وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ملاقات میں طے کیا گیا ہے کہ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر 25 فروری کو پاکستان بھارت بات چیت کیلئے نئی دہلی جائیں گے۔ نئی دہلی میں ہونیوالی سیکرٹریز کی سطح پر بات چیت میں پاکستان تمام کور ایشوز اٹھائے گا اور بھارت پر زور دیگا کہ جامع مذاکرات کے عمل کی بحالی کے ذریعے ان ایشوز کے حل میں تیزی لائی جائے۔ ملاقات میں پاکستان بھارت تعلقات اور خصوصی طور پر مسئلہ کشمیر اور دونوں ممالک کے درمیان پانی کے تنازعہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کو جو ملاقات میں موجود تھے‘ ہدایت کی کہ انکے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات‘ بامقصد اور نتائج کے حامل ہونے چاہئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملاقات میں بھارت کے ساتھ دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین سب سے بڑا تنازعہ مسئلہ کشمیر اور آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کی کمی ہے۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاء میں بدامنی کا بڑا سبب ہے‘ اسکے اثرات عالمی امن پر بھی پڑ رہے ہیں۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسئلہ کشمیر 62 سال سے لاینحل چلا آرہا ہے‘ عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے پاکستان کا ازلی دشمن مکار بنیا مذاکرات کا ڈھونگ رچاتا اور کسی نہ کسی بہانے سے راہِ فرار اختیار کرلیتا ہے۔ کسی معاملے پر بات چیت کیلئے 62 سال ایک طویل عرصہ ہے‘ مذاکرات کی کامیابی کیلئے فریقین کا پرخلوص ہنا ضروری ہے۔ بھارت کی نیت میں ہمیشہ فتور رہا ہے‘ مسئلہ کشمیر پر جامع مذاکرات جاری تھے کہ بھارت نے پاکستان کو ممبئی حملوں میں ملوث قرار دے کر سلسلہ منسوخ کر دیا۔ اب اس نے پاکستان کو پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے‘ اصولی طور پر یہ وہیں سے شروع ہونے چاہئیں جہاں سے سلسلہ منقطع ہوا تھا لیکن مذاکرات سے قبل ہی بھارت کا خبث باطن وزیر خارجہ کے ایم کرشناکے اس بیان کی صورت میں سامنے آگیا کہ مذاکرات کا محور دہشت گردی اور ممبئی حملے ہونگے۔ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔
کشمیر کے حوالے سے اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا تو بھارتی حکمرانوں کا وطیرہ ہے‘ مذاکرات کیلئے جس باہمی اعتماد کی فضاء ہونی چاہئے۔ بھارت جان بوجھ کر اسے مکدر کررہا ہے۔ وزیر دفاع اے کے انتھونی نے کہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کی 42 تنظیمیں سرگرم ہیں‘ اگرچہ نئی دہلی دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کیلئے اسلام آباد کے اقدامات سے پوری طرح مطمئن نہیں تاہم اسکے باوجود مذاکرات کا محتاط فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف وزیر داخلہ چدمبرم نے یہ مؤقف دہرایا ہے کہ آزاد کشمیر بھی بھارت کا لازمی حصہ ہے۔
بھارت نے مذاکرات کی دعوت دی تو پاکستانی حکمران خوشی سے پھولے نہیں سما رہے‘ فوری طور پر مذاکرات کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔ حکومتی اور عسکری قیادت نے باہم مل بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ بھارت کے ساتھ بات چیت غیرمشروط ہو گی۔ اب حکمران ڈینگیں مار رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تمام ایشوز اٹھائیں گے اور دوٹوک بات کرینگے۔ وزیراعظم گیلانی‘ مولانا فضل الرحمٰن اور شاہ محمود قریشی گھر بیٹھے پیالی میں طوفان پیدا کئے ہوئے ہیں‘ بھارت آج بھی صرف دہشت گردی اور ممبئی حملوں پر بات چیت کے موقف پر قائم ہے۔ بھارت نے جس ایشو پر بات ہی نہیں کرنی تو پھر دوٹوک اور اٹل مؤقف کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔
آج پاکستان میں پانی کی شدید کمی ہے‘ جو بھارت کی طرف سے پاکستان آنے والے دریائوں پر 62 ڈیم اور آبی ذخائر تعمیر کرنے کے سبب پیدا ہوئی۔ اس سے کروڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہو رہی ہیں‘ اگلی فصلوں کی بوائی مشکل ہو رہی ہے‘ پانی میں کمی کی شدت یونہی برقرار رہی تو خدانخواستہ سرسبز پاکستان جلد بنجر اور صحرا میں تبدیل ہو جائیگا۔ بھارت یہی چاہتا ہے۔ پانی کی کمی کے باعث ملک میں خانہ جنگی کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے مابین باقاعدہ سر پھٹول شروع ہو چکی ہے‘ دونوں صوبے ارسا کو کوس رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ افہام و تفہیم کے خواہاں ضرور ہیں لیکن پانی کے مسئلے پر پنجاب کے مؤقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ سندھ کی طرف سے بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر وافر مقدار میں پانی موجود ہو تو صوبے باہم دست و گریباں کیوں ہوں؟ ایک تو بھارت نے پاکستان کو پانی کی شدید کمی سے دوچار کیا ہوا ہے‘ دوسری جانب ہمارے سیاست دانوں نے ذاتی مفادات کے پیش نظر کالاباغ ڈیم کے منصوبے کو متنازعہ بنا کر ملک دشمنی کا ثبوت دیا۔ موجودہ حکومت کے عاقبت نااندیش مشیروں نے تو یہ منصوبہ سرے سے ختم ہی کروادیا جس سے ایک طرف کسی حد تک پانی کی کمی دور دوسری طرف چار ہزار میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے نقطہ نظر سے مذاکرات کا محور مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے حصے کے پانی کی واگزاری ہونا چاہئے‘ جبکہ بھارت کا ایجنڈہ مختلف ہے۔ وہاں جا کر ہندو بنیے سے اپنے مرضی کے ایشو پر بات کرلیں گے‘ یہ ایک خوش فہمی ہے۔ بغیر ایجنڈے کے 25 فروری مذاکرات کا شیڈول طے کرلیا ہے‘ ایسے مذاکرات سے کھائو پیئو موج اڑائو ٹی اے ڈی اے بنائو سے زیادہ کچھ برآمد نہیں ہو گا۔ بہتر یہی ہے کہ کشمیر اور پانی جیسے سنگین مسائل کو ایجنڈے میں شامل کئے بغیر مذاکرات کی پیشکش کو یکسر مسترد کردیا جائے اور دونوں معاملات عالمی سطح پر اٹھانے کے ساتھ آزادی کشمیر اور پانی کی واگزاری کیلئے عملی اقدامات کے بارے میں سوچا جائے۔
جمہوریت کے نام پر امریکی آمریت
امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ پاکستان کی صورتحال افغانستان اور عراق سے زیادہ تشویشناک ہے امریکہ پر نائن الیون جیسے مزید حملوں کا امکان نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایٹمی ہتھیار اور شدت پسندی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو گیا تو سعودی عرب مصر اور ترکی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کریں گے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ اب القاعدہ چھوٹے حملے کرنے پر مائل ہو رہی ہے۔ امریکی لیڈر جب چاہتے ہیں وہ القاعدہ کی طرف سے بڑے حملوں کا ’’ہوا‘‘ دکھانے لگتے ہیں حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ نائن الیون کے حملے بھی انکے اپنے ہی ساختہ و پرداختہ تھے جن کی آڑ لیکر امریکہ نے پوری اسلامی دنیا کو تاخت و تاراج کر دیا اور پاکستان کے پرامن اور پرسکون ماحول کو امریکہ نے خود دانستہ طور پر خراب کیا۔ دنیا بھر کے مسلمان جانتے ہیں کہ امریکہ دنیائے اسلام کو تہس نہس کرنے کیلئے سازشیں کر رہا ہے۔ بھارت اور اسرائیل ایٹمی ہتھیار بناتے رہیں امریکہ کو کوئی فکر نہیں بلکہ انکی مدد کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام امریکہ کو انتہائی ناگوار گزر رہے ہیں آخر کیوں؟ اگر بھارت کو امریکہ نیو کلیئر سول ٹیکنالوجی بھی دے رہا ہے اسکی ایٹمی معاونت بھی کر رہا ہے‘ بھارت پاکستان اور چین پر ایٹمی جنگ مسلط کرنے کی بات بھی کرے تو امریکہ کو کوئی اعتراض نہیں اور پاکستان کے حالات کو امریکہ اور بھارت ملکر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے خود خراب کر رہے ہیں‘ پاکستان کے پرامن علاقوں میں بھی پراسرار دہشت گرد جو نہ جانے بلیک واٹر کی سرپرستی میں ہیں یا کسی اور تنظیم کی آڑ میں ہر جگہ پہنچ کر دھماکے کر رہے ہیں کیونکہ امریکہ قبائلی علاقوں کے پرامن شہریوں پر ڈرون حملے کر رہا ہے اور اسکے جواب میں پاکستان کے پرامن علاقوں پر بمبار خودکش جیکٹس پہن کر آجاتے ہیں امریکہ پاکستان کی جان چھوڑے۔ افغانستان کو افغانوں کے حوالے کرے اور جا کر اپنے معاملات کو سنبھالے۔ افغان باشندے، افغانستان خود کو درست کر لیں گے۔ ہم پاکستان کو ٹھیک کر لیں گے۔ امریکہ کی کسی خطہ میں موجودگی ہی اس خطہ کے امن و امان اور سکون کو برباد کرنے کی وجہ ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو چاہئے کہ امریکہ جو دنیا میں جمہوریت کے نام پر اپنی ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا چاہتا ہے کی مدد اور اس سے تعاون کا سلسلہ ختم کیا جائے وگرنہ امریکہ دنیائے اسلام کو برباد کر دیگا۔
فلسطینی صدر کا دورۂ اسلام آباد
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے فلسطین کے صدر محمود عباس نے ملاقات کی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات‘ خِطے میں سکیورٹی کی صورتحال‘ دہشت گردی کیخلاف جنگ‘ مسلم اُمہ کو درپیش چیلنجز اور مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ صدر زرداری نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کیلئے فلسطین کے مسئلہ کے حل پر زور دیا۔ اسرائیلی جارحیت اور غزہ کے محاصرہ کی مذمت کرتے ہوئے آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔
فلسطینی مسئلہ کے حل کیلئے پاکستان قیامِ پاکستان کے بعد سے مسلسل کوشاں ہے اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ تو قیام پاکستان سے قبل ہی ناجائز اسرائیلی ریاست کے قیام کے مخالف تھے اور اُنہوں نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کی۔ پاکستان آج بھی فلسطینی عوام کے حقوق اور اُنکی خودمختار ریاست کے قیام کی غیر مشروط حمایت کر رہا ہے۔ پاکستان فلسطینی مسائل کو مسلمان اُمہ کا اہم ترین مسئلہ خیال کرتا ہے‘ مگر فلسطینی خود اِسے مسلمانوں کا مسئلہ قرار دینے سے گریزاں ہیں۔ فلسطینی لیڈر اِسے عرب اور سیکولر مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ اِسی لئے فلسطینی لیڈروں نے کبھی بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کبھی چند فقرے ہمدردی کے بھی ادا نہیں کئے کیونکہ وہ بھارت اور دیگر اسلام دُشمن ممالک کی سیاست میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی بھی ایسی ہی منافقانہ مصلحتوں کا شکار ہونے کے بعد تقریباً دو سو کروڑ مسلمانوں کی بس ایک مردہ تنظیم بنی ہوئی ہے جو نہ تو عراق اور افغانستان کی تباہی پر احتجاج کر سکی ہے اور نہ ہی امریکی جارحیت کیخلاف پاکستانی عوام کی تڑپ کو محسوس کر سکی ہے۔ اور نہ ہی امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے ایران اور دیگر اسلامی ممالک کے خلاف اقدامات پر کوئی مذمتی قرارداد منظور کر سکی ہے۔ صدر آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی نے بھی فلسطینی صدر محمود عباس کی آمد پر ایک رسمی اور ڈپلومیٹک بات چیت کرنے اور بیان جاری کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ فلسطینی تحریک آزادی کے لیڈروں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اُمہ کو خواب غفلت سے جگائیں۔ سب مسلمان ہوش میں آئیں اور اِس وقت مغربی کروسیڈ سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کیلئے انقلابی روح پیدا کریں۔ باہم متحد ہوں۔ مسلمانوں کے پاس جو قدرتی وسائل اور زمینی وسائل موجود ہیں اِنہیں مسلمانوں کی طاقت‘ قوت‘ آزادی اور خودمختاری کیلئے استعمال کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر اسلام دُشمن قوتوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔
عوام نفسیاتی و اعصابی عوارض کا شکار جعلی ادویات مافیا کی چاندی
ہسپتالوں اور مارکیٹ میں جعلی ادویات کی آزادانہ اور کھلے عام فروخت اور اصل ادویات مارکیٹ سے غائب ہوتی جا رہی ہیں جو ڈرگ سٹوروں پر بہت زیادہ قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ شہریوں کی طرف سے اس سلسلہ میں کئی بار احتجاج کیا گیا‘ اراکین پنجاب اسمبلی کی طرف سے حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ایک مشترکہ ’’تحریک التوائ‘‘ بھی پیش کی تھی اس سلسلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے بھی ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ محکمہ صحت جعلی ادویات بنانے والوں اور فروخت کرنے والوں کیخلاف انتہائی قدم اٹھائے اور ایسے افراد کو سخت سزائیں دی جائیں۔ کمشنر لاہور کی طرف سے بھی جعلی ادویات فروخت کرنے والوں اور تیار کرنے والوں کو پکڑنے کیلئے ہدایات جاری کی گئی تھیں مگر محکمہ صحت اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سلسلہ میں کوئی بھی قابل ذکر کارروائی نہیں کر سکے۔
اسکی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ملک میں مہنگائی‘ بے روزگاری‘ بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی خوفناک قیمتوں اور آٹے دال چینی گھی کی نایابی کی وجہ سے عوام بے حد پریشان ہیں اور ہزاروں افراد روزانہ اعصابی توازن کھو رہے ہیں اور غریب عوام ہزاروں افراد کو نروس بریک ڈائون اور نفسیاتی دبائو کی وجہ سے ہسپتالوں میں جا رہے ہیں۔ جہاں مریضوں کا تناسب چار سو فیصد سے پانچ سو فیصد تک زیادہ ہو گیا ہے۔ ان حالات میں جعلی ادویات بنانے والے اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہسپتالوں کی فارمیسیوں کے علاوہ ہسپتالوں کے آس پاس میڈیکل سٹوروں میں جعلی ادویات کے ذخیرے موجود ہیں۔ ڈاکٹروں کے بہت سے گروہ بھی جعلی ادویات کے مافیا کی مدد کر رہے ہیں‘ جو ڈاکٹر اصل دوائیں لکھتے ہیں وہ مارکیٹ میں موجود نہیں‘ جعلی ادویات کو متبادل بنا کر فروخت کر دیا جاتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی محکمہ صحت کی طرف سے اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی‘ عوام توقع کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فاضل جج صاحبان اس صورتحال کا ازخود نوٹس لے کر عوام کو کوئی ریلیف مہیا کریں۔