میمو گیٹ سیکنڈل میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے بیانات اور حکومتی طرز عمل ......... حکمران اداروں کو چیلنج کرنے کے بجائے اپنی بے گناہی ثابت کریں
ـ 17 دسمبر ، 2011
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی‘ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا اور پاکستانی نژاد قادیانی امریکی شہری منصور اعجاز نے میمو گیٹ سکینڈل سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف اور دیگر درخواست دہندگان کی دائر کردہ آئینی درخواستوں میں سپریم کورٹ کے روبرو اپنے اپنے بیانات داخل کرا دیئے ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے جواب داخل نہیں کرایا گیا اور اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے فاضل عدالت عظمٰی کے روبرو موقف اختیار کیا کہ صدر مملکت کوآئینی استثنیٰ حاصل ہونے کے باعث انکی جانب سے جواب داخل نہیں کرایا جائیگا۔ انہوں نے گزشتہ روز دوران سماعت اس کیس کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کے اختیار کو بھی چیلنج کیااور وفاق پاکستان کی جانب سے موقف اختیار کیا کہ عدالت عظمٰی اس کیس کی سماعت نہیں کر سکتی اس لئے میاں نواز شریف کا دائر کردہ یہ کیس خارج کیا جائے۔ دوسری جانب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے میمو سیکنڈل کو پارلیمنٹ کیخلاف سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو فوج یا کسی اور ادارے سے خطرہ نہیں ہے جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے دبئی سے وزیراعظم گیلانی کو فون کرکے عندیہ دیا ہے کہ میمو کے معاملہ پر آئین کے مطابق اقدامات کئے جائینگے۔
حکومت کی جانب سے اگرچہ قادیانی وفادار امریکی منصور اعجاز کی شخصیت کے حوالے سے میموگیٹ کی کہانی کو فرضی اور من گھڑت کہانی قرار دیکر اس سے اپنا پہلو بچانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے مگر اب سپریم کورٹ کے روبرو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے داخل کرائے گئے بیانات اور قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں وزیراعظم کی تند و تیز جارحانہ تقاریر سے یہ واضح عندیہ مل رہا ہے کہ میموگیٹ کے پس منظر میں ملکی اور قومی سلامتی اور افواج پاکستان کیخلاف گہری سازشیں کارفرما رہی ہیں جنہیں اب بے نقاب کئے بغیر آئندہ کیلئے ایسی سازشوں کا دروازہ بند نہیں کیا جا سکتا۔ میمو سازش کے تناظر میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی سفیر حسین حقانی کو ملک واپس بلا کر بے شک ان سے استعفیٰ لے لیا ہے مگر ملکی اور قومی سلامتی کیخلاف سازشوں کا سدباب کرنے کیلئے محض یہ اقدام کافی نہیں اور ضروری تھا کہ اصل حقائق کا کھوج لگانے کیلئے وزیراعظم اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن تشکیل دیتے جس کا قوم تقاضہ بھی کر رہی تھی اور میاں نواز شریف نے بھی اسی قومی تقاضے کی بنیاد پر وفاقی حکومت سے دس دن کے اندر اندر جوڈیشل کمیشن یا کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا مگر حکومت نے اس سنگین قومی ایشو پر قوم اور قومی قیادتوں کے مطالبات کو درخواعتنا نہ سمجھا اور وزیراعظم نے ”آئی واش“ کے طور پر میموگیٹ کا معاملہ دفاعی پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا جو ایک طرح سے اس سارے معاملہ کو گول کرنے کے مترادف تھا۔ اپوزیشن لیڈر نثار چودھری بار بار اس مسئلہ کو پارلیمنٹ کے زیر بحث لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن انکی شنوائی بھی نہیں ہوئی۔ اب انہیں خود بسم اللہ کرنی پڑیگی۔
اگر حسین حقانی سے منسوب میمو کی کوئی حقیقت و اہمیت نہ ہوتی تو ملک کی عسکری قیادتوں کو معاملہ کا کھوج لگانے کیلئے آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا کو امریکہ بھجوانے کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوتی جبکہ جنرل پاشا کی میمو سے متعلق پیغام رساں منصور اعجاز سے ملاقات اور پوچھ گچھ کے دوران کئی حقائق کھل کر سامنے آگئے۔ منصور اعجاز کے بقول حسین حقانی نے متذکرہ میمو کی عبارت انہیں یہ پیغام دیکر بلیک بیری کے ذریعے ایس ایم ایس کی تھی کہ یہ میمو واشنگٹن انتظامیہ کو بھجوانے کیلئے صدر آصف علی زرداری کی رضامندی شامل ہے۔ جنرل پاشا نے اس سلسلہ میں منصور اعجاز کے بیان کے ساتھ ساتھ بلیک بیری کمپنی کا متعلقہ ریکارڈ بھی حاصل کیا جس کی روشنی میں عسکری قیادت کو یقین ہوا کہ اس میمو کے پس پردہ ہاتھ اور محرکات افواج پاکستان پر امریکی دباﺅ ڈلوانا چاہتے ہیں اور مقصد ”مجھے بچاﺅ“ ہے۔ چنانچہ اسکی روشنی میں عسکری قیادتوں کی جانب سے میمو کی سنگینی کے معاملہ کو صدر اور وزیراعظم کے نوٹس میں لایا گیا اور اسکی ٹھوس انکوائری کرانے کا تقاضہ کیا گیا۔ اگر متعلقہ حکومتی شخصیات کا دامن میموگیٹ سکینڈل میں پاک ہوتا اور میمو کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہوتا تو حکومت کو خود ہی اس معاملہ کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انکوائری فوری طور پر کرا دینی چاہیے تھی جس سے افواہوں‘ قیافوں اور قیاس آرائیوں کی بھی نوبت نہ آتی اور حکومتی اور عسکری قیادتوں کے مابین کسی قسم کی غلط فہمی بھی پیدا نہ ہو پاتی مگر حکومت نے منصوراعجاز کے مضمون اور بیانات پر پہلے تو خاموشی سادھے رکھی اور جب یہ معاملہ ملکی اور غیرملکی میڈیا پر لیڈنگ سٹوری کے طور پر اجاگر ہونے لگا تو حکومتی ترجمانوں نے منصور اعجاز کی شخصیت کو فوکس کرکے الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کر دیا جس سے معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھ گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حکومت اپنے سفیر کی قربانی دے کر بھی میمو کے حوالے سے خود پر آنیوالے الزامات میں اپنی پاک دامنی ثابت نہ کر سکی چنانچہ اپوزیشن کے قائدمیاں نواز شریف کو اس سنگین قومی ایشو پر دادرسی کیلئے مجبوراً عدالت عظمٰی کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا جسے اب وزیراعظم پارلیمنٹ کیخلاف سازش سے تعبیر کر رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ حکومت کو فوج یا کسی اور ادارے سے کوئی خطر نہیں ہے۔
میمو ایشو کو سپریم کورٹ میں لے جانا پارلیمنٹ کیخلاف تب سازش ہوتا اگر اس ایشو پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کیلئے پارلیمنٹ کا کردار بروئے کار لایا جا چکا ہوتا جبکہ درحقیقت پارلیمنٹ کو تو خود حکومت نے اسکے متفقہ فیصلوں اور قراردادوں پر عملدرآمد نہ کرکے بے وقعت بنایا ہے۔ پارلیمنٹ کے فورم پر جب عوام کے روٹی روزگار کے مسائل بھی حل نہ ہو رہے ہوں‘ بجلی‘ گیس جیسے قومی بحرانوں سے نجات کیلئے بھی پارلیمنٹ کو بروئے کار نہ لایا جا رہا ہو اور ملکی و قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر امریکی ڈرون حملوں اور ایبٹ آباد اپریشن کیخلاف متفقہ طور پر منظور کی گئی پارلیمنٹ کی قراردادوں کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہو تو پھر ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے قوم کی امیدیں لازمی طور پر افواج پاکستان اور عدلیہ کےساتھ ہی وابستہ ہونگی۔ اسی تناظر میں میمو کا ایشو سپریم کورٹ میں آیا ہے تو حکومت کو میمو کے حوالے سے اپنے اوپر عائد ہونیوالے الزامات سے خود کو بچانے کی خاطر ہی اس کیس میں عدالت عظمٰی کی بھرپور معاونت کرنی چاہیے تھی جبکہ حکومت نے اسکے برعکس سپریم کورٹ کے اختیارات کو چیلنج کرکے میمو کے پس پردہ محرکات میں اپنے کسی کردار کے حوالے سے خود کو خود ہی مشکوک بنا لیا ہے۔
اب جبکہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کی جانب سے داخل کرائے گئے بیانات میں میمو کو حقیقت اور ملک اور فوج کیخلاف سازش قرار دیا گیا ہے تو حکمرانوں کو اس پر سیخ پا ہونے اور حکومت کیخلاف کسی سازش کی کڑیاں ملا کر ان کا ناطہ افواج پاکستان‘ عدلیہ اور اپوزیشن کے ساتھ جوڑنے کے بجائے تمام حقائق سپریم کورٹ کے سامنے لے آنے چاہئیں تاکہ انکی دانست میں میموگیٹ پارلیمنٹ یا حکومت کےخلاف کوئی سازش ہے تو اس سازش میں شریک تمام سازشی عناصر عدلیہ کے ذریعے قوم کے سامنے بے نقاب ہو سکیں۔ اس تناظر میں تو میمو کیس حکمرانوں کیلئے سرخرو ہونے اور اپنی پاک دامنی ثابت کرنے کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے جبکہ اس کیس میں حکومت کی جانب سے عدالت عظمٰی کی معاونت انصاف کی عملداری کے حکومتی عزم پر بھی مہر تصدیق ثبت کریگی۔ اسکے برعکس اگر حکمرانوں نے اداروں کےساتھ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا تو پھر کوئی اور نہیں‘ سسٹم کو لپیٹنے کی سازش میں وہ خود ہی شریک ہونگے۔ کسی کی بھی حکمرانی کی خاطر ملک کی سلامتی کو تو بہرصورت داﺅ پر نہیں لگایا جا سکتا‘ اب میموگیٹ سکینڈل میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے ہی دیا جائے تو بہتر ہے۔ بہرحال اب کھیل شروع ہو چکا ہے۔ دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ دیکھیں بے نظیر شہید کی برسی پر انکے شوہر محترم دبئی سے تقریر کرتے ہیں‘ لندن سے یا مزار بے نظیر شہید ہے؟
امریکہ اور اسکی منحوس جنگ سے خلاصی کا یہی بہترین موقع ہے
روسی وزیر اعظم ولادیمیر پیوٹن نے سالانہ ”ٹی وی کال ان شو“ کے دوران امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ دوسرے ممالک پر تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ دنیا اس سے احکامات لیتے لیتے تھک گئی ہے، اسے اتحادیوں کی نہیں غلاموں کی ضرورت ہے۔
پیوٹن نے امریکہ کے حوالہ سے جو حقائق بیا ن کئے ہیں اس سے عالمی برادری خصوصا ہمارے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ پیوٹن کا یہ عالمی برادری کیلئے پیغام ہے کہ وہ امریکہ کی غلامی میں جانے سے خبردار رہے۔ پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی پیوٹن کے خیالات کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان دس سال سے امریکی مطالبات اور ڈومور کے تقاضوں پر عمل کرکے تھک چکا ہے۔ اس مدت میں جہاں امریکہ نے خود کو آقا باور کرایا وہیں ہمارے حکمرانوں نے بھی خود امریکہ کی غلامی کا حق ادا کر دیا۔ اسکی پاکستان کے معاملات میں مداخلت بڑھتی گئی، حتیٰ کہ تعلیمی نصاب سے جہاد کے حوالے سے مواد بھی نکال دیا گیا۔ حکمرانوں کی بزدلی کے باعث اسکے ڈرون معصوم لوگوں کی جان لیتے رہے۔ دوسری طرف ان حملوں کے ردّ عمل میں خود کش بمباروں نے پورے ملک کو بارود کا ڈھیر بنا دیا۔ اسکے ساتھ امریکہ کی جنگ میں پاک فوج اپنے ہی لوگوں کے مقابل لا کھڑی کر دی گئی۔ امریکہ اپنی طاقت کے نشے میں ایسا چور ہوا کہ اس فوج پر بھی حملہ کر دیا جو اسکی خاطر پانچ ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی تھی اس حملے پر سیاسی و عسکری قیادت نے شدید ردّ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیٹو سپلائی روکی اور شمسی ایئر بیس خالی کرا لیا۔اب امریکہ شدید پریشانی کی حالت میں سپلائی کی بحالی کیلئے گاجر اور چھڑی کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ ایک طرف اسکی وزارت دفاع پاکستان کی خوشامد کر رہی ہے تو دوسری طرف امریکی سینٹ اور کانگریس پاکستان کی امداد روکنے کے بل منظور کر رہی ہے۔ بہانہ یہ گھڑا گیا ہے کہ پاکستان خطرناک ہتھیاروں کی تیاری روکے۔ اب پاکستان امریکہ کی غلامی سے نکل رہا ہے تو مکمل طور پر نکل آئے۔ مصلحت سے کام نہ لیا جائے۔ اس حوالے سے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا بیان حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو دوسروں پر انحصار ختم کرنا ہو گا۔ امریکہ کی منحوس جنگ جو پانچ ہزار پاک فوج کے سپوتوں چالیس ہزار عام پاکستانیوں کو نگل گئی، اس جنگ سے اور امریکہ سے خلاصی کا آج بہترین موقع ہے۔
گیس کی عدم دستیابی سے پنجاب کی صنعتیں تباہی کے دہانے پر
فیصل آباد مےں صنعتکاروں نے گیس لوڈمینجمنٹ مسترد کرتے ہوئے زبردستی فیکٹریاں چلا دیں، دوسری طرف ریلوے کا ڈیزل ختم ہونے پر ایک تہائی ٹرینیں منسوخ ہونے پر مسافر سراپا احتجاج بن گئے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث صنعتی انڈسٹری کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔ بالخصوص ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں صنعت کاروں اور صنعتی مزدوروں کو دربدر کردیا گیا ہے۔ یہ پالیسی قومی معیشت کو خود ہی تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ پنجاب کی صنعت بند ہو گی تو ملک ترقی کیسے کریگا؟ جلاﺅ گھیراﺅ کسی مسئلے کا حل تو نہیں لیکن تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق مزدور بپھرے شیر کی طرح مار دھاڑ کر رہے ہےں لیکن حکومت اس کا حل نکالنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ حکمران اپنا اقتدار بچانے کےلئے بھاگ دوڑ کر رہے ہےں جبکہ عوام کا کوئی بھی پرسان حال نہیں۔ جب صنعتی انڈسٹری نہیں چلے گی، تو معیشت کیسے مستحکم ہو پائے گی؟ پھر مجبوراً غیر ملکی سامان درآمد کرنا پڑےگا اور مہنگے داموں فروخت کر کے عوام کو مزید مہنگائی کی دلدل مےں دھکیلا جائےگا۔ ریلوے کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے، اگر آج شاطر دشمن کےساتھ جنگ چھڑ جاتی ہے، تو فوج اپنے سامان کی نقل و حمل کیسے کر پائے گی۔ مسافر الگ سے ذلیل ہو رہے ہےں، لیکن عافیت کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا، سیاسی بھرتیوں اور کرپشن کے باعث ریلوے خسارے مےں جا رہا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وسطی ریاستوں کو پٹرولیم مصنوعات کی برآمد پر پابندی عائد کی ہے، تو پھر اس امر کو یقینی بنانا چاہئے کہ یہ اشیاءسمگل بھی نہیں ہونی چاہیں۔ سی این جی کٹس کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ درست نہیں، حکومت صرف ان ممالک سے درآمد پر پابندی عائد کرے جو انہیں غیر معیاری کٹس دیتے ہےں، باقی پر پابندی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس وقت تو 90 فیصد گاڑیاں سی این جی پر ہےں، حکومت نے پہلے ماحول کو آلودگی سے بچانے کےلئے سی این جی کٹس لگوانے کی مہم چلائی تھی، اب خود ہی اسکے راستے مےں روڑے اٹکا رہی ہے۔
فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کی جبری وصولی: عدالت عظمیٰ نوٹس لے
سینٹ میں کرنل طاہر مشہدی نے حکومت سے بجلی پر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی نوید قمر نے سینٹ کو بتایا کہ حکومت بجلی کے بلوں میں سرچارج واپس نہیں لے رہی۔
بجلی کے بلوں پر نظر دوڑائی جائے تو اس میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ اگر ہزار روپے کی بجلی استعمال ہوئی ہے تو اس میں انکم ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، نیلم جہلم سرچارج، محصول بجلی سرچارج، ای کیوسرچارج اور ٹی وی لائسنس فیس ڈال کر 18سو روپے تک کردیا جاتا ہے۔ موجودہ بلوں کے ساتھ حکومت نے فیول ایڈجسٹ منٹ کے نام پر استعمال شدہ بجلی کی قیمت کا نصف ڈال دیا ہے جو ایک ظلم ہے۔ لوگ مہنگائی کے ہاتھوں تنگ روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرتے ہیں۔ ناجائز اور بھاری بھر کم بلوں کی ادائیگی کے متحمل نہیں ہو سکتے، کچھ لوگوں نے فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کےخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جس پر عدالت نے حکم امتناعی دیدیا۔ حکومت کو چاہیے تھا عدلیہ کے حکم پر مکمل طور پر عمل کرتی لیکن اس میں بھی حکومت نے چالاکی دکھائی اور حکم امتناعی کو صرف عدالت جانے والے طبقے تک محدود کر دیا۔ حالانکہ عدالتی احکامات جنرل ہوتے ہیں حکومت سوائے پٹیشن گزاروں کے سب سے فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج جبری وصول کر رہی ہے۔ عوام کی نظریںاس معاملے میں بھی سپریم کورٹ پر ہیں کہ وہ سوﺅموٹو ایکشن لیتے ہوئے حکومت کو لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر عمل کا پابند کرے تاکہ عام صارفین کو بھی فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج سے نجات مل سکے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں