سرکاری بینچوں کی جانب سے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کے حق میں قرارداد پیش کردی گئی ہے‘ یہ قرارداد گزشتہ روز حکومتی اتحادی اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کی جانب سے پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان جمہوریت کے تسلسل پر یقین رکھتا ہے اور سیاسی لیڈروں کی جمہوریت کے استحکام کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ قرارداد میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ تمام ادارے آئین کی حدود میں رہ کر کام کریں‘ قرارداد کے مختصر متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے اور جمہوری اداروں کی مضبوطی جمہوریت کے استحکام کیلئے ضروری ہے۔ اس قرارداد پر ووٹنگ پیر 16 جنوری کو ہو گی۔ قبل ازیں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہاﺅس نے متفقہ طور پر منتخب کیا ہے‘ اس لئے انہیں اعتماد کے ووٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم نے قومی اسمبلی کا یہ اجلاس فوج سے بچاﺅ‘ اداروں سے ٹکراﺅ یا شہید بننے کیلئے نہیں بلایا‘ اگر ہم نے غلطیاں کی ہیں تو اس سے یہ مراد نہیں کہ جمہوریت نقصان اٹھائے۔ ہم عدلیہ اور فوج کیخلاف کوئی قرارداد نہیں لانا چاہتے بلکہ جمہوریت اور اداروں کے استحکام کیلئے قرارداد لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں مگر ادارے مضبوط ہونے چاہئیں۔ ہم کسی سے اپنے اقتدار کی بھیک مانگنے کے بجائے عوام میں چلے جائینگے اور عوام خود فیصلہ کرلیں کہ ملک میں جمہوریت ہونی چاہیے یا آمریت؟ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کو باور کرایا کہ انہیں اپنا تحفظ خود کرنا چاہیے‘ مشکل وقت میں تو کوّے بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں‘ یہ تو پھر پارلیمنٹ ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ ہم نے بھٹو کی پھانسی کو جوڈیشل مرڈر کہا ہے تو اس سے کون سا ٹکراﺅ کرلیا ہے؟ اگر کوئی پارلیمنٹ کی میعاد کم کرانا چاہتا ہے تو اس کیلئے آئین میں ترمیم لے آئے۔
حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے ملک میں غیریقینی اور سیاسی افراتفری کی جو فضا قائم ہے‘ جس سے یہ تاثر بھی پختہ ہوا کہ حکومت دانستہ طور پر عدلیہ اور فوج کے ساتھ ٹکراﺅ کی راہ پر گامزن ہے‘ وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران حکومت کے حوالے سے قائم یہ تاثر زائل کرنے کے بجائے اسے مستحکم بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اگرچہ براہ راست فوج اور عدلیہ کا نام نہیں لیا‘ تاہم بھٹو کے جوڈیشل مرڈر کی بات کرکے اور این آر او کے خالق کا تذکرہ کرکے درحقیقت انہوں نے عدلیہ اور فوج کے بارے میں حکومتی پالیسی کی ہی وکالت کی۔ چنانچہ بادی النظر میں جس قرارداد کو بے ضرر قرار دیا جا رہا ہے‘ اسے ہاﺅس میں من و عن منظور کرانا حکومت کیلئے مشکل ہو گا۔ حکومتی قریبی ذرائع کی جانب سے گزشتہ دو روز سے یہی عندیہ دیا جا رہا تھا کہ قومی اسمبلی میں صدر اور وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد لائی جا رہی ہے جس کا مسودہ بھی تیار کرلیا گیا تاہم حکومتی اتحادیوں نے بھی اس مسودے کی من و عن توثیق کرنے سے معذرت کرلی اور حکمران پیپلز پارٹی کو باور کرایا کہ وہ اداروں کے ساتھ ٹکراﺅ پر مبنی کسی قرارداد میں فریق نہیں بنیں گے۔ اگر پیپلز پارٹی کو اس قرارداد کیلئے اپنے اتحادیوں کی حمایت حاصل ہوتی تو وہ یہ قرارداد ہاﺅس میں لانے میں ذرہ بھر تاخیر نہ کرتے اور وزیراعظم اس قرارداد کی روشنی میں اعتماد کا ووٹ لے کر اپنے لئے سرکاری بینچوں سے داد و تحسین کا اہتمام کرا رہے ہوتے۔ اس وقت انہیں یہ قطعاً احساس نہ ہوتا کہ انہیں تو ہاﺅس نے پہلے ہی متفقہ طور پر منتخب کیا ہے اس لئے انہیں ہاﺅس سے اعتماد کا دوبارہ ووٹ لینے کی کیا ضرورت ہے جبکہ اب اس محاذ پر پسپائی کو بھی وہ اپنا کریڈٹ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
اگر مقصد جمہوریت کے تسلسل کی قرارداد لانے کا ہی ہوتا تو ایسی کسی قرارداد اور اس کیلئے قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ جمہوریت کے تسلسل پر تو حکومت اور اسکے اتحادی ہی نہیں‘ تمام اپوزیشن جماعتیں بھی متفق ہیں اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے حکمران اتحاد سے بھی زیادہ پرعزم ہیں۔ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں بھی حکومت کیخلاف عدم اعتماد‘ اجتماعی استعفوں اور لانگ مارچ کے آپشنز پر غور کرنے کے باوجود سسٹم کےخلاف کسی غیرجمہوری اقدام کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ گزشتہ روز کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی عسکری قیادتوں کی جانب سے جمہوریت کی مکمل حمایت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یہ یقین بھی دلایا کہ ان کا ماورائے آئین اقدام کا کوئی ارادہ نہیں۔
جب جمہوریت کےلئے فضا اتنی سازگار ہے اور جن کی جانب سے جمہوریت کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے‘ وہی جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھنے اور اسے مستحکم بنانے کا یقین دلا رہے ہیں تو حکومت کو محض جمہوریت کے تسلسل کی حمایت کیلئے ہاﺅس میں قرارداد لانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آنی چاہیے تھی۔ اب اگر حکومت نے یہ قرارداد لانے کی ضرورت محسوس کی ہے تو اس سے لازمی طور پر یہ سوال بھی اٹھے گا اور اس قرارداد پر بحث کے دوران اپوزیشن کی جانب سے بھی یقینًا حکومت سے پوچھا جائیگا کہ اسے جمہوریت کے تسلسل کو کہاں سے اور کون سا خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ اسے جمہوریت کے تحفظ کی ہاﺅس میں قرارداد لانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس تناظر میں متذکرہ قرارداد لانے کا یقیناً وہی پس منظر ہے جس کے بارے میں گزشتہ ایک ہفتے سے چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں جبکہ قرارداد کا متن بھی اس بات کی چغلی کھا رہا ہے کہ اداروں کے ساتھ ٹکراﺅ کیلئے حکومت کے عزائم میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور ٹکراﺅ کی نوبت وہ اپنی بداعمالیوں‘ من مانیوں‘ کرپشن کی کھلی داستانوں پر پردہ ڈالنے اور میموگیٹ سکینڈل کے حوالے سے افواج پاکستان کی تضحیک کی سازشوں کو بے نقاب ہونے سے بچانے کیلئے لانا چاہتی ہے اور گند اچھالنے کے اس عمل میں اسے سسٹم کو نقصان پہنچنے کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے آرمی چیف جنرل کیانی کے دورہ چین کے موقع پر جس حارجانہ انداز میں میمو کیس میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے بیانات کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا‘ جس کی بعدازاں افواج پاکستان‘ اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کو وضاحت کرنا پڑی۔ کیا وہ افواج پاکستان کے ساتھ ٹکراﺅ کی حکومتی پالیسی کی تصدیق نہیں تھی؟ جبکہ حکومتی پارٹی کے عہدیداروں اور وزراءکی جانب سے بالخصوص این آر او کیس اور میمو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلوں اور احکام کو جس تسلسل کے ساتھ رگیدا اور دانستاً توہین عدالت کے جرم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے‘ کیا یہ خود کو عدلیہ کے مدمقابل لانے کا کھلا اظہار نہیں؟ اسکے باوجود ان اداروں کی جانب سے ماورائے آئین اقدام سے متعلق حکومتی خدشات اور الزامات کی تردید جا رہی ہے تو حکومت سے زیادہ توان اداروں کو جمہوریت عزیز ہے جبکہ اپوزیشن بھی جمہوریت کے تسلسل کیلئے یکسو ہے اس لئے اگر کل کو حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ پارلیمنٹ کی بساط بھی لپیٹی جاتی ہے تو اسکی تمام تر ذمہ داری خود حکمرانوں پر عائد ہو گی۔ اس تناظر میں تو قومی اسمبلی میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کو حکمرانوں سے بچانے کی قرارداد لائی جانی چاہیے کیونکہ موجودہ حکومت برقرار رہنے کی صورت میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں مل سکتی۔ وزیراعظم گیلانی کے بقول حکومت اداروں میں محاذ آرائی نہیں چاہتی تو اسے قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلانے اور اداروں کو آئینی حدود میں رہنے کا درس دینے والی قرارداد لانے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر حکومت خود کو تماشا بنانا اور پارلیمنٹ کا تماشا لگانا چاہتی ہے تو یہ الگ بات ہے‘ ورنہ دانشمندی کا یہی تقاضہ ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر دوسرے قومی آئینی اداروں کی تضحیک کے تاثر پر مبنی شرارتی ذہن کی قرارداد پر ہاﺅس میں بحث کی نوبت نہ آنے دی جائے اور اسے واپس لے لیا جائے۔ بصورت دیگر حکمران پیپلز پارٹی تنہا ہی دمادم مست قلندر کرتی نظر آئیگی اور ہاﺅس کے اندر اور باہر اس کا ساتھ نبھانے والا کوئی موجود نہیں ہو گا۔
ڈرون حملے کیا قومی خود مختاری کےخلاف نہیں؟
شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں امریکی ڈرون کے میزائل حملے میں پانچ افراد جاں بحق ہو گئے، شمالی وزیرستان میں 24 گھنٹے کے دوران یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے، پہلے حملے میں چار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت نے سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملوں پر شدید ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے نیٹو سپلائی معطل کی اور شمسی ایئر بیس خالی کرانے کا مطالبہ کیا جو 11دسمبر 2011ءکو خالی کر دیا گیا۔ قومی سلامتی اور خود مختاری کے حوالے سے دونوں قیادتوں کی طرف سے بیانات تسلسل کے ساتھ آتے رہتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا نے 12دسمبر2011ءکو امریکی ٹی وی چینل ایم ایس این بی سی کے حوالے سے خبریں شائع کیں جن میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم گیلا نی اور جنرل کیانی کی ملاقات میں طے پا گیا ہے‘ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو حملہ تصور کیا جائےگا۔ ڈرون پاکستان کی سرحد عبور کرینگے تو ان کو بھی مار گرایا جائےگا۔ رپورٹ کےمطابق پاکستانی ملٹری عہدیدار نے بھی ڈرون مار گرانے کی پالیسی کی تصدیق کی تھی۔ گیلانی اور کیانی کے اس عزم کی قوم نے بھر پور تحسین کی تھی۔ ڈیڑھ ماہ تک لوگ یہی سمجھتے رہے کہ پاکستان کے اسی سخت موقف کے باعث امریکہ کو ڈرون حملہ کرنے کی جرات نہیں ہو رہی۔ قوم سلالہ سانحہ کے ڈیڑھ ماہ بعد ہونے والے حملے اور اس پر حکومت کی طرف سے خاموشی پر مایوس تھی، اس مایوسی میں دوسرے حملے نے مزید اضافہ کر دیا۔ قوم تو امریکی جنگ سے مکمل طور پر نکلنے کی خواہاں ہے۔ ڈرون حملے ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرنے سے لگتا ہے کہ حکومت ایک بار پھر امریکی غلامی کا ہار پہننے کیلئے بے قرار ہے۔ ڈرون حملے رکوانے کیلئے پارلیمنٹ کی دو قراردادیں موجود ہیں۔ یہ حملے قومی سلامتی اور خود مختاری کےخلاف بھی ہیں تو پھر ان کو رکوانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟ عسکری سیاسی قیادت قوم پر واضح کرے کہ اسکی نظر میں قومی خود مختاری کیا ہے؟ اگر ڈرون حملے قومی خود مختاری کےخلاف ہیں تو گیلانی کیانی اپنے عزم کے مطابق متعلقہ اداروں کو ڈرون مار گرانے کا حکم دیں۔
ووٹر لسٹوں کی تیاری کیلئے ڈیڈ لائن!
سپریم کورٹ نے حتمی انتخابی فہرستوں کی تیاری کیلئے 23فروری کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے قرار دیاہے کہ اگر مقررہ مدت میں ووٹر لسٹیں تیار نہ کی گئیں تو عدالت الیکشن کمشن کےخلاف قانون کےمطابق اپنا فیصلہ سنائے گی۔
الیکشن کمشن کی طرف سے ہی پونے چار کروڑ جعلی ووٹرز کے اندراج کی نشاندہی کی گئی تھی، اس بنیاد پر عمران خان اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ موجودہ حکومت ہر سانس کےساتھ جمہوریت جمہوریت پکارتی ہے۔ جمہوریت کیلئے شفاف انتخابات کا ہونا ناگزیرہے۔ جب پونے چار کروڑ ووٹرز کا جعلی اندراج ہو گا تو ایسے الیکشن کی کیا ساکھ رہ جاتی ہے؟ اور ایسے الیکشن کے ذریعے منتخب نمائندوں اور حکومتوں کا قائم رہنے کا کوئی اخلاقی جواز ہے؟ چالیس فیصد جعلی ووٹروں کے منتخب کردہ لوگ شکر کریں کہ ابھی تک سپریم کورٹ نے انتخابات کو کالعدم قرار نہیں دیا۔ پیپلز پارٹی جعلی ووٹروں کے اندراج کا الزام اپنے مخالفوں پر ڈالتی ہے۔ غلطیوں سے پاک ووٹر لسٹوں کیلئے پیپلز پارٹی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ الیکشن کمشن سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند ہے۔ سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹوں کی تیاری کیلئے 23فروری کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ الیکشن کمشن مقررہ مدت کے دوران یہ کام نمٹا دے۔ سپریم کورٹ چونکہ پیپلز پارٹی کی قائد محترمہ بینظیر بھٹو کی درخواست پر احکامات دے رہی ہے تو الیکشن کمشن کو محترمہ کی پارٹی کی طرف سے لسٹوں کی تیاری میں مکمل تعاون دستیاب ہو گا‘ اس لیے الیکشن کمشن ٹال مٹول سے کام نہ لے۔
ورلڈ بنک کی چشم کشا رپورٹ
عالمی بنک نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت 2 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے، رواں دہائی میں 32ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی، کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر سرکاری اہلکاروں کی بدعنوانیوں کا بھی سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لوڈشیڈنگ کے باعث چار لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔
ملکی ترقی و خوشحالی میں وافر مقدار میں انرجی کی فراہمی ضروری ہے۔ بدقسمتی سے حکومتی بدعملیوں کے باعث آج پاکستان انرجی کے شدید ترین بحران میں مبتلا ہے۔ عالمی بنک نے کہا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث چار لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوئے، گیس کی کمی کے باعث روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کی تعداد بھی کوئی کم نہیں ہو گی۔ دونوں کی کمی کے باعث معیشت پر مضرت رساں اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بدقسمتی سے انرجی بحران سے نکلنے کیلئے کوئی حکومتی عزم و ارادہ نظر نہیں آ رہا ۔ اوپر سے کرپشن کی انتہا ہے، جس کی نشاندہی عالمی بنک نے بھی کی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انرجی بحران کے خاتمے کیلئے حکومت جنگی بنیادوں کا کام کرے، ملک میں وسائل کی کمی نہیں، ان کو بروئے کار لایا جائے تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے، بجلی کی قلت دور کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم انتہائی اہم منصوبہ ہے، حکمران تمام مصلحتوں اور مٹھی بھر عناصر کی ضد کے سامنے سرنڈر کرنے کے بجائے کی فوری تعمیر کے اقدامات کریں۔