بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے تسلیم کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں داخلی و خارجی سطح پر مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ اگر سیاسی اتفاق رائے ہو تو مرکز جموں و کشمیر کو خودمختاری دینے کو تیار ہے۔ انہوں نے نئی دہلی میں کشمیر پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کی کٹھ پتلی حکومت کو پیشکش کی کہ ریاست میں قیام امن اور عوامی رابطوں کیلئے مرکزی حکومت اس کی بھرپور معاونت کیلئے تیار ہے۔ دوسری جانب حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے بھارتی وزیراعظم کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیری نوجوان روزگار کے لئے نہیں بلکہ آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں۔ حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کے بقول بھارتی وزیراعظم کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت ہند جموں و کشمیر کے بارے میں اپنی جارحانہ پالیسی کو بدلنے کی بجائے روایتی ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ جبکہ ہم مقبوضہ وادی سے بھارتی فوج کا مکمل انخلا چاہتے ہیں۔ حریت کانفرنس کے دوسرے دھڑے کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے بھی ریاست کے بارے میں بھارتی وزیراعظم کے تازہ بیان کو حقائق کے برعکس قرار دیا اور کہا کہ کشمیری عوام محض نوکریوں اور اقتصادی ترقی کیلئے جدوجہد نہیں کر رہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعت بی جے پی نے اس کے برعکس کشمیر کو خودمختاری دینے سے متعلق ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بیان کی وضاحت طلب کر لی ہے، جبکہ برطانوی اخبار ’’دی اکانومسٹ‘‘ نے بھارتی وزیراعظم کے اس تازہ موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں باور کرایا ہے کہ کشمیری عوام اپنی مکمل آزادی چاہتے ہیں جس کے لئے وہ عرصہ دراز سے جانی و مالی قربانیاں دے رہے ہیں مگر بھارت انہیں محض سہولتوں کی فراہمی پر ٹرخانا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مقبوضہ وادی میں گذشتہ دو ماہ کے دوران تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوا ہے اور فوج کے تشدد سے ہلاکتوں کے بعد شروع ہونے والے احتجاج میں شریک ہزاروں کشمیری باشندے اب صرف آزادی کے نعرے بلند کرتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ مقبوضہ وادی میں کشمیری عوام گزشتہ دو ماہ سے اپنی جدوجہد آزادی کو نیا رنگ دے کر اور بھارتی فوجوں کے مظالم کے آگے سینہ سپر ہوتے ہوئے جس والہانہ پن کے ساتھ قربانیوں کی اچھوتی داستانیں رقم کر رہے ہیں اس سے ان کی آزادی کی منزل یقینی اور قریب تر نظر آ رہی ہے۔ جبکہ ان کے جذبہ کے آگے بھارتی فوجوں کا ٹھہرنا بھی ناممکن نظر آ رہا ہے جس کا اعتراف پہلے بھارتی آرمی چیف نے بھارتی حکومت کو یہ مشورہ دیتے ہوئے کیا کہ مقبوضہ کشمیر سے بھارتی افواج واپس بلوا کر مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کیا جائے جبکہ اب خود بھارتی وزیراعظم بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں یہی اعتراف کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ بندوق کے زور پر کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو دبانا اب ممکن نہیں رہا۔ اس بنیاد پر وہ مذاکرات کے دروازے کھول کر کشمیری عوام کو خودمختاری دینے کا چکمہ دے رہے ہیں جس کا مقصد صرف کشمیری عوام کی جدوجہد کو ٹریک سے ہٹانے اور پہلے کی طرح مذاکرات کے ڈرامے کے ذریعہ مہلت طلب کرنے کا ہے۔
اگر بھارتی وزیراعظم اپنے وعدے میں مخلص ہوتے تو پہلے بھارتی افواج کی مقبوضہ وادی سے واپسی کا اعلان کرتے، کشمیری عوام پر ظلم و جبر کا سلسلہ بند کرا دیتے۔ گرفتار اور نظربند تمام کشمیری لیڈران کو آزاد کرا دیتے اور پھر انہیں مذاکرات کی دعوت دیتے مگر ان کی جانب سے اے پی سی میں کئے گئے اعلانات میں اخلاص کے بجائے منافقت کی جھلک غالب ہوتی نظر آ رہی ہے اور کشمیری عوام کو خودمختاری کا لالی پاپ دینے کا واحد مقصد انہیں اپنی جدوجہد آزادی سے دستکش کرانے کا ہے۔ جبکہ مذاکرات کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام پر ریاستی جبر اور جان لیوا مظالم کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا ہے۔ ایک جانب تو منموہن نئی دہلی میں بلائی گئی اپنی اے پی سی میں مقبوضہ وادی کو خودمختاری دینے کا جھانسہ دے رہے ہیں اور دوسری جانب ظالم بھارتی افواج مقبوضہ وادی کی سڑکوں اور گلیوں بازاروں میں لاٹھی گولی کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے کشمیری عوام کا بے دریغ خون بہانے میں مگن ہیں۔ گذشتہ روز بھی سری نگر میں فوج نے تشدد کے تازہ واقعات میں دو خواتین اور ایک کمسن طالب علم کو گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر دیا جبکہ بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی بگڑتی ہوئی صحت کا خیال رکھے بغیر انہیں پھر گھر پر نظربند کر دیا گیا ہے اس لئے مظالم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کے حل کی بات پر بھلا کون یقین کرے گا۔ مذاکرات درحقیقت وہ آکاس بیل ہے جو کشمیری عوام کی قربانیوں سے لبریز جدوجہد کو چاٹنے کے لئے پھینکی جاتی ہے تاکہ یہ جدوجہد کسی مرحلہ پر بار آور نہ ہو پائے۔
بھارت کی شاطر اور مکار ہندو بنیا لیڈرشپ کی موجودہ بے چینی اور پریشانی کا یہی پس منظر ہے کہ اب انہیں کشمیری عوام کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر آ رہی ہے جس سے انہیں کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنائے رکھنے کے خواب ٹوٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اس لئے وہ کشمیری عوام کو بیک وقت ریاستی جبر اور مذاکرات کے ذریعہ گھیرے میں لینے کی سازش میں مصروف ہیں۔ مگر یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسی کوئی سازش کشمیری عوام کے حوصلے پست کر سکتی ہے نہ انہیں اپنی آزادی کی جدوجہد سے ہٹا سکتی ہے اور محض خودمختاری نہیں بھارتی ساہوکار بنیے کی غلامی سے مکمل آزادی ان کی منزل ہے جس کی جانب وہ اس وقت بہت تیزی سے گامزن ہیں۔
بھارت کی جانب سے مذاکرات کا ڈرامہ تو پہلے بھی ڈیڑھ سو مرتبہ رچایا جاچکا ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ بھارت ہی کی جانب سے ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی صورت میں برآمد ہوا ہے کیونکہ بھارت کی تان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے پر ہی ٹوٹتی ہے۔ اب تو بھارت مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کرنے سے بھی بدکتا ہے۔کچھ عرصہ قبل نئی دہلی میں بھارت ہی کی جانب سے بلائی گئی پاکستان بھارت خارجہ سیکرٹریوں کی میٹنگ کی بساط بھی بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپما رائو نے خود کشمیر کاتذکرہ آنے پر لپیٹی جبکہ دو ماہ قبل اسلام آباد میں بھی پاکستان بھارت خارجہ سیکرٹریوں کی میٹنگ میں کشمیر کا تذکرہ انکی پیشانی پر بل ڈالنے کا باعث بنا۔ اسی طرح گزشتہ ماہ اسلام آباد میں پاکستان بھارت وزراء خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور ایس ایم کرشنا کی ملاقات بھی بھارتی وزیر خارجہ کے طرزعمل سے پیدا ہونیوالی تلخیوں پر ختم ہوئی اور ان تلخیوں کی صدائے بازگشت آج بھی سنائی دے رہی ہے۔
گزشتہ ماہ بھارتی حکمران کانگرس کی اطالوی نژاد چیئرپرسن سونیا گاندھی نے بے خیالی میں ہی تجویز پیش کردی تھی کہ مسئلہ کشمیر کا حل تینوں فریقین پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔ انہیں یقینامتعصب ہندو بنیاء سے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہوگا اس لئے وہ اگلے ہی روز اپنے اس بیان سے منحرف ہوگئیں اور انہوں نے پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کی گھسی پٹی فلم دوبارہ چلا دی اس لئے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ بھارت کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی ترک کرکے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ چنانچہ مسئلہ کشمیر کے حل کے صرف دو راستے ہیں، ایک راستہ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام سے رائے شماری کرانے کا دکھایا ہے جس سے بھارت ہمیشہ اور مسلسل بدک رہا ہے اور وہ کشمیر پر اپنا تسلط برقرار رکھ کر اسے اپنی ریاست تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ دوسرا راستہ ہندو بنیاء سے طاقت کے زور پر کشمیر کی آزادی حاصل کرنے کا ہے۔ اگر بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پہلے راستے پر آنے سے بدکتا رہے گا تو پھر دوسرا راستہ اختیار کرنا پاکستانی اور کشمیری عوام کی مجبوری ہے۔ کشمیری عوام تو حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اسی راستے پر گامزن ہیں۔ اگر اس نازک اور اہم مرحلہ پر پاکستان کشمیری عوام کو اپنی جدوجہد میں تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیتا تو وہ اپنی اس جدوجہد کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ اب بھارتی حکومت اور فوج اس جدوجہد کو دبانے کا جو بھی حربہ اختیار کرے، کشمیر کی آزادی اور اسکے پاکستان کے ساتھ الحاق کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو کر رہے گا۔ کشمیر بنے گا پاکستان کی منزل اب زیادہ دور نہیں رہی۔
کالا باغ ڈیم… تباہی نہیں خوشحالی کا نشان ہے
ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور سیلاب نے مزید کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے پنجاب کے تین اور سندھ کے 9شہروں کے سیلاب میں ڈوب جانے کا شدید خطرہ ہے ۔
اقوامِ متحدہ نے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے 45 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی عالمی برادری سے اپیل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے عالمی برادری کو سیلاب زدگان کی امداد کرنے کیلئے بھی اپیل کی گئی ہے یہ اگرچہ بہت کم ہے لیکن فی الحال یہ امداد بے گھر ہونے والے اور کھلے آسمان کے نیچے پڑے سیلاب زدگان کو سہارا دے سکتی ہے۔ایگری فورم پاکستان کے صدر ابراہیم مغل نے پاکستان بھر میں فصلوں کی تباہی سے ہونے والے نقصان کا جو تخمینہ تیار کیا ہے اسکے مطابق سیلاب سے دو سو پچاس ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔
پاکستان میں ڈیمز کے ماہرین اور دنیا بھر میں آبی ذخائر تعمیر کرنے کے ماہرین پاکستانی حکام کویہ انتباہ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اگر ڈیم تعمیر کئے گئے ہوتے تو پاکستان بارشوں اور سیلاب کے اس پانی کو نہ صرف آئندہ کئی برسوں کیلئے زرعی مقاصد کیلئے سٹور کرسکتا تھا بلکہ اس سے ملک و قوم کو سستی انرجی حاصل کرنے میں بھی مدد ملتی اور پاکستان کے بڑے اور چھوٹے شہر اور اٹھارہ کروڑ عوام لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بھی نجات حاصل کرتے۔ سستی بجلی سے کارخانے اور فیکٹریاں چلتیں اور پاکستان میں غربت کی سطح سے نیچے رہنے والے عوام کو روزگار میسر آتا۔ مگر یہ سب کچھ بھگت کر بھی خیبر پی کے کے وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی نے نہ معلوم کس عالم میں یہ بیان دیا ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم ہوتا تو تباہی دس گنا زیاد ہ ہوتی۔ اسکے جواب میں کیا کہاجائے کہ امیر حیدر ہوتی۔ اتنے عذاب ناک حالات کے بعدبھی۔ اتنی تباہی اور بربادی دیکھ کر بھی آپ کی تکبر اور تعصب سے اکڑی ہوئی گردن اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ اور ہم سب کو معاف کردے ۔سیاست ملک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہوتی ہے ملک و قوم کی بربادی اور تباہی کیلئے نہیں۔ چودھری شجاعت حسین جیسا دانا و بینا سیاست دان آپ کو مشورہ دے رہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت چھوڑ دو۔ یہ تکنیکی معاملہ ہے ماہرین پر چھوڑ دو ۔ ملک بھر کے انجینئرز اور ڈیموں کے ماہرین اس سلسلہ میں جوبھی فیصلہ کریں اُسے قبول کرلیاجائے۔ اس پر سیاست نہ کی جائے۔ امیر حیدر ہوتی کو بھی یہی بات کہنی چاہئے۔
وفاقی حکومت اور صوبوں کو باہم مل کر سیلاب کی تباہ کاریوں اور اسکی وجوہات کا جائزہ لینا چاہئے۔ ان معاملات میں ڈیمز کی تعمیر بھی شامل ہے۔ ڈیمز کی تعمیر بہت ضروری ہے کیونکہ سیلاب کا جو تجربہ اب قوم کو ہوا ہے۔ یہ ملک اور قوم ایسا کوئی دوسرا تجربہ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی ۔ جو لوگ اس خوفناک تباہی کے باوجود ملک و قوم کی تعمیر نو اور خوشحالی و ترقی کیلئے اپنے تعصبات چھوڑنے کیلئے تیار نہیں، انہیں عوام، واپس اُنکے گھروں کو بھیج دینگے۔ محفوظ گھروں اور ہزاروں افراد کی سیکورٹی میں رہنے والوں کو یہ حق نہیں دیاجاسکتا کہ وہ سیلاب میں بہہ اور برباد ہوجانے والے عوام کی قسمتوں کا فیصلہ کریں۔اب قوم کے فیصلے سیلاب سے متاثر ،تباہ وبرباد ہونے والے ہی کریں گے۔
حکومت بڑھتی مہنگائی پر قابو پائے
رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنا شروع ہوگئی حکومتی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث دکانداروں نے من مانی قیمتیں مقرر کر رکھی ہیں۔ تمام ممالک اپنے مقدس ایام اور تہواروں میں ہر چیز پر خصوصی سبسڈی دیتے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں ان ایام اور تہواروں پر تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی آٹے ، دال ، چاول، گھی، چینی ، دودھ، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہوچکا ہے۔
ہمارے تاجر حضرات نے کیا خدا کو جان نہیں دینی، ان اشیاء کا سٹاک کرکے خود ساختہ مہنگائی پیداکرکے آخر وہ اپنے لئے برائی کو کیوں چُن رہے ہیں۔ اب ایل پی جی کی پیداواری کمپنیوں نے ایل پی جی کی قیمتوں میں یکدم15 روپے فی کلو اضافہ کردیا ہے گھریلو سلنڈر 177روپے مہنگا ہوا ہے اور یہ ہفتے میں دوسری مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ آخر حکومت نے اس مہنگائی پر کیوں چپ سادھ لی ہے وہ ان لوگوں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہی۔
حکومت قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کرنے اور مصنوعی مہنگائی پیداکرنے کیلئے اشیائے صرف ذخیرہ کرنیوالے تاجروں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور چیک اینڈ بیلنس سسٹم کو موثر بنائے تاکہ مقدس ایام میں عوام کے منہ سے کھانے کا نوالہ چھیننے والوں کا محاسبہ کیاجاسکے۔