سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں‘ حکومت نے اعلیٰ عدلیہ سے ٹکرائو شروع کر دیا ہے‘ جو انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرداری جمہوریت اور آمریت میں کوئی فرق نہیں اور 13 فروری کو ججوں کے تقرر کے حوالے سے جاری ہونے والا نوٹیفکیشن دراصل مشرف کے 3 نومبر 2007ء کے آمرانہ اقدام کا ایکشن ری پلے تھا۔ انکے بقول حکمران اپنی کرپشن کے تحفظ کیلئے عدلیہ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں‘ جنہوں نے عدلیہ کی بحالی کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا جبکہ آزاد عدلیہ ہی جمہوریت کی سب سے بڑی ضامن ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج معاملات میں ملوث نہ ہو‘ ہم خود صورتحال کو سنبھال لیں گے۔ ہم فوج کو ہرگز دعوت نہیں دے رہے مگر ہم حکومت کو ججوں کے تقرر پر من مانی کرنے دیں گے‘ نہ کرپشن کی کھلی چھٹی دی جائیگی۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے جمہوریت کو بچانے کیلئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جارحانہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کا لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔
اس وقت ملک میں عدلیہ کے بحران اور سیاسی افراتفری کی جو ناخوشگوار فضاء بنی ہوئی ہے‘ اس میں بنیادی کردار ایوان صدر کا ہی نظر آتا ہے اگرچہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ فیصلہ میری ایڈوائس پر ہوا ہے‘ ہفتے کے روز ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت وزیراعظم‘ چیئرمین سینٹ‘ وفاقی وزیر قانون اور وزیراعظم کے مشیر برائے انفرمیشن ٹیکنالوجی کی میٹنگ میں ججوں کے تقرر کے ایشو پر عدلیہ کے ساتھ ٹکرائو مول لینے کا راستہ اختیار کرنے کا طے کیا گیا اور اسکی بنیاد پر ایوان صدر کی جانب سے سپریم کورٹ کی خالی اسامی پر لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج میاں ثاقب نثار کے تقرر کیلئے چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی بھجوائی گئی سمری دوسری بار مسترد کرکے انہیں قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعینات کرنے اور چیف جسٹس ہائیکورٹ خواجہ محمد شریف کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جو ججوں کے تقرر کیلئے آئین کی دفعہ 177 اور الجہاد ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ کے 20؍ مارچ 1996ء کے فیصلہ میں متعین کردہ پیرا میٹرز کے قطعی منافی اقدام تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جتنی جلدی اس غیرقانونی نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کی کارروائی عمل میں لائی گئی‘ ایوان صدر میں مشورہ دینے والی مقتدر شخصیات کو اسکی توقع نہیں تھی۔ جبکہ ہفتے کی شب جاری ہونے والے سپریم کورٹ کے عبوری حکم نے عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کیلئے ڈھال بننے والی وکلاء برادری اور سول سوسائٹی میں نیا جذبہ پیدا کر دیا اور میڈیا کے متحرک کردار کی وجہ سے حکومت کے پاس سپریم کورٹ کے عبوری حکم کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ رہا۔ اگر حکومتی آمرانہ اقدام پر فوری ردعمل سامنے نہ آتا تو حکومت کی جانب سے آزاد عدلیہ کو مفلوج کرنے کیلئے جرنیلی آمر مشرف جیسا طرز عمل اختیار کرنے سے بھی گریز نہ کیا جاتا جس کے حکومتی حلقوں کی جانب سے اشارے بھی مل رہے تھے‘ تاہم اب حکومت نے ججوں کے تقرر کے سلسلہ میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس میں اپنے مؤقف کے دفاع کا فیصلہ کرکے خود کو کسی حد تک سنبھال لیا ہے‘ البتہ حکومت کے 13؍ فروری کے اقدام سے سیاسی درجہ حرارت میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ اس میں کشیدگی کا عنصر بھی داخل ہو گیا ہے اور میاں نواز شریف جو ججوں کے تقرر کے نوٹیفکیشن کے اجراء سے ایک روز قبل تک وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے موقع پر بھی سسٹم کو بچانے کے نام پر حکومت کا ساتھ دیئے رکھنے کا عندیہ ظاہر کر رہے تھے‘ اب کھل کر حکومت مخالف صفوں میں آگئے ہیں اور انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو ہی جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے جس کے ردعمل میں پیپلز پارٹی کی تنظیموں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرکے آزاد عدلیہ کے ساتھ ساتھ میاں نوازشریف کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور انکے پتلے نذر آتش کئے‘ جواباً مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں نے بھی اپنی توپوں کا رخ پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب کرلیا جبکہ وکلاء برادری نے بھی سپریم کورٹ بار کی وکلاء رابطہ کونسل کی کال پر گزشتہ روز ملک بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جو وکلاء تنظیموں میں اختلافات پیدا کرنے کی حکومتی کوششوں کے باوجود خاصہ مؤثر رہا۔
اس فضاء میں اگر حکومت عدلیہ سے ٹکرائو کا راستہ اختیار کرنے کی پالیسی پر ہی کاربند رہی تو اسے وکلاء برادری کے ہی نہیں‘ عوام کے بھی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی قیادت اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے لامحالہ میاں نواز شریف ہی کرینگے جو عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کی خاطر پہلے ہی دوبارہ لانگ مارچ کا عندیہ دے چکے ہیں۔ بے شک میاں نواز شریف حکومت کے پیدا کردہ حالات پر جن کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کی فضاء پیدا ہوئی ہے اور ملک کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں‘ اپنی سخت تشویش کے اظہار کے باوجود فوج کی مداخلت کے حق میں نہیں ہیں مگر حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے جب ملک میں گھیرائو جلائو اور ایک دوسرے کی قیادتوں کو رگیدنے اور حکمران پیپلز پارٹی کی جانب سے عدلیہ کے تقدس سے کھیلنے‘ جس کا چیف جسٹس افتخار کا پتلا اور عدالتی حکم کو نذر آتش کرکے آغاز بھی کیا جا چکا ہے‘ کی نوبت آئیگی تو ملک کی مسلح افواج خاموش تماشائی بنے تھوڑا بیٹھی رہیں گی۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ذہن میں موجودہ حالات سے فائدہ اٹھا کر اپنے پیشروئوں کی طرح جمہوریت کی بساط لپیٹنے اور خود اقتدار پر براجمان ہونے کا بے شک خیال پیدا نہ ہو مگر وہ ملک کو آگ میں جلتا تو نہیں چھوڑ سکتے۔ انہیں مجبوراً کوئی عبوری انتظام کرنا پڑیگا۔ اس لئے گیند اب حکمران پیپلز پارٹی کی کورٹ میں ہے‘ پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور حکومت کو واضح طور پر باور کرا چکے ہیں کہ وہ ججوں کی تقرری کے معاملہ میں چیف جسٹس پاکستان کی سفارشات پر عمل کرے۔ ججوں کے تقرر کے کیس میں وہ سپریم کورٹ کے روبرو بھی لازمی طور پر یہی مؤقف اختیار کرینگے جس سے اس کیس میں حکومت کا مؤقف مزید کمزور ہو گا۔
اس تناظر میں دانش مندی کا یہی تقاضہ ہے کہ حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے نادان مشیروں جو کسی خاص مقصد کے تحت ماحول کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘ کے چنگل سے نکلے اور اٹارنی جنرل کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ایوان صدر سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن واپس لے کر چیف جسٹس پاکستان کی سفارشات کی روشنی میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں ججوں کی خالی اسامیوں پر تقرر عمل میں لائے۔ اس سے سیاسی درجہ حرارت بھی کم ہو جائیگا‘ اداروں کے ٹکرائو کی نوبت بھی نہیں آئیگی اور موجودہ عدالتی بحران بھی ٹل جائیگا جس کے نتیجہ میں جمہوری نظام پر لٹکنے والی خطرے کی تلوار بھی ہٹ جائیگی۔ لیکن بعض جیالے صدر زرداری کو نواز شریف کے ہاتھوں سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے حشر کے پیش نظر کوئی اور شہ ہی دے رہے ہونگے۔ صدر زرداری نے پیپلز پارٹی کے تنظیمی عہدیداروں کو میاں نواز شریف کے پتلے جلانے سے روک کر بلاشبہ سیاسی فہم و فراست سے کام لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی موجودہ جذباتی ماحول میں جلتی پر تیل ڈالنے سے اپنے متوالے کارکنوں کو روکنا چاہئے تاکہ مفاد پرست غیرجمہوری عناصر کو سلطانی ٔ جمہور کیخلاف اپنی سازشوں کے جال پھیلانے کا موقع نہ مل سکے۔ قومی سیاسی قائدین کو اب کم از کم یہ الزام تو اپنے سر نہیں آنے دینا چاہئے کہ انہوں نے ماضی کے تلخ تجربات سے ابھی تک کوئی سبق نہیں سیکھا۔
سردار جی کی پھر قلابازی
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے وزیر داخلہ چدمبرم کو ہدایات جاری کی ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین بات چیت دہشت گردی کے سوا کسی دوسرے موضوع پر نہیں ہونی چاہئے اگر پاکستان کشمیر یا دوسرے مسائل پر بات چیت کرنے پر بضد ہے تو مذاکرات ملتوی کر دئیے جائیں۔
ممبئی دھماکوں سے قبل پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات جاری تھے جن کا محور مسئلہ کشمیر تھا۔ چند روز قبل بھارت نے خود پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دی جس سے یہی تاثر لیا گیا کہ مذاکرات کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے شروع ہو گا۔ بھارت کی قیادت اپنے بیانات میں باور کراتی رہی کہ مذاکرات دہشت گردی اور ممبئی حملوں پر ہی ہونگے اس کے باوجود ہماری حکومت بھارت کی مذاکرات کی پیشکش پر پھولے نہیں سما رہی تھی۔ فوری طور پر مذاکرات کی تاریخ بھی طے کر دی۔ اب منموہن کے بیان سے بھارت کا خبث باطن کھل کر سامنے آگیا ہے۔ جبکہ وہ پونا کے خودساختہ دھماکہ کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال کر مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہی مکار ہندو بنیا کے کٹھ پتلی سردار جی کی چالاکی ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین بنیادی تنازعہ کشمیر ہی کا ہے‘ جس کی وجہ سے دیگر تنازعات نے جنم لیا‘ ان میں پانی کا مسئلہ اہم ترین ہے۔ بھارت نے کشمیر سے آنیوالے دریاؤں پر 62 سے زائد ڈیموں کی تعمیر سے پاکستان کے حصے کا پانی روک لیا ہے۔ نہریں کھود کر بھی پانی کا رخ موڑا جا رہا ہے۔ تازہ ترین کارروائی میں دریائے چناب کا پانی دوبارہ روک لیا ہے‘ جس کی وجہ سے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ صرف سات ہزار کیوسک رہ گیا ہے۔ جہاں سے نکلنے والی نہریں مکمل طور پر خشک ہو چکی ہیں۔ بھارتی واٹر کمشنر کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان کے احتجاج پر بھارت نے دریائے چناب کا پانی کھولا تھا جو دوبارہ بند کر دیا گیا۔ دوسری طرف بھارت نے متنازعہ کشن گنگا ڈیم بھرنے کیلئے 27 کلو میٹر طویل سرنگ بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید ساڑھے 3 ارب روپے کے فنڈ جاری کئے ہیں۔ سرنگ دو سال میں مکمل ہو گی اور پاکستان آنیوالے پانی میں مزید کمی واقع ہو جائیگی۔ بھارت کی اس آبی جارحیت سے پاکستان میں کروڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی کی کمی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔ اگلی بوائی پر فرق پڑیگا اور اگر بھارت کی آبی جارحیت کے راستے میں بند نہ باندھا گیا تو پاکستان خدانخواستہ جلد ریگستان بن جائیگا۔ یہی مکار بنیئے کی کوشش اور خواہش ہے۔
طاقت مسائل کا حل نہیں مذاکرات ہی ترجیح اول ہونی چاہئے لیکن بھارت اس سے مسلسل راہ فرار اختیار کر رہا ہے۔ صرف پاکستان کے خلوص سے معاملات درست نہیں ہو سکتے۔ اگر بھارت مسئلہ کشمیر اور خصوصی طور پر پانی کے مسئلے پر بات کرنے پر تیار نہیں تو اس بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ بجائے اسکے کہ بھارت مذاکرات سے انکار کرے حکومت پاکستان کو اس کی پیشکش ٹھکرا دینی چاہئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ بھارت کو ان پر عملدرآمد کرنے پر مجبور کرنے کیلئے عالمی سطح پر کوششیں کرنی چاہئیں۔ پانی زندگی ہے اس کے بغیر زیادہ دیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔ حکومت پاکستان کو اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور پانی کی واگزاری کیلئے آخری حد تک بھی جانا پڑے تو گریز نہیں کرنا چاہئے۔ اسکے علاوہ حکومت کے پاس کوئی حل ہے تو قوم کو بتائے۔
اس مسئلہ کو خوش اسلوبی سے طے کر لیا جائے
ریلوے نے پنجاب میں سینکڑوں مقامات پر پھاٹک لگانے کی پنجاب حکومت کی تجاویز کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے فنڈز جاری کرنے سے معذرت کرلی ہے۔
تفصیلات کیمطابق حکومت پنجاب نے ایک ماہ قبل چیچہ وطنی میں ریلوے کراسنگ میں بچوں کی وین کی ٹرین کے ساتھ ٹکر اور اس میں درجنوں بچوں کی ہلاکت کے بعد صوبے بھر کے ڈی سی اوز کی ڈیوٹی لگائی تھی۔ رپورٹ کیمطابق پنجاب بھر میں -841مقامات ایسے ہیں جہاں ریلوے پھاٹک ہونے چاہئیں -371ایسے مقامات ہیں جہاں بہت زیادہ رسک ہے مگر ریلوے حکام کا موقف ہے کہ ایسے کراسنگ زیر زمین کر دیئے جائیں۔
اس خبر کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ریلوے کے پاس اتنے فنڈز نہیں ہونگے یا کوئی اور وجہ ہو گی۔ پنجاب حکومت کو چاہئے کہ عوام کے جان ومال اور بچوں کے تحفظ کے اس اہم مسئلہ کو حل کرنے کیلئے باہمی تعاون کی کوئی صورت نکال لے۔ ہمارے ملک میں بہت سے مخیر حضرات بھی موجود ہیں۔ پنجاب حکومت جہاں ضروری خیال کرتی ہے وہاں اپنے وسائل سے پھاٹک تعمیر کرے۔ جہاں کہیں مخیر حضرات سے اپیل کرکے پھاٹک لگوایا جا سکتا ہے‘ یا پھر پھاٹک کے آس پاس رہنے والوں میں اگر خوشحال لوگ رہتے ہیں تو پھر اپنی مدد آپکے تحت بھی اس کا اہتمام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں مگر کوئی ایسا کراسنگ نہیں ہونا چاہئے۔ جہاں ایسا حادثہ پیش آسکتا ہو۔ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہے جس میں فنڈز کی کمی کو جواز بنا کر کسی قسم کی کوتاہی کرنا شہریوں کو دانستہ طور پر موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا اور پھاٹک نہ ہونے کی وجہ سے پیش آنیوالے ریلوے کے کسی حادثہ میں لوگوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے معاملہ میں حکومت خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔