مزاحمت کار طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا عندیہ اور افغانستان میں مستقل قدم جمانے کے امریکی عزائم دشمن کو بھاگنے پر مجبور کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہے
ـ 12 دسمبر ، 2011
کالعدم تحریک طالبان نے پاکستانی حکومت سے مذاکرات کی تصدیق کردی ہے۔ باجوڑ ایجنسی میں کالعدم تحریک طالبان کے ڈپٹی کمانڈر مولوی فقیر محمد نے اس سلسلہ میں برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ہمارے مذاکرات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں، اگر مذاکرات کامیاب ہوئے اور باجوڑ میں طالبان اور حکومت کے مابین معاہدہ ہوگیا تو سوات، مہمند، اورکزئی اور جنوبی وزیرستان سمیت دیگر علاقوں کے طالبان بھی حکومت سے معاہدہ کرلیں گے۔ اس حوالے سے تحریک طالبان کی جانب سے نیٹو حملے کے بعد حکومت کی جانب سے کئے گئے سخت اقدامات پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا گیااور کہا گیا کہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران پہلی بار پاکستان کے موقف میں آزادی اور خودمختاری کی جھلک محسوس ہوئی ہے۔ اسی بنیاد پر مولوی فقیر محمد نے پاکستان افغانستان اتحاد کو ضروری قرار دیا اور قیام امن کی اہمیت پر زور دیا۔ انکے بقول اسلام اور ملک کی خاطر طالبان اور قوم کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد باجوڑ رول ماڈل بن جائیگا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امن مذاکرات کے دوران حکومت پاکستان نے ہمارے 154 ساتھی رہا کردئیے ہیں۔
حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا عندیہ تو گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان سے ہی مل گیا ہے جس میں انہوں نے عاشورہ محرم پرامن گذارنے پر طالبان کا شکریہ ادا کیا جبکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی کی تقریب میں اشارتاً حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کی تصدیق کی ہے جن کے بقول امن مذاکرات کا جاری عمل حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔ بلاشبہ طالبان اور دوسرے عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ ہی قیام امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ امریکہ خود تو اپنے مفادات کے تحت طالبان کے مختلف گروپوں کے ساتھ مذاکرات سے نہیں ہچکچاتا اور اس مقصد کیلئے اس نے پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کو معاونت کی درخواست بھی کررکھی ہے جبکہ بعض عرب ممالک کی معاونت کے ساتھ بھی امریکہ گزشتہ کم و بیش ایک سال سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے مگر جیسے ہی اسے پاکستان کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کسی کوشش کی بھنک پڑتی ہے تو وہ پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام عائد کرکے اسے دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کردیتا ہے اور امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہوجاتا ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہئے کہ امریکہ ہماری افواج کو مزاحمت کاروں سے برسرپیکار رکھ کر ان مزاحمت کاروں کی توجہ نیٹو افواج کی جانب سے ہٹوانا چاہتا ہے تاکہ اسے مزاحمت کار غیور افغان باشندوں کے ہاتھوں مزید ہزیمتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور بغیر کسی جانی و مالی نقصان کے وہ اپنی افواج کی بحفاظت واپسی کی راہ ہموار کرسکے۔ اس تناظر میں امریکی مفادات درحقیقت ہماری تباہی پر منتج ہوتے ہیں اس لئے مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو حملوں کے بعد اگر پاکستان کی حکومتی اور عسکری قیادتوں نے ملکی اور قومی مفادات کے پیش نظر طالبان سے امن مذاکرات کی پالیسی اختیار کی ہے تو اس سے ہی ہماری اپنی اور علاقائی سلامتی کی ضمانت مل سکتی ہے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکی نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں امریکی نیٹو افواج کے افغان دھرتی پر آنے کے نتیجہ میں ہی ہم بدترین دہشت گردی اور خودکش حملوں کی لپیٹ میں آئے ہیں۔ اگر امریکہ ہمیں تباہی سے دوچار کرکے اپنے تحفظ کی ضمانت لینا چاہتا ہے تو پھر ہمیں اسکے مفادات کی جنگ میں کیوں شریک رہنا چاہئے جو درحقیقت ہماری اپنی تباہی کی جنگ ہے۔ امریکی نیٹو افواج کے اس خطہ میں آنے سے پہلے تو ہمارے قبائلی علاقوں سمیت پوری دھرتی امن و سکون کا گہوارہ تھی اور قبائلی باشندوں نے کبھی اپنے ملک کی دھرتی پر بندوق اٹھانے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں شریک ہونے کا سوچا تک نہیں تھا جبکہ انہوں نے افغان دھرتی پر امریکی نیٹو فورسز کی وحشیانہ بمباری، اپنی دھرتی پر ڈرون حملوں اور امریکی اتحادی کی حیثیت سے ہماری سکیورٹی فورسز کے اپنے ہی ملک کی دھرتی پر اپنے ہی شہریوں کیخلاف آپریشن کے ردعمل میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی راہ اختیار کی۔ اگر سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو کے حملے کے بعد پاکستان کے جوابی سخت اقدامات کے نتیجہ میں اب تک کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا تو اسکے ردعمل میں ہونیوالے خودکش حملے بھی رک گئے ہیں جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہماری دھرتی پر امریکی نائن الیون کے بعد اب تک ہونیوالی دہشت گردی کی وارداتیں اور خودکش حملے امریکی نیٹو فورسز اور امریکی ایماءپر ہماری سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا ہی ردعمل تھا اور یہ فطری اصول ہے کہ عمل نہیں ہوگا تو اسکا ردعمل بھی نہیں ہوگا۔ چنانچہ ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں کے تحت امریکی مفادات کی جنگ سے باہر نکلنا اور اسکے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ترک کرنا ہی ہمارے حق میں بہتر ہے جبکہ امریکہ اپنے مفادات کے تحت ہمیں اپنی دھرتی پر ہی نہیں، افغان دھرتی پر بھی طالبان اور دوسرے مزاحمت کار گروپوں کیخلاف صف آراءرکھوانا چاہتا ہے تاکہ وہ ہماری تباہی کے عوض اپنے تحفظ کو یقینی بناسکے۔
یہ بھی طے شدہ حقیقت ہے کہ ہمارے تعاون اور لاجسٹک سپورٹ کے بغیر امریکی نیٹو فورسز نہ صرف اپنے قدم نہیں جما سکتیں بلکہ افغان دھرتی انکا قبرستان بھی بن سکتی ہے اس لئے وہ ہر صورت میں ہمیں اپنے مفادات کی جنگ میں شریک رکھنا چاہیں گے۔ امریکہ اگر افغانستان سے واپس جانے پر مجبور ہوا تو وہ ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کے سخت اقدامات اور فیصلے برقرار رکھنے سے ہی ممکن ہوگا ورنہ تو نیٹو سربراہی لزبن کانفرنس میں 2014ءتک نیٹو فورسز کی افغانستان سے واپسی کے طے کئے گئے فیصلے کے باوجود افغانستان میں امریکی سفیر ریان سی کروکر آج بھی یہ واضح عندیہ دے رہے ہیں کہ افغان حکومت خواہش ظاہر کرے تو امریکی نیٹو فورسز 2014ءکے بعد بھی افغانستان میں رہ سکتی ہیں۔ امریکہ تو شائد سو برس کی منصوبہ بندی کرکے افغانستان میں مقیم ہے، جبکہ کٹھ پتلی افغان صدر کرزئی کے اقتدار کا دارومدار بھی نیٹو فورسز کی افغانستان میں موجودگی پر ہی ہے اور اسی تناظر میں وہ امریکہ کو متعدد بار درخواستیں بھی گزار چکے ہیں کہ 2014ءکے بعد بھی نیٹو فورسز کو افغانستان میں ہی رکھا جائے۔ اگر انہیں غیور افغانوں کی شاندار اور جاندار تاریخ کا ادراک ہوتا تو وہ پہلے دن ہی مکروہ جارح فورسز کے افغان دھرتی پر قدم نہ ٹکنے دیتے جبکہ بدقسمتی سے کٹھ پتلی کرزئی ہی نہیں، ہمارے اس وقت کے جرنیلی صدر مشرف نے بھی امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کرکے نیٹو فورسز کی لاجسٹک سپورٹ کے راستے کھول دئیے جس سے انہیں افغان دھرتی پر اپنے قدم جمانے کا موقع ملا اور پھر انکے حوصلے اتنے بلند ہوئے کہ وہ پاکستان کی سلامتی اور آزادی و خودمختاری کے بھی درپے ہوگئیں۔ امریکی ایبٹ آباد آپریشن اور سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو فورسز کے ارادتاً کئے گئے حملے اسکا واضح ثبوت ہیں جبکہ ہماری سلامتی کو کمزور بنانے کی نیت سے ہی امریکی ڈرون حملوں کا تسلسل بھی برقرار رکھا گیا جو اب مہمند ایجنسی کے واقعہ کے بعد ہمارے سخت جوابی ردعمل کے باعث ٹوٹا ہے۔
ملکی سلامتی اور قومی مفادات کا تو یہی تقاضہ ہے کہ اب امریکی مفادات کی جنگ سے مکمل خلاصی حاصل کرلی جائے اور جیسے بھی ممکن ہو، نیٹو فورسز کو افغان دھرتی چھوڑنے پر مجبور کردیا جائے کیونکہ ان فورسز کی موجودگی تک نہ ہم اپنی مزید تباہی سے بچ سکتے ہیں نہ علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت مل سکتی ہے، اس لئے یہی مناسب وقت ہے کہ نیٹو کی سپلائی مستقل طور پر بند کردی جائے۔ اسے ائربیسز سمیت کسی بھی قسم کی لاجسٹک سپورٹ فراہم نہ کی جائے اور فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں خودکش حملوں اور مزاحمت کی راہ اختیار کرنیوالے قبائلی باشندوں کو مذاکرات کے ذریعے امن و خیرسگالی کے راستے پر گامزن کیا جائے، جس کیلئے اب فضا سازگار بھی ہے۔ ہمارے ان اقدامات سے نیٹو فورسز 2014ءتو کجا آئندہ چند ہفتوں میں افغانستان سے دُم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہوجائیں گی اور دونوں جانب کے مزاحمت کار طالبان گروپ بھی انہیں زندہ نہیں چھوڑینگے۔ کمزور ہوتے دشمن کو پسپائی اختیار کرکے بھاگنے پر مجبور کرنا ہی بہترین جنگی حکمت عملی ہوتی ہے اور آج دشمن نیٹو فورسز کیلئے یہی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
محاذ آرائی کی سیاست سے گریز ہی بہتر ہے
صدر مسلم لیگ(ن) میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ آج تک بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیاجاسکا،محترمہ کی لاش کو تڑپتا چھوڑ کر بھاگنے والے آج حکومت کے وزیر مشیر ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بعض قوتیں پھر90ءکی دہائی کی سیاست چاہتی ہیں۔ میاں نواز شریف نے لاڑکانہ میں جلسہ کرکے اچھی روایت ڈالی ہے،پیپلز پارٹی نے بھی انتظامی طورپر تعاون کرکے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اس طرح پی پی سمیت دیگر جماعتوں کو بھی لاہور میں جلسے کرنے پر حکومت پنجاب کا انتظامی تعاون حاصل ہوتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ملک بھر میں جلسے کرنے کا حق حاصل ہے لیکن محاذ آرائی اتنی نہیں بڑھانی چاہئے کہ اس سے غیر جمہوری عناصرکو موقع ملے،جمہوریت کی گاڑی گرچہ سست رفتار سے چل رہی ہے لیکن اسے پٹڑی سے اُترنے نہیں دیناچاہئے اگرچہ جمہوری حکمرانی میں مفاد پرست اورنا اہل سیاستدانوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے ۔قومی ادارے تباہ ہوچکے ہیں معیشت زبوں حالی کا شکار ہے لیکن اس کے باوجود غیر جمہوری قوتوں کو جمہوریت کی بساط الٹانے کا موقع دینا دانشمندی نہیں۔میاں نواز شریف نے مرحومین ذوالفقارعلی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو اورمحترمہ بینظیر بھٹو کی قبروں پر فاتحہ خوانی کرکے سیاسی رواداری اور خیر سگالی کا پیغام دیا ہے جبکہ اقتدار میں آنے کے بعد بینظیر بھٹو کے قاتلوں کوگرفتار کرنے کا اعلان کرکے انہوں نے پیپلز پارٹی کو احساس دلایا ہے کہ جو پارٹی اپنی قائد کے قاتلوں کو علم ہونے کے باوجود کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکی وہ ڈاکوﺅں اور چوروں کو خاک گرفتار کریگی۔
صدر آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی پہلی برسی پر گڑھی خدا بخش میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ میں قاتلوں کو جانتا ہوں لیکن چوتھی برسی آنے کو ہے آج تک ملزم گرفتار نہیں ہوسکے۔آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بعض قوتیں پھر 90ءکی دہائی کی سیاست چاہتی ہیں یہی بعض قوتیں بینظیر کے قاتلوں کو گرفتار کرنے سے روک تو نہیں رہیں،پیپلز پارٹی اگر اخلاص نیت سے سسٹم کو چلائے تو یقینی طور پر یہ قوتیں خودبخود دم توڑ جائیں گی، آج ہر طرف سے آوازیں آرہی ہیں کہ زرداری کو انکے نا اہل مشیروں نے بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے ۔صدر زرداری صحت یاب ہونے کے بعد جائزہ لیں کہیں وہ خود تو 90ءکی سیاست والی شاہراہ پر گامزن نہیں ہیں، یقینا سب کچھ شیشے کی طرح صاف نظر آئے گا لیکن مشیروں کے محاصرے سے نکل کر دیکھئے۔
مقبوضہ کشمیر پر بھارتی ظلم و ستم کی روداد اور حکمرانوں کی بے حسی
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے:مقبوضہ کشمیر میں 22برس کے دوران 93 ہزار کشمیری شہید کئے گئے اور 10ہزار سے زائد لاپتہ ہیں۔بھارتی درند صفت فورسز نے 93ہزار 712 بے گناہ کشمیریوں کو مارا۔6989 حراست کے دوران مارے گئے،72762 خواتین بیوہ ہوئیں۔ ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہوگئے، لاپتہ ہونے والے شہریوں کی بیویاں نیم بیواﺅں کی زندگی گزار رہی ہیں جبکہ 10ہزار سے زائد خواتین کو بھارتی فورسز نے بے آبرو کیا۔
مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی کی نشاندہی کرنے والی یہ رپورٹ تو ایک ایسی دستاویز ہے جس کی پشت پر کتنے ہی قبرستان ،لاپتہ افراد، بیوائیں، یتیم بے آبرو خواتین موجود ہیں، اسے جھٹلانے کا جواز بھارت کے درندے تو کرینگے مگر ہم جن کو شہیدوں کی قبریں اور ظلم و ستم کی داستانیں مدد کیلئے پکار رہی ہیں اور مقبوضہ کشمیر جس سے ہمارے پانچوں دریاں نکلتے ہیںاُن پر64 ڈیموں کی تعمیر شروع ہوچکی ہے اور ہمارے دریاﺅں میں پانی نہیں تو پھر پاکستان کے حکمران کیا اس انتظار میں ہیں کہ تجارت کرتے کرتے وہ مقبوضہ کشمیر کا بھی سودا کرلیں جبکہ یہ وہ حالات ہیں کہ جہاد کشمیر فرض ہوچکا ہے ۔خدا جانے ہمارے علماءکرام کیوں پہلو میں تڑپتے مسلمانوں اور شہداءکی شہادت پر خاموش بیٹھے ہیں حکمران تو بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دے چکے ہیں جب ہمارے دریاﺅںکا پانی بند ہوگیا اور یہاں کربلا والی صورتحالی ہوگی اور مقبوضہ کشمیر میں کوئی کلمہ گو باقی نہیں رہے گا تو پھر حکومت کیا کرے گی، کیسے اس متنازعہ کشمیر کو متنازعہ رہنے دے گی ،ہماری قیادت کو اب سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ اگر کشمیری عوام تکمیل پاکستان کے ایجنڈے کی خاطر اپنی جانوں کی قربانی سمیت بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں تو کیا ہمیں ان کی جدوجہد آزادی کا عملی ساتھ نہیں دیناچاہئے،مقبوضہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے جس میں بھارت کلاٹ ڈال رہا ہے کچھ اس کا بھی علاج اے چارہ گراں ہے کہ نہیں۔
4
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں