مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کی دعوت پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں کی ملاقات میں موجودہ حکومت کے خاتمے کےلئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کےخلاف تحریک عدم اعتماد کی راہ ہموار کرنے اور گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانے پر اتفاق ‘ اپوزیشن جماعتوں نے موجودہ بحران کے خاتمے کےلئے فوری قبل ازوقت انتخابات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنے اور عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کےلئے مل کر جدوجہد کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس جمعہ کو پنجاب ہاﺅس میں (ن) لیگ کے سربراہ میاں نوازشریف کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن‘ محمود خان اچکزئی‘ قاضی حسین احمد‘ میر حاصل خان بزنجو‘ آفتاب خان شیرپاﺅ‘ پروفیسر خورشید احمد و دیگر اپوزیشن قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس کے خاتمے پر (ن) لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے صحافیوں کو اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ہے کہ ہر قیمت پر جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں غیر آئینی اقدام یا مداخلت کے حق میں کوئی بھی نہیں ہے اور اس بحران کا حل جمہوری طریقے سے ہی نکالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز (ن) لیگ کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد‘ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے سمیت لانگ مارچ اور عوام کو سڑکوں پر لانے کے جو چار آپشن منظور کئے گئے تھے آج اپوزیشن جماعتوں نے ان آپشنز پر اپنی رائے بھی دی ہے۔
بلاشبہ عوام نے 18 فروری 2008ءمیں ووٹ کی طاقت کے ذریعے مشرف کی بدترین آمریت سے جان چھڑا کر سلطانی جمہور کیلئے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ بدقسمتی سے حکمران عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکے‘ آج جمہوری حکومت کے چار سال مکمل ہونے کو ہیں‘ لیکن عوام ہنوز جمہوریت کے ثمرات سے محروم ہیں۔ حکومت کی نااہلی‘ بدعملی اور کرپشن کے باعث آج ہر ادارہ اور شعبہ بحران کا شکار ہے‘ ریلوے‘ پی آئی اے اور سٹیل مل جیسے منافع بخش ادارے آج دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔ بجلی و گیس کی بے محابہ لوڈشیڈنگ کے باعث کاروبار تباہ اور بیروزگاری کا عفریت ہر سو پھن پھیلائے ہوئے ہے۔ لاقانونیت الگ سے مسئلہ ہے۔ ڈرون حملوں نے قومی سلامتی اور خودمختاری کو روند ڈالا ہے‘ عدلیہ کے فیصلوں کا جو حشر موجودہ حکومت کر رہی ہے‘ ایسا توہین آمیز اور تضحیک انگیز رویہ کبھی سننے میں آیا‘ نہ دیکھنے میں۔ ایسی گورننس سے اپوزیشن سمیت ہر شہری پریشان ہے۔ ایسے میں حکمرانوں کو راہ راست دکھانے کی کوشش ہوتی ہے تو اسے تحسین کی نگاہ سے دیکھا جائیگا لیکن موجودہ جمہوریت جو نو سال کے طویل عرصہ بعد بحال ہوئی ہے‘ اسکو کوئی گزند نہیں پہنچنی چاہیے۔
اگر موجودہ حکومت سے نجات صرف آئینی طریقوں سے ہی حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو یہ اور بھی ضروری ہے کہ مطلوبہ قوت حاصل کرنے کیلئے مسلم لیگ (ق) سے روابط بڑھا کر انہیں اپوزیشن اتحاد میں شامل کیا جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گزشتہ چار سال میں مسلم لیگ کے تمام دھڑوں کو یکجا کرکے پیپلز پارٹی اور اسکے اتحادیوں کی کرپٹ مخلوط حکومت کو چلتا کیا جاتا مگر بوجوہ ایسا نہ کیا گیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ بھی برداشت کرنا پڑا۔ اب بھی وقت ہے کہ مسلم لیگ کے تمام دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے سیاسی اہداف حاصل کئے جائیں اور ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر انکی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ عسکری قیادت بھی غالباً ایسی ہی صورتحال کی منتظر ہے‘ جس کے بعد اسے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوگی۔ فوری ہدف یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں حکومت کی حمایت میں پیش کی جانیوالی قرارداد کا راستہ روکا جائے‘ اس قرارداد پر ووٹنگ کل سوموار کو ہو گی جس کیلئے حکومت اور اسکے اتحادی کامیابی کیلئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ مذکورہ قرارداد میں حکومت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہنا چاہیے تاہم اسکی وضاحت نہیں کی گئی کہ کونسا ادارہ آئینی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔ بادی النظر میں سپریم کورٹ اب تک ضبط و تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے‘ این آر او اور دیگر مقدمات جن کے فیصلے ہو چکے ہیں‘ ان پر عملدرآمد کیلئے عدالت عظمٰی نے حکومت کو کئی مواقع فراہم کئے‘ یہی نوعیت میموگیٹ کے حوالے سے بھی ہے۔ بالکل اسی طرح فوج بھی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہ کرنے کا تہیہ کر چکی ہے ورنہ کم از کم پانچ ایسے مواقع تھے جب فوج کیلئے سابقوں کی طرح ایڈونچر ممکن تھا اور اسے عوامی حمایت بھی حاصل ہوتی۔ علاوہ ازیں فوج تو براہ راست حکومت کے ماتحت ادارہ ہے‘ اس کو آئینی حدود میں رہنے کا درس دینا چہ معنی دارد؟ بدقسمتی سے معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلانے کے بجائے اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور کرپشن پر پردہ ڈالنے کے بجائے حکومت سیاسی شہید بننے اور عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے مسلسل ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ عوام بھی اس گومگو کی کیفیت سے بیزار ہو چکے ہیں۔
ایسی بیڈگورننس سے ہر کوئی نجات کی خواہش رکھتا ہے لیکن غیرآئینی اور غیرقانونی طریقے سے تبدیلی کی کوئی بھی باشعور اور جمہوری سوچ رکھنے والا حمایت نہیں کر سکتا۔ مسلم لیگ (ن) کے آپشنز میں عدم اعتماد اور لانگ مارچ بھی شامل ہیں‘ عدم اعتماد ایک آئینی طریقہ کار ہے‘ حکومت کی تبدیلی کیلئے یہی اول و آخر آپشن ہونا چاہیے۔ وزیراعظم بھی اپوزیشن کو بار بار تحریک عدم اعتماد لانے کا چیلنج کر چکے ہیں‘ یہاں تک کہ حکومت کی تبدیلی کیلئے لانگ مارچ کی تجویز ہے اس سے نہ صرف جمہوریت کے ڈی ریل ہونے کا خدشہ ہے بلکہ اسکے باعث اگر حکومت کو گھر بھجوادیا جاتا ہے تو ملک ایک بار پھر 80 اور نوے کی دہائی کی طرح سیاسی انارکی کا شکار ہو سکتا ہے جس کا ملک اس وقت کسی طرح بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔ جب مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو دو دو بار اقتدار میں آنے کے باوجود ایک مرتبہ بھی آئینی مدت پوری کرنے کی نوبت نہ آئی۔ گزشتہ پونے چار سال میں حکومت جب بھی گرنے لگتی‘ مسلم لیگ (ن) اسکی مدد کو پہنچتی رہی‘ اس طرح حکومت چار سال مکمل کرنے کو ہے۔ اگر اسے غیرآئینی طریقے سے لانگ مارچ کے ذریے گھر بھجوایا گیا تو نئی آنیوالی حکومت کو وہ پہلے دن سے غیرمستحکم کرنے کی اپنی سی کوشش کریگی۔
ہم ان سطور میں مسلم لیگ (ن) کو ایک بار پھر مشورہ دینگے کہ وہ گرینڈ الائنس ضرور بنائے لیکن مسلم لیگوں کے اتحاد کے آپشن کو ترجیح دے اور نظرانداز نہ کرے۔ دیگر مسلم لیگی دھڑے میاں نواز شریف کی ایک کال کے منتظر ہیں‘ مسلم لیگوں کا اتحاد بہترین قومی مفاد میں ہونے کے ساتھ ساتھ خود میاں صاحب اور انکی پارٹی کے مفاد میں بھی ہے۔ اس سے ایک طرف مسلم لیگ کو قائد اور اقبال کی مسلم لیگ بنانے کا موقع ملے گا‘ دوسری طرف موجودہ جمہوری حکومت کے آمرانہ رویے سے بھی آسانی سے نجات مل جائیگی۔
این آر او زدگان کی گرفتاریاں
نیب نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں این آر او سے مستفید ہونے والے کئی سرکاری و غیر سرکاری افراد کیخلاف مقدمات کھول دیئے، متعدد کو گرفتارکرکے پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔
بدنام زمانہ آرڈیننس این آر او سے مستفید ہونے والے سرکاری و غیر سرکاری افراد اپنے کیے جرائم کی سزا بھگتنے کیلئے قانون کے شکنجے میں جکڑے جا رہے ہیں۔ بیشمار قومی ممبروں نے جرم کے بعد این آر او کے سائے تلے پناہ لی، جس سے ملکی قانون و آئین کو پامال کیا گیا، جن قومی مجرموں نے ملک و قوم کو نقصان پہنچانے کے بعد این آر او کے تالاب میں غسل کرکے پاکیزگی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، ان کے مقدمات گرچہ دو سالہ تاخیر سے کھل رہے ہیں پھر بھی دیر آید درست آید کے تحت نیک شگون ہے، عدالت نے این آر او کو کالعدم قرار دیکر درست معنوں میں آئین کی پاسداری کی ہے، نیب نے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ان لوگوں سے ملکی خزانے کو جس قدر نقصان پہنچا ہے، اسے پورا کیا جائے، ملک کو جس قدر نقصان ہوا ہے، اس کا ازالہ کیا جائے، اسی طرح جن لوگوں نے بنکوں سے پیسے قرض لے کر معاف کروائے ہیں، نیب ان کے گرد بھی گھیرا تنگ کرے، اور لوٹی ہوئی رقم واپس خزانے میں جمع کروائی جائے۔ بیرون ملک فرار این آر او زدگان کو گرفتار کرکے کٹہرے میں کھڑا کیا جا ئے اور ان کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی بھی طالع آزما اپنے مفاد کیلئے لوگوں کا خون مت بہائے‘ بیرون ملکوں میں جتنی بھی رقم پڑی ہے، اسے بھی ملک میں لانے کی کوشش کی جائیں، تاکہ ملک و قوم کا لوٹا ہوا پیسہ خزانے میں پہنچ سکے۔ اس کے ساتھ حکومت کی ذمہ داری بھی ہے کہ جس طرح این آر او فیصلے پر عملدرآمد کیلئے اس نے نیب کو سرگرم کیا ہے، این آر او فیصلے پر اس کی رو کے مطابق عمل درآمد کے لیے سوئس حکام کو خط لکھ کر عوام کے سامنے سرخرو ہونے کی کوشش کرے۔
امریکیوں کو غیر قانونی ویزے دینے کی تحقیق ہونی چاہیے
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے ریمنڈ ڈیوس سمیت سات ہزار چھ سو امریکیوں کو ویزے جاری کیے اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خا نے نے 321 رہائش گاہیں کرائے پر حاصل کیں۔
مبینہ میمو سکینڈل کے کردار سابق سفیر حقانی نے امریکیوں کا نمک حلال کرنے کا اچھا طریقہ اختیار کیا، سات ہزار چھ سو امریکیوں کو ویزے جاری کرکے ملک کو نقصان پہنچایا، ایک ریمنڈ ڈیوس تو پکڑا گیا تھا، جو بعد میں امریکہ پہنچ گیا۔نہ جانے اب کتنے ریمنڈ ڈیوس پاکستان کو کھوکھلا کرنے کے در پے ہیں۔ آئے روز ملک میں خود کش حملے اور بم دھماکے انہیں امریکیوں کا کام ہے، ان لوگوں نے اسلام آباد میں 321 کے قریب رہائش گاہیں حاصل کیں، ان رہائش گاہوں کے بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں رکھے گے اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ان بلڈنگوں پر عائد ٹیکس کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی، سی ڈی اے حکام نے اس سلسلے میں کسی قسم کا کوئی کلیم بھی نہیں کیا، حسین حقانی نے نمک حلال تو کیا لیکن ملک کو نقصان پہنچایا اور اسی وجہ سے پورا امریکی میڈیا حقانی کے دفاع کیلئے میدان میں اتر چکا ہے۔
بعض ذرائع تو اس بات کی تصدیق بھی کرتے ہیں کہ امریکی حسین حقانی کو ریمنڈ ڈیوس کی طرح ہی لیکر واپس چلے جائیں گے۔ وزیر اعظم گیلانی نے ملکی تحفظ کا حلف اٹھایا ہے لیکن خلاف آئین امریکیوں کو پاکستان بلا کر انہوں نے اپنے ہی حلف کو توڑا ہے، جب اقتدار میں ہوتے ہیں، تو سفید و سیاہ کے مالک ہوتے ہیں، شاہ سے بڑھ کر شاہ کا وفادار بننے سے ناکامی ہاتھ آتی ہے، لیکن وزیر اعظم گیلانی نہ جانے کیوں امریکیوں کی حمایت میں اس قدر آگے چلے گئے ہیں کہ اب انہیں واپسی کا راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کو مقدم رکھیں۔ خلاف قانون جاری کیے گئے ویزوں کی چھان بین کی جائے اور اس میں ملوث کرداروں کو عوام کے سامنے لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔
گیس بجلی کے معاملے میں پنجاب سے امتیازی سلوک
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا: گیس اور بجلی کے معاملے میں پنجاب سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
پنجاب نے ہمیشہ دوسرے صوبوں کے حق میں فیاضی سے کام لیا۔ لیکن آج جبکہ یہ صوبہ گیس اور بجلی کے شدید بحران کا شکار ہے‘ تو وزیراعلیٰ نے بجاطور پر کہا ہے کہ پنجاب کے ساتھ مصیبت کی اس گھڑی میں واقعتاً سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور اس کا گیس بجلی کا کوٹہ نہ ہونے کے برابر ہے‘ 20, 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ اور گیس کی شدید قلت نے پنجاب کے دس بارہ کروڑ عوام پر زندگی کا قافیہ تنگ کر دیا گیا ہے‘ جبکہ دوسرے صوبوں میں یہ حال نہیں‘ خدا جانے پنجاب کو کیوں اس کی نیک نیتی کی سزا دی جا رہی ہے۔ اس وقت گیس کی یہ صورتحال ہے کہ گیزر تک نہیں چلتا اور چولہوں میں اتنی کم گیس لمبے وقفوں کے بعد فراہم کی جاتی ہے‘ اس کا پریشر اتنا کم ہے کہ چولہا تک نہیں جلتا‘ مرکز پنجاب سے بے اعتنائی ترک کرے اور اگر یہ سب کچھ سیاسی اعتبار سے کیاجا رہا ہے تو اس کو بالائے طاق رکھ کر کم از کم عوام الناس کو اس کا خمیازہ بھگتنے سے بچایا جائے‘ اس توانائی کے شعبے میں اس قدر بے اعتدالی برتی جا رہی ہے کہ اب نیپرا نے بھی لیسکو کے صارفین کے لئے بجلی کی قیمتوں میں 3 روپے فی یونٹ تک اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ آخر ایسا کیوں کیا جا رہا ہے کہ پنجاب کے لوگ زندگی سے رشتہ بھی استوار نہ رکھ سکیں اور پنجاب نہ زرعی رہے‘ نہ صنعتی اور نہ ہی کچھ ایکسپورٹ کر سکے!