب زدگان کی زندگیاں بچانے کے اقدامات بروئے کار لانا ہونگے۔ وہ شب و روز بھوکے رہیں گے اور مختلف جسمانی عارضوں میں مبتلا ہونگے تو اس صورتحال کے ان پر نفسیاتی اثرات بھی مرتب ہونگے جبکہ بڑھتی ہوئی بھوک انہیں انتہائی اقدامات پر بھی مجبور کر سکتی ہے جیسا کہ امدادی سامان لے کر آنیوالے ٹرکوں پر ہلہ بولنے اور لوٹ مار کے اکا دکا واقعات سامنے آنا بھی شروع ہو گئے ہیں۔
چاہیے تو یہ کہ تمام وفاقی اور صوبائی حکومتیں صرف سیلاب زدگان کی بحالی کو ترجیح اول بنا کر ایک دوسرے کے تعاون سے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں پر جت جائیں اور باہمی اختلافات کو وقتی طور پر فراموش کرکے مصیبت زدہ بھائیوں کے دکھ درد کم کرنے اور بانٹنے کیلئے یکجان اور یک زبان ہو جائیں تاکہ ہمیں مارنے کی نیت رکھنے والے ہمارے دشمن کو ہماری کسی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ مل سکے‘ مگر بدقسمتی سے سیلاب کی آفت ٹوٹنے کے باوجود ہمارے حکمرانوں کے طرز عمل سے اب تک قومی اتحاد و یکجہتی کی فضاءپیدا نہیں ہو پائی اور ریلیف کے کاموں میں بھی حکومتوں کی سطح پر ایک دوسرے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش میں معاملات بگاڑے جا رہے ہیں جس سے سیلاب زدگان کی بھی کوئی مدد نہیں ہو پا رہی اور بیرون ملک بھی ہمارا تشخص خراب ہو رہا ہے۔ بیرونی دنیا پہلے ہی ہمارے حکمران طبقات کی لوٹ مار اور مختلف مواقع پر ملنے والی بیرونی امداد میں خوردبرد کی داستانوں کے منظر عام پر آنے سے تحفظات کا شکار ہے اور اسی بنیاد پر سیلاب زدگان کی امداد کیلئے بیرون ملک سے کوئی گرم جوشی نظر نہیں آرہی۔ اگرچہ یو این سیکرٹری جنرل بانکی مون نے پاکستان میں سیلاب کی صورتحال پر غور کیلئے یو این جنرل اسمبلی کا اجلاس جمعرات 19 اگست کو طلب کرلیا ہے اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ‘ چین‘ جاپان‘ ترکی‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ ایران اور کینیڈا‘ آسٹریلیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے امدادی سامان پاکستان بھجوانے کا سلسلہ بھی جاری ہے‘ اسکے باوجود حکومت کو امدادی فنڈز کی شفاف تقسیم کے معاملہ میں بیرونی دنیا میں موجود بداعتمادی کو دور کرنا ہو گا‘ جس کابار بار غیرملکی اخبارات میں ذکر ہو رہا ہے۔ بیرون ملک ہی نہیں‘ اندرون ملک بھی لوگ اسی بداعتمادی کی وجہ سے براہ راست حکومت کو امدادی سامان اور فنڈز دینے سے گریزاں ہیں اور انکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود متاثرہ علاقوں میں جا کر سامان تقسیم کریں جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ نتیجتاً امدادی سامان اکٹھا ہونے کے باوجود متاثرین سیلاب تک نہیں پہنچ رہا‘ حد تو یہ ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی ملاقات میں سیلاب زدگان کی امداد کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے اور ایک آزاد فلڈ کمشن قائم کرنے کے مشترکہ اعلان کے باوجود ابھی تک اس کمشن کی تشکیل ہو پائی ہے‘ نہ کوئی دوسری مشترکہ امدادی سرگرمی نظر آئی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ دونوں لیڈر اس میٹنگ کے بعد اکٹھے متاثرین میں اشیائے خورد و نوش تقسیم کرتے بھی نظر آتے۔ حکومت کی سطح پر یہ سارے معاملات مزید غلط فہمیوں کا موقع فراہم کر رہے ہیں اور امدادی سرگرمیوں کیلئے لوگ حکومت کے بجائے پاک فوج پر زیادہ تکیہ کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال منتخب حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے‘ وہ اپنی صفیں درست کریں اور سلطانی جمہور کے حوالے سے پیدا ہونیوالے منفی تاثر کو زائل کریں ورنہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے جہاں قوم کو متاثر کیا ہے‘ کہیں موجودہ سسٹم بھی ان اثرات کی لپیٹ میں نہ آجائے۔
پیپلز پارٹی سے جان ہی چھڑالیں
سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض نے کہا ہے کہ پنجاب میں مخلوط حکومت ہے مگر یہاں ون مین شو ہو رہا ہے اور صوبے کے اہم معاملات پر پیپلز پارٹی کے وزراءکو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ پیپلز پارٹی کے وزراءنے کئی معاملات پر وزیر اعلیٰ پنجاب سے اختلافات کا اظہار کرتے ہوئے انکے طریق کار اور اقدامات سے اختلاف کیا ہے۔ میڈیا کی خبروں کےمطابق اس سلسلہ میں میاں شہباز شریف سے تکرار بھی ہوئی ہے۔
پیپلز پارٹی مرکز میں حکمران ہے اگرچہ مسلم لیگ (ن) کو وفاقی حکومت میں شراکت کیلئے اصرار کیا جاتا رہا اور اہم وزارتیں بھی مخصوص کی گئیں مگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی طرف سے اپنی مصالحت اور معاونت کو شرکت اقتدار کا پابند نہیں کیا گیا‘ وزارتوں سے انکار کرکے اپنی علیحدہ حیثیت کو برقرار رکھا۔ پنجاب میں صوبائی حکومت کو نہ جانے کیوں پیپلز پارٹی کے ساتھ تمام اختلافات کے باوجود اشتراک کار پر اصرار ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائدین پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتے‘ انکے مابین نظریات اور طریق کار کے واضح اختلافات ہیں۔ گورنر پنجاب‘ پیپلز پارٹی کے رنگ ماسٹر ہیں‘ پنجاب حکومت بچوں کا کھیل بن چکی ہے‘ انکے ہر کام کا مذاق اڑایا جاتا ہے‘ شکوک و شبہات پیدا کئے جاتے ہیں‘ اسکی وجہ صاف ظاہر ہے کہ پیپلز پارٹی کا کلچر اور سیاست مسلم لیگ سے بالکل جدا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کےساتھ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ یونی فیکیشن گروپ موجود ہے‘ 42 ارکان پنجاب اسمبلی جو کہ مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے‘ یہ لوگ بہرطور مسلم لیگی ہی ہیں اور سابقہ ادوار میں وہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی قیادت میں ہی سیاست کرتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)‘ یونی فیکیشن گروپ کو ساتھ ملا لے اور پیپلز پارٹی سے خلاصی کرالے۔ یونی فیکیشن گروپ سے اگر وزراءلئے بھی جائینگے تو وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتنے اجنبی نہیں ہونگے جیسا کہ پیپلز پارٹی کے وزراءہیں اور ورکنگ زیادہ اور بات چیت آسان ہو جائیگی۔
پاک ایران گیس منصوبہ میں بنگلہ دیش بھی شامل
ایران نے بنگلہ دیش کو ایران پاک گیس پائپ لائن منصوبے میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق وزارت خزانہ کو ایران میں بنگلہ دیش کے سفیر کی طرف سے خط میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش بھی ایران‘ پاکستان‘ بھارت پائپ لائن گیس منصوبے کا حصہ دار بن سکتا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش تین ملکی پائپ لائن میں بھارتی شہر کلکتہ سے لنک ہو سکتا ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ سے بھارت تو عملاً علیحدہ ہو چکا ہے امریکی دباو کی وجہ سے بھارت نے ابتدائی مذاکرات کے دوران ہی اس منصوبہ سے غیر اعلانیہ علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ بنگلہ دیش اگر اس منصوبہ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو پاکستان کو یقیناً کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ بنگلہ دیش ایک برادر مسلم ملک ہے بلکہ پاکستان کے عوامی حلقوں کی طر ف سے عوامی جمہوریہ چین کو اس منصوبہ میں شامل کرنے کا بار بار کہا گیا ہے کیونکہ پاکستان کے عوام یہ پسند نہیں کرتے کہ بھارت کو گیس کی فراہمی میں پاکستان کی طرف سے کوئی معاونت یا تعاون فراہم کیا جائے۔ بھارت صرف پاکستان کا ہی نہیں دنیا کے تمام اسلامی ممالک کا دشمن ہے اور وہ اسلام اور مسلمانوں کےخلاف ہر سازش میں شامل ہے۔ وہ تمام مسلم ممالک کو تہس نہس کرنا چاہتا ہے اور اسکی راہ میں صرف پاکستان ہی حائل ہے۔ جو ایٹمی قوت ہے پاکستان کو بنگلہ دیش کی شمولیت کے سلسلہ میں نہ صرف اپنی حمایت کا اعلان کرنا چاہئے بلکہ اس سلسلہ میں ایران سے تفصیلی مذاکرات بھی کرنے چاہئیں۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ حسبِ سابق جاری ہے کل کراچی میں ایک ڈی ایس پی ان کے ڈرائیور اور ممتاز شیعہ عالم کا بیٹا اور ایک ڈاکٹر جاں بحق ہو گیا ہے جبکہ ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کو بھی قتل کر دیا گیا ہے۔
ڈی ایس پی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بہت سینئر اور اہم کارکردگی کا حامل پولیس افسر تھا‘ اس طرح ناظم آباد کے معروف شیعہ عالم مرزا یوسف حسین کے بیٹے کو بھی فائرنگ کر کے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ جس علاقہ میں فائرنگ ہوئی ہے وہاں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی موجودگی میں سندھ حکومت میں شامل تین اہم جماعتوں، ایم کیو ایم،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے مابین کراچی میں امن وامان کی بحالی اور عوام کے اس جاری قتل عام کو روکنے کےلئے معاہدہ ہوا تھا اور تینوں جماعتوں کے لیڈروں نے اپنے اپنے کارکنوں کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ٹارگٹ کلنگ کو روکنے کےلئے باہم اتفاق کریں اور ایسے عوام دشمن افراد کو گرفتار کرانے میں مدد دیں تاکہ انہیں سخت سزائیں دی جائیں۔ اس سلسلہ میں متعلقہ پولیس حکام نے آپریشن بھی شروع کیا تھا مگر افسوس کہ یہ سب بے کار ثابت ہوا۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ بھی جاری ہے فرقہ وارانہ کشیدگی بھی جاری ہے اور جرائم پیشہ افراد کی کارستانیوں میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کا وزیراعلیٰ ہے اور انکی کابینہ میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا جیسا مستعد وزیر داخلہ بھی موجود ہے اسکے باوجود کراچی میں قاتلوں اور جرائم مافیا کا سدباب کرنے کےلئے کوئی انتظام نہیں ہے۔ گزشتہ چند ماہ کی ٹارگٹ کلنگ میں کئی سو افراد موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں‘ اگر سندھ میں کوئی حکومت ہے تو اسے اس کا جواب ضرور دینا چاہیے کہ یہ سب کون کر رہا ہے؟ اور اسے کون روک سکتا ہے؟