کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا نیٹو سپلائی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ اور وزیر داخلہ کی منطق

ـ 16 جنوری ، 2012
کیا ڈرون گرانا ہماری اوّلین ترجیح نہیں ہونی چاہئے؟
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں نیٹو کیلئے سپلائی پر عائد کی گئی پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، ڈی جی آئی ایس آئی اور متعدد وفاقی وزراءبھی شریک تھے۔ ملک کی مجموعی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور امریکہ و نیٹو سے تعلقات کیلئے مرتب کردہ سفارشات اور سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو حملوں کے حوالے سے امریکی سینٹ کام کی تحقیقاتی رپورٹ پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملکی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ ہم خطے اور ملک میں امن چاہتے ہیں اور پاکستان کی سالمیت و بقاءہماری اوّلین ترجیح ہے۔ ہم ملکی وقار کے منافی ہر اقدام کی مخالفت کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی دفاع کے معاملات میں مسلح افواج کے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔ اس وقت قومی یکجہتی کی ضرورت ہے جبکہ جمہوریت قومی اتفاق رائے پیدا کرنے میں مددگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج پاکستان کا ستون ہے اور پارلیمنٹ، حکومت اور محب وطن عوام اسکی پشت پر کھڑے ہیں۔ دفاعی کمیٹی کی منظور کردہ سفارشات میں امریکہ سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ ڈرون حملے بند کردے جبکہ نیٹو حملے پر امریکہ کا محض اظہار افسوس کافی نہیں، وہ باضابطہ طور پر معافی مانگے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملکی سلامتی اور آزادی و خودمختاری سے زیادہ ہمیں کوئی چیز عزیز نہیں ہوسکتی جبکہ امریکی نائن الیون کے بعد ہمارے جرنیلی اور سول حکمرانوں کی جانب سے امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کرکے اور اس کردار کی ادائیگی میں امریکی ڈومور کے تقاضوں کی تعمیل و تکمیل کرکے ملک کی سلامتی اور آزادی و خودمختاری کو ہی خطرات سے دوچار کیا گیا ہے۔ امریکی مفادات کی جنگ میں سر جھکا کر شریک ہونا جرنیلی آمر مشرف کی تو اس لئے مجبوری تھی کہ انکے آمرانہ اقتدار کی عوام میں جڑیں ہی موجود نہیں تھیں اس لئے انہیں اپنے اقتدار کیلئے کٹھ پتلی کرزئی کی طرح امریکی بیساکھیوں کی ضرورت تھی مگر منتخب جمہوری حکمرانوں نے بھی نہ صرف اس بارے میں مشرف آمریت کی پالیسیوں کو برقرار رکھا بلکہ امریکہ کو اسکے مفادات کی جنگ کی تکمیل کیلئے مزید سہولتیں بھی فراہم کردیں۔ اس سے ہمارے حکمران امریکہ کا اعتماد حاصل کرپائے نہ امریکی امداد کا کوئی دھیلا ہماری اجاڑی گئی معیشت کو سہارا دیتا نظر آیا۔ مشرف دور میں صرف شمسی ائر بیس امریکہ کے زیر استعمال تھا جبکہ موجودہ جمہوری حکمرانوں کے دور میں جیکب آباد اور پسنی ائر بیس بھی امریکی دستبرد میں چلے گئے جبکہ ہماری سکیورٹی فورسز کی جانب سے اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی شہریوں کے خلاف فوجی اپریشن بھی موجودہ منتخب دور میں شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے جبکہ اس اپریشن کے ردعمل میں متاثرہ علاقوں کے متاثرہ خاندانوں میں خودکش حملہ آوروں کی کھیپ کی کھیپ پیدا ہوئی، دوسری جانب امریکہ کی صرف اس اپریشن پرہی تسلی نہ ہوئی چنانچہ اس نے ہماری سرزمین پر خود بھی زمینی اور فضائی کارروائی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مشرف دور میں تو اکا دکا ڈرون حملے حکومت سے اجازت لےکر کئے جاتے تھے مگر موجودہ منتخب حکمرانوں سے امریکہ نے ڈرون حملوں کےلئے اجازت لینے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی اور ڈرون حملوں کا سلسلہ اور دائرہ کار بھی بڑھا دیا جبکہ امریکی ڈرونز ان حملوں کےلئے ہمارے ہی ائر بیسز سے اڑانیں بھرتے رہے جو ملک کی آزادی اور خود مختاری کےلئے ہی چیلنج نہیں تھے بلکہ اس سے ملک کی سلامتی کےلئے بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے جبکہ ایٹمی قوت کے حامل ایک آزاد اور خودمختار ملک کے حکمرانوں کو تویہ صورت حال کسی صورت قبول اور برداشت نہیں کرنی چاہئے تھی۔ اس حوالے سے پاک فضائیہ کے سابقہ اور موجودہ سربراہوں کے بیانات ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں کہ پاک فضائیہ کے پاس امریکی ڈرونز گرانے کی مکمل صلاحیت ہے تاہم اس کےلئے حکومت کی باقاعدہ اجازت درکار ہے۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر وہ کون سی مجبوری حکمرانوں کو لاحق تھی جس نے انہیں ملک کی سالمیت کے تحفظ کے تقاضے نبھانے سے روک رکھا تھا جبکہ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ہماری دھرتی تو فوجی اپریشن، ڈرون حملوں اور ان کے ردعمل میں ہونے والے خودکش حملوں کے باعث اپنے ہی شہریوں کے خون سے رنگین ہوتی اور اجاڑی اور ادھیڑی جاتی رہی جبکہ معاشرے کا امن و سکون بھی غارت ہوا۔ لوگوں کا روزگار اور کاروبار بھی تباہ ہوا اور اقتصادی ترقی کا پہیہ بھی جامد ہو کر رہ گیا۔ ملکی سلامتی اور قومی غیرت کے تقاضوں کے منافی اختیار کی گئی اس پالیسی سے ملک اور قوم کی اب تک 35 ہزار سے زائد بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع اور 70 ارب ڈالر سے زائد کے ملکی معیشت کو لگنے والے جھٹکے کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ حکمرانوں کی مصلحت اور ذاتی مفادپرستی پر مبنی پالیسی سے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے حوصلے بلند ہوتے ہوتے ہماری سرزمین پر ایبٹ آباد آپریشن اور پھر سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو ہیلی کاپٹروں کی ننگی جارحیت کی نوبت لے آئے جو ہماری سالمیت کو براہ راست چیلنج کے مترادف تھا۔ اصولی طور پر تو حکمرانوں کو خود ہی ملکی اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر امریکہ کے ساتھ تعلقات کی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے مسلح افواج کو بیرونی جارحیت کا موقع پر ہی فوری جواب دینے کے اختیارات دے دینے چاہئیں تھے تاکہ آئندہ امریکہ کو کسی ڈرون حملے کی جرا¿ت ہوتی نہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد امریکہ ہماری دھرتی پر اس نوعیت کی کوئی دوسری کارروائی کرنے کا سوچ پاتا۔ جب سلالہ چیک پوسٹوں پر حملے کی صورت میں پانی سر سے گزرتا نظر آیا تو ہماری عسکری قیادتوں نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی سول اور فوجی حکام کو ٹھوس پیغام بھجوایا کہ آئندہ وہ ایسی کسی کارروائی کی جرا¿ت نہ کریں ورنہ انہیں منہ کی کھانا پڑیگی۔ عسکری قیادتوں کے اس موقف کی بنیاد پر حکمرانوں کو بھی مجبوراً امریکہ کیلئے سخت پالیسی اختیار کرنا پڑی جس کے تحت نیٹو کی سپلائی لائن معطل کی گئی، شمسی ائربیس امریکہ سے خالی کرایا گیا اور بون کانفرنس کا بائیکاٹ کیا گیا۔ حکومت کے ان اقدامات سے امریکہ اور نیٹو فورسز سخت دباﺅ میں آئیں اور انہوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے پاکستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی معطل کردیا تاہم امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سول اور فوجی امداد روکنے کے اقدامات کے ساتھ دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
بے شک وفاقی کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں قومی مفادات کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں اور تعلقات پر نظرثانی کرتے ہوئے نئے تعلقات کیلئے 36 سفارشات مرتب کی ہیں جن سے قوم اور اسکی نمائندہ پارلیمنٹ کو ابھی تک آگاہ نہیں کیا گیا مگر اصل ضرورت حملے کی نیت سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونیوالے ہر امریکی ڈرون کو گرانے کا سلسلہ شروع کردینے کی تھی جس کیلئے حکومتی اور عسکری قیادتوں نے گزشتہ ماہ 12 دسمبر کو متفقہ فیصلہ بھی کرلیا تھا اور امریکہ کو بھی یہ پیغام دیدیا گیا تھا مگر حکومت کی فوج اور عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی نے امریکہ کو افواج پاکستان کے کمزور ہونے کا تاثر دیا۔ نتیجتاً امریکہ نے ڈرون حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا جن پر اب تک حکومتی اور عسکری قیادتوں کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل بھی سامنے نہیں آیا۔ اس صورتحال میں تو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کی جانب سے نیٹو کی سپلائی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی محض رسمی سا نظر آتا ہے اور دفاعی کمیٹی کی مرتب کردہ سفارشات سے نیٹو کی سپلائی بحال کرنے کیلئے راستے نکالے جا رہے ہیں جبکہ اسی تناظر میں گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا یہ شرمناک بیان بھی سامنے آیا ہے کہ ہم تمام تر کوششوں کے باوجود ڈرون حملے نہیں روک سکے۔ پہلی بات تو یہ ہے ملکی اور قومی سلامتی کے اس اہم ترین معاملہ میں وزیر داخلہ ٹانگ اڑانے والے کون ہوتے ہیں۔ جب حکومتی اور عسکری قیادتیں پہلے ہی ڈرون گرانے کا متفقہ فیصلہ کرچکی ہیں تو اب اسکا جواب خود صدر یا وزیراعظم کو دینا چاہئے کہ گزشتہ ہفتے ہماری سرزمین پر ہونیوالے امریکی ڈرون حملے کیوں نہیں روکے جاسکے اور فیصلے کے مطابق یہ ڈرون گرائے کیوں نہیں گئے جبکہ آرمی چیف جنرل کیانی بھی باور کراچکے ہیں کہ پاک فضائیہ کے پاس ڈرون گرانے کی صلاحیت اور استعداد موجود ہے۔ پھر رحمان ملک بتائیں کہ امریکی ڈرون گرانے کی کوششیں کیا خلاءمیں کی گئی ہیں جو قوم کو نظر نہیں آسکیں اور کیا وہ قوم کو اتنا ہی بیوقوف سمجھتے ہیں کہ وہ انکی ایسی ہوائی باتوں پر یقین کرلے گی۔
بے شک دفاعی کمیٹی نے نیٹو کی سپلائی پر پابندی برقرار رکھنے کا مستحسن فیصلہ کیا ہے تاہم یہ پابندی مستقل ہونی چاہئے اور اسکے ساتھ ساتھ امریکی جنگ سے ہمیں خود کو مکمل طور پر باہر بھی نکال لینا چاہئے جبکہ اب اوّلین کرنے کا یہی کام ہے کہ آئندہ کوئی بھی امریکی ڈرون بچ کر نہیں جانا چاہئے۔ اگر اپنی سلامتی اور دفاع کے تقاضوں کے تحت ایران امریکی ڈرون گرا سکتا ہے تو ہم بھی ہر امریکی ڈرون گرا کر امریکہ کو ایسا ہی جواب کیوں نہیں دے سکتے؟ دفاعی کمیٹی کو اس بارے میں بھی قوم کو آگاہ اور مطمئن کرنا چاہئے کہ ڈرون گرانے کے فیصلہ پر اب تک عملدرآمد کیوں نہیں ہوسکا۔ ملکی سلامتی کے تقاضوں کے تحت تو سب سے پہلے اس فیصلہ پر ہی عملدرآمد ہونا چاہئے۔
وزیراعظم بیان واپس لیکر
اداروں کو مضبوط کریں
چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم فوجی قیادت کیخلاف بیان کی وضاحت کریں یاواپس لیں ،جنرل کیانی نے کہا ہے کہ فوج کسی کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہی ہم جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی چینی صدر کے ساتھ ملاقات کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی حکومت کے کمزور ہونے سے تعبیر کیا،چنانچہ انہوں نے آناً فاناً چینی میڈیا کووزیراعظم ہاﺅس بلا کر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے میمو کیس میں داخل کرائے گئے جوابات کو غیر آئینی قرار دیدیا جس پر فوج نے سخت ردعمل ظاہر کیا تو لگے ہاتھوں سیکرٹری دفاع کو فارغ کرکے اپنی من پسند سیکرٹری کو وہاں بٹھا دیا جس کے بعد عام تاثر یہ سامنے آنے لگا کہ وزیراعظم قانونی طورپر سیکرٹری دفاع کے ذریعے آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی کیخلاف کوئی قدم اٹھانے والے ہیں ان افواہوں نے پورے ملک کو ہلا کررکھ دیا۔الیکٹرانک میڈیا پر ایسی فضا بنی نظر آتی تھی کہ چند ہی لمحوں میں سب کچھ ملیا میٹ ہوجائیگا لیکن ہر ایک نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا اور جمہوریت دشمن عناصر کی سازشیں ناکام ہوگئی تاہم اس بھونچال کے دوران سٹاک مارکیٹ کا کیا حشر ہوا اورکاروباری طبقہ کس بے چینی کا شکار رہا، معیشت پر اسکے کیا اثرات مرتب ہوئے وہ لمحہ فکریہ ہیں۔ جن ذرائع سے وزیراعظم تک یہ خبر پہنچی تھی کہ عسکری حکام جمہوری حکومت کیخلاف کوئی اقدام کرنے والے ہیں پہلے ان ذرائع کی تصدیق کرنابھی ان پر لازم تھا کیا فوج کے خلاف ہر جھوٹ اور ہر پراپیگنڈے کوآنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیاجائے گا؟ وزیراعظم حالات کو اس نہج پر مت پہنچائیں جہاں سے واپسی ناممکن ہو اگر فوج نے کہہ دیا ہے تو بیان کو واپس لینے میں کوئی قباحت نہیں۔سسٹم کو چلنے دیں، جمہوریت کی گاڑی اگر چلتی رہی تو سب کچھ مضبوط سے مضبوط تر ہوگا، ادارے مضبوط ہونگے ،ملک مستحکم ہوگا فوج جمہوریت کی حمایت کر رہی ہے تو آپ فوج کو مضبوط کرکے ملک کے دفاع اور جمہوریت دشمن عناصر کی سازشوں کا سدباب کریں ۔اسی میں ملک وقوم کی بہتری ہے۔
امریکی جریدے کی رپورٹ اور جنداللہ
امریکی جریدے فارن پالیسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے اہلکار امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایجنٹوںکے بھیس میںعسکری گروپ جنداللہ کے ارکان کی مدد اور انہیں بھرتی کرتے ہیں۔ شیطانی اتحاد ثلاثہ مختلف روپ دھار کر مسلم اُمہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے۔اپنے ناپاک مقاصد کی تکمیل کیلئے مغربی ذرائع ابلاغ کو بھی استعمال کیاجاتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل تو ایران کے ازلی دشمن ہیںانکا گٹھ جوڑ ایرانی سلامتی کیلئے خطرناک ہے لیکن جنداللہ کو ہمیشہ سے پاکستان کی تنظیم ثابت کرنیکی کوشش کی گئی اس بنا پر ایران نے متعدد مرتبہ پاکستان کوجنداللہ کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے بھی کہا لیکن اسرائیل اور امریکہ اسے فنڈ مہیا کرتے ہیں اور وہی ایجنٹ بھرتی کرکے اس تنظیم کو سپورٹ کرتے ہیں۔امریکی جریدے کی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی سلامتی کے کس قدر درپے ہیں اور کس طرح پاکستان ایران کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔مسلم اُمہ کو یہودونصاریٰ اور ہنود کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوناچاہئے۔کفریہ طاقتیں مسلم اُمہ کیخلاف سازشیں کرتی ہیں لیکن اس کا ملبہ مسلم ممالک پر ہی ڈال دیتے ہیں ان کی ایجنسیاں جھوٹ پر مبنی رپورٹس بنا کر اپنے لوگوں کوبچالیتی ہیں۔ مسلم ممالک کا ان سازشوں کا سدباب کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ضروری ہے جب تک ہم ایک قوت بن کر ان کے خلاف کھڑے نہیں ہونگے یقین جانیئے یہ ایک ایک کرکے ہمیں ہڑپ کرتے جائیں گی۔ عراق اور افغانستان کا حشر ہمارے سامنے ہیں،اب ایران اور پاکستان پر نظر ہے۔اس سے قبل کہ یہ اپنے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی پوزیشن میں آجائیں ،ترکی، ایران،افغانستان اور پاکستان کو ملکر اسلامی بلاک تشکیل دیناچاہئے اور دیگر مسلم ممالک کو بھی اس بلاک میں شامل کرکے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرناچاہئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں