حکومت کمزور ہو سکتی ہے‘ ایٹمی پاکستان بطور ریاست کمزور یا ناکام نہیں

ـ 12 فروری ، 2012
حکمران عزم کرلیں تو پاکستان بحرانوں اور مشکلات سے نکل سکتا ہے
برطانوی جریدے اکانومسٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کمزور ریاست ہے اور حکومت کو قانون پر عملدرآمد میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وزیراعظم گیلانی ہر بار ہلاکتوں کے پیچھے غیرملکی ہاتھ کا اشارہ دیتے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ چار برسوں میں 30 ہزار افراد دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ بلوچستان میں گزشتہ برس 300 جبکہ کراچی میں چار سال کے دوران سات ہزار افراد قتل کر دیئے گئے۔ پاکستان میں ان ہلاکتوں کا الزام امریکی جنگ پر نہیں تھوپا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیاست دان‘ صحافی اور دیگر طبقے محفوظ نہیں۔ پاکستان کے تمام اخبارات دہشت گرد حملوں‘ خواتین سے زیادتی‘ غیرت کے نام پر قتل‘ اغواءاور پرتشدد واقعات سے بھرے ہوئے ہیں۔ یقیناً یہ غیرقانونی فعل ہیں لیکن ریاست اتنی کمزور ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ بہت کم ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکا۔ اکانومسٹ کی رپورٹ کے بعض مندرجات سے اختلاف کے باوجود اسے مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ مغربی میڈیا حقائق کے ساتھ ساتھ غیرمحسوس انداز میں رائے عامہ کو اپنے مقاصد کیلئے گمراہ کرنے کا وتیرہ اپنائے ہوئے ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں جہاں قانون پر عملدرآمد میں حکومت کی عدم دلچسپی کی درست نشاندہی کی گئی‘ وہیں ریاست کو کمزور قرار دیکر اپنے خبث باطن کا اظہار بھی کیا گیا۔ مغربی میڈیا کا پاکستان سے پرخاش رکھنے والا ایک طبقہ اور کچھ پاکستانی بزعم خویش دانشور بھی پاکستان کو ناکام ریاست قرار دیتے رہتے ہیں جبکہ پاکستان بطور ریاست کبھی ناکام یا کمزور تھا نہ اب ہے۔ البتہ حکومتیں بالخصوص موجودہ حکومت ناکام ضرور ہو سکتی ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور وسائل سے مالامال ملک ہے‘ اسکے پاس ہر شعبہ میں اعلیٰ مہارت کے حامل لوگ اور محنتی افرادی قوت موجود ہے۔ اگر وسائل‘ مہارت اور افرادی قوت سے استفادہ نہ کیا جائے تو کمزور ریاست نہیں‘ بلکہ یہ بدعملی اور بدنظمی حکومت اور حکمرانوں کے حصے میں آتی ہے۔ پاکستان میں ہونیوالے جن جرائم کی اکانومسٹ نے نشاندہی کی ہے‘ ان میں یقیناً حکومت کی نااہلی اور نالائقی کا عمل دخل ہے لیکن کراچی اور بلوچستان میں ہونیوالی ہلاکتوں اور انارکی میں غیرملکی ہاتھ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسال قبل شرم الشیخ میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کو ”را“ کے بلوچستان میں مداخلت کے ثبوت بھی فراہم کئے تھے۔ منموہن نے واپس جا کر نوٹس لینے کا وعدہ کیا۔ یہاں منموہن نے کوئی نوٹس نہیں لیا‘ وہیں حکومت پاکستان نے بھی بھارتی مداخلت کے خاتمہ کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ وزیر داخلہ رحمان ملک بھی آئے روز غیرملکی مداخلت کی بات کرتے نظر آتے ہیں لیکن حکومتی سطح پر کوئی ایسا ایکشن نہیں لیا جاتا جس سے یہ تاثر مل سکے کہ حکومت اپنے فرائض کی ادائیگی میں مخلص اور مستعد ہے۔ البتہ امریکی اشارے پر اپنے ہی لوگوں کےخلاف اپریشن کرکے انہیں غائب ضرور کر دیا جاتا ہے۔ آج پاکستان اور پاکستانیوں کو جن بحرانوں‘ مسائل اور مصائب کا سامنا ہے‘ اسکی بڑی وجہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی وہ صلیبی جنگ ہے جسے انہوں دہشت گردی کی جنگ قرار دیکر پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کو بھی ساتھ ملا لیا ہے۔ پاکستان کے اس جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی بننے سے ملکی معیشت زوال پذیر ہوئی‘ پانچ ہزار فوجیوں سمیت چالیس ہزار سے زائد شہری اس جنگ کا ایندھن بن گئے اسی نامراد جنگ کے باعث خودکش حملوں اور بم دھماکوں سے ملک کا کوئی حصہ محفوظ نہیں۔ پاکستان کو جنگ لڑنے کے معاوضے کے طور پر 9 ارب ڈالر ادا کئے گئے جبکہ نقصان 70 ارب ڈالر کے قریب ہو چکا ہے۔ ایک طرف پاکستانیوں کیلئے یہ جنگ سوہانِ روح ہے‘ دوسری طرف اعلیٰ سے نچلی سطح تک سالانہ کھربوں روپے کی کرپشن نے ملکی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج حکمران تو خوشحال ہیں لیکن عام آدمی کیلئے تن و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ ہمارے مسائل اگر غیرملکی مداخلت‘ دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ کے باعث بھی ہیں تو ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا جائیگا۔ یہ غیرملکی مداخلت کیوں نہیں روکتی؟ امریکہ کی اس بے سود جنگ سے کنارہ کشی کیوں اختیار نہیں کی جاتی؟ ڈرون حملوں کا نتیجہ بھی خودکش حملوں کی صورت میں نکلتا ہے جسے یہ دہشت گردی کا نام دیتے ہیں۔غیرملکی مداخلت اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ امریکی کانگریس کمیٹی بلوچستان کی آزادی کی بات کرتی ہے جس پر سینٹ میں ردعمل کا اظہار ہوا‘ امریکہ میں سفیر شیری رحمان نے بھی تحفظات کا اظہار کیا جبکہ وزارت خارجہ اور وزیراعظم صاحب چپ سادھے ہوئے ہیں۔ ایک طرف بھارت بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور مالی امداد فراہم کرکے صوبے میں بدامنی کی آگ بھڑکائے ہوئے ہے‘ تو دوسری طرف ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی للچائی ہوئی نظریں بھی بلوچستان کے سونے‘ تانبے اور تیل کے انتہائی قیمتی اور لامتناہی ذخائر پر ہےں‘ رہی سہی کسر بلوچ قوم کو محرومیوں کا شکار کرکے ہمارے حکمرانوں نے پوری کردی۔ اس سب کے باوجود حکومت کی طرف سے امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا‘ نہ بھارت اور امریکہ کو بلوچستان میں مداخلت سے روکنے کیلئے کوئی چارہ کار کیا جا رہا ہے۔ وجہ یہ نہیں کہ حکمران لاچار اور بے بس ہیں‘ بلکہ یہ ذاتی مفادات کے اسیر ہیں‘ قومی مفادات کو درخوراعتنا نہیں سمجھتے۔ سپریم کورٹ نے نامکمل الیکشن کمیشن کے ذریعے کرائے گئے انتخابات میں منتخب ہونیوالے سینٹ‘ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے 28 ارکان کی رکنیت معطل کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے توثیق کرانے کی ہدایت کی تو حکومت نے 20ویں ترمیم کی منظوری کیلئے دن رات ایک کردیا۔ اپوزیشن نے چند شرائط تو منوائیں لیکن ان میں ایک بھی مہنگائی‘ کرپشن‘ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے‘ کالاباغ ڈیم کی تعمیر جیسی عوامی و قومی مفادات کی ایک شرط بھی شامل نہیں تھی۔ آج معاملات جو بگڑے اور بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں‘ اس میں حکومت اور اسکے اتحاد یوںکے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا بھی ہاتھ ہے۔ تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی بات ہو تو تمام سیاست دان متحد ہو کر پارلیمنٹ سے قرارداد منظور کراکے اس پر عملدرآمد بھی کرا لیتے ہیں‘ قومی مفاد میں ایسا کیوں نہیں؟ ڈرون حملوں کیخلاف کئی مرتبہ قراردادیں منظور ہوئیں مگر عملدرآمد ہنوز ندارد۔ حکومت جس طرح 20ویں آئینی ترمیم کیلئے پھرتی دکھاتے ہوئے سرگرداں رہی‘ ایسا ہی عزم و ارادہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے‘ امریکی جنگ سے نجات اور عوامی مسائل حل کرنے کیلئے کرے تو یقیناً ملک و قوم تمام بحرانوں اور مسائل و مصائب سے نکل کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔
منصور اعجاز کا لندن میں بیان ریکارڈ کرنے کا حکم
میمو سکینڈل کی تحقیقات کرنیوالے عدالتی کمیشن نے مقدمے کے مرکزی کردار منصور اعجاز کا بیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے 22 فروری کو ریکارڈ کرانے کا حکم دےدیا ہے۔ منصور اعجاز لندن میں پاکستانی سفارت خانے سے اپنا بیان سیکرٹری عدالتی کمیشن کی موجودگی میں ریکارڈ کرائیں گے۔ میمو سکینڈل نے پاکستانی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے‘ پاک فوج اسے قومی سلامتی خلاف سازش قرار دیتی ہے جبکہ حکومت اسے اپنے خلاف سازش سمجھتی ہے۔ منصور اعجاز نے اقرار کیا ہے کہ سابق سفیر حسین حقانی کے کہنے پر اس نے امریکی فوج کے سربراہ مائیک مولن کو میمو بھجوایا جس میں حقانی کے باس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ پاک فوج میں چند جرنیلوں کو اگر آپ ہٹانے میں مدد دیں تو آپکی ہر طرح کی خدمت کرنے کیلئے حاضر ہوں۔ میمو سکینڈل کیس پر عدالتی کمیشن تشکیل دیا جا چکا ہے‘ جس نے منصور اعجاز کو پاکستان طلب کیا‘ لیکن بحفاظت واپسی کی گارنٹی نہ ملنے پر منصور اعجاز نے پاکستان آنے سے انکار کردیا۔ منصور اعجاز اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے‘ فوج کے پاس الگ شواہد ہیں‘ جبکہ حکومت صفائی پیش کرنے کے بجائے یہ باب ہی بند کر دینا چاہتی ہے۔ منصور اعجاز کو ایسی دھمکیاں دی گئیں‘ اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور غداری کا مقدمہ چلانے کی وعید سنائی گئی اس لئے وہ ڈبک گیا۔
اب کمیشن نے 22 فروری کو لندن میں نواب صاحب کا بیان ریکارڈ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد کمیشن کی کارروائی آگے بڑھے گی جو جامد ہوتی نظر آرہی تھی۔ہمارے اداروں کیخلاف گھناﺅنی سازش کہاں تشکیل دی جا رہی ہے‘ ڈوریاں کہاں سے ہلائی جا رہی ہیں‘ اس کا کھوج لگانا ضروری ہے۔ ادھر قومی سلامتی کی کمیٹی مصر ہے کہ منصور اعجاز پاکستان آکر بیان ریکارڈ کرائے۔ سلامتی کمیٹی بھی اگر بیان ریکارڈ کرنا چاہتی ہے تو وہ بھی اپنے نمائندے کو 22 فروری کو لندن بھیج دے تاکہ وہ بھی بیان ریکارڈ کرکے اپنا کام مکمل کر سکیں۔ اس سازش کو جلد از جلد منظر عام پر آنا چاہیے۔ حکومت اسے اپنے خلاف سازش سمجھتی ہے تو اس کو بے نقاب کرنے کیلئے کمیشن کے ساتھ تعاون کرے۔
بحریہ میں ایٹمی آبدوز کی شمولیت
پاک بحریہ میں ایٹمی آبدوز شامل کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے ابھی چند روز پہلے بھارت نے روس سے ایک ایٹمی آبدوز حاصل کر کے اپنی بحریہ میں شامل کی ہے۔ اگرچہ بھارت کو سمندر کے راستے کسی ہمسائے ملک کی طرف سے جارحیت کا کوئی
خطرہ نہیں ہے، اس حقیقت کے پیش نظر اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ بھارت کی ساری جنگی تیاریاں خطہ میں اپنی برتری اور چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف گذشتہ جارحیتوں کے دوران خشکی اور فضا میں پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھا کر سمندر کے راستے پاکستانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی بزدلانہ کوشش کی تھی۔ چنانچہ ماضی کے ان تجربات کے پیش نظر م¶ثر دفاع کے لئے پاک بحریہ کو ایٹمی آبدوزوں سے لیس کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ایٹمی آبدوز کا حصول پاک بحریہ کی ترجیحات میں سرفہرست آ گیا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایٹمی آبدوز کے منصوبے میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور اسے اپریل تک ”فاسٹ اٹیک کرافٹ“ پی این ایس عظمت میں شامل کر لیا جائے گا جس کے بعد سمندری پانیوں پر بھارت کو نام نہاد برتری حاصل نہیں رہے گی۔ جب پاکستان کے پاس دفاع کا منہ توڑ ہتھیار ہو گا تو خطہ کے ملکوں کے خلاف بھارت کی بحری غنڈہ گردی بلکہ دہشت گردی ختم ہو جائے گی، یہ درست ہے کہ ایسے ہتھیاروں کی خرید یا اندرون ملک تیاری پر بہت زیادہ اخراجات اٹھتے ہیں جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لئے برداشت کرنا آسان نہیں ہیں کیونکہ یہ وسائل اپنے عوام کی پسماندگی، جہالت اور غربت ختم کرنے کیلئے وقف کئے جائیں تو ترقی کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے لیکن جب بھارت ایسا ہمسایہ ہو، جو آپ کے وجود کا ہی دشمن ہو، تو دفاعی تیاریوں پر اخراجات کو کم کرنا قومی خودکشی کے مترادف ہے۔ لہٰذا حکومت کو اس ضمن میں حسب ضرورت وسائل وقف کرنے میں کسی کمزوری کو حائل نہیں ہونے دینا چاہئے۔
لاپتہ قیدی یہ بھی انسان اور پاکستانی ہیں
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اڈیالہ جیل کے لاپتہ سات قیدیوں کو تیرہ فروری کو بہر صورت عدالت میں پیش کیا جائے، اس سے قبل عدالت عظمیٰ کو خفیہ ایجنسیوں کے وکیل نے بتایا کہ ان قیدیوں میں سے چار سخت بیمار اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں زیر علاج ہیں جبکہ تین پارا چنار میں ہیں۔ بعد کی خبروں میں بتایا گیا کہ ان سات قیدیوں کو پیر کو عدالت میں پیش کرنے کیلئے اسلام آباد پہنچا دیا گیا ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور سے آنےوالے قیدیوں میں سے تین وہیل چیئر پر تھے اور چوتھا بھی خود اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا، اسے سہارا دے کر لایا گیا۔تیرہ فروری کو جب یہ قیدی سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے تو وہ اپنی ”بدبختی اور شامت اعمال“ کی کیا کہانی سنائیں گے، یہ تو پیشی پر ہی پتہ چل سکے گا لیکن فی الحال جس طرح انکی حالت زار کے بارے میں خبروں میں بتایا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اڈیالہ جیل سے انہیں غائب کرنےوالوں نے انکے ساتھ ”کریمانہ“ سلوک نہیں کیا۔ اس خبر کو پڑھ کر ہر درد مند شہری تڑپ اٹھا ہے اور دھیان بے اختیار گوانتا موبے اور بگرام جیل کے عقوبت خانوں کی طرف چلا جاتا ہے، ہم وہاں محبوس بے گناہوں پر ظلم کرنےوالوں کو انسانیت سے عاری قرار دیتے ہیں، خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اڈیالہ جیل کے یہ قیدی کس ”جرم شدید“ کے مرتکب ہوئے ہیں لیکن یہ امر پیش نظر ضرور رہنا چاہیے کہ وہ انسان ہیں، مسلمان اور پاکستانی ہیں، جرم کی چھان بین کریں، جرم کے مطابق سزا بھی دی جانی چاہیے، لیکن یہ انسانی، اسلامی اور مہذب طریقہ نہیں کہ تفتیش جرائم کیلئے وحشیانہ اور غیر انسانی راہ اختیار کی جائے۔ اگر عدالت عظمیٰ ان شامت زدوں کی مدد کو نہ پہنچی تو شاید ان کا قیامت تک بھی پتہ نہ چلتا، کہ وہ کہاں ہےں۔
5
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں