شمسی ایئربیس سے امریکیوں کا انخلاءاور ایساف کمانڈر کی مہمند ایجنسی جیسا واقعہ دہرانے کی دھمکی .... امریکہ کیلئے اب کوئی نرم گوشہ نہ رکھیں اور ملکی سالمیت کے تقاضے نبھائیں
ـ 13 دسمبر ، 2011
امریکہ نے بلوچستان کے علاقے واشک میں واقع شمسی ایئربیس 9 سال بعد گزشتہ روز خالی کردیا اور شمسی ایئربیس پر موجود اس کا آخری طیارہ 75 امریکی اہلکاروں کو لے کر بگرام ایئربیس چلا گیا‘ امریکہ سے شمسی ایئربیس کا قبضہ چھڑانے کے بعد وہاں سے امریکی پرچم بھی اتار لیا گیا اور اسکی جگہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں اور سول ایوی ایشن نے اس ایئربیس کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے اور ایئربیس کے اطراف میں ایف سی کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔
شمسی ایئربیس 30 سال قبل سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں نے کوئٹہ سے سوا تین سو کلو میٹر دور بلوچستان کے جنوب مشرقی ضلع واشک میں حکومت پاکستان کی اجازت سے تعمیر کرایا تھا جسے عرب شیوخ تلور کے شکار کی خاطر پاکستان آنے کیلئے استعمال کرتے رہے جبکہ امریکی نائن الیون کے بعد 2001ءمیں امریکی فوج نے اس ایئربیس کو طالبان حکومت گرانے اور القاعدہ کیخلاف اپریشن کیلئے استعمال کرنا شروع کیا۔ بعدازاں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کیلئے بھی اسی ایئربیس کا استعمال شروع ہو گیا جس کا انکشاف 2009ءمیں ہوا۔ امریکہ کی جانب سے اس سال 2 مئی کو مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کےخلاف کارروائی کیلئے ایبٹ آباد میں اپریشن کیا گیا تو اسکے ردعمل میں قومی جذبات برانگیختہ ہونے پر 13 مئی کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا‘ جس میں بریفنگ کے دوران عسکری قیادتوں کی جانب سے شمسی ایئربیس کے امریکہ کے زیر استعمال آنے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ ایئربیس اس وقت متحدہ عرب امارات کے کنٹرول میں ہے جس نے امریکہ کو یہ ایئربیس استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں امریکہ کو شمسی ایئربیس خالی کرنے کیلئے کہا گیا جس سے امریکہ نے انکار کر دیا جبکہ گزشتہ ماہ 26 نومبر کو امریکی نیٹو ہیلی کاپٹروں کی جانب سے مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹوں پر بمباری کرکے پاکستان کے دو درجن سے زائد فوجی جوانوں کو شہید کیا گیا تو اس امریکی جارحیت کیخلاف حکومتی اور عسکری قیادتوں نے مشترکہ طور پر سخت فیصلے کرتے ہوئے جہاں نیٹو کی سپلائی لائن بند کی‘ وہیں امریکی حکام کو 15 دن کے اندر اندر شمسی ایئربیس خالی کرنے کا الٹی میٹم بھی دے دیا گیا۔ اس ایئربیس کو خالی کرنے کی ڈیڈ لائن 11 دسمبر کی مقرر ہوئی تھی چنانچہ گزشتہ روز امریکہ نے ڈیڈ لائن کے مطابق شمسی ایئربیس کو مکمل خالی کردیا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ روز بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ امریکہ کیلئے پاکستان کی فضائی حدود بھی بند کی جا سکتی ہیں اور نیٹو کی سپلائی مزید کئی ہفتے بند رکھی جا سکتی ہے۔ انکے بقول سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو حملہ ہماری قربانیوں کی توہین ہے اور اس حملے پر معافی مانگنے سے ہمارے شہید فوجی جوانوں کی نعشیں زندہ نہیں ہو سکتیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سلالہ چیک پوسٹوں پر امریکی نیٹو حملہ براہ راست ہماری سالمیت پر حملہ تھا‘ اس حملے کا اگرچہ فوری طور پر اس جواز کے تحت جواب نہ دیا گیا کہ اس کیلئے ہائی کمان کی جانب سے احکام نہیں ملے تھے تاہم اسی روز اعلیٰ حکومتی اور عسکری قیادتوں نے باہم مشاورت کرکے ان حملوں کیخلاف اپنا سخت احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے نیٹو سپلائی بند کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کو شمسی ایئربیس خالی کرنے کا بھی الٹی میٹم دیا اور بعدازاں وفاقی کابینہ کے لاہور میں منعقدہ اجلاس میں بون کانفرنس کے بائیکاٹ کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ یہ تمام اقدامات اور فیصلے ملکی اور قومی مفادات اور قومی امنگوں کے عین مطابق کئے گئے جس کے نتیجے میں امریکہ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوا اور صدر اوبامہ نے بھی وزیراعظم گیلانی سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا تاہم امریکی حکام اب تک اس واقعہ پر نہ صرف پاکستان سے معافی مانگنے پر آمادہ نہیں ہیں بلکہ پاکستان کو براہ راست اور بالواسطہ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ افغانستان میں امریکی و نیٹو افواج کے سربراہ جنرل جان ایلن نے تو گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی باور کرادیا ہے کہ نیٹو حملے جیسا واقعہ دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے نیٹو فورسز کی گزشتہ دس سال سے مزاحمت جاری رکھنے والے افغان طالبان کو بھی باور کرایا ہے کہ وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں‘ نیٹو فورسز 2014ءکے بعد بھی افغانستان ہی میں موجود رہیں گی‘ جس کا مطلب ہے کروسیڈ جاری رہے گی۔
سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو حملوں کےخلاف وقوعہ کے وقت سے ہی پوری قوم سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کی جانب سے کم و بیش روزانہ سڑکوں پر آکر ان امریکی حملوں کیخلاف احتجاج کیا جا رہا ہے چنانچہ حکومت نے بھی قومی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے گزشتہ 10 سال میں پہلی بار امریکہ کو آنکھیں دکھائیں اور آبرومندانہ اور جرات مندانہ فیصلے اور اقدامات کئے۔ اگر پاکستان کی حکومت اور قوم کے اس سخت ردعمل کے باوجود امریکہ کی جانب سے ہماری سالمیت کیخلاف جارحانہ عزائم میں کمی نہیں آئی اور اسکی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے تو ہمارے حکمرانوں کو بھی نہ صرف ہنگامی بنیادوں پر کئے گئے اپنے فیصلوں پر ڈٹے رہنا چاہیے بلکہ امریکہ کو سبق سکھانے کیلئے مزید جو بھی اقدامات بروئے کار لائے جا سکتے ہیں‘ اس سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اس تناظر میں وزیراعظم گیلانی کا امریکہ کیلئے فضائی حدود بند کرنے کا پیغام بھی حوصلہ افزاءہے جسے عملی شکل دیکر امریکہ کے زیر استعمال دیگر ایئربیسز بشمول جیکب آباد اور پسنی ایئربیس کا قبضہ بھی اس سے واپس لے لینا چاہیے اور نیٹو کی سپلائی مستقل طور پر بند کردینی چاہیے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم یا کسی دوسری حکومتی شخصیت اور سیاست دانوں کی جانب سے کسی نرمی کا عندیہ ملکی اور قومی مفادات کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جب وزیراعظم نے خود ہی نیٹو حملے کی انکوائری پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کے سپرد کر دی ہے تو اسکی انکوائری رپورٹ سے پہلے انہیں یہ بیان دینے کی قطعاً ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی کہ نیٹو سپلائی مزید کئی ہفتے تک بند رہنے کا امکان ہے کیونکہ اس بیان میں نیٹو کی سپلائی بحال کئے جانے کا عندیہ موجود ہے۔ قبل ازیں وزیر دفاع احمد مختار نے بھی اور پھر مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے بھی یہ کہہ کر نیٹو کی سپلائی بحال کرنے کی گنجائش نکالنے کی کوشش کی کہ نیٹو حملوں پر امریکہ کی جانب سے معافی مانگنے کی صورت میں ہی نیٹو کی سپلائی بحال ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے راستے سپلائی بند ہونے کے نتیجہ میں اس وقت افغانستان میں امریکی نیٹو فورسز کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘ سپلائی بند رہنے سے ان میں مزید اضافہ ہو گا تو امریکہ گھٹنے ٹیک کر بھی پاکستان سے معافی مانگنے پر مجبور ہو جائیگا مگر کیا محض معافی ہی سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو حملوں کی تلافی ہے؟ اگر اس معاملہ میں اب نرم رویہ اختیار کیا گیا تو کل کو مہمند ایجنسی جیسے مزید حملے کرکے بھی امریکہ معافی مانگنے کی زحمت اٹھاتا رہے گا اور ہماری سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کی راہ پر گامزن رہے گا اس لئے اب امریکہ کے ساتھ کسی نرم گوشے کی نہیں‘ اسکے جارحانہ عزائم کا توڑ کرنے کی سخت ترین پالیسی اختیار کرنے اور اسے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں آئندہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونےوالے ہر ڈرون اور نیٹو ہیلی کاپٹروں کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس پر عملدرآمد بھی ہونا چاہیے اور بہتر یہی ہے کہ اب امریکہ سے مستقل خلاصی حاصل کرلی جائے۔ وزیر دفاع احمد مختار کے بقول پاکستان‘ افغانستان سرحد پر پاکستان کی 880 چوکیوں سے افواج پاکستان کو واپس بلوالیا گیا ہے تو قبائلی علاقوں میں جاری فوجی اپریشن بھی مستقل طور پر ختم کر دیا جائے اور اس اپریشن میں مصروف افواج پاکستان کو بھارت و افغان سرحدوں کی حفاظت پر مامور کر دیا جائے۔ اگر امریکی مفادات کی جنگ سے ہمارے باہر نکلنے کا موقع پیدا ہوا ہے تو اسے اب ضائع نہیں جانے دینا چاہیے۔
بھارتی جارحیت کا ایک ہی فیصلہ کن جواب
بھارتی آبی جارحیت نہ روکی گئی تو چناب کا بہاﺅ ساڑھے تین لاکھ ایکڑ فٹ کم ہو سکتا ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر بنائے گئے ڈیم میں 22 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی جس کا مطلب پنجاب کو بنجر کرنا ہے۔ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں فوج عوام اور دیگر جملہ اداروں کو یہ تو معلوم ہو گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کس پیمانے کی ہے اور اسکے خطرناک اثرات کا دائرہ کتنا وسیع ہے‘ اسکا بھی اندازہ اب لگانا کسی کےلئے مشکل نہیں، پاکستان کو ریگستان بنا کر اسے لقمہ نان کا محتاج کرنے کی سازش برسر عمل ہے، اب بھی اگر اس جارحیت کے آگے بند نہ باندھا گیا اور جب یہ بھارتی ہدف حاصل ہونے کی صورت میںپاک سرزمین بھی ہم کیسے اپنی گرفت میں رکھ سکیں گے۔ بھارت سمجھے تو اچھا تو اگر نہ سمجھے تو ہم اسے آخری وار کے ذریعے سمجھانے پر مجبور ہوں گے، بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ اسلحہ کے اعتبار سے اس نے ایک ملک ہو کر کئی ملکوں جتنا جنگی ساز و سامان اکٹھا کر لیا ہے، اس لئے اس نے ہماری مجبوری کی تکمیل کا راستہ ہموار کر دیا ہے، یہ جو پانی کو پاکستان پر حرام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور اسے قطرہ آب کا محتاج کیا جا رہا ہے، آخر بھارتی نیتا کیوں ہمیں بھارت کی مکمل تباہی کی طرف لے جا رہا ہے، یہ نہ ہو کہ ہمارے ایٹم بم کا بٹن دب جائے اور آبی جارحیت بھارتی تباہی کا سبب بن جائے شاید اب مزید انتظار نہ ہو اور برداشت بھی جواب دے جائے کیونکہ ہمیں زندہ رہنا ہے اور پانی کی مزید اس درجہ بندش ہمیں اپنی بقاءکی خاطر آخری چارہ کار کی جانب لے جا سکتی ہے۔ بھارت کو اپنی اور اس خطے کی سلامتی مقصود ہے تو وہ اپنے توسیع پسندانہ جارحانہ عزائم سے باز رہے۔
(ن) لیگ میں چودھری برادران کیوں قبول نہیں!
ہمارے لاہور کے خصوصی رپورٹر کے تجزیے کےمطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے طے کیا ہے کہ چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی کے سوا مسلم لیگ (ن) سے (ق) لیگ اور دیگر سیاسی پارٹیوں میں جانیوالے عہدیداروں اور سرگرم کارکنوں کو مسلم لیگ (ن) میں واپس لانے کیلئے کام کی رفتار تیز کر دی جائے۔ اس حوالے سے وہ خود بھی دیگر صوبوں کے دورے کرینگے۔
گزشتہ ہفتے مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے مسلم لیگوں کے اتحاد کی بات کرتے ہوئے میاں نواز شریف سے کہا تھا کہ وہ چودھری شجاعت حسین کو گلے لگا لیں۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اسکا مثبت جواب آنا چاہیے تھا لیکن لگتا ہے کہ انا بدستور سدراہ ہے۔ اس سے قبل مسلم لیگ (ن) اپنے پرانے ساتھیوں کیلئے پارٹی کے دروازے کھولنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس میں اگر مگر نہیں ہونی چاہیے۔ آپ لاکھ کوشش کرلیں‘ پرانے اتحادیوں کو آزمائیں یا نئے اتحادی بنائیں‘ مسلم لیگوں کے متحد ہونے تک مضبوط مسلم لیگ قائم نہیں ہو سکتی۔ مسلم لیگ ہم خیال سے اتحاد اچھا شگون ہے دیگر کو بھی اس پلیٹ فارم پر لانا چاہیے۔ گزشتہ سال پیر پگارا مسلم لیگوں کے اتحاد کیلئے فعال ہوئے‘ انکی کوششوں کی راہ میں بھی (ن) لیگ نے رکاوٹ ڈالی۔ اب پیرپگارا اور میاں نواز شریف کے مابین رابطے ہوئے ہیں جو ایک مثبت پیشرفت ہے لیکن میاں صاحب کے چودھریوں کے حوالے سے رویے میں لچک پیدا نہیں ہوئی۔ یہ وہی چودھری شجاعت ہیں اسلام آباد میں میاں صاحب جن کے گھر فیملی کےساتھ ٹھہرا کرتے تھے۔ چودھری برادران دشمن کے ایجنٹ نہیں۔ آپ (ق) لیگ کو حریف پارٹی کے کیمپ میں جبری دھکیل کر قومی سطح پر عظیم کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلم لیگوں کے اتحاد میں رخنے ڈالنے کے بجائے‘ انکے اتحاد کی کوشش کریں اور اسے اقبالؒ و قائدؒ کی مسلم لیگ بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔
وزیراعظم صوبوں کا پنڈورا باکس نہ کھولیں
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سرائیکی صوبہ عوام کی خواہش ہے اور اہم معاملہ ہے جسے آئندہ پارلیمنٹ کےلئے نہیں چھوڑا جا سکتا، حکومت موجودہ اسمبلی سے ہی سرائیکی صوبہ بنانے کےلئے رجوع کرےگی۔پیپلزپارٹی نے اپنی گرتی ساکھ کو سہارا دینے کیلئے سرائیکی صوبہ بنانے کا نعرہ بلند کیا ہے۔ وزیراعظم گیلانی سرائیکی صوبہ بنا کر دہرا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک تو سرائیکی عوام کی پارٹی کیلئے ہمدردیاں اور دوسرا اپنے بچوں کا سیاسی مستقبل روشن کرنے کے چکر میں ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب بننا انکے بیٹے کا ایک خواب ہے۔ جسے وہ پنجاب کی کمر میں چھرا گھونپ کر پورا کرنا چاہتے ہیں۔ ملکی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جو کسی نئے تنازع کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اگر سرائیکی صوبے کا اعلان کیا گیا تو پھر ریاست بہاولپور کی بحالی کیلئے شور اٹھے گا۔ دیر، چترال، قلات، خیرپور والے بھی اپنی پرانی حیثیت بحال کروانے کیلئے میدان میں نکلیں گے اور یوں پاکستان صوبستان بن جائیگا۔ لہذا حکمران صوبوں کا پنڈورا باکس مت کھولیں اگر یہ جن بوتل سے باہر نکل آیا تو ایک طوفان بدتمیزی برپا ہو جائیگا۔ ہزار ہ صوبہ کےلئے پہلے ہی تحریک چل رہی ہے۔ اسی طرح حیدر آباد والے بھی علیحدہ صوبے کا مطالبہ کرینگے اور کراچی کو جناح پور بنانے کی سازش کرنےوالوں کو بھی نیا حوصلہ ملے گا۔موجودہ ملکی حالات میں ان مطالبات کو پورا کرنا مشکل ہے ۔اس حساب سے انتظامی اخراجات بڑھیں گے‘ بلڈنگیں تعمیر کرنا ہونگی‘ گورنر اور افسر شاہی کی دیگر ضروریات پوری کرنا ہونگی۔ لہٰذا حکمران اپنی پسند ناپسند کو چھوڑ کر ملکی مفاد کو مدنظر رکھیں کیونکہ جتنا ملک مضبوط ہو گا ادارے مضبوط ہونگے تو خوشحالی آئیگی۔ اگر اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کیلئے صوبے تشکیل دیئے گئے تو اس سے ملک کا شیرازہ بکھر جائیگا۔ سرائیکی صوبہ بناتے وقت سوات‘ دیر‘ چترال‘ خیرپور‘ قلات وغیرہ کا بھی خیال رکھیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں