صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بھارت کیساتھ مذاکرات کے حوالے سے حکومتی اور عسکری قیادت کی مشترکہ حکمت عملی طے کر لی گئی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بھارت کیساتھ بات چیت شرائط پر مبنی نہیں ہو گی۔ صدر زرداری نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت کیساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ مذاکراتی عمل شرائط پر مبنی ہو۔ ہم برابری کی بنیاد پر عزت و وقار کیساتھ مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے بین الوزارتی اجلاس کے فیصلوں سے اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس بارے میں کور کمانڈرز کانفرنس کے اور اپنے موقف سے صدر کو آگاہ کیا۔
یہ حقیقت ہے کہ خود ساختہ ممبئی حملوں کو جواز بنا کر بھارت نے ہی دوطرفہ مذاکرات کی بساط لپیٹی تھی اور مبینہ دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے پاکستان کے ’’موثر‘‘ اقدامات کے بغیر پاکستان بھارت مذاکرات کی بحالی کو خارج از امکان قرار دیا تھا جبکہ اب مذاکرات کی بحالی کیلئے اچانک پیشرفت بھی بھارت کی جانب سے کی گئی اور خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کر کے پاکستان کو ان مذاکرات کی باقاعدہ دعوت بھی دیدی گئی۔ اس تناظر میں بھارت کیساتھ مذاکرات سے پہلے ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کو نہ صرف بھارتی نیت اور مذاکرات کی بحالی کے مقاصد کو پیش نظر رکھنا چاہئے بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اگر مذاکرات کی میز پر بھارت کشمیر اور پانی جیسے بنیادی تنازعات پر بات کرنے سے بدک رہا ہے تو ہمیں ان مذاکرات سے کیا حاصل ہو گا۔ سوائے اسکے کہ ہم مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کی بھارتی ہٹ دھرمی میں مذاکرات کی میز پر اس سے نئے مطالبات وصول کر لیں گے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی گذشتہ روز اسلام آباد میں ایک تقریب میں خطاب کے دوران اعتراف کیا ہے کہ بھارت ہماری شہ رگ کشمیر کو مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس صورت میں یہ مذاکرات بامقصد اور نتیجہ خیز کیسے ہو سکتے ہیں جس کیلئے صدر زرداری کسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور مذاکراتی عمل میں کسی قسم کی شرائط بھی عائد نہیں کرنا چاہتے۔ اس حوالے سے حکومتی پالیسی میں تضاد سمجھ سے بالاتر ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت منعقد ہونیوالے بین الوزارتی اجلاس میں تو یہ دوٹوک فیصلہ کیا جاتا ہے کہ بھارت کیساتھ کشمیر اور پانی سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کو حل کرنے کیلئے مذاکرات کئے جائینگے۔ اجلاس کے بعد وزیر خارجہ اپنے انٹرویو میں بھی اعلان کرتے ہیں کہ کشمیر اور پانی پر بات کئے بغیر بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں مگر ایوان صدر میں ہونیوالے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں حکومتی اور عسکری قیادت کی جانب سے یہ حکمت عملی طے کی جاتی ہے کہ بھارت کیساتھ مذاکراتی عمل غیر مشروط ہو گا۔ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جس میں آرمی چیف بھی شریک تھے‘ کیا ہماری سالمیت کیخلاف بھارتی نیت اور عزائم کا جائزہ نہیں لیا گیا اور کیا اس بات پر قطعاً غور نہیں کیا گیا کہ بھارت ہماری جغرافیائی سرحدوں کیخلاف جارحانہ عزائم رکھنے کیساتھ ساتھ ہم پر آبی دہشت گردی کا مرتکب ہو کر ہماری زرخیز اراضی کو بھی بے آب و گیاہ ریگستانوں میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ ہم بھوکے پیاسے مرتے اسکے رحم و کرم پر پڑے رہیں۔
پاکستان کے دورے کے دوران ہمارے دریائوں اور نہروں کا معائنہ کرنیوالے بھارتی واٹر کمشنر رنگا ناتھن کو بھی ان دریائوں اور نہروں کی خشکی کو دیکھ کر مجبوراً اعتراف کرنا پڑا ہے کہ پاکستان کو اسکے حصے سے کم پانی مل رہا ہے جن کے بقول پاکستان اس معاملہ میں عالمی بنک سے رجوع کر سکتا ہے۔ پھر ہماری حکومتی اور عسکری قیادت کو ایک دم ایسی کیا مجبوری لاحق ہو گئی کہ مذاکرات کی بھارتی پیشکش کے جواب میں اسکے ساتھ بغیر کسی شرط کے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ہماری شہ رگ کشمیر پر وہ نہ صرف بات کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ اس پر بزور طاقت اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے بھارتی افواج نے آزادی کی تڑپ رکھنے والے کشمیری عوام اور قائدین پر ظلم و جبر کا نیا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ بزرگ کشمیری لیڈر سید علی گیلانی کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر انکے عارضۂ قلب کے باوجود ہسپتال سے جبراً لے جا کر گھر پر نظربند کر دیا گیا جبکہ گزشتہ روز کشمیری لیڈر یٰسین ملک کو بھی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔ اسی طرح ہماری سالمیت کیخلاف بھارت کے جارحانہ عزائم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ وہ ہزاروں میل دور تک مار کرنیوالے اپنے اگنی میزائلوں کے تجربے بھی کئے جا رہا ہے۔ امریکہ‘ فرانس اور روس سے ایٹمی ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدے کر کے اس نے جدید ایٹمی اسلحہ کے بھی ڈھیر لگالئے ہیں۔ اپنے دفاعی بجٹ میں بھی ہم سے تین چار گنا زیادہ اضافہ کر چکا ہے اور اسی زعم میں وہ ہمیں گیدڑ بھبکیاں دیتے ہوئے ہمارے خلاف جارحیت کے ارتکاب کیلئے بے تاب بیٹھا ہے اور امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس یہ کہہ کر ہمیں اسکی بیتابی سے آگاہ کرتے ہیں کہ اگر بھارت میں ممبئی حملوں جیسا کوئی دوسرا واقعہ ہوا تو بھارت کے صبر کا پیمانہ ابل پڑیگا اور وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔
گذشتہ روز جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں منعقد ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی یقیناً بھارتی جارحانہ عزائم کا جائزہ لیکر ہی دفاعی حکمت عملی طے کی گئی ہے اور بھارت کے فوجی نظریے ’’کولڈ سٹارٹ‘‘ پر بھی غور کیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں حکومتی اور عسکری قیادت کی جانب سے کسی شرط کے بغیر بھارت کیساتھ مذاکرات پر آمادگی نہ صرف ہمارے ملکی و قومی مفادات کے منافی اور مبینہ دہشت گردی کے بارے میں بھارتی موقف کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے بلکہ اس فیصلہ سے پاکستان سے الحاق کی خاطر بھارتی مظالم برداشت کرنیوالے کشمیری عوام کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی۔
اس تناظر میں بہتر یہی ہے کہ کشمیر اور پانی کے سنگین اور بنیادی مسائل کو ایجنڈے میں شامل کئے بغیر مذاکرات کی بھارتی پیشکش کو یکسر مسترد کر دیا جائے اور بین الوزارتی اجلاس کے موقف‘ کور کمانڈرز کانفرنس میں دفاعِ وطن کے حوالے سے زیر غور آنیوالے معاملات اور قومی جذبات کی پاسداری کرتے ہوئے بھارت پر واضح کر دیا جائے کہ جب تک وہ یو این قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو استصواب کا حق نہیں دیتا اور ہمارے حصے کا پانی روکنے والے اپنے ڈیم ختم نہیں کرتا‘ اسکے ساتھ مذاکرات ہو سکتے نہ دوستی۔ بھارتی جارحانہ عزائم کی روشنی میں ہمیں اس سانپ کو دودھ پلانے کے بجائے دفاع وطن کی مکمل تیاری کرنی چاہئے اور اپنی زیادہ سے زیادہ ایٹمی صلاحیتوں پر انحصار کرنا چاہئے‘ یہی ملک کی سالمیت کا تقاضہ ہے۔
بھارتی جنگی تیاریاں اور پاکستان!
بھارت نے کہا ہے کہ وہ رواں سال 5 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے ایٹمی میزائل اگنی 5 کا تجربہ کریگا۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی ایٹمی سائنس دان وی کے سراسوت نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس میزائل کا تجربہ اسی سال کیا جائیگا۔ اگنی 5 پانچ ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکے گا اس سے قبل بھارت نے سب سے زیادہ فاصلے تک مارکرنیوالے اگنی 3میزائل کا تجربہ کیا تھا جو اب فوج کے حوالے کر د یا گیا ہے۔ اسکی رینج ساڑھے تین ہزار کلو میٹر ہے۔ بھارت میں ہر پندرہ روز کے بعد میزائل رینج میں نئے سے نیا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم نے تین دن قبل اعلان کیا تھا کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا تاہم ملکی دفاع کیلئے کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے پر یقین رکھتے ہیں پاکستان کے عوام بخوبی یہ جانتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ بھارتی حکومت دن رات جنگی تیاریاں کر رہی ہے۔ غیر ملکی اسلحہ کے ڈھیر لگا رہی ہے۔ ہزاروں جنگی طیارے حاصل کر چکی ہے امریکہ اپنا جدید ترین اسلحہ بھارت کو دے رہا ہے۔ بھارتی سائنس دان دن رات اپنے ایٹمی پروگرام کو ترقی دے رہے ہیں اور میزائل پروگرام کو زیادہ سے زیادہ وسعت دے رہے ہیں۔ بھارت جیسے مکار، عیار، جارحیت و توسیع پسند بے اصول دشمن کے ہوتے ہوئے ہمیں کم سے کم نہیں زیادہ سے زیادہ دفاعی صلاحیت اور جارحانہ اسلحہ کی ضرورت ہے مگر ہمارے سیاستدان حکومت کو قائم رکھنے اور اسکی الٹ پلٹ کرنے کیلئے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کر رہے ہیں۔ کسی کو قومی دفاع کی نزاکتوں کا احساس نہیں ہے۔ بھارتی سائنس دان ریٹائر ہونے کے بعد بھی ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں جبکہ ہم نے اپنے سائنس دانوں کو مقدمات میں الجھا رکھا ہے۔
پاکستان کے عوام سب کچھ سمجھ رہے ہیں اور بدطینت ہمسایہ اور بدنیت امریکی اتحادی کے تمام ارادوں کو سمجھتے ہیں اور اپنے حکمرانوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ کرسی کی سیاست چھوڑ کر قومی دفاع کی طرف توجہ دیں۔ بھارت ہر ماہ اپنے میزائل پروگرام کے تجربے کر رہا ہے۔ ہم کیوں نہیں کر رہے…؟ ہمارے سائنس دان بھارت سے بہتر ایٹمی پروگرام اور میزائل پروگرام دے سکتے ہیں۔ ان سے کام کیوں نہیں لیا جا رہا محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے چند دن قبل پیش کش کی تھی کہ وہ پاکستان کی انرجی کا بحران حل کر سکتے ہیں۔ مگر پانی بجلی کے وزیر اور حکمران ان سے مشورہ کرنے کی بجائے خود ہی سودے بازی میں مصروف ہیں۔
پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں بہت ہی مکمل اور جارحانہ اہداف کا حامل دفاعی نظام درکار ہے اس کیلئے صرف چاک و چوبند مستعد دفاعی امور کی ماہر فوج ہی کی نہیں پرجوش عوامی تائید و حمایت کی بھی ضرورت ہے حکمران آنکھیں کھولیں۔ پاکستان کے عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ وہ تب ہی مطمئن ہونگے اگر ایٹمی پروگرام کو زیادہ سے زیادہ توسیع دی جائے میزائل پروگرام کو ترقی دی جائے ۔ ہم پانچ 5ہزار کلو میٹر کی جگہ چھ ہزار والا سات ہزار کلومیٹر دور تک ایٹمی وار ہیڈ کے ساتھ ٹھیک نشانہ لگانے والا میزائل کیوں نہیں بنا سکتے؟
صوبہ سرحد اور سرحدی قبائلی علاقہ میں ہماری فوج نے انتہا پسندوں کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا ہے۔ افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج اپنے معاملات خود ٹھیک کریں اور اب حکمرانوں کو چاہئے کہ و ہ افواج پاکستان کو امریکی مقاصد کی تکمیل سے علیحدہ کر دیں۔ حکمران اور افواج پاکستان اپنے اصل اور فطری دشمن کی طرف توجہ دیں۔ بھارت کی یہ جنگی تیاریاں، پاکستان کیلئے ایک خوفناک چیلنج ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے مہم
برطانوی پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے تمام مسلمان ارکان نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی صدر باراک اوباما کو ایک مشترکہ خط لکھیں گے جس میں انہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور اس کی پاکستان واپسی کیلئے کہا جائیگا۔ اس سلسلے میں ہاؤس آف لارڈز کی تقریب میں مسلمان برطانوی ارکان پارلیمنٹ چودھری محمد سرور‘ خالد محمود‘ لارڈ نذیر شیخ‘ برٹش مسلم لائرز ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر عابد چودھری‘ ایسوسی ایشن آف پاکستان لائرز کے چیئرمین امجد ملک‘ مسلم لیگ ن برطانیہ کے صدر زبیر گل‘ تحریک انصاف برطانیہ کی کوآرڈی نیٹر سینٹیر رابعہ ضیائ‘ معروف صحافی اور انسانی حقوق کی سرگرم رکن ایوان رڈلے اور گوانتا نامو بے میں قید معظم بیگ جیسے برطانوی شہریوں کو آزاد کرانے والی تنظیم کیچ پرزنر کے سربراہ صغیر احمد کے علاوہ کمیونٹی لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پاکستان کی بے گناہ بیٹی کی امریکی اذیت خانے سے رہائی کی مہم قابل تحسین ہے لیکن اس معاملے میں پاکستانی حکومت کی سرد مہری قابل مذمت ہے۔ حکمرانوں نے زبانی جمع خرچ تو بہت کیا لیکن ٹھوس اقدامات کہیں نظر نہیں آئے۔ پاکستانی سفیر حسین حقانی کی امریکی ایوانوں میں بڑی پذیرائی ہوتی ہے لیکن ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے حوالے سے وہ بھی اتنے متحرک نہیں جتنا ان کو اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہونا چاہیے تھا۔ گزشتہ روز وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’’ڈاکٹر عافیہ قوم کی بیٹی ہے اسکی رہائی کیلئے سفارتی چینل استعمال کرینگے۔ انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ہدایت کی ہے‘ امریکہ سے اچھے سفارتی تعلقات ہیں‘ امید ہے کامیابی ملے گی۔‘‘ پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آئے دو سال ہونے کو ہوں گے ڈاکٹر عافیہ کا ایشو اس سے پہلے کا ہے وزیراعظم گیلانی اور انکی حکومت اور سفیر نے اب تک سفارتی سطح پر رہائی کی کوشش ہی نہیں کی جس کا آغاز اب کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ کو صرف قوم کی بیٹی ہی نہ سمجھا جائے حکام اسے خود اپنی بیٹی سمجھیں اور رہائی کی کوشش کریں گے تو امریکہ یقیناً اسے رہا کر دیگا۔