قومی اسمبلی کے بعد سینٹ میں بھی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے ترمیمی قانون کی متفقہ منظوری .... اب اس قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے

ـ 14 دسمبر ، 2011
خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انکے استحصال کی روک تھام کیلئے قومی اسمبلی کے بعد سینٹ نے بھی تعزیرات پاکستان مجریہ 1860ءاور ضابطہ فوجداری مجریہ 1898ءکی متعلقہ دفعات میں ترمیم کی متفقہ طور پر منظوری دیدی ہے۔ اب یہ ترامیم تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری کا بطور قانون حصہ بن جائینگی۔ اس ترمیمی قانون کے تحت خواتین کی زبردستی اور قرآن سے شادی کرنے پر تین سے سات سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا جبکہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے پر پانچ سے دس سال قید اور جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح تیزاب پھینک کر خواتین کو جھلسانے کے جرم کی سزا 14 سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ مقرر ہوئی ہے۔ سینٹ میں یہ ترمیمی بل سینیٹر نیلوفر بختار کی جانب سے پیش کیا گیا تھا‘ جس پر بحث کے دوران سینیٹر حافظ رشید نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ کوئی خاتون کسی مرد پر ظلم کرتی ہے تو اس کیخلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صاحبزادی فضہ بتول گیلانی نے سینٹ کی جانب سے اس مسودہ قانون کی متفقہ منظوری کو خواتین کو باوقار بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
قومی اسمبلی میں یہ مسودہ قانون مسلم لیگ (ق) کی رکن اسمبلی ودیا عزیز کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور قومی اسمبلی نے بھی اس بل کی متفقہ منظوری دی تھی جس میں ونی اور سوارا جیسی رسوم میں خواتین کی جبری شادی پر تین سے سات سال قید اور قرآن سے شادی پر قید کے علاوہ پانچ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا بھی تجویز کی گئی جبکہ اب سینٹ میں اس بل کی منظوری دیتے ہوئے خواتین کی جبری شادی کے جرم میں تین سے سات سال قید کے علاوہ دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا بھی مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح کسی خاتون کو وراثتی جائیداد سے محروم کرنے کی قومی اسمبلی کی تجویز کردہ پانچ سے دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا میں سینٹ نے پانچ سے دس سال تک قید کی سزا بھی شامل کردی ہے جبکہ سینٹ کی جانب سے خواتین کو مزید تحفظ فراہم کرتے ہوئے تیزاب پھینک کر جھلسانے کے فعل کو بھی تعزیری جرم میں شامل کرلیا گیا ہے اور اسکی سزا 14 سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ کی مقرر کردی گئی ہے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور ہونیوالا یہ قانون ”خواتین دشمن روایات کا امتناع و فوجداری ترمیمی قانون) مجریہ 2011ءکے نام سے موسوم ہو گا اور فوری طور پر نافذالعمل ہو گا جس سے متعلق مقدمات کی سماعت سیشن جج یا درجہ اول کے مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار میں ہو گی۔
بدقسمتی سے مختلف حوالوں سے خواتین کے استحصال اور انہیں شریعت و معاشرت کی بنیاد پر حاصل ہونیوالے حقوق سے محروم کرنے کی بری روایات ہمارے ”مردانہ وجاہت“ والے معاشرے کی اقدار کا حصہ بنالی گئی تھیں جس کی بنیاد پر دیہی علاقوں میں جاگیردارانہ نظام‘ وڈیرہ شاہی‘ سرداری اور تمن داری کے تابع خواتین کو باندی بنا کر رکھنا‘ انکی مرضی و منشاءاور مروجہ قوانین کے برعکس شادی کرنا اور وراثتی جائیداد سے محروم کرنا اپنا استحقاق سمجھ لیا گیا۔ اسی تصور کی بنیاد پر بالخصوص دیہی علاقوں میں خواتین کو اعلیٰ تعلیم تو کجا‘ واجبی تعلیم سے بھی محروم رکھا جاتا اور معاشرتی زندگی میں انہیں جزوِ معطل بنا کر رکھ دیا گیا۔ خواتین کو ونی کرنا اور سوارا کی رسم کے تحت قرآن سے انکی شادی کرنا ہمارے جاگیردارانہ نظام کی خرابیوں کا حصہ ہے اور جاگیردار طبقات اور خاندانوں کی جانب سے ایسے اقدامات زیردستوں پر اپنی دھاک بٹھانے اور خواتین کو وراثتی جائیداد کے حق سے محروم کرنے کیلئے اٹھائے جاتے رہے ہیں جبکہ سب سے زیادہ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ آج کے جدید ترقی یافتہ دور اور انسانی حقوق سے آگاہی والے کمپیوٹر اور میڈیا کے کردار کے باوجود خواتین کے حقوق کی سلبی کے حوالے سے جاگیردارانہ نظام کے بداثرات کو ختم نہ کیا جا سکا۔ بالخصوص سندھ اور پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں خواتین کو ونی اور سوارا کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا ہے اور انکی اعلانیہ قرآن سے شادی میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی تھی جبکہ غیرت کے نام پر قتل اور تیزاب پھینک کر جھلسانے کے اکثر جرائم کا بھی یہی پس منظر ہوتا ہے۔
بلاشبہ ہمارے مذہب میں خواتین کے نمود و نمائش کے انداز میں آزادانہ گھومنے پھرنے اور غیرمحرم مردوں کے ساتھ میل ملاقات کرنے کی سختی سے ممانعت ہے جس میں یہ حکمت کارفرما ہے کہ رشتوں کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر اور بے حیائی و بے راہروی سے بچا کر ہی کسی معاشرے کو غیرمتوازن ہونے سے روکا جا سکتا ہے تاہم خواتین کو جتنے حقوق دین اسلام میں حاصل ہیں اور شرفِ انسانیت کی بنیاد پر خواتین کے تحفظ کی جتنی ضمانت دین اسلام میں فراہم کی گئی ہے‘ اس کا کسی دوسرے مذہب اور غیراسلامی معاشرے میں تصور بھی نہیںکیا جا سکتا۔ قرآن مجید کی سورہ ”النسائ“ تو خواتین کے حقوق کے چارٹر کا درجہ رکھتی ہے اور شریعت کے تحت خواتین پر جو پابندیاں بھی عائد ہیں‘ اس کا مقصد بھی خواتین کی عزت و عفت کی حفاظت اور معاشرے میں انکی تکریم کو یقینی بنانے کا ہے مگر بدقسمتی سے شریعت کی رو سے عائد ان پابندیوں کا سہارا لے کر ہمارے معاشرے کے بالادست طبقات نے اپنے ذاتی مقاصد کیلئے خواتین کے استحصال کو اپنا شعار بنا لیا جو شریعت کا قطعاً مطمح نظر نہیں ہے۔ اگر شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے خواتین اپنے خاندان کی اقتصادی معاونت اور معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کیلئے نقل و حمل کریں تو انہیں یقیناً اسکی ممانعت نہیں ہو گی اور اس حوالے سے ہمارے معاشرے میں خواتین اپنا مثبت کردار ادا کر بھی رہی ہیں۔ تاہم مادر پدر آزاد سوسائٹی کے تصور کے تحت اور ہنود و یہود و نصاریٰ کے اسلام دشمن ایجنڈے کی بنیاد پر ان سے فنڈز لینے والی این جی اوز جس انداز میں خواتین کو ”نمائشی پراڈکٹ“ کے طور پر پیش کرکے معاشرے میں انکے سماجی اقدار سے عاری کردار کی وکالت کرتی ہیں‘ اسکی ہمارے اسلامی معاشرے میں تو کجا‘ جدید مغربی معاشرے میں بھی آزادانہ پذیرائی نہیں ہو سکتی۔
مختلف ہتھکنڈوں یا بری رسومات کی بنیاد پر خواتین کے استحصال کے خاتمہ کے اقدامات کرنا یقیناً ریاست اور اسکی مشینری کی ذمہ داری ہے اور شریعت کا بھی یہی تقاضہ ہے کہ خواتین کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی برتاﺅ نہ کیا جائے۔ اس سلسلہ میں پہلے بھی فوجداری قوانین وضع ہوتے رہے ہیں اور مروجہ قوانین میں ترامیم بھی کی جاتی رہی ہیں جبکہ عدلیہ کی جانب سے بھی خواتین کیخلاف ونی‘ سوارا‘ قرآن سے شادی جیسے جرائم کا سخت نوٹس لیا جاتا رہا ہے۔ ونی کے جرم کےخلاف لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے بھی قانون کی کتابوں میں محفوظ ہیں جبکہ موجودہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مجموعی ارکان کی ایک تہائی کے قریب تعداد خواتین کی موجود ہے اس لئے توقع کی جانی چاہیے کہ خواتین کےخلاف جرائم کے تدارک اور انکے حقوق کے تحفظ کیلئے قومی اسمبلی اور سینٹ میں متفقہ طور پر منظور ہونےوالے ترمیمی قانون کے نہ صرف عملی نفاذ کی راہ ہموار ہو گی بلکہ یہ منتخب ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ خواتین کیخلاف مستحکم ہونےوالی معاشرتی اقدار کے خاتمہ کیلئے بھی اپنا موثر کردار ادا کرینگی۔
قوانین تو بلاشبہ پہلے بھی موجود ہیں‘ اگر قوانین پر انکی روح کے مطابق یا سرے سے عملدرآمد ہی نہ کیا جائے جو موجودہ حکمران طبقات کی سرشت میں شامل ہے تو دیگر سماجی برائیوں کی طرح خواتین کیخلاف جرائم کی سرکوبی کیلئے بھی کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو پائے گی اس لئے خواتین کو ہمارے مردانہ وجاہت والے معاشرے میں حقیقی تحفظ کا احساس دلانے کیلئے زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے خواتین کو ہی نہیں‘ بالادست طبقات کے ہر قسم کے استحصال سے بلاامتیازملک کے تمام شہریوں کو نجات دلانے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اس ترمیمی بل کی قومی اسمبلی اور سینٹ سے متفقہ منظوری پر بل کی محرک خواتین ارکان قومی اسمبلی و سینٹ تحسین و مبارکباد کی مستحق ہیں۔ اب قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین سے متعلق جرائم کی سرکوبی کیلئے منظور ہونیوالے اس قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں۔
امریکی امداد پر لعنت .... ”غیرت مند قوم کا فرد بن کر جی“
ایک اطلاع کےمطابق امریکی سینٹ کے پینل نے پاکستان کی 70کروڑ ڈالر کی امداد روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی انتظامیہ کا یہ وتیرہ چلا آرہا ہے کہ پاکستان نے جب بھی ڈومور کے تقاضوں کی نفی کی‘ اس نے فوری طور پر پاکستان پر شدید الزامات لگائے اور امداد بند کرنے کی دھمکی دی۔ اب مہمند ایجنسی سانحہ کے بعد پاکستان نے نیٹو کی سپلائی بند کی ہے تو امریکی ذمہ داروں کی جان پر بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف منت سماجت جاری‘ سفارتی سطح پر انتھک کوششیں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف امداد بند کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے نیٹو کے حملے کے بعد جس طرح جاندار اور مضبوط موقف اپنائے ہوئے نیٹو سپلائی بند کی اور شمسی ایئربیس خالی کرایا‘ اسی طرح خود امریکی امداد کو ٹھوکر مار دینی چاہیے تھی۔ اب امریکی سینٹ کے پینل نے 70 کروڑ ڈالر کی امداد روکنے کی بات کی ہے تو پاکستان بھی افغان جنگ کے حوالے سے امریکہ کو دی گئی تمام سہولتیں فوری طور پر واپس لے لے۔ جیکب آباد اور پسنی سمیت جس بھی بیس پر امریکی موجود ہیں‘ یا کوئی تنصیبات ہیں وہ بھی ہٹا دی جائیں۔ پاکستان سے نیٹو کی سپلائی بند ہے‘ وہ مستقل بنیادوں پر بند کرنے کا اعلان کر دیا جائے۔ بھارت کو افغانستان تک ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت جس کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی راہداری سے ہی راہداری دی گئی ہے‘ نیٹو کیلئے سامان بھجوانے کے شواہد سامنے آئے ہیں‘ اس لئے ضروری ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے اس معاہدے پر عملدرآمد بھی معطل کردیا جائے۔ امریکہ نے 2014ءمیں افغانستان سے انخلاءکا اعلان کر رکھا ہے‘ اب جنرل ایلن نے کہا ہے کہ اسکے بعد بھی امریکہ یہیں رہے گا۔ خطے کے حالات متقاضی ہیں کہ امریکہ فوری طور پر افغانستان سے نکل جائے۔نیٹو سپلائی روکنے کی صورت میں طالبان کی سیز فائر کے حوالے سے شرائط پوری ہو گئیں۔ طالبان رہنماءمولوی فقیر محمد نے کہا ہے کہ اب وہ اپنا پورا زور افغانستان میں امریکہ کےخلاف لگائیں گے۔ اسکے ساتھ پاکستان اگر افغان جنگ کے حوالے سے امریکہ کےساتھ اپنا تعاون ختم کر دے تو اس کیلئے فوری طور پر انخلاءکے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ اب پاکستان کیلئے بے فیض امریکہ سے جان چھڑانے اور اسکی لاحاصل جنگ سے نکلنے کا بہترین موقع ہے۔ پاکستان کو امریکی امداد مسترد کر دینی چاہیے جس سے ہم خودانحصاری کی طرف جائینگے اور شاید ایک قوم بھی بن جائیں۔ امریکی امداد لے کر اسکی غلامی اختیار کرنے سے ہمیں روکھی سوکھی بہتر ہے ....
روکھی سوکھی کھا ٹھنڈا پانی پی
غیرت مند قوم کا فرد بن کر جی
2 لاکھ ٹن کھاد کی درآمد
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2 لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی منظوری دے دی، غلط فیصلوں کی روداد تو لامتناہی ہے لیکن کس کس کا ذکر کیا جائے، لیکن یہ جو گھر کے درخت سے پھل توڑنے کی بجائے دوسروں کے باغوں کا رُخ کرنا ہے، یہ اس ملک کو بہت مہنگا پڑیگا۔ اگر اس ملک میں بجلی گیس کی پیداوار پر توجہ دی جاتی تو ہماری اپنی کھاد فیکٹریاں بخوبی ہماری کھاد کی ضرورت پورا کر سکتی تھیں، حکومت اس بات پر توجہ دیتی ہے نہ جواب کہ آخر جو گیس پائپ لائن پر کام ہو رہا تھا وہ کیوں کس کے اشارے پر بند کیا گیا۔ ایران سے سستی بجلی کی ترسیل کو کیوں روک دیا گیا۔ چین نے توانائی پیدا کرنے اور منگلا تربیلا کی پیداوار کو بڑھانے کی کئی بار پیشکش کی، ان کو کیوں ایک طرح سے ٹھکرا دیا گیا، یہ سگنل بھی حکومت کو کس حکومت سے ملا؟ ملک میں مختلف مقامات پر وافر گیس دریافت ہوئی، اس کو کام میں کیوں نہیں لایا گیا۔ جب ملک میں وسائل موجود ہیں تو پھر یہ توانائی کی کمی کیوں؟ کیا درآمد کو ترویج دے کر غیروں کو فائدہءاور ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ بے عقلی ہے یا غلامی؟ ایسی اقتصادی رابطہ کمیٹی کس کام کی جس میں کسی ایک نے یہ بات نہ کی کہ اپنی توانائی بڑھائی جائے، گیس پائپ لائن پر رُکا ہوا کام جاری کیا جائے اور بجلی جو ایران نے سرحد پر پہنچا دی ہے، اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جا رہا، کالا باغ ڈیم تعمیر کیوں نہیں کیا جا رہا، بھاشا ڈیم کا تین بار افتتاح ہوا، کام شروع نہ ہوا، آخر یہ اپنے ہاں توانائی پیدا نہ کرنا، جس کے نتیجے میں ہماری انڈسٹری بند ہے،اور کھاد پیدا نہیں ہو رہی، کیا ہے اور ایسا کیوں ہے، کیا یہ ملک اتنا امیر ہے کہ قرضوں کی رقم کھاد کی درآمد پر لگا دے اور اپنے ہاں موجود گیس کوئلہ اور ڈیم بنا کر بجلی پیدا کرنا شجر ممنوعہ بنا رہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی ہوش کے ناخن لے، اور اپنے کھاد کے کارخانوں کےلئے توانائی فراہم کرکے انہیں چالو کرے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ہمارا آقا ہمیں کچھ کرنے نہیں دیتا۔
درس سے پابہ زنجیر بچے بازیاب
کراچی سہراب گوٹھ میں پولیس نے ایک مدرسے پر چھاپہ مار کر تہہ خانے سے 60 کے قریب زنجیروں میں جکڑے بچوں کو بازیاب کرالیا۔ بچوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا‘ کھانا کم دیا جاتا اور خودکش حملوں کی تربیت دی جاتی تھی۔ جس طریقے سے بچوں کو پابہ زنجیر کرکے رکھا گیا اور جن مشکلات کا بچوں نے تذکرہ کیا ہے‘ اس سے یہ مدرسہ نہیں بلکہ عقوبت خانہ لگتا ہے۔ اس عمارت میں بچوں پر تشدد کب سے ہو رہا تھا؟ پولیس اس معاملے سے لاعلم تھی یا لاتعلق تھی؟ کیا اڑوس پڑوس کو بھی اسکی خبر نہ ہوئی؟ ایسے بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔ لاعلمی یا لاتعلقی ہر دو صورت میں پولیس ہی ذمہ دار ٹھہرتی ہے۔ بہرحال بچوں کو مصیبت سے نکالنے کا کریڈٹ بھی پولیس کو ہی جاتا ہے۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے حسب سابق پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ ملک صاحب رپورٹوں کے علاوہ کچھ کرکے بھی دکھائیں‘ انہوں نے اس ضمن میں وفاق المدارس کا اجلاس بھی طلب کیا ہے۔ وفاق المدارس نے ہمیشہ شدت پسندی کی مخالفت کی اور اپنے مدارس معائنے کیلئے بھی پیش کئے تھے۔ اگر کوئی کالی بھیڑ اپنے مفادات کیلئے سارے مدارس کو بدنام کرتی ہے تو وہ قابل معافی نہیں۔ اس کا محاسبہ ضرور ہونا چاہیے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں