صدر آصف علی زرداری نے یہ تاثر مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان (خدانخواستہ) تباہ ہونے والا ہے۔ ایک امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں صدر آصف علی زرداری نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مسلم انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی مدد کرے۔ پاکستان کو طالبان سے مسائل درپیش ہیں اور طالبان اکیسویں صدی کا چیلنج ہیں۔ طالبان سے لڑنے کیلئے پاکستان کو امریکی مدد کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے ناکام ریاست‘ تباہی کے دہانے پر پہنچے ہوئے ملک اور طالبانائزیشن کی زد میں آتے ہوئے معاشرے کا تاثر امریکہ کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں بشمول صدر بارک حسین اوبامہ‘ یہودی تھنک ٹینکس اور ذرائع ابلاغ نے پھیلایا۔ اپنی حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر صدر اوبامہ نے پاکستان کو ایک ایسی ریاست قرار دیا‘ جہاں نااہل حکومت لوگوں کو تعلیم‘ صحت‘ قانون کی حکمرانی اور سماجی انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہے لیکن ہمارے حکمرانوں نے ایسی بیہودہ باتیں کرنیوالوں کا منہ نوچنے‘ ’’شٹ اپ‘‘ کال دینے اور منفی پروپیگنڈے کا موثر و مسکت جواب دینے کے بجائے خود بھی یہ شور مچا دیا کہ طالبان اسلام آباد کے علاوہ پورے ملک پر قابض ہو سکتے ہیں۔ اسی افراتفری میں امریکہ نے مطالبات کی نئی فہرست سامنے رکھ دی اور سوات میں ملٹری اپریشن کے ذریعے پاک فوج کو ایک ایسی دلدل میں پھنسا دیا جس سے نکلنے کیلئے غیرمعمولی وسائل‘ طاقت اور دوراندیشی کی ضرورت ہے۔
جب کسی ملک کا سربراہ ہی بار بار یہ وضاحت کرے کہ پاکستان تباہ ہونیوالا نہیں اور وہ طالبان کا مقابلہ کر سکتا ہے تو لازماً عوام کے علاوہ دنیا کو پریشانی لاحق ہوتی ہے حالانکہ امریکی اخبارات اور چینلز سے انٹرویو میں سوال کرنیوالوں کو بآسانی یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ بحث آپکے غیرذمہ دار لیڈروں کی منفی بیان بازی‘ متعصب تجزیہ نگاروں کی تحریروں اور بھارتی پروپیگنڈے سے مرعوب دانشوروں کے یکطرفہ پروپیگنڈے کی وجہ سے شروع ہوئی ہے یا پھر موجودہ حکومت اور مجھ جیسے سیاست میں نوآموز لوگوں کے اقتدار میں آنے کا نتیجہ ہے ورنہ اٹھارہ کروڑ عوام کا نیوکلیئر ملک نہ تو اتنا کمزور ہے کہ اس پر رحمٰن ملک کے بقول صرف چار ہزار طالبان قبضہ کرلیں اور نہ اتنا گیا گزرا کہ اسے ناکامی سے دوچار کیا جا سکے۔
جہاں تک طالبان کا تعلق ہے‘ یہ نہ تو پاکستان کیلئے چیلنج ہیں اور نہ جدید ترین اسلحہ بشمول ایٹم بم اور پیشہ ورانہ تربیت کی حامل چھ لاکھ فوج کے ملک پر قبضہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ نے انکے ملک پر قبضہ کرکے خطے میں دہشت گردی کے نام پر جس جنگ کا آغاز کیا‘ اسکے نتائج پوری دنیا کی طرح پاکستان کو بھی بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اسی جنگ کو پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کا آغاز بھارت‘ اسرائیل‘ افغانستان اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے کیا اور افغان جنگ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں اور سوات تک پھیلا دیا۔ پاکستان کیلئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ امریکہ مخالف طالبان کا مقابلہ کرے یا بھارت کے تربیت یافتہ ان دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا قلع قمع جنہیں افغانستان میں تربیت ملی اور جو امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے علاوہ سوات میں جاری جنگ کا اہم فریق بھارت کے فرستادہ عناصر ہیں جن سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو اسلحہ‘ مالی وسائل اور جدید ہتھیار درکار ہیں مگر امریکہ کی سوئی طالبان پر اٹکی ہوئی ہے اور وہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر طالبان کے قبضے کا شوشہ چھوڑ کر پوری دنیا کو ’’یرکا‘‘ رہا ہے۔ بدقسمتی سے امداد کے حصول اور اقتدار کے تحفظ کیلئے صدر زرداری نے بھی انہی اصطلاحات کا سہارا لینا شروع کر دیا جو امریکی حکمرانوں اور میڈیا نے وضع کی ہیں اور جنہیں مسلم ممالک کے تمام حکمرانوں اور دانشوروں کو رٹنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
بھارت‘ سری لنکا‘ سوڈان اور دیگر کئی ممالک میں دہشت گردوں نے اودھم مچا رکھا ہے‘ بھارتی شیوسینا سے زیادہ انتہا پسند جماعت دنیا کے کسی خطے میں شائد موجود نہ ہو‘ جو تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھارت سے نکال باہر کرنے یا ختم کرنے کی علمبردار ہے ‘ مساجد اور گرجا گھر جلا رہی ہے مگر امریکی حکمرانوں‘ ذرائع ابلاغ اور انکے گماشتہ مسلم لبرلز نے ہندو انتہا پسندی کے بزور طاقت خاتمے کی نہ تو کبھی بات کی ہے اور نہ اسے اکیسویں صدی کا چیلنج قرار دیا ہے۔ دارفر کے عیسائی جنگجو بھی اس سے مستثنیٰ ہیں مگر مسلمان خواہ افغانستان اور فلسطین میں ہوں یا کشمیر اور چیچنیا میں‘ انہیں مسلم عسکریت پسند‘ انتہا پسند اور بنیاد پرست قرار دیکر پوری عالمی برادری کو ان کیخلاف آمادہ جنگ و جدل کیا جا رہا ہے حالانکہ پاکستان اور افغانستان میں قیام امن کی ضمانت صرف اس صورت میں مل سکتی ہے کہ امریکہ بوریا بستریا باندھے‘ فوجی انخلاء کے بعد جنگ کے نقصانات کے ازالے اور تعمیر و ترقی کیلئے اربوں ڈالر مختص کرے اور افغان عوام کو یہ موقع فراہم کرے کہ وہ اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق اپنے معاملات چلا سکیں۔ حکومت پاکستان کو بھی اب محض ڈالروں کی خاطر امریکی ایجنڈے کی تکمیل کا ارادہ ترک کرکے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے حکمت عملی وضع کرنی چاہئے۔ ہمیں اپنی جنگ اپنے وسائل سے لڑنی چاہئے اور اس کیلئے توہین آمیز امریکی امداد کی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے جنگ ختم نہیں ہو گی‘ اسکے شعلے مزید بھڑکیں گے۔
امریکہ یہ بوجھ بھی تو اٹھائے
سوات اور شانگلا میں جاری فوجی آپریشن کے دوران مبینہ شدت پسندوں کی ہلاکتوں کیساتھ ساتھ شہریوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ نقل مکانی کرنیوالوں کی نہ صرف تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے بلکہ انکے خوراک‘ رہائش‘ علاج معالجہ اور روزمرہ کے دیگر مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے واشنگٹن سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو فون کر کے انہیں آئندہ 48 گھنٹوں میں متاثرین سوات کے کیمپوں کا دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے آپریشن سے متاثر ہونیوالے لاکھوں افراد کی امداد و بحالی کیلئے اب تک کوئی ایسی سرگرمی نظر نہیں آ رہی جو انکے اطمینان کا باعث بن سکتی ہو۔
امریکی امداد کی خاطر اپنے شہریوں پر چڑھائی کر کے انہیں جس عذاب اور مشکلات سے دوچار کیا گیا ہے اور انہیں اپنے ہی وطن میں مہاجر بنایا گیا ہے‘ چاہئے تو یہ تھا کہ امریکی امداد کا خطیر حصہ انکی بحالی کیلئے بروئے کار لایا جاتا مگر انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ نتیجتاً ان کے مسائل اور دکھوں میں مزید اضافہ ہوا اور وہ اپنے حالات کی تلخیوں کیساتھ ساتھ موسم کی سختیاں بھی جھیل رہے ہیں۔ فوجی آپریشن اور جوابی کارروائیوں کے باعث نقل مکانی کرنیوالے قبائلی علاقوں کے باشندوں کی تعداد اس وقت دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور حکومت سرحد کے اپنے سروے کے مطابق کم و بیش اتنے ہی مزید باشندے نقل مکانی کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ہجرت قیام پاکستان کے بعد کا سب سے بڑا واقعہ ہے اور انکی بحالی میں حکومتی عدم دلچسپی اس سے بھی بڑا سانحہ ہے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے متاثرین آپریشن کیلئے پچاس کروڑ روپے کی امدادی رقم سرحد حکومت کو بھجوائی جا چکی ہے جسے سرحد حکومت نے ناکامی قرار دیا ہے جبکہ اب وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے پنجاب حکومت کی جانب سے ریلیف فنڈ قائم کیا ہے جس کے ماتحت امدادی سامان کے ایک سو ٹرک بھجوانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ فوجی آپریشن کی حامی کسی این جی او کو متاثرین کی امداد کیلئے اب تک کوئی کیمپ لگانے یا اپنے کروڑوں کے فنڈز میں سے کچھ رقم مختص کرنے کی توفیق نہیں ہوئی‘ متاثرین کی بحالی کیلئے بالخصوص حکومت کی سطح پر بے حسی انتہائی افسوسناک ہے جبکہ ملک کے یہ مجبور شہری حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں بھی اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اول تو صدر زرداری کو متاثرین کی بحالی کا سارا بوجھ امریکہ کو اٹھانے پر مجبور کرنا چاہئے کہ فوجی آپریشن اس خطہ میں امریکی مفادات کے تحفظ کی جنگ کا ہی تسلسل ہے اور اگر امریکہ یہ بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں تو پھر ہمارے حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ اس کی خاطر کیوں اپنے شہریوں کا خون بہا رہے ہیں اور ان کیلئے اپنے وطن میں غریب الوطنی کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ کیا ضروری نہیں کہ فوجی آپریشن فی الفور بند کر کے خود کو امریکی مفادات کی جنگ سے باہر نکال لیا جائے۔
کھاد پر سبسڈی میں کمی پر غور
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صوبوں بالخصوص پنجاب اور سندھ کی جانب سے گندم کی پیداوار کا ہدف حاصل کرنے کیلئے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پیپلز پارٹی کے روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نظریے کے تحت کسانوں کا معیار زندگی بہتر بنانا چاہتی ہے۔ گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کے بعد حکومت کھادوں پر سبسڈی بتدریج کم کریگی۔
رواں سال اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی اور کسانوں کی محنت سے گندم کی بہترین پیداوار ہوئی۔ یقیناً حکومت کی طرف سے بوائی سے قبل گندم کی امدادی قیمت کے اعلان نے کسانوں کو گندم کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے پر آمادہ کیا۔ گندم کا 65 لاکھ ٹن کا ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔ کٹائی ابھی بدستور جاری ہے۔ اب پاکستان لاکھوں ٹن گندم برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ضروری ہے کہ اگلے سال رواں سال کی نسبت زیادہ پیداوار حاصل کی جائے یہ اسی صورت ممکن ہے کہ حکومت کسانوں کو مزید سہولتیں دے۔ بھارت کے کشمیر سے آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کے باوجود بارشوں کی وجہ سے گندم کی فصل نقصان سے بچ گئی۔ حکومت قلیل المدتی کیساتھ ساتھ طویل المدتی پالیسیاں بھی تشکیل دے جس میں بھارت سے کسی بھی اپنے حصے کے پانی کی واگزاری اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر شامل ہے۔ سب سے اہم بیج‘ کھاد‘ ملاوٹ کے بغیر ادویات کسان کی پہنچ میں ہونی چاہئیں اور اس کی قوت خرید کیمطابق بھی۔ ایک طرف وزیراعظم کہتے ہیں کہ حکومت روٹی کپڑا اور مکان کے نظریے کے تحت کسانوں کا معیار زندگی بہتر بنانا چاہتی ہے۔ دوسری طرف وہ کھادوں پر سبسڈی ختم کرنا چاہتے ہیں جس سے لامحالہ کھادوں کی قیمت بڑھے گی حالانکہ کھاد کی قیمتوں میں دو تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر حکومت نے کسانوں کو سہولتیں فراہم نہ کیں تو خدشہ ہے کہ کسان بددل نہ ہو جائیں اور ہمیں پھر آٹے اور گندم کی قلت کا سامنا کرنا پڑے۔ اب تو ہم ماشاء اللہ گندم برآمد کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
من موہن کو مشرف کی یاد
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے دو سال قبل مشرف کیساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات حل کرنے پر رضا مند ہو گئے تھے‘ مشرف کے جسٹس افتخار کے تنازعہ سمیت اندرونی معاملات میں الجھ جانے کے باعث معاملات رک گئے اور تمام ڈیل پٹڑی سے اتر گئی۔
یہ دو سال کی بات تو نہیں‘ بہت پہلے پاکستان اور بھارت میں مذاکرات شروع ہو گئے تھے‘ تب جسٹس افتخار والا مسئلہ تو سرے سے موجود نہ تھا‘ مشرف آج بھی اقتدار میں ہوتے تو یہ بات چیت اور ڈیل کی ریل پٹڑی سے اتری ہوئی ہوتی۔ من موہن سنگھ نے یہ بھی کہا کہ موجودہ کمزور پاکستانی حکومت میں تعلقات کی بہتری کیلئے فیصلے کرنے کی اہلیت نہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ وہی انداز گفتگو ہے جو چند روز پہلے مسٹر اوباما نے اختیار کیا تھا۔ بھارت کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہا مگر وہ الزام پاکستان کو دیتا رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے بھی امریکہ کی طرح آمرانہ فوجی حکومت کو اس اہل سمجھا ہے کہ وہ بڑے فیصلہ کرے‘ کشمیر پر جب بھی مذاکرات رکے ہیں‘ بھارت کی جانب سے رکے ہیں۔ اب انہیں مشرف یاد آنے لگے ہیں‘ لیکن اس دور میں بھی بھارتی رویہ کشمیر کے مسئلے پر منفی ہی رہا۔ اگر بغور دیکھا جائے تو بھارت کے بیان میں امریکی سوچ کی جھلک نمایاں ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے بجائے بگاڑنے کی طرف زیادہ مائل ہے۔