این آر او کیس کے فیصلہ پر صدر اور وزیراعظم کا پارلیمنٹ میں جانے کا اعلان اور سسٹم کی بقاءکا تقاضہ .... فوری انتخابات کا انعقاد ہی اب حکمرانوں کے بچاﺅ کا واحد راستہ ہے

ـ 12 جنوری ، 2012
ایوان صدر اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی مشترکہ صدارت میں ہونیوالے حکومتی اتحادی جماعتوں کے قائدین نے این آر او کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ کے عبوری حکم کا جائزہ لیتے ہوئے گزشتہ روز اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتحادیوں نے تجویز دی کہ ایسی صورتحال سے بچا جائے جس سے اپوزیشن کو فائدہ پہنچے۔ اس سلسلہ میں اتحادیوں کی جانب سے یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ اداروں کے تصادم سے بچنے کیلئے مثبت اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ اجلاس میں صدر اور وزیراعظم دونوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور پارلیمنٹ اسکی نمائندہ ہے‘ ہم نہ کسی سے ڈرتے ہیں‘ نہ اتحادیوں کے سوا کسی اور کی بات مانیں گے۔ پارٹی اور اتحادی چاہیں تو ہم آج ہی انتخابات کرانے کو تیار ہیں۔ وزیراعظم گیلانی نے مزید کہا کہ ہمیں سزاﺅں سے نہ ڈرایا جائے‘ ہم نے زندگی کے انتہائی قیمتی سال جیلوں میں گزارے ہیں‘ جمہوریت کیلئے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور ہم آئندہ بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں۔ انکے بقول انہوں نے ریاستی امور فریضہ سمجھ کر چلائے‘ انہیں بددیانت کیسے قرار دیا جا رہا ہے؟ دریں اثناءایوان صدر میں ہونیوالے پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں بھی سپریم کورٹ کے عبوری حکم سے پیدا ہونےوالی صورتحال پر پارلیمنٹ میں غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس سلسلہ میں باور کرایا کہ ہر ادارہ پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے اور کوئی بھی مقدس گائے نہیں‘ ہم آئین کی پاسداری کیلئے کسی سے ڈکٹیشن نہیں لے سکتے۔
اگرچہ حکومتی اتحادیوں بالخصوص چودھری شجاعت حسین کی جانب سے حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت کو اداروں کے ساتھ ٹکراﺅ سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اخباری اطلااعات کے مطابق ایم کیو ایم بھی ٹکراﺅ کی حامی نہیں مگر پیپلز پارٹی کے قائدین اداروں کے ساتھ ٹکراﺅ پر مبنی اپنی پالیسیوں میں کسی قسم کی لچک پر آمادہ نظر نہیں آرہے اور این آر او کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کے سلسلہ میں گزشتہ روز سپریم کورٹ کا عبوری حکم صادر ہونے کے بعد جس تلخ لہجے اور جارحانہ انداز میں اس پر پیپلز پارٹی کے حکومتی اور جماعتی عہدیداروں کی جانب سے ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے‘ اس سے بادی النظر میں اسی تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ پیپلز پارٹی سپریم کورٹ کے احکام کی بنیاد پر سیاسی شہید بننے کا تہیہ کر چکی ہے اور کشتیاں جلا کر میدان میں اترنا چاہتی ہے۔ حکومتی اتحادیوں کے گزشتہ شب کے اجلاس کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی زیر گردش تھیں کہ صدر زرداری نے مستعفی ہونے پر آمادگی کا اظہار کردیا ہے تاہم ایوان صدر کے ترجمان نے اس تاثر کی سختی سے تردید کردی اور یہ باور کرانا بھی ضروری سمجھا کہ صدر مملکت نے کسی بھی موقع اور کسی بھی مرحلہ پر اپنے منصب سے مستعفی ہونے کی بات نہیں کی۔ خود صدر مملکت کی جانب سے دو روز قبل واشگاف الفاظ میں اعلان کیا گیا کہ حکومت اپنی آئینی ٹرم پوری کریگی۔ یہ اطوار تو اس امر کی ٹھوس گواہی دے رہے ہیں کہ حکمران اپنی ضد اور انا چھوڑنے پر قطعاً تیار نہیں‘ چاہے اس سے حکومت کے ساتھ ساتھ پورے سسٹم اور ملک کی سلامتی کو ہی کیوں نہ نقصان پہنچ جائے۔ اس صورتحال میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ حکومتی اتحادی بھی آخری وقت تک حکمران پیپلز پارٹی کے عزائم کے ساتھ ڈٹے رہیں گے۔ اگر اس مرحلہ پر حکومتی اتحادیوں مسلم لیگ (ق)‘ اے این پی اور ایم کیو ایم متحدہ میں کوئی ایک بھی اپنی مستقبل کی سیاست کو بچانے کیلئے حکومتی اتحاد سے باہر نکل آیا تو موجودہ حکمرانوں کے اقتدار کا اپنے تئیں مضبوط سمجھا جانےوالا محل ریت کا ٹیلہ بن کر زمین بوس ہو جائیگا‘ اگر حکمرانوں نے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی تو سپریم کورٹ کے وسیع تر بینچ میں این آر او کیس کی آئندہ تاریخ سماعت 16 جنوری سے پہلے ہی پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ جائیگا۔
اگر تو حکمرانوں نے طے کر رکھا ہے کہ انہیں اب جیسے بھی ہو‘ کان سے پکڑ کر ایوان اقتدار سے باہر نکال دیا جائے تو پھر حکمرانوں کی اپنی دعوت پر ”آئی“ کو کون ٹال سکتا ہے‘ ورنہ تو سپریم کورٹ نے خود اپنے عبوری حکم میں دیئے گئے آپشنز کے چھٹے نکتے کے تحت حکمرانوں کو اپنے بچاﺅ کا راستہ سجھا دیا ہے جس کے تحت حکومت اپنے اتحادیوں ہی نہیں‘ اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے کر فوری انتخابات کے انعقاد کا اعلان کرکے عوام کا فیصلہ لے سکتی ہے۔ اگر آج حکومت انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دے تو اس سے حکومت کیلئے پیدا ہونیوالی تلخ اور ناخوشگوار صورتحال بھی تبدیل ہو جائیگی اور سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیاں شروع ہونے سے موجودہ محاذآرائی کی کیفیت میں بھی کمی واقع ہو جائیگی اور ممکن ہے اپنے پیش کردہ آپشن کی بنیاد پر سپریم کورٹ کو بھی یہ صورتحال قابل قبول ہو‘ چنانچہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو اس وقت حکمرانوں کو تاریخ کے صفحات میں گم ہونے سے بچا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں حکومتی اتحاد بھی انتخابی اتحاد میں تبدیل ہو کر برقرار رہ سکتا ہے اور این آر او کیس اور میمو کیس کے حوالے سے حکومت پر بڑھنے والا دباﺅ بھی کسی حد تک کم ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر حکمرانوں نے سیاسی خودکشی کی ہی ٹھان رکھی ہے تو اس کیلئے انکی منزل بہت قریب آچکی ہے کیونکہ حکمرانوں نے اپنے کردار اور کارکردگی کے حوالے سے کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں چھوڑا جس کی بنیاد پر انکے ساتھ کسی ہمدردی کی کوئی گنجائش نکل سکتی ہو۔ جب انکے اقدامات اور پالیسیوں سے عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہو رہا ہو‘ نہ ملک کی سلامتی کے تقاضے پورے ہو پا رہے ہوں تو اپنے کس کریڈٹ کی بنیاد پر حکمران اداروں کے ساتھ ٹکراﺅ کی پالیسی برقرار رکھتے ہوئے اور آئین و انصاف کی عملداری کو پامال کرتے ہوئے عوام سے ہمدردی کا ووٹ حاصل کر پائینگے۔
اس صورتحال میں تو حکمرانوں کے بچاﺅ کا یہی واحد راستہ ہے کہ وہ آئین اور انصاف کی عملداری کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے این آر او کیس سمیت عدلیہ کے تمام فیصلوں کو انکی روح کے مطابق لاگو کر دیں‘ میموکیس میں سپریم کورٹ کے تشکیل کردہ جوڈیشنل کمیشن کی خلوص دل کے ساتھ معاونت کرتے ہوئے اسکے احکام کی تعمیل کو یقینی بنائیں اور پھر اس کریڈٹ کو اپنی جھولی میں ڈال کر انتخابات کے ذریعے عوام کے پاس چلے جائیں‘ تاہم اس کیلئے انکے پاس وقت انتہائی محدود ہے‘ انہیں 16 جنوری سے پہلے پہلے بہرصورت تمام معاملات طے کرنا ہونگے اور اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرنا ہو گا۔لیکن صدر صاحب دبئی جانے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں‘ وہاں شاید کسی کا مشورہ لازمی ہو۔ اگر انہوں نے ہٹ دھرمی ترک نہ کی اور آئین و انصاف کے ساتھ سرکشی کی روش برقرار رکھی تو پھر انکی محض انا کی تسکین کی خاطر ملک کو لاقانونیت‘ انارکی اور تباہی کی جانب تو نہیں دھکیلا جا سکتا‘ ملک اور سسٹم کو بچانے کیلئے حکمرانوں سے خلاصی پانے کا کوئی بھی قابل عمل فارمولا آئین کے فریم ورک میں رہتے ہوئے نکالا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن اور جعلی ووٹر لسٹوں سے متعلق معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ باور کرا چکے ہیں کہ ان جعلی ووٹرز لسٹوں کی بنیاد پر اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے بغیر منتخب ہو کر آنیوالے ارکان پارلیمنٹ کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔ اگر اس بنیاد پر ہی موجودہ پارلیمنٹ غیرآئینی قرار دے دی گئی تو بھی پارلیمنٹ کے ازسرنو انتخابات ہی کرانا پڑیں گے جبکہ پارلیمنٹ کالعدم ہو گی تو اس سے وابستہ حکمران بھی کالعدم ہو جائینگے اور پھر امور ِحکومت و مملکت خلا میں تو سرانجام نہیں دیئے جائینگے۔ لازماً عبوری سیٹ اپ لانا پڑیگا جس کے ماتحت ووٹرز لسٹوں کی ازسرنو تیاری کے بعد نئے انتخابات کرائے جا سکیں گے۔ کیا اس ساری صورتحال کا حکمرانوں کو ادراک نہیں؟ اگر انہوں نے اپنی کرپشنوں کی پردہ پوشی کیلئے دمادم مست قلندر کی ہی ٹھانی ہوئی ہے تو کسی کا ”حسن کرشمہ ساز“ انہیں راہ راست پر نہیں لا سکتا اور انہیں اس خوش فہمی میں ہرگز نہیں رہنا چاہیے کہ ان کا دم بھرتے ہوئے انکے اتحادی بھی انکے ساتھ ہی خود کو اندھے کنویں کی جانب دھکیل دینگے۔ شاید وہ انکی دانستہ سیاسی خودکشی پر آنسو بہانے پر بھی آمادہ نہ ہوں۔
پیر پگاڑا، مسلم لیگوں کے اتحاد کی حسرت لئے چل بسے
حروں کے روحانی پیشوا اور معروف سیاستدان سید علی مردان شاہ المعروف پیر صاحب پگاڑا شریف گزشتہ روز لندن کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے، جہاں پیر صاحب کا انتقال انکے مریدین اور عقیدت مندوں کےلئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، وہیں انکی سیاسی خدمات طویل عرصہ تک یاد رکھی جائیں گی۔ وہ اپنی جولی طبیعت کے باعث ہر محفل اور مجلس کی جان ہوا کرتے تھے۔ ان کی سیاسی پیشنگوئیاں عوامی اور سیاسی حلقوں میں دلچسپی سے سنی جاتی تھیں۔پیر صاحب بڑے سیاستدان ضرور تھے لیکن اقتدار اور عہدوں کے لالچ سے مبرا تھے۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے اپوزیشن الائنس پاکستان نیشنل الائنس کے سربراہ بھی رہے۔ ضیاءالحق نے غیر جماعتی الیکشن کرا کے حکومت محمد خان جونیجو کے حوالے کی تو وہ پگاڑا کی قیادت میں مسلم لیگ کے کارکن تھے۔ غیر جماعتی پارلیمنٹ کو جماعتی پارلیمنٹ بنانے کیلئے جنرل ضیاءکو مسلم لیگ کی ضرورت محسوس ہوئی تو پیر پگاڑا نے مسلم لیگ کی قیادت محمد خان جونیجو کے حوالے کر دی۔ اسکے بعد مسلم لیگ مزید ٹکڑوں میں بٹی۔ پیر پگاڑا نے فنکشنل لیگ تشکیل دیدی جس کے وہ تادم آخر صدر تھے۔ پیر صاحب ہر دور میں مسلم لیگوں کے اتحادی کے حامی رہے تاہم دو سال قبل انہوں نے کوششیں تیز تر کر دیں۔ ظفر اللہ جمالی کو انہوں نے مسلم لیگوں کے اتحاد کیلئے کوارڈی نیٹر مقرر کیا لیکن بدقسمتی سے بڑے مسلم لیگی دھڑوں کے رہنماﺅں کی اَنا آڑے آئی۔ یوں پیر صاحب کی کوششیں بار آور نہ ہو سکیں۔ پیر پگاڑا کی یہ کوشش کسی بھی منفعت کے بغیر تھی۔ انہوں نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں مسلم لیگوں کے اتحاد کے حوالے سے ہونےوالی تقریبات میں پیغام بھجوایا تھا کہ ان کو کسی عہدے کا لالچ نہیں، مسلم لیگوں کا اتحاد ہونا چاہیے اس کی قیادت میرے سوا کسی کو بھی دیدی جائے۔ پیر صاحب دل میں مسلم لیگی دھڑوں کے اتحاد کی حسرت لیے چل بسے۔ مسلم لیگوں کا اتحاد پیر صاحب کا مشن تھا، جس کی تکمیل مسلم لیگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ہو سکتی ہے۔ مسلم لیگی دھڑے اگر متحد ہو جاتے ہیں تو یہی پیر صاحب کیلئے ان کی طرف سے زبردست خراج عقیدت ہو گا۔ پاکستانی سیاست میں پیر صاحب کا خلا پُر ہونا ممکن نہیں، خدا ان کو جوارِ رحمت میں جگہ اور انکے خاندان ، مریدین اور عقیدت مندوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر شبنم افشانی کرے۔
ڈرون حملے پھر شروع! آخر جواب کب دیا جائیگا؟
ڈیڑھ ماہ کے وقفے سے امریکہ نے ڈرون حملوں کا سلسلہ پھر شروع کر دیا۔ گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں حملہ کرکے چار افراد کی جان لے لی۔
سلالہ چیک پوسٹ پر 25 اور 26 نومبر کی درمیانی شب نیٹو ہیلی کاپٹروں کی بمباری سے 26پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد عسکری قیادت نے سخت موقف اختیار کیا، جس کی تائید سیاسی قیادت نے بھی کی۔ اسکے بعد نیٹو سپلائی بند کی گئی اور شمسی ایئر بیس بھی خالی کرا لیا گیا۔ سیاسی و عسکری قیادت نے بار بار کہا کہ آئندہ ایسی کارروائی ناقابل برداشت ہو گی۔ امریکہ نے شمسی ایئر بیس خالی کرتے ہوئے وہاں سے ڈرون افغانستان منتقل کر لیے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ڈرون افغانستان سے اپنا آپریشن جاری رکھیں گے۔ جس پر پاکستان نے پھر شدید ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے حملہ کیلئے پاکستان داخل ہونےوالے ڈرون مار گرانے کا عزم ظاہر کیا۔
امریکی جارحیت کےخلاف حکومت نے جو اقدامات کیے، پوری قوم کی ان کو تائید حاصل تھی۔ لوگوں کو یقین تھا کہ امریکہ اب پاکستان کے اٹل موقف کے باعث پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کرےگا لیکن امریکہ کے تازہ ترین حملہ اور اس پر پاکستانی حکومت کی خاموشی قوم کیلئے دھچکے سے کم نہیں۔ امریکہ کی طرف سے یہ ڈرون ایک ٹیسٹ کیس ہو سکتا ہے۔ اگر اس پر شدید ردّ عمل ظاہر نہ کیا گیا تو ڈرون پہلے کی طرح بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہیں گے۔ وزیر اعظم قومی سلامتی کےخلاف کسی بھی اقدام کو ناقا بل برداشت قرار دیتے رہتے ہیں۔ کیا یہ حملہ قومی سلامتی کےخلاف نہیں؟ اگر یہ کسی معاہدے کا حصہ ہے تو وہ پاکستان دشمنی پر مبنی معاہدہ اور معاہدے پر دستخط کرنےوالوں کی اصلیت قوم پر واضح کی جانی چاہیے۔ ضرورت تو امریکہ کی جنگ سے مکمل لاتعلقی اور علیحدگی کی تھی‘ ڈرون حملے برداشت کرکے لگتا ہے کہ حکمرانوں نے پھر سے امریکہ کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو قومی غیرت کو ڈالروں میں تولنے کے مترادف ہے جو قوم کیلئے ناقابل برداشت ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں