بھارت نے دریائے چناب کا پچاس فیصد پانی روک لیا ہے جس کے باعث مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج پانچ ہزار دو سو کیوبک فٹ رہ گیا ہے۔ آبی ماہرین کیمطابق جنوری میں مرالہ کے مقام پرپانی کی آمد دس ہزار کیوبک فٹ ہونی چاہئے جو بھارت کی جانب سے پانی روکے جانے کے باعث آدھی رہ گئی ہے۔ کشمیر کے راستے پاکستان آنیوالا دریائے جہلم بھارتی آبی دہشت گردی کے باعث پہلے ہی خشک ہو چکا ہے جبکہ ارسا نے منگلا ڈیم سے پانی کا اخراج دس روز کیلئے بند کر دیا ہے نتیجتاً منگلا ڈیم کے تمام پیداواری یونٹ بھی بند ہو جائیں گے جس سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔
اس وقت دیہی علاقوں میں پہلے ہی 18 اور شہری علاقوں میں 12گھنٹے روزانہ کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے اب دریائے چناب کا پانی کم ہونے اور منگلا ڈیم سے پانی کا اخراج بند کئے جانے سے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ مزید گھمبیر ہوسکتا ہے جبکہ لوڈ شیڈنگ کے باعث پہلے ہی قومی معیشت مفلوج ہو چکی ہے، کاروبار حیات ٹھپ ہو چکا ہے،صنعتیں بند ہو رہی ہیں، سرکاری اور نجی دفاتر کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور بے روزگاری نے متوسط اور غریب طبقات کیلئے زندگی گزارنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ جبکہ جہلم اور چناب کا پانی بند ہونے سے نہریں بھی خشک ہو گئی ہیں، آبپاشی کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ نتیجتاً ہمیں بدترین خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم گندم کے دانے دانے کو ترسیں گے، دھان اور گنے کی کاشت بھی ناممکن ہوجائے گی حتیٰ کہ مویشیوں کیلئے چارہ بھی دستیاب نہیںہوسکے گا۔
یہی وہ ممکنہ حالات ہیں جو ہمارے مکار دشمن بھارت کیلئے ہماری گردن پر انگوٹھا رکھ کر ہمیں اپنا مطیع بنانے، بھوکا پیاسا مارکر صفحۂ ہستی سے مٹانے اور اکھنڈ بھارت کے دیرینہ خواب کو شرمندۂ تعبیر بنانے کیلئے سازگار ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ ہمارا یہ شاطر دشمن تو ہماری سالمیت کے خلاف اپنی مذموم سازشوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے تمام چالیں کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے مگر ہماری سیاسی حکومتی قیادتیں خواب خرگوش میں پڑی اس وطن عزیز کو اسکے ازلی دشمن کیلئے آسان چارہ اور ترنوالہ بنانے کا خود ہی موقع فراہم کر رہی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ہماری سالمیت کے درپے بھارت کو ہمارے ایٹمی قوت ہونے کے باعث 1971ء کے بعد سے اب تک ہماری جغرافیائی سرحدوں پر کسی قسم کی جارحیت کی جرأت نہیں ہوسکی۔ اگر ہم خدا کے فضل و کرم اور اپنے قابلِ فخر ایٹمی سائنسدانوں کے جذبے اور محنت شاقہ سے ایٹمی قوت سے سرفراز نہ ہوئے ہوتے تو ہمیں پہلے دن سے آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے قبول نہ کرنے والا بھارت سقوط ڈھاکہ کے بعد ہمیں کب کا ہڑپ کر چکا ہوتا۔ اسے اب اپنی دفاعی برتری کے زعم میں آئے روز گیدڑ بھبکیاں دینے کے باوجود ماضی کی طرح ہم پر جنگ مسلط کرنے کی تو جرأت نہیں ہو رہی مگر اس نے ہمیں کمزور کرنے کیلئے ہمارے خلاف آبی دہشت گردی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاکہ ہم صومالیہ، ایتھوپیا جیسے حالات کا شکار ہو کر بے جان مرغی کی طرح اس کی چھری کے نیچے آجائیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ہماری حکومتی قیادتیں بھارتی سازشوں کے پیدا کردہ حالات کی نزاکت کو بھانپ کر کوئی ٹھوس، مربوط اور جامع حکمت عملی طے کرتیں۔ عالمی بنک اور اقوام عالم کو سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں مذموم بھارتی سازشوں سے آگاہ کیا جاتا اور ہمارے حصے کا پانی روکنے کی پاداش میں اس پر اتنی پنلٹی ڈلوائی جاتی کہ آئندہ وہ ہم پر اس آبی دہشت گردی کی جرأت نہ کرپاتا مگر بدقسمتی سے مشرف کے جرنیلی دور آمریت میں بھی اور اب جمہوری حکمرانوں کے دور میں بھی بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نہ صرف نوٹس نہیں لیا گیا بلکہ اپنی بے تدبیریوں اور بدنظمیوں کے باعث اسے ہماری جانب آنیوالے دریائوں پر 62 سے زائد ڈیم تعمیرکرنے کا بھی موقع فراہم کیا گیا۔ نتیجتاً آج بھارت ہماری زرخیز زمین کو ریگستان میں تبدیل کرنے کی سازشوں میں کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے۔
سندھ طاس واٹر کونسل کے چیئرمین حافظ ظہورالحسن ڈاہر تو گذشتہ طویل عرصہ سے کلبلا رہے ہیں کہ بھارت ہم پر آبی دہشت گردی کا مرتکب ہو چکا ہے اور ہمارا پانی روک کر ہمیں بھوکا پیاسا مارنا چاہتا ہے۔ گزشتہ روز بہاولپور میں سابق وفاقی وزیر سینیٹر محمد علی درانی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس گھنائونی بھارتی سازش کیخلاف پرجوش احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے اور اہل اقتدار کو اس سنگین مسئلہ کی جانب متوجہ کیا ہے مگر ہمارے حکمرانوں نے نہ صرف انکی تشویش کی جانب توجہ نہ دی بلکہ سندھ طاس واٹر کمیشن کے پاکستان کے نمائندے سید جماعت علی شاہ نے پانی کے تنازعہ پر بھارت میں ہونیوالے دوطرفہ مذاکرات میں شریک ہو کر اپنے اس مکار دشمن کو سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہو رہا چنانچہ ہماری دی گئی ڈھیل کے نتیجہ میں آج بھارت کے حوصلے اتنے بلند ہو چکے ہیں کہ اس نے ہماری جانب آنیوالا جہلم کا پانی مکمل بند کر دیا ہے جس پر وزیراعظم آزادکشمیر بے بسی میں خون کے آنسو روتے نظر آتے ہیں جبکہ اب ہمارے اس موذی دشمن نے چناب کا بھی آدھا پانی بند کر دیا ہے چنانچہ بدترین قحط سالی کی شکل میں ہمارا مستقبل بھی دیوار پر لکھا نظر آ رہا ہے۔
آبی ماہرین کا یہ کہنا بجا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین اگلی جنگ پانی پر ہو گی کیونکہ بھارت ہمارا پانی روکے رکھنے کی نیت سے ہی کشمیر پر تسلط جمائے ہوئے ہے اور ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے بھی بدک رہا ہے۔ اس سلسلہ میں گذشتہ روز بھارتی سیکرٹری خارجہ نیروپما رائو نے بھی ایک بھارتی جریدے کو اپنے انٹرویو میں باور کرایا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات جلد شروع ہوتے نظر نہیں آتے۔ ہماری سالمیت کے خلاف بھارتی نیت تو بالکل واضح ہے اور اسکی مذموم منصوبہ بندی کے زہریلے اثرات نظر آنا بھی شروع ہو گئے ہیں مگر ہماری جانب سے ان بھارتی سازشوں کے توڑ کی نہ تو کوئی منصوبہ بندی نظر آ رہی ہے اور نہ ہی ہمارے حکمرانوں کو بھارتی آبی دہشت گردی سے ملک کو بچانے کی کوئی فکر لاحق ہے۔ بھارت کیساتھ ’’امن کی آشا‘‘ کا راگ الاپنے والوں کو بھی اب سوچنا چاہئے کہ وہ دانستہ یا نادانستہ ہمیں صفحۂ ہستی سے مٹانے کی بھارتی ازلی خواہش کی تکمیل کیلئے اس کے ہاتھ کیوں مضبوط کر رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے صدر آصف علی زرداری نے کشمیر کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے حوصلہ افزاء اعلان کیا تھا کہ بھارت کے ساتھ کشمیر اور پانی کا تنازعہ طے کئے بغیر پائیدار دوستی اور علاقائی امن کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔ اس لئے جس طرح ہم نے پاکستان حاصل کیا اسی طرح اب کشمیر بھی حاصل کریں گے۔ اب جبکہ بھارت ہمارے خلاف آبی دہشت گردی کی انتہاء تک پہنچ گیا ہے تو صدر زرداری کو اس نازک اور سنگین ایشو پر فی الفور تمام قومی سیاسی قائدین کی گول میز کانفرنس بلا کر انہیں اعتماد میں لینا چاہئے اور بھارتی دہشت گردی کا توڑ کرنے کی جامع قومی پالیسی کا اعلان کرنا چاہئے بصورت دیگر سوائے پچھتاوے کے ہمارے کچھ ہاتھ نہیں آئیگا۔
جنرل پیٹریاس کی دھمکیاں او آئی سی جاگ جائے
امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ امریکہ کی دہشت گردی کیخلاف جنگ کا مرکز یمن نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے ہیں۔ پاکستان افغانستان سرحد امریکہ کیلئے تشویش کا باعث اور یہ علاقہ ہماری توجہ کا مرکز ہے۔ جنرل پیٹریاس نے ایران کے حوالے سے کہا کہ ایرانی تنصیبات سے نمٹنے کیلئے کئی منصوبے بنا رکھے ہیں، یقیناً ایٹمی تنصیبات پر بمباری ہو سکتی ہے۔ القاعدہ، پاکستان اور افغانستان میں دباؤ بڑھنے کے باعث اب یمن منتقل ہو رہی ہے۔
بش نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کو صلیبی جنگ قرار دے کر ہی دو درجن سے زائد عیسائی ممالک کو اس جنگ کیلئے فوجیں بھیجنے پر آمادہ کیا تھا۔ بش نے ایک مرتبہ کھلے عام بھی اس جنگ کو صلیبی جنگ قرار دیا تھا۔ اسلامی دنیا کے احتجاج اور اسلامی ممالک کے تعاون سے محروم ہونے کے خدشے کے باعث بش نے دوبارہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا۔ عام مسلمانوں کو تو یقین ہے کہ امریکہ اور اسکے اتحادی اسے صلیبی جنگ سمجھ کر ہی لڑ رہے ہیں لیکن اکثر مسلم حکمران صرف ذاتی مفادات کے پیش نظر اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر افغانستان اور عراق کو مکمل طور پر تباہ کرایا گیا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیکر پاک فوج اور عوام کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ڈرون حملوں کا کوئی تدارک نہیں جس کے ردعمل میں پورا ملک خود کش دھماکوں اور بم حملوں سے لرز رہا ہے۔ بچوں خواتین سمیت معصوم لوگوں کا خون بہہ رہا ہے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی کی صورت میں قومی بجٹ کے مجموعی حجم سے بھی زیادہ نقصان ہو چکا ہے۔ امریکہ شام کو دھمکیاں دے چکا ہے ایران کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتا چلا آیا ہے اب تنصیبات پر باقاعدہ حملے کی دھمکی دیدی ہے۔ اسے القاعدہ کی یمن منتقلی نظر آ رہی ہے اگر القاعدہ قیادت یمن منتقل ہوگئی ہے تو پاکستان میں کارروائیوں اور ڈرون حملوں کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔ اب امریکہ یمن میں ان کا پیچھا کرے لیکن امریکہ کے دہشت گردی کیخلاف جنگ کی آڑ میں دوسرے مقاصد ہیں۔ اسلامی دنیا اس کی نظر میں کھٹکتی ہے کہ دہشت گردی کا لیبل لگوانے کی سازشوں کے باوجود دنیا میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک میں لوگ دھڑا دھڑ اسلام کی حقانیت پر ایمان لا رہے ہیں جس سے امریکہ اور اسی قبیل کے دوسرے ممالک کی تکلیف میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اسکی جنگ میں یہ تمام عوامل شامل ہیں اور وہ ایک ایک اسلامی ملک کو تباہی و بربادی سے دوچار کرتا چلا جا رہا ہے۔ ان حالات میں جہاں پر اسلامی ملک کو خبردار اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے وہیں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی بھی جاگے۔ اسلامی ممالک کو متحد کرے اور طاغوت کی سازشوں کو بے نقاب اور ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی مثبت پیشکش
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ صدر زرداری اور میں مستعفیٰ ہو کر عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔ صدر چاہیں تو مرضی کا بنچ بنا لیں۔ جو بھی فیصلہ ہو گا ہمیں قبول ہو گا اگر میرے یا میرے خاندان کے کسی فرد کیخلاف کوئی فیصلہ ہوا تو ہم عمر بھر کیلئے گوشہ نشین ہو جائینگے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مثبت تجویز پیش کی ہے اسے تسلیم کرنے میں صدر آصف زرداری اور انکے ساتھیوں کی طرف سے کوئی عار نہیں ہونی چاہئے۔ آج جب سیاست میں ایک دوسرے پر کرپشن لوٹ مار‘ قرض معاف کرنے اور کرانے کے الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے تو بے لاگ احتساب سے مکدر فضا صاف اور واضح ہو جائیگی جس سے نہ صرف ناجائز طریقوں سے اکٹھی کی گئی دولت قومی خزانے میں واپس آ سکتی ہے بلکہ مستقبل میں بھی لوٹ مار اور کرپشن کے راستے بند ہو جائینگے۔
این آر او سے فوائد حاصل کرنے والوں کی لسٹ سامنے آئی ہے تو ہر کوئی خود کو بے گناہ ظاہر کر رہا ہے۔ قرض معاف کرانے والوں کے ناموں سے پردہ اٹھا تو ہر کوئی خود کو پارسا ثابت کرنے پر تلا ہے۔ مشیر خزانہ کہہ چکے ہیں کہ صرف ایف بی آر میں سالانہ 5کھرب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ اسی طرح ہر ادارے اور شعبے میں لوٹ مار کی داستانیں عام ہیں لیکن گرفت میں کوئی نہیںآتا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جس کھلے دل اور صاف گوئی سے پیشکش کی ہے صدر اور ا نکے ساتھیوں کو بھی اس کا اسی انداز سے جواب دینا چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
ادویہ ساز کمپنیوں کی ملی بھگت اورڈاکٹرز
سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز‘ پروفیسرز‘ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بن گئے ہیں‘ ڈاکٹروں کو غیرملکی دوروں کا لالچ دینے سے ہسپتالوں کی فارمیسیوں پر جعلی ادویات کی بھرمار ہو گئی ہے۔ محکمہ صحت اور صوبائی وفاقی حکومت کے نگران ادارے اس ساری صورتحال کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔ محکمہ صحت سے ملنے والی معلومات کیمطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران 213 پروفیسروں جبکہ 387 ڈاکٹروں کو یورپ امریکہ سمیت کئی ممالک کے دورے کرائے گئے ہیں جسکے عوض سرکاری ہسپتالوں کی فارمیسیوں کو گیارہ بڑی کمپنیوں کے ٹھیکے بھی دیئے گئے۔ اس دوران ان فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے متعدد ادویات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا‘ خصوصاً جان بچانے والی لازمی ادویات کی قیمتیں دو برسوں میں دوگنا کردی گئی ہیں جن میں ذیابیطس کی ادویات اور انسولین کی مختلف اقسام بھی شامل ہیں۔ ہسپتالوں میں جو مریض داخل ہیں‘ ڈاکٹر انکے نسخوں پر جو ادویات لکھتے ہیں‘ ہسپتال کی فارمیسیوں پر یہی ادویات جعلی بھی موجود ہوتی ہیں۔ آپریشن کرانیوالے مریضوں سے آپریشن سے قبل تمام ادویات منگوالی جاتی ہیں اور آپریشن کے دوران انکے ورثاء کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ مزید ادویات لائیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ادویہ ساز کمپنیوں نے گزشتہ دو برسوں میں ادویات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا ہے‘ اسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور ادویات کی قیمتیں وہی بحال کی جائیں جو دوبرس قبل تھیں اور جعلی ادویات کا خاتمہ کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔