ہالبروک کا غیرسفارتی اور غیراخلاقی رویہ حکومت خودداری کا مظاہرہ کرے

ـ 17 جنوری ، 2010
پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ اربوں ڈالر کی امداد کے باوجود پاکستانیوں میں امریکہ مخالف جذبات پر انہیں تشویش ہے‘ اسلام آباد میں رچرڈ ہالبروک سیاست دانوں کے ساتھ ملاقات میں امریکہ پر تنقید کرنے پر طیش میں آگئے اور ارکان پارلیمنٹ کو دانٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پر تنقید تو کی جاتی ہے‘ لیکن اچھے کاموں کو نہیں سراہا جاتا‘ پاکستان امداد نہیں لینا چاہتا تو نہ لے‘ امریکہ زبردستی تو نہیں دے رہا۔
خود کو طاقت کا سرچشمہ اور عقل کل سمجھنے والا جرنیلی آمر نائن الیون کے بعد امریکہ کے تیسرے درجے کے وزیر رچرڈ آمیٹج کی ایک فون کال پر محص اپنے اقتدار کی طوالت کی خاطر ڈھیر ہو گیا۔ پاکستان کی سرزمین افغانستان کی تباہی کیلئے پیش کر دی اور خود کو امریکہ کی دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کہلانے پر فخر کا اظہار کیا کرتا تھا۔ افغانستان میں جاری جنگ کے شعلے رفتہ رفتہ پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگے‘ آج پاکستان اس جنگ میں بری طرح جل رہا ہے‘ ہر پاکستانی کسی بھی جگہ غیرمحفوظ اور بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔ پولیس تھانوں میں محفوظ ہے‘ نہ فوج جی ایچ کیو میں۔ جرنیلی آمریت کی قوم پر مسلط کردہ جنگ سلطانی جمہور میں دور آمریت سے بھی زیادہ جوش و خروش سے لڑی جا رہی ہے‘ پاک فوج کو اپنے ہی لوگوں کیخلاف بندوق تھما کر کھڑا کر دیا گیا ہے‘ دونوں طرف پاکستانی مر رہے ہیں‘ اوپر سے ڈرون حملوں نے ایک قیامت برپا کر رکھی ہے‘ جواباً خودکش حملے ہو رہے ہیں۔ لاہور میں جب صدر آصف علی زرداری‘ رچرڈ ہالبروک سے ڈرون حملے بند کرنے کو کہہ رہے تھے‘ عین اس وقت وزیرستان میں اوپر تلے دو حملے کئے جن میں درجن بھر پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے۔ ڈرون حملوں کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہیں‘ جن میں دعویٰ کے مطابق صرف 15 مطلوبہ افراد مارے گئے‘ باقی خواتین اور بچوں سمیت سب عام اور بے گناہ پاکستانی تھے۔ ان حملوں کے ردعمل میں ہی خودکش حملہ آوروں نے پورے ملک کو آگ اور خون کا دریا بنا کے رکھ دیا۔ کسی بھی نقصان کا مداوا ڈالروں میں ہو سکتا ہے‘ انسانی زندگی کا کوئی مداوا ہے‘ نہ نعم البدل۔ امریکہ نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب سالانہ امداد کا دینے کا وعدہ کیا ہے‘ اس کے ساتھ کولیشن سپورٹ فنڈ کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ اب اسکے بقایا جات بھی دو ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ امریکہ کو اس معاملے میں بھی پاکستان پر اعتماد نہیں‘ طیش میں آنے والے ہالبروک صاحب بتائیں کہ اپنی مجوزہ امداد اور کولیشن سپورٹ فنڈ میں ڈرون حملوں میں مارے جانے والے بے گناہ پاکستانیوں کے لواحقین کی مدد کیلئے کتنی رقم رکھی گئی ہے؟
پاکستانی پارلیمنٹیرینز نے ہالبروک سے ڈرون حملے‘ سکریننگ کا نیا قانون ختم‘ پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے مطالبات کئے تھے۔ یہ ہر پاکستانی کی آواز ہے جو بڑے اچھے طریقے سے امریکی انتظامیہ تک پہنچائی گئی جس کا انہوں نے برا منایا اور تمام تر اخلاقی و سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیاست دانوں پر چڑھائی کر دی۔ جواب میں پاکستانی سیاست دانوں نے تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جس سے مہذب کہلانے والے خود ایکسپوز ہو گئے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے ہالبروک کے مشتعل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے امریکیوں کی تعریف بھی کی۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکہ ہمیں بہت کچھ دے رہا ہے‘ ہمیں بھی ان کا ادب کرنا چاہئے۔ محترمہ کو اپنے پارٹی چیئرمین صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم گیلانی کے بیانات پر بھی نظر ڈالنی چاہئے کہ امریکی جنگ میں پاکستان کو 35 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے‘ اس کے ازالے کیلئے دی جانے والی امداد بہت کم ہے‘ اسے بھی ’’ڈومور‘‘ سے مشروط رکھا گیا ہے۔ فوزیہ وہاب نے شاید ہالبروک کا اشتعال کم کرنے کیلئے بیان داغ دیا ہو۔
پاکستانی نے پارلیمنٹیرینز نے امریکہ کے بارے میں عام پاکستانی سوچ ہالبروک کے سامنے رکھ دی ہے‘ لگتا ہے کہ اس سے وہ پہلے سے آگاہ ہیں اسی لئے انہوں نے پاکستانیوں کے امریکہ مخالف جذبات پر تشویش کا اظہار کیا۔ امریکیوں کو یہ سوال پاکستانیوں سے نہیں خود سے کرنا چاہئے کہ اتنی امداد کے باوجود پاکستانی امریکہ کیلئے کلمہ خیر کہنے کو کیوں تیار نہیں؟ پاکستان فرنٹ لائن اتحادی بن کے امریکہ کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دے کر بربادی کا سامنا کر رہا ہے‘ امریکہ اسکی خدمات کا اعتراف تو کرتا ہے لیکن اسکی تمام تر نوازشات سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور اسلحہ کی دھڑا دھڑ فراہمی کی صورت میں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت پر ہیں۔ جنوبی ایشیاء کا سلگتا مسئلہ‘ مسئلہ کشمیر ہے‘ جس پر بھارت نے جارحانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ اوبامہ اپنی انتخابی مہم میں مسئلہ کشمیر حل کرانے کی شدومد سے بات کرتے تھے‘ آج بالکل خاموش ہیں۔ امریکی اپنے گریبان میں جھانکیں گے تو بہت سے سوالات کے جواب مل جائیں گے اور انکی تشویش بھی دور ہو جائیگی۔
پاکستان ایران‘ ترکی‘ افغانستان
پر مشتمل اقتصادی دفاعی بلاک کی ضرورت
برادر اسلامی ممالک ایران اور افغانستان کے وزرائے خارجہ آجکل پاکستان کے دورے پر ہیں‘ امریکی قبضے کے بعد افغانستان کی خودمختاری ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ تاہم پاکستان اسکی تعمیر و ترقی کے حوالے سے اپنا کردار اسکے اسلامی ملک ہونے کے حوالے سے ادا کر رہا ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں‘ اسکی طرف سے آج بھی پاکستان کیلئے سستی بجلی گیس اور تیل کی پیشکش موجود ہے۔ اس سے اگر فائدہ اٹھانے میں تاخیر ہو رہی ہے تو وہ امریکی دبائو ہو سکتا ہے۔ جس جرأت کے ساتھ ایران پاکستان کی مدد کرنے پر تیار ہے۔ حکومت پاکستان کو بھی کسی قسم کا دبائو خاطر میں لائے بغیر ایران کے تعاون کو خوش آمدید کہنا چاہئے۔ آج امریکہ اور اسکے دو درجن سے زائد اتحادی ممالک اسلامی دنیا کو نشانہ بنا رہے ہیں‘ عراق اور افغانستان کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا ہے‘ یہ عمل ہنوز جاری ہے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا‘ شام کو دھمکیاں دی گئیں‘ یمن میں اب القاعدہ کے تعاقب کی آڑ میں تباہی پھیلائی جا رہی ہے۔ ایران سے امریکہ کی مخاصمت اور مخالفت سب کے سامنے ہے‘ ایسے میں او آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے لیکن اسکے برعکس کچھ رکن ممالک امریکہ سے تعاون کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان ایران افغانستان اور ترکی کو مل کر ایک دفاعی بلاک بنانا چاہئے۔ ترکی اور پاکستان کی دوستی بھی مثالی ہے اور اب وہاں سیکولر بیزار حکومت برسر اقتدار ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دورے سے دونوں ممالک مزید قریب آئے ہیں‘ پاکستان‘ ایران اور ترکی افغانستان خطے میں اپنی اہمیت اور یہ ہر قسم کے وسائل سے مالا مال ہیں۔ ان کا بلاک بنتا ہے تو طاغوتی قوتوں کو آسانی سے شکست دی جا سکے گی اور آگے چل کر یہ مجوزہ بلاک امہ کی طاقت اور مضبوطی کا پیشہ خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ افغانستان بھارت کے چنگل سے نکل آئے۔
قرآن‘ کبھی درمیان میں
نہیں لایا… زرداری
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی ختم ہونی چاہئے‘ پارلیمانی سیاست ایسی کسی پابندی کی اجازت نہیں دیتی‘ شریف برادران سے سیاسی معاملات میں قرآن کو کبھی درمیان میں نہیں لایا۔ اس کی تردید کرتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہائوس میں سینئر اخبار نویسوں‘ اینکر پرسن اور کالم نگاروں کے اعزاز میں عشائیہ کے موقع پر کیا۔
صدر نے کہا کہ سترھویں ترمیم ختم ہو چکی ہے‘ صرف کتاب میں اندراج باقی ہے۔ صدر مملکت کی بات قرین قیاس ہے کہ وہ درست کہتے ہیں کیونکہ انکی اور انکی پارٹی کی سیاسی بنیاد مذہب نہیں ہے‘ وہ زیادہ تر سیکولر سیاست کرنے کے عادی ہیں اور انکے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں ان پر تنقید کی گئی تھی کہ انہوں نے شریف برادران سے کئے گئے معاہدوں کی پابندی نہیں کی تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ معاہدے کوئی قرآن یا حدیث نہیں تھے‘ مگر سیاست دانوں کو اپنی گفتگو اور باہمی معاہدے کرتے ہوئے بڑی احتیاط کرنی چاہئے اور ایسے حوالوں کو منفی معنوں میں استعمال نہ کیا جائے۔
بھارت سے ایک اور لاش کا ’’تحفہ‘‘
بھارتی جیل میں تشدد سے جاں بحق ہونے والے 60 سالہ ماہی گیر نور عالم کی نعش بھارت نے پاکستانی حکام کے حوالے کر دی۔ نور عالم ولد علی حسن تین ماہ قبل دیگر پاکستانی ماہری گیروں کے ہمراہ سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں پکڑا گیا اور گزشتہ ماہ 17 دسمبر کو بھارتی جیل میں وہ انتقال کرگیا۔
وزیراعظم پاکستان نے چند ہفتے قبل ایک سو سے زائد ماہی گیروں کو باعزت طور پر رہا کر دیا‘ اس سے قبل بھی سینکڑوں بھارتی قیدیرہا کئے گئے ہیں‘ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ بھارت کے قیدیوں سے ہم اچھا سلوک کرتے ہیں‘ بھارتی حکومت بھی یقیناً اچھا سلوک کریگی۔ مگر بھارتی حکومت کی طرف سے گزشتہ تین برسوں میں کئی لاشیں حکومت پاکستان بھارت سے وصول کر چکی ہے۔ جبکہ پاکستان سے کئی قیدی بڑے اعزاز سے حکومت پاکستان بھارتی حکام کو پیش کر چکی ہے۔ سزائے موت کے ایک قیدی کو تو پاکستان کا ایک وفاقی وزیر خود پروٹوکول دے کر بھارت چھوڑ آئے تھے۔ مگر بھارتی حکومت کا رویہ کسی صورت بھی تبدیل نہیں ہوا۔ بھارت میں کئی لوگ سیرو تفریح کرنے‘ کرکٹ میچ دیکھنے یا زیارت کیلئے گئے مگر انکی واپسی لاشوں کی صورت میں ہوئی۔ بھارتی حکومت کسی بھی پاکستانی شہری کو کسی نہ کسی الزام میں پکڑ کر اس پر بے تحاشہ تشدد کرتی ہے۔ اب یہ غریب ماہی گیر کا معاملہ تازہ ترین ہے‘ بھارتی پولیس حکام پاکستانی قیدیوں کو جان سے مارنے سے کبھی گریز نہیں کرتے۔
اب حکومت پاکستان کو چاہئے کہ سربجیت سنگھ سمیت جتنے بھی بھارتی قیدی ہیں‘ انہیں بھی اسی طرح بھارتی روایت پر عمل کرتے ہوئے واپس کیا جائے تاکہ انہیں بھی اپنے عمل کا کچھ احساس ہو۔
فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی اندھیر نگری
طبی شعبہ میں انتہائی ضرورت کی حامل اور متعدد لائف سیونگ ادویات‘ وفاقی و صوبائی صحت کے محکموں کے حکام کی ملی بھگت سے بھارت اور دیگر ممالک کے مقابلہ میں یہ ادویات دس سے پندرہ گناہ زیادہ مہنگی فروخت کی جا رہی ہیں۔
ہمارے سٹاف رپورٹر کی اطلاع کے مطابق گردوں کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ڈیلٹاکوٹل بھارت میں 900 روپے جبکہ پاکستان میں دو ہزار روپے فی پیکٹ فروخت ہو رہے ہیں۔ اس طرح زینٹک بھارت میں گیارہ روپے جبکہ پاکستان میں 90 سے 93 روپے کی فروخت ہو رہی ہے‘ کئی ادویات کی تفصیل دی گئی ہے‘ جن میں قیمتوں میں بہت زیادہ فرق ہے اور بہت سی ادویات پاکستان میں بہت ہی زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں تین گنا اور چار گنا تک زیادہ قیمت میں فروخت کی جا رہی ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ہستپالوں کی فارمیسیوں پر ایسی ادویات دیگر ناموں کے ساتھ کم قیمت پر بھی موجود ہیں‘ انکے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ادویات جعلی ہیں۔ جن سے مریضوں کو اکثر نقصانات ہی پہنچتے ہیں۔ پاکستان میں فارماسیوٹیکل ادویات کی قیمتیں کون مقرر کرتا ہے؟ کوئی پرائس کنٹرول کمیٹی نہیں ہے‘ کوئی شعبہ موجود نہیں‘ جو ان ڈرگ کمپنیوں کو قیمتیں بڑھانے سے روک سکے۔ جب کسی دوا کی قیمت بڑھائی جائے تو اسے نوٹیفائی کیا جائے مگر ایسی کوئی کارروائی کئے بغیر دواساز فیکٹریوں کے مالکان متعلقہ ڈاکٹروں اور پروفیسروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے قیمتوں میں اضافہ کرلیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے سینئر ڈاکٹروں اور پروفیسرز کی بھاری تعداد کو یورپ اور امریکہ کے دورے کرائے ہیں اور دیگر مراعات بھی دی گئی ہیں۔
وفاقی اور صوبائی محکمہ صحت میں افسروں کی فوج ظفر موج میں کوئی شخصیت ایسی نہیں ہے جو 17 کروڑ سے زائد عوام کو درپیش اس انتہائی نازک اور حساس مسئلہ کی نگرانی کر سکے۔ حکومت کو اس سلسلہ میں فوری طور پر کوئی سنجیدہ اقدام کرنا چاہئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں