اٹارنی جنرل پاکستان مولوی انوارالحق نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے اس بیان کو غلط اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے کہ میموکیس میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے جوابات غیرآئینی اور غیرقانونی ہیں۔ گزشتہ روز ایک اخبار کو ٹیلی فونک انٹرویو میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ متذکرہ دونوں شخصیات کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے جوابات میں کوئی قانونی مسئلہ نہیں ہے او ریہ ضابطے کے مطابق عدالت عظمٰی میں داخل کرائے گئے جبکہ سابق سیکرٹری دفاع نعیم خالد لودھی کے داخل کرائے گئے جواب کو آ رمی چیف اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی کے بیانات سے منسلک کرنا درست نہیں کیونکہ انہوں نے ایک مراسلہ براہ راست رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھجوایا تھا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ آرمی چیف اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی کے جوابات اور حلفیہ بیانات ضابطے کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے انہیں موصول ہوئے تھے جنہیں ضابطے کے مطابق ہی سپریم کورٹ میں داخل کرایا گیا اور اس سارے پراسس میں کوئی قانونی اور آئینی بے ضابطگی نہیں ہوئی ۔
سپریم کورٹ کے روبرو اٹارنی جنرل کسی کیس میں وفاق پاکستان کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہو رہے ہوں تو وفاق پاکستان اور حکومت کے ایماءپر انہیں کسی عدالتی حکم یا استفسار پر متعلقہ دستاویز پیش کرنے کا مکمل اختیار ہوتا ہے جبکہ انکی پیش کردہ کوئی دستاویز ہی مصدقہ ہوتی ہے جسے عدالت کارروائی کا حصہ بناتی ہے۔ اس تناظر میں اگر اٹارنی جنرل خود تصدیق کر رہے ہیں کہ میمو کیس میں عدالت عظمٰی کے نوٹسوں پر آرمی چیف اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی کے بیانات انہوں نے ضابطے کے مطابق داخل کرائے تھے تو اس کیس میں ان کا موقف ہی درست سمجھا جائیگا۔ مگر عین اس وقت جب آرمی چیف چین کے سرکاری دورے پر تھے اور وہاں ملکی اور علاقائی سلامتی سے متعلق اہم معاملات پر چینی حکام سے مذاکرات اور معاہدے کر رہے تھے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے انتہائی پراسرار انداز میں چینی اخبار پیپلز ڈیلی کے ساتھ اپنے انٹرویو کا اہتمام کرایا جس میں وزیراعظم نے بطور خاص سپریم کورٹ میں زیر سماعت میمو کیس کا تذکرہ کیا اور انتہائی تلخ لہجے میں باور کرایا کہ اس کیس میں آرمی چیف اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی کی جانب سے جمع کرائے گئے بیانات کی مجاز اتھارٹی سے منظوری نہیں لی گئی جبکہ حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی بھی سرکاری اہلکار کا کوئی بھی باضابطہ اقدام غیرآئینی اور غیرقانونی ہوتا ہے۔ انکے اس بیان سے آرمی چیف اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی کے بارے میں بادی النظر میں یہی تاثر پیدا ہوا کہ وہ غیرآئینی اور غیرقانونی اقدام کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بالفرض ایسا معاملہ ہوتا بھی تو بھی وزیراعظم کو میڈیا پر ایسا بیان قطعاً نہیں دینا چاہیے تھا جس سے بطور ادارہ افواج پاکستان کے تشخص پر حرف آتا ہو جبکہ وزیراعظم کے طرز بیان سے بادی النظر میں یہی محسوس ہو رہا تھا کہ انہوں نے کسی طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت عین اس وقت انٹرویو دینا ضروری سمجھا ہے جب آرمی چیف چین کے دورے پر تھے جبکہ اس وقت تک آرمی چیف اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی کے سپریم کورٹ میں بیانات حلفی اور جواب الجواب داخل ہوئے بھی دو ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔
اگر وزیراعظم اپنے قانونی مشیروں کی رائے کی بنیاد پر اس امر پر قائل ہو چکے تھے کہ سپریم کورٹ میں آرمی چیف اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی کے بیانات مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ازخود داخل کرائے گئے ہیں تو اس پر میڈیا میں جانے کے بجائے وہ براہ راست کارروائی عمل میں لانے کے مجاز تھے جس طرح میاں نواز شریف نے اپنی وزارت عظمٰی کے دور میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے ایک لیکچر کی بنیاد پر ان کیخلاف کارروائی کی تھی مگر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے میڈیا پر آکر نہ صرف اپنے منصب کا تشخص خراب کیا‘ بلکہ ملک کی سرحدوں کے محافظ اور ملکی سلامتی کے ضامن ادارے افواج پاکستان کے کردار کو بھی مشکوک بنانے کی کوشش کی جبکہ ان کا یہ طرز عمل بذاتِ خود آئین کی دفعہ 6 کے زمرے میں آتا ہے۔
کم و بیش ایسا ہی طرز عمل انہوں نے دو ہفتے قبل قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اختیار کیا اور میمو کیس ہی کے حوالے سے افواج پاکستان کا نام لئے بغیر باور کرایا کہ کسی ادارے کو ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ بعدازاں جب عسکری حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تو انہوں نے وضاحت پیش کردی کہ ان کا اشارہ سیکرٹری دفاع کی جانب تھا جسے اب انہوں نے فارغ بھی کردیا ہے جبکہ اب چینی اخبار کو دیئے گئے وزیراعظم کے انٹرویو کا بھی بطور ادارہ افواج پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے اور باور کرایا گیا ہے کہ وزیراعظم کے الزام کے سنگین نتائج برآمد ہونگے تو وزیراعظم کی جانب سے جوابی اقدام کے طور پر سیکرٹری دفاع نعیم خالد لودھی کو برطرف کرکے وفاقی کیبنٹ سیکرٹری نرگس سیٹھی کو وزارت دفاع کا اضافی چارج دےدیا گیا ہے۔ یہ خاتون چاہے جتنی بھی پیشہ ورانہ مہارت کی حامل کیوں نہ ہوں‘ انکے بارے میں یہ تاثر پہلے سے موجود ہے کہ وہ وزیراعظم گیلانی کی معتمد خاص ہیں اور انہیں صرف سیاسی بنیادوں پر سیکرٹری دفاع کا چارج دیا گیا ہے۔ یقیناً اسی تناظر میں گزشتہ روز یہ افواہیں زیر گردش رہیں کہ وزیراعظم آرمی چیف اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی کےخلاف کوئی کارروائی کرنیوالے ہیں۔ ان افواہوں کے دوران ہی پاک افواج کے ٹرپل ون بریگیڈ کی قیادت کی تبدیلی عمل میں آگئی تو بادی النظر میں اداروں کے ٹکراﺅ کا ماحول بن گیا جبکہ غیریقینی کی اس فضا میں قومی معیشت اور سٹاک مارکیٹ کو بھی سخت دھچکا لگا۔
اگر اس وقت ملک میں پیدا ہونیوالی غیریقینی کی فضا میں حکمرانوں کے اقتدار کےلئے ”صبح گیا یا شام گیا“ والی کیفیت بن گئی ہے تو اسکی ذمہ داری خود حکمرانوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمران پیپلز پارٹی اقتدار کو بازیچہاطفال سمجھ کر چلا رہی ہے جبکہ پل پل بدلتے بیان اور موقف سے حکومت کی کریڈیبلٹی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ بے شک وزیراعظم یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انکی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں مگر این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد حکمران پیپلز پارٹی کے جارحانہ اور قطعی غیردانشمندانہ طرز عمل کو بھانپ کر اسکے حکومتی اتحادی بھی حکومت کی علی الاعلان حمایت جاری رکھنے کے معاملہ میں خاصے محتاط ہو گئے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین اور الطاف حسین کی جانب سے پیپلز پارٹی کی قیادت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اداروں کے ٹکراﺅ کی نوبت نہ آنے دے جبکہ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی نے گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی باور کرادیا ہے کہ انکی پارٹی کسی غیرآئینی اقدام کا ساتھ نہیں دیگی۔ اس تناظر میں یہی محسوس ہو رہا ہے کہ حکمران پیپلز پارٹی اپنے کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت حکومتی اتحادیوں کے مشوروں کو بھی درخوراعتناءنہ سمجھتے ہوئے عدلیہ اور افواج پاکستان کے ساتھ ٹکراﺅ کی پالیسی پر گامزن ہے جبکہ اقتدار کی بساط بہت تیزی کے ساتھ اسکے پاﺅں کے نیچے سے سرکتی جا رہی ہے۔ صدر آصف علی زرداری گزشتہ روز اگرچہ ایک نجی دورے پر دبئی روانہ ہوئے ہیں تاہم غیریقینی کے اس ماحول میں انکی دبئی روانگی کو بھی کسی طے شدہ منصوبہ بندی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
اب جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان کی جانب سے آرمی چیف اور ڈی جی‘ آئی ایس آئی کے داخل کرائے گئے بیانات کو ضابطے کے مطابق قرار دےدیا گیا ہے تو اب یقیناً وزیراعظم کا اپنا طرز عمل موضوعِ بحث بنے گا اور میمو کیس کے حوالے سے اس تاثر کو مزید تقویت حاصل ہو گی کہ اس میمو کی تیاری میں ایوان اقتدار کا کسی نہ کسی سطح پر عمل دخل ضرور موجود ہے جو بے نقاب ہونے کے خدشے کے باعث میمو کیس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میمورنڈم بھی تو درحقیقت افواج پاکستان کو بطور ادارہ کمزور کرنے اور اسے تضحیک کا نشانہ بنانے کی سازش تھی جبکہ وزیراعظم کا طرز عمل بادی النظر میں اسی سازش کا تسلسل نظر آرہا ہے۔
اس وقت جبکہ ملک کی سلامتی کو چاروں جانب سے سنگین خطرات لاحق ہیں‘ ملک کی سلامتی کے ضامن ادارے پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع دینا اور اسکے حوصلے پست کرنے کی سازش کرنا یا ایسی کسی سازش میں فریق بننا محتاط سے محتاط الفاظ میں بھی ملک دشمنی کے زمرے میں آئیگا اس لئے میمو کیس میں تو بہرصورت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے کیونکہ کسی کی حکمرانی اور سیاست کی خاطر ملکی سلامتی اور قومی مفادات کو قربان کیا جا سکتا ہے‘ نہ کسی کو ملکی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
امریکہ نیٹو اور ایساف سے تعاون کیلئے سلامتی کمیٹی کی سفارشات
پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے امریکہ، نیٹو اور ایساف کےساتھ تعاون کے حوالے سے 36 سفارشات کی منظوری دی ہے جو حتمی منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کی جائینگی۔ پارلیمانی کمیٹی کے چیئر مین نے کہا کہ سفارشات میں حکومت کو گائیڈ لائن دی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں امریکہ نیٹو اور ایساف کےساتھ کن شرائط پر تعلقات قائم رکھ سکتی ہے، جن سے قومی خود مختاری اور خارجہ پالیسی متاثر نہ ہو۔ حکومت نے 26نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے کے بعد جلد قومی سلامتی کمیٹی کو سفارشات پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی، اس پر پورے ڈیڑھ ماہ بعد سفارشات تیار کی گئی ہیں حالانکہ حالات چند دن میں سفارشات کو حتمی شکل دینے کے متقاضی تھے تاکہ حکومت اس حوالے سے ایک واضح اور قومی سلامتی و خودمختاری کے تناظر میں پالیسی بناسکتی۔ کمیٹی نے اتنی تاخیر کر دی کہ امریکہ کو ایک مرتبہ پھر ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کرنے کا موقع مل گیا۔ بہرکیف اب مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔ حکومت نے ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی سلالہ سانحہ کے بعد سخت موقف اپنایا لیکن اسے امریکہ نے درخور اعتنا نہیں سمجھا جس کا ثبوت دو روز قبل شمالی وزیرستان میں ہونےوالا ڈرون حملہ ہے جسں میں 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اب امریکہ کےساتھ پرانے تعلقات پر نظرثانی کرتے ہوئے از سرِ نو تعلقات کا آغاز کرنا چاہیے جس میں قومی خود مختاری اور سلامتی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے، سلامتی کمیٹی کی سفارشات فی الوقت منظر پر نہیں آئیں لیکن ابتدائی معلومات سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سلامتی کمیٹی کی سفارشات میں امریکہ کی جنگ سے نجات کی سفارش نہیں کی گئی۔ نیٹو اور ایساف سے تعلقات کیلئے شرائط کی بات کی گئی ہے۔ ان دو شرائط کےساتھ تعلقات اور تعاون کا مطلب ہے کہ آپ امریکہ کی جنگ کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں۔ پارلیمنٹ ا یسی خارجہ پالیسی ترتیب دے جس سے قومی سلامتی اور خود مختاری کو تحفظ یقینی بنایا جائے جو امریکی جنگ سے نکلے بغیر ممکن نہیں۔
تل ابیب میں دہشت گردوں کا اکٹھ مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے دورہ اسرائیل کے دوران اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں تعاون کرےگا۔ آج وسطی ایشیا میں اسرائیل اور جنوبی ایشیا میں بھارت دہشت اور بربریت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ دونوں کا ٹارگٹ اسلام اور مسلمان ہیں۔ فلسطین میں اسرائیل اورمقبوضہ کشمیر میں بھارت مظلوم مسلمانوں کا بیدردی سے خون بہا رہا ہے، ان کو امریکہ کی آشیرباد حاصل ہے۔ امریکہ خود بھی مسلمانوں کےخلاف دہشت گردی میں آگے ہے۔ کرشنا نے اسرائیل کے ساتھ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں تعاون کرنے کی بات کی۔ دو دہشت گرد، کونسی دہشتگردی کےخلاف تعاون کرینگے؟ تل ابیب میں دو شیطانوں کا اکٹھ عالم اسلام کےلئے لمحہ فکریہ ہے۔ عرب لیگ کو آگے آنا چاہئے۔ 57 اسلامی ممالک کا پلیٹ فارم او آئی سی بھی موجود ہے۔ آج اسکے فعال ہونے کی ضروت ہے۔ عرب ممالک امریکہ کی گود سے نکلیں، دوسری صورت میں عالمی دہشت گرد ایک ایک کر کے ان کو عراق افغانستان اور لیبیا جیسے انجام سے دوچار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے لائق تحسین اقدامات
وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ بے گھر افراد میں تین اور پانچ مرلہ کے 6 لاکھ پلاٹ تقسیم کیے جائینگے۔ دیہی علاقوں میں اراضی کی نشاندہی مکمل ہو گئی، کچی آبادیوں کے مکینوں کو بھی مالکانہ حقوق دینے کی پالیسی کو جلد حتمی شکل دینگے۔ آشیانہ 2پر جلد کام کا آغاز کرینگے۔
وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ایک ایسی عوامی ضرورت پورنے کرنے کا اعلان کیا ہے جو غریب عوام کیلئے سوہان روح بنا ہوا ہے، کسی کا بے گھر ہونا، اور منہ زور مہنگائی کے اس دور میں کرایہ کے مکان میں رہنا گویا لوگوں کو فاقوں کے حوالے کرنا ہے، ایسے حالات میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف انتھک حکمران ہیں اور واقعتا وہ پنجاب کے خادم ہیں، وہ بنیادی اہمیت کے منصوبوں پر دلجمعی سے کام کر رہے ہیں، آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم 1 کے بعد آشیانہ 2 کا آغاز یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ صوبے میں رہائشی مسائل کے حل کا ارادہ ہی نہیں رکھتے، اس پر مسلسل کام بھی کر رہے ہیں، البتہ صوبے میں توانائی کی پیداوار کا کوئی منصوبہ بھی شروع کر دیتے تو لوڈشیڈنگ ختم کی جا سکتی تھی، اس طرح مہنگائی پر کنٹرول کا یہ عالم ہے کہ ایک ہی بازار میں دکانوں سے کسی ایک چیز کا ریٹ معلوم کریں تو ہر ایک کا نرخ مختلف ہے، پرائس کنٹرول فورس آخر کیوں متحرک نہیں کی جا رہی، بہرحال شہباز شریف فارغ نہیں بیٹھتے لیکن وہ مسائل کی طرف بھی توجہ دیں، کرائے کے مکانوں میں رہنے والوں کا بُرا حال ہے، کرایہ ایکٹ کو فعال بنایا جائے، اور ایک سیل قائم کیا جائے جو کرائے کا تعین کرے، یہاں ہم وزیر اعلیٰ کی توجہ پولیس کے چھوٹے اہلکاروں کی طرف بھی مبذوال کرانا چاہتے ہیں کہ ایک تو ان کو حکومت پنجاب رہائش فراہم کرے اور سڑکوں پر ڈیوٹی دینے والے کانسٹیبلز کو گھر پہنچانے کیلئے سواری کا بھی بندوبست کیا جائے۔