موجودہ عدلیہ کے پارلیمنٹ کے رحم و کرم پر ہونے کا حکومتی تاثر .......سسٹم کو دانستہ ً اندھے کنویں میں دھکیلا جا رہا ہے؟
ـ 17 فروری ، 2010
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عدلیہ کسی لانگ مارچ سے بحال نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے خود اپنے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت عدلیہ کو بحال کیا تھا جبکہ پارلیمنٹ نے ابھی تک اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ججوں کی بحالی کی توثیق نہیں کی‘ اس سلسلہ میں پیر کی شام اور منگل کی صبح قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی سے پہلے انہوں نے قانونی ماہرین سے مشاورت کی تھی جن کی رائے تھی کہ ججوں کو پارلیمنٹ کی ایک قرارداد کے ذریعہ بحال کیا جا سکتا ہے تاہم انہوں نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ججوں کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول لانگ مارچ سے زیادہ سے زیادہ ان کی حکومت چلی جاتی مگر جج کبھی بحال نہ ہوتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایسا ہرگز نہیں کہ ججوں کی بحالی کے فیصلہ کی پارلیمنٹ سے توثیق کرانے کی بات کر کے وہ عدلیہ کے ساتھ کسی قسم کا ٹکرائو مول لینا چاہتے ہیں۔ وہ آج بھی عدلیہ اور اس کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور ججوں کے تقرر کے کیس میں سپریم کورٹ جو فیصلہ بھی کریگی‘ اسے قبول اور لاگو کیا جائیگا۔ دوسری جانب صدر آصف علی زرداری نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ججوں کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر اب توثیق کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا۔
جمہوریت کی بقاء و استحکام کیلئے فکر مند حلقوں کا یہ خیال تھا کہ حکومت چیف جسٹس پاکستان کی سفارشات کے برعکس سپریم کورٹ کے جج کیلئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ محمد شریف اور لاہور ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کیلئے جسٹس میاں ثاقب نثار کے تقرر کی صورت میں کی گئی اپنی حماقت کا ازالہ کرتے ہوئے سسٹم کی بقاء و استحکام کی خاطر ایوان صدر سے ہفتے کی شب جاری کیا گیا متعلقہ نوٹیفکیشن واپس لے لے گی اور چیف جسٹس کی سفارشات کی روشنی میں میاں ثاقب نثار کا بطور جج سپریم کورٹ تقرر عمل میں لا کر چائے کے کپ میں خود ہی اٹھائے گئے طوفان کو ختم کر دیا جائیگا اور عدالتِ عظمٰی کے روبرو متذکرہ نوٹیفکیشن کی واپسی کے صدارتی احکام پیش کرکے ججوں کے تقرر کے ایشو پر پیدا ہونے والا تنازعہ ختم کردیا جائیگا مگر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جس جارحانہ انداز میں خطاب کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ بحال ہونیوالی عدلیہ اب بھی پارلیمنٹ کے رحم و کرم پر ہے‘ اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاسی اور حکومتی قیادت کشتیاں جلا کر عدلیہ کے ساتھ کھلم کھلا محاذ آرائی پر اتر آئی ہے اور اپنی حماقتوں کی وجہ سے حکومت کی بساط لپٹتی دیکھ کر جمہوری نظام اور عدلیہ کے بھی درپے ہو گئی ہے اور …ع ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘ تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘ کے مصداق وہ سب کچھ تہس نہس کرانا چاہتی ہے جس کا وزیراعظم نے اپنی تقریر میں یہ کہہ کر عندیہ بھی دے دیا ہے کہ اداروں میں تصادم ہوا تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔ اگر وہ اداروں کے تصادم کے ممکنہ انجام سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنے طرز عمل سے عدلیہ کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کر رہے ہیں تو اس سے انکی نیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے جبکہ صدر زرداری نے بھی ججوں کی بحالی کے آرڈر کی پارلیمنٹ سے توثیق کرانے کی بات کرکے بطور پارٹی لیڈرحکمران پیپلز پارٹی کے عزائم واشگاف الفاظ میں بیان کر دیئے ہیں۔
ججوں کے تقرر کی مجاز اتھارٹی سے متعلق طے شدہ قانونی اور آئینی معاملہ میں نہ جانے کون سے قانونی اور آئینی ماہرین صدر اور وزیراعظم کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا رہے ہیں جبکہ یہ سیدھا سیدھا خودکشی کا راستہ ہے جس میں انکے اقتدار پر ہی زد نہیں پڑیگی‘ آئین اور عدالتی فیصلوں کو تضحیک کا نشانہ بنانے اور ان کا عدم احترام کرنے کی بنیاد پر وہ قانون اور آئین کے تحت مستوجب سزا بھی ہونگے۔
جہاں تک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ ججوں کی بحالی کی پارلیمنٹ سے توثیق کرانے کا معاملہ ہے‘ اس بارے میں قانونی اور آئینی ماہرین کی جانب سے واضح اور دوٹوک آراء سامنے آچکی ہیں کہ متذکرہ ایگزیکٹو آرڈر کی پارلیمنٹ سے توثیق کرانے کی قطعاً ضرورت نہیں بلکہ اب وزیراعظم اپنا یہ ایگزیکٹو آرڈر واپس بھی لے لیں تو بھی موجودہ عدلیہ کی قانونی اور آئینی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑیگا کیونکہ جرنیلی آمر مشرف کے 3 نومبر 2007ء کو جاری کردہ جس پی سی او کی بنیاد پر آزاد عدلیہ کو گھر بھجوایا گیا تھا‘ اسکی پارلیمنٹ سے توثیق سے پہلے ہی سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے اپنے 31؍ مارچ 2009ء کے فیصلہ کے تحت اس صدارتی حکم کو غیرقانونی‘ غیرآئینی اور کالعدم قرار دے دیا ہے اور عدالتِ عظمٰی کے اس فیصلہ کی روشنی میں پی سی او کی زد میں آنے والے تمام فاضل جج سپریم کورٹ و ہائیکورٹ اپنی 2؍ نومبر 2007ء کی پوزیشن پر ازخود بحال ہو چکے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پارلیمنٹ کی توثیق کے ہرگز تابع نہیں کیونکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا تقرر یا برطرفی پارلیمنٹ کے ذریعے نہیں ‘صرف آئین کے تحت عمل میں آتی ہے چونکہ مشرف کے 2؍ نومبر 2007ء کے پی سی او کی پارلیمنٹ نے توثیق نہیں کی اور سپریم کورٹ اسے کالعدم قرار دے چکی ہے اس لئے اب موجودہ عدالتی ڈھانچہ آئین کے تابع ہے جو 3؍ نومبر 2007ء سے پہلے والی عدلیہ کا ہی تسلسل ہے۔
آئینی ماہرین کے بقول عدلیہ کے ڈھانچہ کی موجودہ واضح آئینی پوزیشن کی موجودگی میں وزیراعظم نے موجودہ عدلیہ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرکے آئین اور عدلیہ دونوں کی توہین کی ہے جس پر انہیں توہین عدالت ایکٹ کے تحت اور آئین کی دفعہ 6 کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔ اسی تناظر میں سیاسی اور قانونی حلقے وزیراعظم کے پارلیمنٹ میں گزشتہ روز کے خطاب کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دے رہے ہیں جن کی رائے میں وزیراعظم کی جانب سے یہ انتہائی اقدام پیپلز پارٹی کی کسی طے شدہ حکمت عملی کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
ایوان صدر کی جانب سے 13؍ فروری کے نوٹیفکیشن کے اجراء کے ساتھ ہی چونکہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف اور مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس نوٹیفکیشن کو قبول نہ کرنے کا اعلان اور چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور آج بھی وہ عدلیہ کی عزت پر آنچ تک نہ آنے دینے کے عزم پر کاربند ہیں اس لئے ممکن ہے ایوان صدر کی جانب سے اس ناکامی اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے عدلیہ میں پھوٹ ڈالنے کی حکمت عملی طے کی گئی ہو۔ صدر اور وزیراعظم کا خیال یہی ہو گا کہ بحال ہونے والے فاضل ججوں کے مستقبل کے پارلیمنٹ کے رحم و کرم پر ہونے کا تاثر دے کر عدلیہ میں کسی حمید ڈوگر یا سعید الزمان صدیقی کو قابو کیا جا سکتا ہے اور انکے ذریعہ ماضی کی طرح عدلیہ کو اپنی انگلیوں پر نچایا جا سکتا ہے۔ مگر اب حکمرانوں کا یہ خیالِ خام ہی ہو گا کہ عدلیہ میں پہلے کی طرح نقب لگائی جا سکتی ہے کیونکہ اب پوری کی پوری عدلیہ آئین و قانون کی حکمرانی‘ انصاف کی عملداری اور اپنی آزادی کے تحفظ کیلئے چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے جبکہ آزاد اور متحرک میڈیا اور مستحکم سول سوسائٹی کی موجودگی میں بھی اب کسی مہم جو کیلئے عدلیہ میں نقب لگانا ممکن نہیں رہا۔
اس صورتحال میں بہتر یہی ہے کہ صدر آصف علی زرداری اپنے 13 فروری کے اقدام اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی میں اپنی گزشتہ روز کی تقریر پر عدلیہ کے ساتھ ساتھ قوم سے بھی غیرمشروط معافی مانگیں‘ 13 فروری کا نوٹیفکیشن واپس لے کر چیف جسٹس پاکستان کی سفارش کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائیکورٹوں میں فی الفور ججوں کا تقرر عمل میں لایا جائے اور این آر او کیس کے فیصلہ سمیت عدلیہ کے تمام فیصلوں پر انکی روح کیمطابق عملدرآمد شروع کردیا جائے۔ موجودہ جمہوریت کو بچانے کا بلاشبہ یہ آخری موقع ہے‘ اگر حکمران طبقہ نے حماقتیں جاری رکھیں تو اسکے سمیت موجودہ سسٹم کو اندھے کنویں میں گرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
جان کیری… ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں بتائیں!
امریکی سینیٹر اور کیری لوگر بل کے خالق جان کیری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیں بھارت سمجھتا ہے کہ پونا بم دھماکے میں پاکستان ملوث ہے تو اسے ایجنڈا میں سرفہرست ہونا چاہیے۔
سینیٹر جان کیری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کو مذاکرات میں پٹڑی سے نہیں اترنا چاہیے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ اسکے پاس اس سلسلہ میں ثبوت موجود ہیں۔ پاکستان کو وہ بھی ملاحظہ کرنے چاہیں۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ دونوں ممالک کو بات چیت کے پہلے دور میں مسئلہ کشمیر پر بات چیت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ معاملہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جان کیری کو پاک بھارت مذاکرات کے سلسلہ میں ایجنڈا طے کرنے کا اختیار کس نے دیا۔ یا پھر انہیں اس سلسلہ میں مداخلت کرنے کی کیا ضرورت محسوس ہوئی۔ اس کیلئے تو سوچ بچار کرنے کا معاملہ یہ ہے کہ انکے ملک میں جبراً لے جائی گئی ایک نحیف و نزار خاتون ڈاکٹر عافیہ جسے انکی سی آئی اے ، ایف بی آئی فوجی اور کئی خفیہ اداروں کے لوگ پانچ برس سے زیادہ عرصہ سے مار پیٹ تشدد کر رہے ہیں اور اسے بے پناہ اذیتیں دی گئی ہیں اس پرالزام ہے کہ اس نے دوران حراست امریکی فوجیوں سے رائفل چھین کر ان پر قاتلانہ حملہ کیا تھا‘ جس میں نہ کوئی ہلاک ہوا اور نہ ہی زخمی۔ مبینہ بندوق پر نہ تو عافیہ کے فنگر پرنٹس ہیں اور نہ ہی کوئی خول پیش کیا گیا مگر اسکے باوجود امریکی جیوری نے اسے مجرم قرار دیدیا۔ عدالت نہ معلوم کیا سزا دے ۔ ایک پتلی دُبلی کمزور خاتون جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے کو پانچ برسوں تک امریکی اداروں نے چھپائے رکھا اور تین برس قبل ایک امریکی خاتون اخبار نویس نے ہی اس کا پتہ چلا کر عوام کو اس مظلوم کے بارے میں خبر دی۔ وگرنہ پاکستانیوں کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ امریکی درندے اس مظلوم خاتون پر اپنے ظلم و ستم کا ہر ہتھیار آزما رہے ہیں۔ سینیٹر جان کیری شاید اس عذرِ لنگ کا سہارا لیں کہ وہ عدالتی معاملات میں دخل اندازی نہیںکرسکتے۔ یہ امریکنوں کا عیارانہ اور مکارانہ انداز ہے۔ دنیا بھر کے معززپارلیمنٹیرین، علماء اور رائے عامہ امریکی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن مسلمان ارکان نے بھی صدر اوبامہ کو خط لکھا ہے۔ نیز وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے بھی ملاقات میں کیری سے یہی مطالبہ کیا ہے کہ اس بیگناہ خاتون کو فی الفور آزاد کر دیا جائے۔ پاکستان کے عوام سینیٹر جان کیری سے امید کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کا وائسرائے بن کر ہدایات جاری نہ کریں البتہ انسانی حقوق کے چارٹر پر عمل پیرا ہو کر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں تو اس مظلوم خاتون اور اسکے بچوں کو تلاش کر کے پاکستان بھجوا دیں۔اسی طرح سرگودھا میں پکڑے گئے پاکستانی نژاد پانچ امریکی باشندوں کو بھی انکے جرم بے گناہی کی سزا نہ دی جائے‘ سرگودھا کی خصوصی عدالت نے انکے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے‘ انکے ساتھ کسی قسم کی بے انصافی نہیں ہونی چاہئے۔
نظریہ پاکستان تدریسی کتب بھی تحریر کریں
نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایوان کارکنان پاکستان لاہور میں سہ روزہ نظریہ پاکستان کانفرنس کے دوران ملک بھر سے آئے ہوئے مندوبین نے مختلف قومی نظریاتی تعلیمی اور دیگر مسائل پر غور کرنے اور انکے حل کیلئے سفارشات پیش کرنے کیلئے دس گروہی مباحثوں میں شرکت کی اور مفید تجاویز اور سفارشات پیش کیں جن کو بعدازاں کانفرنس کے شرکاء کے سامنے منظوری کیلئے پیش کیا گیا۔ نظریہ پاکستان کانفرنس میں چاروں صوبوں سے 1779 مندوبین نے مختلف نشستوں میں شرکت کی اسلئے ان سفارشات کو پوری قوم کی آواز سمجھا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ سفارشات میں بہت اہم اور مفید مشورے اور تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ پہلی تجویز یہ ہے کہ نظریہ پاکستان کانفرنس کے ماڈل کو سامنے رکھ کر تمام صوبوں میں ایسی ہی کانفرنسیں منعقد کی جائیں‘ تربیتی ورکشاپس میں نوجوانوں کو پاکستان کی نظریاتی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ اس کیلئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے مکمل تعاون حاصل کیا جائے۔ ایک اور سفارش میں مطالبہ کیا گیا کہ نظریہ پاکستان اور اس سے متعلقہ محرکاتی مواد ایم اے کلاسز تک لازمی قرار دیا جائے۔ پرائمری سکول سے اعلیٰ درسی جماعتوں تک تعلیمی اداروں میں صبح کے وقت اسمبلی لازمی قرار دی جائے۔ جس میں تلاوت قرآن حکیم قومی ترانہ اور اساتذہ کی طرف سے طلباء کی شخصیت کی تعمیر کیلئے مثبت عمل کی تلقین بھی شامل ہو۔ تمام شرکاء پاکستان کو اپنی جان پہچان اور شان قرار دیں‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ تمام سفارشات مرتب کرکے اور ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع کرکے ملک بھر میں تقسیم کی جائیں۔ نظریہ پاکستان پر کتب تحریر کرنے کا کام بہت پہلے کیا جانا چاہئے تھا مگر اب بھی اگر اسے شروع کرکے طلباء کے پیاسے اذہان کو ان سے سیراب کیا جائے تو یہ دیر نہیں ہے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ تو اس سلسلہ میں اپنا کلیدی کردار نبھا رہا ہے اور نظریہ پاکستان کانفرنس کی صورت میں اس کا آغاز ہو چکا ہے ‘ اس کام اس تیزی اور الوہی جذبہ سے جاری رہنا چاہئے اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی وضع کردہ گائیڈ لائن کی روشنی میں بالخصوص نئی نسل کو تحریک پاکستان‘ نظریہ پاکستان اور قیام پاکستان کے پس منظر اور مقاصد سے آگاہ کرنے کیلئے خصوصی اقدامات بروئے کار لانے چاہئیں اور نظریہ پاکستان کانفرنس کی سفارشات کی روشنی میں درسی کتب کا نصاب مرتب کرانا چاہئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں