سسٹم کو بچانے کیلئے میاں شہبازشریف کی فکرمندی اور چیف جسٹس کی وارننگ عدالتی فیصلوں پر عمل کو یقینی بنائیں

ـ 13 فروری ، 2010
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ جمہوریت کو بچانا ہم سب کا فرض ہے‘ ہم ایسی جمہوریت کے حامی ہیں‘ جس سے پاکستان آگے بڑھے‘ ہمیں پاکستان کے مفاد کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینا ہو گی۔ گزشتہ روز ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں دوسری سالانہ سہ روزہ نظریہ پاکستان کانفرنس کی دوسری نشست میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کمال اتاترک ترکی کو عظیم بنا سکتا ہے تو ہم علامہ اقبال اور قائداعظم کے فرمودات کی موجودگی میں پاکستان کو عظیم ملک کیوں نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قانون کی حکمرانی لانا ہو گی‘ عدلیہ کے فیصلوں پر بہرصورت عمل کرنا ہو گا اور جمہوریت کو لازمی بچانا ہو گا تاکہ عام آدمی کو فائدہ ہو۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں ملیں‘ ہر گھر میں چولہا جلے اور یہ محسوس نہ ہو کہ امیروں کا پاکستان الگ اور غریبوں کا الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو بچانے کیلئے ہی ہم نے فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ سنا ہے۔
بلاشبہ ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرکے ہی سسٹم کی بقاء و استحکام کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے اور قائد و اقبال کی خواہشات کے مطابق اسے جدید اسلامی فلاحی جمہوری معاشرے کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے جس میں لوگوں کی جان‘ مال اور عزت و آبرو کا ہی تحفظ نہ ہو‘ ہر قسم کی بے انصافیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے‘ قومی اور قدرتی وسائل کی غیرمساویانہ تقسیم کا کوئی تصور نہ رہے اور قانون‘ آئین اور انصاف کی حکمرانی میں کسی فرد واحد کیلئے سیاہ و سفید کا مالک بننے کی گنجائش نہ رہے۔ جمہوری رویوں کی عملداری و پاسداری اور جمہوریت کے استحکام سے ہی سسٹم کیخلاف سول و خاکی بیوروکریسی کی سازشوں‘ اسٹیبلشمنٹکی ریشہ دوانیوں اور طالع آزماء جرنیلوں سمیت ہر قسم کے آمروں کا راستہ ہمیشہ کیلئے روکا جا سکتا ہے۔ جرنیلی آمروں کے ہاتھوں منتخب جمہوری نظام کو بار بار لگنے والے دھچکوں کے تلخ تجربات کے تناظر میں ہی عوام نے 18 فروری 2008ء کو اپنے ووٹ کی طاقت سے خاموش انقلاب برپا کرکے مشرف کی جرنیلی آمریت اور اسکی باقیات کو اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکالا اور سلطانی ٔ جمہور کی راہ ہموار کی۔
جرنیلی آمریتوں کے ہاتھوں ملک و قوم کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان (جس میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ بھی شامل ہے) کے پیش نظر ہی عسکری اور سیاسی قائدین جمہوریت کی بقاء و استحکام کے عہد پر کاربند ہیں اور اس کیلئے فکر مند بھی رہتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سلطانیٔ جمہور کی معانت کی اپنی آئینی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف موجودہ منتخب وفاقی حکمرانوں کے ہاتھوں عوام کے گوناں گوں مسائل حل نہ ہونے اور ان مسائل میں اضافہ کے باوجود سسٹم کی بقاء کی خاطر ان حکمرانوں کیلئے بھی ڈھال بنے ہوئے ہیں اور فرینڈلی اپوزیشن کا لیبل اپنی سیاست پر لگوا چکے ہیں جبکہ جرنیلی آمر کی سزا بھگتنے والے چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری بھی اپنے عدالتی فرائض کی ادائیگی کے دوران گاہے بگاہے باور کراتے رہتے ہیں کہ عدلیہ سسٹم کو کوئی گزند نہیں پہنچنے دیگی اور اسے مستحکم بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریگی۔
ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے اتنی سازگار فضاء پہلے کبھی قائم نہیں ہوئی تھی اور اگر حکمران پیپلز پارٹی خود بھی جمہوریت کی عملداری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے موجودہ سسٹم میں فرد واحد کی حکمرانی کے تصور کو زائل کر دے‘ آئینی اداروں بالخصوص عدلیہ کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اسکے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور آئین و قانون کی حکمرانی کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دے تو ملک میں طالع آزمائی پر مبنی جرنیلی آمریت کا راستہ ہمیشہ کیلئے اور مستقل طور پر بند کرنے کا یہی بہترین وقت ہے۔ جمہوریت کیلئے ان سازگار حالات کے باوجود اگر جمہوریت کی کشتی ہچکولے کھاتی نظر آتی ہے اور آئے روز غیرجمہوری ماورائے اقدام کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے تو پیپلز پارٹی کی حکومتی سیاسی جماعتی قیادتوں کو سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہئے کہ سلطانی ٔ جمہور کے ثمرات اب تک کیوں عام آدمی تک نہیں پہنچ پائے اور جمہوریت کے استحکام کی منزل اب تک کیوں حاصل نہیں ہو سکی۔ اس سلسلہ میں حکومتی اکابرین کو سوچنا چاہئے کہ کہیں انکے اپنے رویوں کی وجہ سے تو اداروں کے ٹکرائوں کی فضاء پیدا نہیں ہو رہی اور جمہوریت کی گاڑی کے ٹریک سے اترنے کا خدشہ لاحق نہیں ہو رہا؟۔
موجودہ حکمرانوں کے اقتدار کے موجودہ دو سالوں کا جائزہ لیتے ہوئے جمہوریت کیلئے فکر مند حلقوں کو بجا طور پر تشویش لاحق ہوتی ہے کہ سلطانی ٔ جمہور کیلئے نہ صرف عوام کے مینڈیٹ کے احترام کے تقاضے پورے نہیں ہورہے بلکہ جرنیلی آمر کے اقدامات ، پالیسیوں اور باقیات کو برقرار رکھ کے سلطانی ٔجمہور کا مینڈیٹ دینے والے عوام کو اس سسٹم سے متنفر بھی کیا جارہا ہے۔ نتیجتاً سسٹم کی بقاء کی خاطر سول حکمرانی کی معاونت کرنے والی عسکری اور سیاسی قیادتوں کو بھی بدگمان کیا جارہا ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ جرنیلی آمریت کے پیدا کردہ گھمبیر عوامی مسائل کے حل اور کرپشن کلچر کے گند کی صفائی کیلئے عدلیہ کی آزادی کی موجودہ فضا سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا اور کسی حکومتی ریاستی کل پرزے کو قانون، آئین اور انصاف کی عملداری کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا جاتا مگر حکمران طبقہ نے اپنی ماضی کی بدعنوانیوں کو تحفظ دینے اور موجودہ اور ممکنہ مستقبل کی بدعنوانیوں کو بھی جوابدہی کے دائرے سے باہر رکھنے کیلئے نہ صرف عدالتی فیصلوں کے احترام اور ان پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا بلکہ اپنے رویوں سے اداروں کے ٹکرائو کی ناگوار اور تشویشناک فضا بھی پیدا کی جا رہی ہے۔ صدر اور وزیراعظم کی جانب سے عدلیہ کے احترام کے دعوے بھی کئے جاتے ہیں اور ججز کیس اور بنک آف پنجاب کیس سے این آر او کیس کے فیصلہ تک کسی بھی عدالتی فیصلہ کو نہ صرف لاگو کرنے سے گریز کیا جارہا ہے بلکہ ان فیصلوں پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹیں بھی پیدا کی جا رہی ہیں جس کے باعث چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کو باور کرانا پڑا ہے کہ عدالتی احکام کا مذاق اڑانے والے قانون کے شکنجے میں آئیں گے اور سلاخوں کے پیچھے جائیں گے۔
این آر او کیس کے فیصلہ کی زد میں آنے والی حکومتی شخصیات کو ، چاہے وہ جس بھی منصب پر فائز ہوں، اپنے حکومتی سرکاری عہدوں سے رضا کارانہ طور پر الگ ہو جانا چاہئے تھا تاکہ ان کے بحال ہونے والے مقدمات میں بلا روک ٹوک انصاف کے تقاضے پورے ہوسکتے مگر نہ صرف یہ قانونی اور اخلاقی تقاضہ پورا نہیں کیا گیا بلکہ آئینی تحفظ کا سہارا لے کر صدر زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں مقدمات کی بحالی کیلئے حکومتی سطح پر رجوع ہی نہیں کیا گیا جس کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں واضح ہدایات دی ہوئی تھیں، اسی طرح سپریم کورٹ نے بنک آف پنجاب کیس میں حقائق چھپانے پر چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل کو ان کے عہدوں سے فارغ کرنے کی ہدایت کی جس پر نہ صرف اب تک عملدرآمد نہیں کیا گیا بلکہ وزیراعظم کی جانب سے ان احکام پر عملدرآمد نہ کرنے کے بے مقصد جواز بھی پیش کئے جا رہے ہیں اسی طرح ججز کیس میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی خالی آسامیوں پر ایک ماہ کے اندر اندر تقرر عمل میں لانے کا متعینہ اصول بھی گزشتہ دو ماہ سے اقتدار کے ایوانوں میں رولنگ سٹون بنا ہوا ہے اور سپریم کورٹ کے 31 جولائی 2009ء کے فیصلہ کی بنیاد ہائیکورٹوں میں خالی ہونے والی ججوں کی 60 سے زائد خالی آسامیوں پر بھی اور اب سپریم کورٹ کی موجودہ دو خالی آسامیوں پر بھی چیف جسٹس کی سفارشات کی بنیاد پر تقرر عمل میں لانے سے دانستاً گریز کیا جا رہا ہے اور وزارت قانون سے وزیراعظم ہائوس تک ججوں کے تقرر کی سمری کو تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال بلاشبہ اداروں کے ٹکرائو کی راہ ہموار کرنے والی ہے جو لازمی طور پر سسٹم کے لپیٹے جانے پر منتج ہوسکتی ہے۔ میاں شہبازشریف نے اسی خدشے کی بنیاد پر عدالتی فیصلوں پر ہر صورت عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اس تناظر میں اب گیند وفاقی حکمرانوں کی کورٹ میں ہے۔ وہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد سے گریز کرکے اور فرد واحد کی حکمرانی کے تصور کو پختہ کرکے اداروں کے ٹکرائو کی نوبت لائیں گے تو سسٹم کو بچانے کے جذبے کے تحت فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ قبول کرنے والی مسلم لیگ (ن) کب تک اور کیونکر ان کا ساتھ دیتی رہے گی اور عسکری قیادتیں حکومتی بداعمالیوں کی بنیاد پر ملک کی سالمیت کولاحق ہونے والے خطرات پر کیوں فکر مند نہیں ہوںگی۔ اس لئے سسٹم کو بچانا ہے تو اس کی بقاء و استحکام کے تمام تقاضے پورے بھی کئے جائیں۔
تمام گورنمنٹ سکولوں کو
دانش سکولز بنا دیں
پنجاب اسمبلی نے دانش سکولز اینڈ سنٹرز آف ایکسی لینسی بِل کی کثرتِ رائے سے منظوری دیدی۔ اپوزیشن نے دانش سکولز بِل کی مخالفت کی اور کہا کہ 350 ملین روپے کے منصوبہ میں بیورو کریسی کی بجائے ارکان اسمبلی کو نمائندگی ملنی چاہئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف پنجاب میں تعلیم کی ترقی کیلئے بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور اُنہوں نے اِس مقصد کیلئے فنڈز بھی مختص کئے ہیں۔ وہ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم تک کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے کاوشیں کر رہے ہیں۔ جوکہ انتہائی قابل تحسین ہیں۔ حکومت جب بھی کوئی نیا کام شروع کرتی ہے تو اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان ہمیشہ اُس پر تنقید کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کو بھی چاہئے کہ اپوزیشن کے ارکان کی تنقید میں سے مثبت پہلوئوں کو اِس منصوبہ میں جگہ دی جائے۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ ارکانِ اسمبلی کو دانش سکولوں کے منصوبہ کی تکمیل کی خاطر بنائی گئی کمیٹی میں شامل کیا جائے اُنکی صلاحیتوں اور اثر و رسوخ سے بھی فائدہ اٹھایا جائے ۔ عوام کی خواہش ہے دانش سکولز کے پہلے مرحلہ پر تمام گورنمنٹ سکولز کو دانش سکولز کی لسٹ میں شامل کر کے اِنہیں اَپ گریڈ کیا جائے۔ تمام سرکاری سکول جب اَپ گریڈ ہو جائیں اور اِنہیں لازمی سہولیات دے دی جائیں تو نئے سکولوں کیلئے ہر رُکن اسمبلی سے تجاویز طلب کی جائیں۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اور حکومتی پارٹی سے متعلق ارکانِ اسمبلی کو اپنے اپنے حلقوں میں واقع دانش سکولوں کا نگران مقرر کیا جائے اور حکومتی پارٹی کے ارکان بھی اِنکے ساتھ مل کر خواندگی اور علم و دانش کے وسیع تر پھیلائو کیلئے کام کریں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو ایک اور پہلو کی طرف بھی توجہ دینا ہو گی کہ پنجاب میں ایک ہزار سے زائد سکول نامعلوم این جی اوز کے سپرد کر دئیے گئے ہیں اِن سکولوں کا بھی جائزہ لیا جائے اور بہتر یہ ہو گا کہ اِنہیں بھی دانش سکولوں کے پراجیکٹ میں شامل کر لیا جائے۔ یہ این جی اوز نامعلوم ہدایات کے تحت کام کرتی ہیں اور اُنکا مِشن بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ اِس لئے محکمہ تعلیم سے این جی اوز کا قبضہ ختم کرائیں اور اِن تمام گورنمنٹ سکولوں کو دانش سکولز کے حلقۂ عاطفت میں لے لیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے پنجاب کے مختلف اضلاع سے عوامی مطالبات بھی ہیں جن میں اوکاڑہ اور دیگر اضلاع بھی شامل ہیں یہاں عوام اور سیاسی حلقوں کی طرف سے بہت سے سکولوں کو اَپ گریڈ کرنے کے مطالبات ہیں۔ جوکہ مِڈل سکولوں کو ہائی سکول کرنے کیلئے اِن تمام اضلاع کے متعلقہ حکام کے پاس موجود ہیں۔ اُنہیں اِن سکولوں کو بھی ترقی دینے پر توجہ دینا چاہئے۔
بغل میں چھری منہ میں رام رام
بھارت نے ایک بار پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے تربیتی کیمپ اب بھی موجود ہیں جبکہ دراندازی بھی ہو رہی ہے۔ آزاد کشمیر بھارت کا لازمی حصہ ہے۔ دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے کہا کہ اگرچہ نئی دہلی دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کیلئے اسلام آباد کے اقدامات سے پوری طرح مطمئن نہیں ، تاہم اس کے باوجود پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا محتاط فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین سب سے بڑا تنازع کشمیر ہے۔ دیگر چھوٹے موٹے تنازعات اسی ایک مسئلہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ آج پاکستان کو پانی کی شدید کمی سامنا ہے وہ بھی بھارت کی سازشوں اور پاکستان کی دشمنی کے باعث ہے۔ اس نے کشمیر سے آنے والے دریائوں پر 62 سے زائد ڈیموں کی تعمیر اور نہروں کے ذریعے بچے کھچے پانی کا رخ بھی موڑ لیا ہے۔ ان حالات میں کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے حصے کے پانی کی واگزاری ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس کیلئے مذاکرات بہترین طریقہ ہیں لیکن مذاکرات کے حوالے سے بھارت کا خبث باطن کبھی ڈھکا چھپا نہیں۔ ممبئی حملوں سے قبل پاکستان او ربھارت میں جامع مذاکرات جاری تھے۔ جس میں مسئلہ کشمیر سرفہرست تھا۔ اب اس نے جو دعوت دی ہے اس میں دہشت گردی اور ممبئی حملوں کو محور قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود ہماری حکومت بھارت کی اس پیشکش پر بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہی۔ مذاکرات کیلئے اتنی بے تاب ہے کہ یکطرفہ طور پر کہہ دیا کہ بھارت کے ساتھ بات چیت شرائط پر مبنی نہیں ہو گی۔ بھارت ایک جانب سے مذاکرات کی پیشکش دوسری طرف آزاد کشمیر کو بھی اپنا حصہ قرار دینا اور الزامات میں اضافہ‘ بغل میں چھری منہ میں رام رام کے مترادف ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے نکتہ نظر سے مذاکرات کا کیا فائدہ ہے۔ حکومت غیر مشروط مذاکرات کا راگ نہ الاپے کشمیر اور پانی کے سنگین اور بنیادی مسائل ایجنڈے میں شامل کئے بغیر مذاکرات کی بھارتی پیشکش کو مسترد کر دیا جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter