لالہ جی!.....کشمیر اٹوٹ انگ ہے تو مذاکرات کس بات پر؟
ـ 17 اگست ، 2010
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک میں امن و خوشحالی کا خواہاں ہے اور تمام اختلافات کا مذاکرات کے ذریعہ حل چاہتا ہے۔ گزشتہ روز بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر نئی دہلی کے لال قلعہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان سے توقع رکھتے ہیں‘ وہ اپنی سرزمین بھارت کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیگا۔ انکے بقول اگر ایسا نہ ہوا تو مذاکرات کا عمل آگے بڑھانا مشکل ہو گا۔ انہوں نے کشمیر کو ایک بار پھر بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا اور کہا کہ اس فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے تشدد کا راستہ ترک کرنیوالے کسی بھی گروپ یا شخص سے مذاکرات کو تیار ہیں‘ انکے بقول بھارت مضبوط‘ مستحکم اور متحدہ پاکستان چاہتا ہے‘ تاہم پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردی کیخلاف مؤثر کارروائی کرنا ہو گی۔
پاکستان اور بھارت کے مابین درحقیقت کشمیر ہی اصل تنازعہ ہے جس کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت کے مابین دوستانہ تعلقات استوار ہو سکتے ہیں‘ نہ علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے‘ جبکہ یہ تنازعہ بھارت نے خود پیدا کیا تھا‘ تقسیم ہند کے ایجنڈے کے مطابق پوری وادیٔ کشمیر کا مسلم آبادی کی اکثریت اور اسکی سٹریٹجیکل حیثیت کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ الحاق ہونا تھا‘ اگر قیام پاکستان کے فوری بعد کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کر دیا گیا ہوتا تو مسئلہ کشمیر کی وجہ سے اس خطہ میں جتنا انسانی خون بہا ہے اور دونوں ممالک کے عوام کو غربت و افلاس کا سامنا کرنا پڑا ہے‘ اسکی کبھی نوبت نہ آتی۔ مگر متعصب ہندو بنیاء کے خبث باطن نے جس کی بنیاد پر اس نے آج تک پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر قبول نہیں کیا‘ تقسیم ہند کے ایجنڈے کی تکمیل نہ ہونے دی اور کشمیر پر اپنا تسلط جما کر اسے متنازعہ بنایا اور پھر بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو خود اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لے کر گئے مگر جب یو این جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اپنی الگ الگ قراردادوں کے ذریعہ کشمیری عوام سے اپنے مستقبل کے فیصلہ کیلئے رائے لینے کا کہا اور اس مقصد کیلئے حکومت بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں استصواب کا اہتمام کرنے کی ہدایت کی تو بھارت نے نہ صرف یو این قراردادوں پر عملدرآمد سے گریز کیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی سات لاکھ افواج داخل کرکے اس پر جبراً اپنا تسلط جما لیا‘ جو اب تک برقرار ہے۔
صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا‘ بلکہ دنیا کو چکمہ دینے کیلئے 1955ء میں بھارتی آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ وادی کو باقاعدہ بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا گیا اور کشمیری عوام کی مرضی و منشاء کے برعکس وہاں کٹھ پتلی ریاستی حکومت تشکیل دے دی جسے آج تک کشمیری عوام نے قبول نہیں کیا اور بھارتی سنگینوں کے سائے میں ہونیوالے ریاستی اسمبلی کے ہر انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے‘ یہ سارا کھیل بھارت نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کیلئے رچایا۔ اس بھارتی ہٹ دھرمی کی بنیاد پر ہی کشمیری عوام اپنی آزادی کی جدوجہد شروع کرنے پر مجبور ہوئے تھے‘ جو اپنی اس بے مثال جدوجہد میں اب تک ڈیڑھ لاکھ کے قریب انسانی جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں‘ ہر ریاستی جبر و تشدد کا سامنا کرتے ہوئے وہ اپنی جدوجہد کو آگے بڑھا رہے ہیں اور آج تک انکے پائے استقلال میں ہلکی سی بھی لغزش پیدا نہیں ہوئی۔ آج وہ جتنے پرعزم ہیں‘ اسکے پیش نظر انکی آزادی کی منزل بہت قریب نظر آرہی ہے‘ مگر یہ منزل مکار ہندو بنیاء کے ساتھ کبھی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حاصل نہیں ہو سکے گی کیونکہ اسکی ساری حکمت عملی مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط جمائے رکھنے کی ہے اور وہ مذاکرات کے عمل کو بھی اپنی اس ہٹ دھرمی کو تسلیم کرانے کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے‘ جیسا کہ وہ ماضی میں کرتا آیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین اب تک ہر سطح پر کم و بیش 150 بار مذاکرات ہو چکے ہیں‘ مگر ہر بار یہ مذاکرات بھارت کے ہاتھوں سبوتاژ ہوئے ہیں‘ اسکی ہمیشہ یہی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ مذاکرات کی میز پر پاکستان پر دبائو ڈال کر جہاد کشمیر کو دہشت گردی تسلیم کرایا جائے اور ان مذاکرات کو پاکستان کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی تعلقات استوار کرنے کیلئے استعمال کیا جائے جبکہ یہ طے شدہ امر ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر نہ پاکستان اور بھارت کے مابین دوستی استوار ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس خطہ میں مستقل امن و استحکام کی فضاء بن سکتی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا قابل قبول حل یو این قراردادوں کی روشنی میں استصواب کا انعقاد ہی ہے۔ استصواب رائے میں کشمیری عوام جو بھی فیصلے کرینگے‘ وہ پاکستان کو بہرصورت قبول ہو گا اور بھارت کو بھی قبول ہونا چاہیے‘ مگر وہ اپنے خبث باطن کی بنیاد پر اس حل کی جانب آنا ہی نہیں چاہتا کیونکہ بھارتی بنیاء کو یقین ہے کہ رائے شماری میں کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا ہی فیصلہ کرینگے۔
کشمیری عوام نے تو درحقیقت شروع دن سے یہی فیصلہ دے دیا ہوا ہے‘ اس لئے وہ ہر 14 اگست کو مقبوضہ وادی میں یوم پاکستان مناتے ہیں اور بھارتی یوم جمہوریہ کے روز ہر 15 اگست مقبوضہ وادی ہی نہیں‘ دنیا بھر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو اگر بھارتی ترنگا لہرانے پر کشمیری عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انکے اس عمل پر کشمیر کے ایک معطل انسپکٹر پولیس نے اپنی نفرت کے اظہار کیلئے انکی جانب جوتا اچھالا ہے تو اس سے عمر عبداللہ ہی نہیں‘ بھارت کی ہندو بنیاء لیڈر شپ کو بھی عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ طاقت اور جبر کے زور پر کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا‘ بھارتی وزیراعظم نے کشمیر ایشو پر گول میز کانفرنس کا ڈرامہ رچا کر بھی دیکھ لیا ہے‘ جس میں سرکردہ کشمیری قائدین تو شریک ہی نہیں ہوئے اور جو شریک ہوئے‘ انہوں نے بھی کشمیر کی آزادی کے سوا خودمختاری سمیت تمام تجاویز مسترد کردیں اور مقبوضہ کشمیر سے بھارتی افواج نکالنے پر زور دیا۔ اب اگر وہ کشمیر پر اٹوٹ انگ والی بھارتی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے اس مسئلہ کے حل کیلئے مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو ان مذاکرات سے بھلا کیا حاصل ہو سکتا ہے‘ اس لئے کشمیر پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھنے والی۔ بھارت کی نیت تو شروع دن سے ہی پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ہے اور اسی نیت کی بنیاد پر اس نے پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو اپنے خونیں پنجے میں لیا ہوا ہے اور اب تو دنیا بھی اس حقیقت سے آگاہ ہو چکی ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ‘ جہلم اور چناب میں زیادہ پانی چھوڑنے کے نتیجہ میں ہی پاکستان کو سیلاب کی حالیہ تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسکی بدنیتی کا اس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیلاب میں گھرے بے بس پاکستانیوں کو وبائی امراض کا شکار کرنے کیلئے اب اس نے سارا آلودہ پانی دریائے چناب میں چھوڑ دیا ہے‘ جبکہ وہ لاہور اور اسکے مضافات کو ڈبونے کیلئے دریائے راوی میں بھی پانی چھوڑنے کی سازش تیار کئے بیٹھا ہے۔ اس بھارت سے بھلا خیر کی کیا توقع کی جا سکتی ہے‘ اسکی سیکرٹری خارجہ نروپمارائو نئی دہلی اور اسلام آباد میں کشمیر کا ذکر چھڑنے پر خود مذاکرات کی میز الٹا چکی ہیں جبکہ بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا بھی گزشتہ ماہ اسلام آباد میں وزیر خارجہ پاکستان مخدوم شاہ محمود قریشی کے ساتھ مذاکرات کے دوران متعصب ہندو بنیاء ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان مذاکرات کو سبوتاژ کر چکے ہیں۔ اس بھارتی ہٹ دھرمی اور بدنیتی کی موجودگی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے نئی دہلی کے دورے سے بھی پاکستان کیلئے بھلا کیا خوشخبری لا سکتے ہیں؟ بھارت اگر مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہے تو صرف وقت گزاری کیلئے یا جہاد کشمیر پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر پاکستان کو کشمیری عوام کی حمایت سے روکنے کیلئے۔ اس لئے وزیر خارجہ کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ وہ نئی دہلی میں اپنے ہم منصب بھارتی وزیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات کو پاکستان کے حق میں نتیجہ خیز بنا پائیں گے۔ ہمیں مکار ہندو بنیاء کی شاطرانہ چالوں سے بہرصورت ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ لاتوں کا بھوت کبھی باتوں سے قائل نہیں ہو گا‘ ہم اپنے ایٹمی بٹن کی جانب ہاتھ بڑھائیں گے تو اس کا دماغ خود ہی ٹھکانے آجائیگا۔
متاثرین کی مدد… شروع تو کریں
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اقوامِ متحدہ کے ایمرجنسی رسپانس فنڈ سے پاکستان کے سیلاب زدگان کیلئے ایک کروڑ ڈالر مزید امداد کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ مجموعی طور پر 27 ملین ڈالر فراہم کر رہی ہے‘ پاکستان اس وقت کڑی آزمائش کے دور سے گزر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اِس مشکل گھڑی میں پاکستان کیساتھ ہے۔ بان کی مون نے کہا کہ اُنہوں نے زندگی میں اتنی بڑی تباہی و بربادی پہلے نہیں دیکھی۔ اقوامِ متحدہ نے ساری دُنیا سے اپیل کی ہے کہ پاکستان میں آنیوالی آفت جو 2005ء کے زلزلے اور سونامی سے بھی بڑی ہے‘ اِس کیلئے اقوامِ متحدہ کے ریلیف فنڈ برائے پاکستان میں دِل کھول کر عطیات دئیے جائیں۔ اقوامِ متحدہ کے تمام ذیلی ادارے بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ صدر نے بانکی مون کی طرف سے سیلاب زدگان کیلئے اب تک ملنے والی دو کروڑ ستر لاکھ ڈالر امداد کا شکریہ ادا کیا ہے۔ صدر زرداری نے پوری قوم کو کہا ہے کہ مصیبت کا یہ وقت ایسا ہے کہ پوری قوم کو متحد و منظم ہو کر سامنے آنا ہو گا۔ صدر نے ٹھیک کہا ہے کہ سیلاب اور بارشوں کے اِس طوفانِ بلاخیز کے سامنے انسانی کاوشیں ہر بند باندھ سکتی ہیں۔ قوم کو متحد و منظم ہو کر اِسکا مقابلہ کرنا ہو گا۔ قوم تو اکثر و بیشتر مواقع پر متحد و منظم ہو جاتی ہے مگر حکمران اور سیاسی لیڈر متحد و منظم نہیں ہوتے۔ اُنکے اپنے اغراض و مقاصد اور اُنکے سیاسی ارادے نادیدہ منازل تک ہوتے ہیں جن کا عوام کو پتہ ہی نہیں ہوتا۔ اِس وقت قوم جِس آزمائش میں ہے اِس میں حکمرانوں اور ملک کے تمام سیاست دانوں کو باہم مِل کر یہ طے کرنا ہے کہ وہ تمام قومی وسائل مجتمع کر کے قوم کی تعمیر نو کیلئے کام کرینگے اگر ہم دیانت داری سے اپنے قومی وسائل کو استعمال کریں تو ایسی تمام آزمائشوں میں کامیاب ہو جائینگے۔ اللہ تعالیٰ نے اگر ہمارا امتحان لیا ہے تو وہ اِس مشکل گھڑی میں ہماری کامیابی کے امکانات بھی پیدا کریگا۔ امداد کی طرف توجہ دینے کی بجائے جو کچھ موجود ہے اِس سے عوام کی مدد شروع کر دیں۔ کیونکہ ابھی تک زیادہ تر سیلاب زدگان کو یہی شکایت ہے کہ اُن تک کوئی مدد بھی نہیں پہنچی۔
حفظانِ صحت کیلئے اقدامات کئے جائیں
ملک بھر میں خوفناک سیلاب اور طوفانی بارشوں کا سلسلہ اگرچہ ابھی تک جاری ہے‘ مگر بہت سے علاقوں سے سیلاب کے طوفان خیز ریلے گزر گئے ہیں اور اب ان علاقوں میں ہونیوالے بے پناہ نقصانات اور دیگر مابعد مشکلات سر اٹھا رہی ہیں جن میں گندے پانی سے پیدا ہونیوالی بیماریاں‘ سیلاب کے بعد پھیل جانے والی غلاظت کا تعفن‘ مرے ہوئے جانوروں اور گلی سڑی اشیاء کے ڈھیر ہیں‘ ان سے ڈائریا‘ ہیضہ‘ ٹائیفائیڈ‘ ہیپاٹائٹس اور دیگر مہلک وبائی بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہے اور بعض مقامات پر تو ان وبائی امراض کا آغاز بھی ہو چکا ہے جو اکثر سیلاب کے بعد پھیلتے ہیں۔ اس سے نہ تو عوام خود نپٹ سکتے ہیں اور سرکاری ڈھانچہ بھی شائد اس کیلئے ناکافی ہو‘ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہر علاقہ میں مقامی سیاسی و سماجی رہنماء عوام کو لے کر آگے بڑھیں‘ اپنی مدد آپکے اصول کے تحت علاقہ میں موجود سرکاری وسائل کیساتھ جن علاقوں میں ایسی غلاظت موجود ہے‘ اسے فوری طور پر صاف کیا جائے‘ ان مقامات پر جراثیم کش ادویات اور چونے کا چھڑکائو کیا جائے‘ لوگوں کو ہیضہ‘ ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں اور سب سے زیادہ توجہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر دی جائے۔ عوام کو ہدایات دی جائیں کہ وہ پانی ابال کر پیئیں‘ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا اور حفظانِ صحت کے مطابق رکھیں۔
اسامہ بن لادن .... شاید الاسکا کے پہاڑوں میں ہوں
امریکی افواج اور افغانستان میں نیٹو فورسز کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن افغانستان اور پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں کسی دور دراز مقام پر چھپے ہوئے ہیں اس اہم شخصیت کی گرفتاری بھی ضروری ہے۔
جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اور امریکی قیادت جس طرح دس برسوں سے اسامہ بن لادن کے بارے میں اندازے لگا رہی ہے کہ وہ کہاں ہو سکتے ہیں۔ یہ اندازے سب غلط اور واہیات ثابت ہوئے ہیں۔ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اور انکے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ اسامہ بن لادن کو پاکستان اور افغانستان کے پہاڑوں میں تلاش کرنے کے بجائے ’’الاسکا‘‘ کے پہاڑی غاروں میں تلاش کریں، عین ممکن ہے کہ انکے کسی سابقہ یا موجودہ بزنس پارٹنر نے اُنہیں الاسکا کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں چھپا رکھا ہو جبکہ امریکی اسامہ کو بغل میں چھپا کر اسلامی ممالک کو تاراج کرتے پھر رہے ہیں۔ جس بے ہودہ انداز میں امریکی اسامہ کی موجودگی کے اندازے لگا رہے ہیں اسی طرح دوسرے لوگوں کو بھی یقیناً اندازے لگانے کا حق حاصل ہے۔ پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ امریکی حکام کو اسامہ کی تلاش کیلئے یہ مشورہ ضرور دیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں