سفیروں کی کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کیلئے وزیراعظم کی یقین دہانی .... اب برابری کی بنیاد پر ہی امریکہ سے تعلقات استوار ہونے چاہئیں
ـ 15 دسمبر ، 2011
دنیا کے اہم ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں کی اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اقوام متحدہ کے چارٹر کےمطابق سلامتی‘ آزادی اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے ناقابل تغیر اصول پر مبنی ہو گی اور ملک کی سلامتی‘ عزت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ کانفرنس کے جاری کردہ اعلامیہ کےمطابق امریکہ‘ نیٹو اور ایساف کےساتھ تعاون کا انحصار پاکستان کی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے احترام پر ہو گا۔ کانفرنس کے آخری سیشن کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیٹو حملے کی پاکستان کی طرف سے کی جانیوالی تحقیقات سے کچھ پریشان کن سوالات سامنے آئے ہیں جن کا ہم نیٹو اور امریکی حکام کی تحقیقات میں جواب چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو حملے سے پاکستان کی امن کوششوں کو شدید دھچکا لگا‘ ہم قومی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے‘ ہمیں ملکی خودمختاری کی پامالی ہرگز قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے‘ ہم ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ انکے بقول امریکہ‘ نیٹو اور ایساف کےساتھ تعلقات پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔ ”دی نیشن“ کی رپورٹ کےمطابق سفیروں کی کانفرنس کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ امریکہ سے زبانی نہیں‘ تحریری معاہدے کئے جائیں اور نیٹو کی سپلائی معافی مانگنے اور پاکستان کی خودمختاری کے مکمل احترام کی یقین دہانی تک بند رکھی جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ امریکی نائن الیون کے واقعہ کے بعد پاکستان کے اس وقت کے جرنیلی آمر مشرف نے ملکی اور قومی وقار‘ عزت و آبرو اور خودمختاری و سلامتی کے بجائے محض اپنے ذاتی مفادات کو پیش نظر رکھ کر قومی خارجہ پالیسی تبدیل کی اور اس خطہ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کرکے ملک کی تباہی و بربادی کی بنیاد رکھی جبکہ امریکی ”ڈومور“ کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے قومی وقار کو بھی بٹہ لگایا گیا اور فوجی اپریشن‘ ڈرون حملوں اور اسکے ردعمل میں ہونیوالے خودکش حملوں سے ملک کی دھرتی اپنے ہی شہریوں بشمول سیکورٹی فورسز کے ارکان اور قومی سیاسی قائدین و کارکنوں کے خون سے رنگین ہوئی۔ حد تو یہ ہے کہ ملکی و قومی عزت و وقار کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اپنے ہی شمسی‘ پسنی اور جیکب آباد ایئربیسز کو امریکی ڈرونز اور نیٹو جنگی ہیلی کاپٹروں کے زیر استعمال لانے کی اجازت دیدی گئی اور اسکے ساتھ ساتھ اپنی سرزمین سے نیٹو کو راہداری بھی فراہم کردی گئی جس کے ذریعہ نیٹو فورسز کو نہ صرف اپنی عیاشی کا وافر سامان دستیاب ہوا‘ بلکہ ہماری دھرتی کا سینہ چھلنی کرنے اور بے گناہوں کا خون بہانے والے ڈرونز اور نیٹو ہیلی کاپٹروں کو پٹرول اور جنگی سازو سامان بھی اسی راہداری کے ذریعے باآسانی حاصل ہوتا رہا‘ جبکہ امریکی اشارے پر ملک کے شہریوں کو بھی چن چن کر امریکہ کے حوالے کیا جاتا رہا۔ مشرف نے تو اسکے عوض اپنے جرنیلی آمرانہ اقتدار کو بھی امریکی سہارے سے مضبوط بنایا اور ڈالر بھی کھرے کئے جبکہ ملک کی آزادی اور خودمختاری داﺅ پر لگ گئی۔ امریکی مفادات کی جنگ میں شریک ہونا بذات خود سنگین قومی جرم کے زمرے میں آتا ہے جس کی تکمیل کیلئے مشرف نے قومی وقار کی بھی پرواہ نہ کی اور اسلام کی نشاة ثانیہ کو مٹانے کے ہنود و یہود و نصاریٰ کے مذموم عزائم کی تکمیل کا بھی موقع فراہم کیا۔ مشرف کے ان قومی جرائم پر انہیں بہرصورت قانون و انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے مگر موجودہ منتخب حکمرانوں نے بھی مشرف کی اختیار کردہ پالیسیوں پر صاد کرکے اور مزید دو قدم آگے بڑھ کر امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کی رہی سہی عزت و ساکھ کو خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
ملکی اور قومی مفادات کا تو یہی تقاضہ تھا کہ سلطانی جمہور کی منزل حاصل ہوتے ہی قومی امنگوں اور ملکی و قومی مفادات کی روشنی میں مشرف آمریت کی اختیار کردہ پالیسیوں پر نظرثانی کرکے انہیں قومی مفادات کے ہم آہنگ کیا جاتا اور امریکی مفادات کی جنگ سے خلاصی حاصل کرکے ملکی سلامتی اور خودمختاری کی ضمانت فراہم کی جاتی مگر اسکے برعکس امریکہ کو ملک کی دھرتی پر مشرف آمریت سے بھی بڑھ کر کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا گیا جس نے حکومت پاکستان کی مہیا کردہ سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر سی آئی اے اور بلیک واٹر کے ایجنٹوں اور دہشت گردوں پر مبنی اپنا جاسوسی کا نیٹ ورک پھیلایا اور ہمارے شہریوں کے علاوہ ہماری ایٹمی تنصیبات کے مقامات کی جاسوسی پر بھی لگ گیا جبکہ ہمارے حکمرانوں کی کمزوریوں نے امریکہ کو ڈرون حملے تیز کرنے اور پھر ایبٹ آباد اپریشن اور مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو کے سفاکانہ حملے کا موقع فراہم کیا۔
ملک کی حکومتی اور عسکری قیادتوں کی جانب سے جس سخت ردعمل کا اظہار سلالہ چیک پوسٹوں پر حملے کیخلاف کیا گیا‘ اگر ایسا ہی ردعمل ڈرون حملوں میں معصوم و بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں پر بھی ظاہر کیا جاتا اور ڈرون گرانے کا سلسلہ شروع کردیا جاتا تو امریکہ اور نیٹو فورسز کو ہمیں اپنی پالیسیاں ڈکٹیٹ کرانے اور ایبٹ آباد اپریشن سے مہمند ایجنسی کی کارروائی تک ہماری سالمیت کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کے ارتکاب کی جرات نہ ہوتی۔ اب اگرچہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے‘ تاہم نیٹو حملے کے بعد حکومتی اور عسکری قیادتوں نے یکسو ہو کر امریکہ کیخلاف سخت اقدامات اور فیصلے کئے اور ملکی و قومی مفادات کی روشنی میں خارجہ پالیسی پر نظرثانی کیلئے مشاورت کی خاطر اسلام آباد میں پاکستان کے سفیروں کی کانفرنس طلب کی اور اسکی سفارشات کی روشنی میں ملکی سلامتی‘ خودمختاری اور قومی عزت و آبرو کے تحفظ کے تقاضوں کے مطابق خارجہ پالیسی کا ازسرنو تعین کرنے کا عندیہ دیا ہے تو دیر آید درست آید کے مصداق حکومت کا یہ بھی مستحسن اقدام ہے۔
پاکستان کی راہداری سے نیٹو کی سپلائی معطل ہونے کے باعث نیٹو فورسز کو نقل و حرکت کے سلسلہ میں پیش آنیوالی مشکلات کے تناظر میں اگرچہ اس وقت امریکہ دفاعی پوزیشن پر آچکا ہے اور پاکستان کو نیٹو کی سپلائی بحال کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے وہ ”بیک فٹ“ پر جانے اور ڈرون حملے روکنے کا عندیہ بھی دے رہا ہے تاہم پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو پامال کرنے سے متعلق اسکے عزائم میں بھی کوئی کمی نظر نہیں آرہی۔ افغانستان میں نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل ایلن مہمند جیسے حملے دہرائے جانے کا عندیہ دے رہے ہیں تو امریکی کانگریس کا پینل پاکستان کی فوجی کے علاوہ سول امداد کے بھی 70 کروڑ ڈالر روکنے کی متفقہ سفارشات امریکی کانگریس کو بھجوا رہے ہیں۔ اگر امریکہ کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں اور اسی کی بنیاد پر وہ کسی کے ساتھ اپنی دشمنی اور دوستی کا تعین کرتا ہے تو پھر ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے ہمیں بھی اپنے قومی مفادات ہی عزیز ہونے چاہئیں جبکہ امریکہ سے مکمل خلاصی حاصل کرنا ہی ہمارے ملکی اور قومی مفادات کا تقاضہ ہے کیونکہ امریکی مفادات کی جنگ میں شریک رہ کر ہم ملک اور قوم کے مزید نقصان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ جب ملک کی سلامتی کا سوال ہو تو پھر محض معافی کے اظہار سے اب تک کے ملکی اور قومی نقصانات کی تلافی نہیں ہو سکتی۔
یہ طے شدہ امر ہے کہ ہماری راہداری سے جانیوالی نیٹو کی سپلائی ہماری سالمیت کیخلاف ہی استعمال ہوتی ہے تو پھر محض معافی کے عوض اس سپلائی کو بحال کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہو گی۔ بلاشبہ پرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت اور یو این چارٹر کے مطابق اقوام عالم کے ساتھ برابری کی بنیاد پر ہمارے تعلقات استوار ہونے چاہئیں مگر اس کیلئے تالی ایک ہاتھ سے تو نہیں بجتی‘ اگر سپرپاور کے زعم میں امریکہ ہماری سالمیت کو کمزور بنانے اور آزادی و خودمختاری کو پامال کرنے پر تلا بیٹھا ہے تو کیا ہم فدویانہ طرز عمل اختیار کرکے اپنی تباہی و بربادی کے مناظر دیکھتے رہیں؟ اس تناظر میں اگر قومی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کا طے کیا گیا ہے تو اس کیلئے ملکی اور قومی مفادات کی بہرصورت پاسداری کی جائے اور ملک کی سالمیت پر کوئی گزند نہ آنے دی جائے۔ اب قول و فعل میں تضاد کے ہم متحمل ہو سکتے ہیں‘ نہ ایسی کسی پالیسی سے قومی مفادات کا تحفظ کیا جا سکتا ہے اس لئے اب ضرورت ہے کہ دوٹوک آبرومندانہ پالیسی اختیار کرکے امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ترک کردیا جائے اور نیٹو کی سپلائی مستقل بند کرکے جارحیت کی نیت سے آنیوالے ہر ڈرون کو مار گرایا جائے۔ امریکہ کو ہماری آزادی اور خودمختاری کا احترام نہیں تو ہم نے اپنی تباہی کا سامان پیدا کرکے اسے محفوظ بنانے کا ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا!
ایران سے گیس کی فراہمی کے معاہدے کو حتمی شکل دی جائے
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے رینٹل پاور پلانٹس کیس کی سماعت کے دوران گزشتہ روز ریمارکس دیئے کہ جب گیس نہیں تو اس سے چلنے والے منصوبے کیوں شروع کئے گئے؟ دریں اثناءپنجاب حکومت کی طرف سے منگوائی گئیں نئی بسیں ہفتے میں تین دن سی این جی کی بندش کے باعث بند رہتی ہیں۔ بس کمپنی مالکان کا کہنا ہے کہ ان کو پنجاب حکومت نے ہفتہ بھر گیس کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن گیس مرکز کے کنٹرول میں ہے۔ مرکزی حکومت شاید مسافروں کو پریشان کرکے مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت سے انتقام لے رہی ہے۔ جہاں مسافر بسیں ہفتہ میں تین دن گیس کی بندش کا شکار رہتی ہیں تو پورے ملک میں صنعتوں کو بھی پورا ہفتہ گیس فراہم نہیں کی جاتی جسکے باعث ہزاروں کارخانے اور فیکٹریاں بند اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اب گھریلو صارفین پر بھی بغیر کسی شیڈول کے گیس بند کرکے قیامت ڈھائی جا رہی ہے۔ شہروں کی حالت یہ ہے کہ نہ لکڑی دستیاب‘ نہ کوئلہ‘ صارفین آخر کہاں جائیں؟ گیس کی قلت کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ یہ ہمارے حکمرانوں کی نالائقی نااہلی سے زیادہ انکی بزدلی کا شاخسانہ ہے اگر ملک میں ضرورت کے مطابق گیس نہیں ہے تو ایران کے ساتھ معاہدوں کو امریکی دباﺅ پر پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ امریکہ کے کہنے پر چھ ہزار کلو میٹر دور سے گیس لانے کے معاہدے ہو رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے پاکستان کو گیس کی فراہمی کی تنصیبات مکمل ہو چکی ہیں۔ اب امریکی دباﺅ ختم ہو چکا ہے۔ امریکہ کو نیٹو سپلائی کی بحالی کی فکر ہے‘ یہ پاکستان کیلئے ایران سے گیس درآمد کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اگر حکومت پاکستان آج ایران سے رابطہ کرے تو چند ماہ میں پاکستان کو گیس کی فراہمی ممکن ہے۔
مزید ساڑھے سات لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ مےں لانے کی تیاری
وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ مےں مزید ساڑھے سات لاکھ افراد کو لایا جائےگا‘ بصورت دیگر ہمیں بیرونی قرضوں پر ہی تکیہ کرنا پڑیگا۔ بلاشبہ ریاستی امور اور عوامی فلاح و بہبود کے کام ملکی وسائل اور کاروباری لوگوں کے ٹیکسوں سے انجام پاتے ہےں۔ حکومت کی طرف سے عوامی فلاح کا کام ایک خواب بن کر رہ گیا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ملکی وسائل لوٹے جا رہے ہےں اور ٹیکسوں مےں ہیرا پھیری کی جاتی ہے۔ ماہرین تو یہاں تک کہتے ہےں کہ وطن عزیز مےں سالانہ ایک ہزار ارب کی کرپشن ہوتی ہے۔ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی وزارت کے دوران اعتراف کیا تھا کہ صرف ایف بی آر مےں ہر سال 500 ارب روپے کرپٹ لوگوں کے پیٹ مےں اتر جاتے ہےں۔ کرپشن پر قابو پانے کےلئے کہیں عزم و ارادہ نظر نہیں آتا۔ اپنے بے محابہ اخراجات پورے کرنے کےلئے پرانے ٹیکسوں مےں اضافہ اور نئے ٹیکسوں کا اجرا کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ اپنے ٹیکسوں کے جائز استعمال نہ ہونے کے خدشے کے باعث ادائیگی سے راہ فرار حاصل کر لیتے ہےں۔ حکومت ٹیکسوں کے شفاف استعمال اور کرپشن پر قابو پا کر ریاستی ضروریات سے زیادہ ریونیو حاصل کر سکتی ہے۔ وزیر خزانہ سات لاکھ کے بجائے ڈیڑھ دو کروڑ کو بھی ٹیکس نیٹ مےں لے آئےں، انکے پیسے بھی کرپٹ لوگوں کی جیبوں اور اکاﺅنٹس مےں چلے جائینگے۔ سب سے پہلے ٹیکسوں کی وصولی اور استعمال کو شفاف بنایا جائے عام آدمی کو ٹیکس نیٹ مےں لانے کے بجائے جاگیروں پر ٹیکس لگایا جائے۔ عام آدمی تو یوٹیلٹی بلوں اور جی ایس ٹی کی صورت میں بے شمار بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہے جبکہ تنخواہ دار طبقہ سے جبراً ٹیکس وصول کرلیا جاتا ہے۔ وزیر خزانہ اسمبلی کے فلور پر خود اعتراف کر چکے ہیں کہ منتخب ایوانوں میں بیٹھے 13 سو میں سے آٹھ سو کے قریب ارکان سرے سے ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے۔ پہلے انہیں تو ٹیکسوں کی وصولی کے قانون کے پھندے میں جکڑا جائے۔ وزیر خزانہ یہ قومی خدمت کر جائیں تو ان کا ملک پر احسان ہوگا۔
کھلے مین ہولوں کو فی الفور بند کیا جائے
نواب ٹاﺅن کے علاقے میں ایکسپو سنٹر کے قریب چوتھی جماعت کی طالبہ کھلے مین ہول میں گرنے کے باعث جاں بحق ہو گئی۔ شہریوں کا مظاہرہ‘ ایم ڈی واسا نے تین افسروں کو معطل کردیا۔ ٹوٹے پھوٹے مین ہول‘ خستہ حال سڑکیں‘ شب و روز ہونیوالے عوامی مظاہرے‘ مولی گاجر کی طرح کٹتے انسان کسی بھی معاشرے کی تباہی کی علامت ہوتی ہے۔ عوام کے ٹیکسوں سے عیاشی کرتے ارباب بست و کشاد شاید بھول گئے ہیں کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے‘ وہ کسی امیر اور غریب کی تفریق کے بغیر برستی ہے اور سب کچھ ملیامیٹ کردیتی ہے۔ چوتھی جماعت کی طالبہ تو بچپن میں چلی گئی لیکن ذمہ داروں کو کون کیفرکردار تک پہنچائے گا؟ تین افسروں کی معطلی سے ماں باپ کو بچی واپس تو نہیں مل جائیگی‘ چند دنوں بعد وہ عہدوں پر بحال ہو جائینگے اور یہ کھیل چلتا رہے گا۔ حکومت کو اسباب کی تہہ تک جانا چاہیے‘ آج اگر ضلعی حکومتیں ہوتیں تو چھوٹے موٹے کام تو وہ کر ہی لیتی تھیں۔ بلدیاتی الیکشن اگر بروقت کروائے ہوتے تو آج صورتحال کچھ مختلف ہوتی۔ حکومت اب بھی جلد از جلد بلدیاتی انتخاب کروائے اور یونین کونسل سطح پر اختیارات کو منتقل کرے تاکہ گلی محلے کے چھوٹے موٹے ترقیاتی کاموں میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ حکومت کھلے مین ہولوں کو بند کرنے کا فی الفور حکم صادر کرے تاکہ آئندہ کوئی اور بچہ اندھی موت کی آغوش میں جانے سے بچ جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں