17 ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ حکمران صرف اعلانات نہیں‘ اخلاص کا مظاہرہ بھی کریں

ـ 11 مارچ ، 2010
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اس ماہ کے آخر تک آئینی اصلاحات کے پیکیج کو حتمی شکل دے دی جائیگی‘ 17ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ ہو گا اور اتفاق رائے سے 1973ء کا آئین اپنی اصل شکل میں بحال کر دیا جائیگا۔ گزشتہ روز ایوان صدر اسلام آباد میں اے پی این ایس ایوارڈزتقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرینگے جس سے جمہوریت یا جمہوری نظام کو خطرہ درپیش ہو‘ انکے بقول صحافیوں نے انہیں ایک عرصہ تک ہدف تنقید بنائے رکھا اور یہ تاثر دیتے رہے کہ حکومت کی خرابیاں انکی وجہ سے ہیں‘ آج کل بھی کچھ لوگوں کا کاروبار ان پر تنقید سے چل رہا ہے‘ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اے پی این ایس ایوارڈز کی تقریب اگلے سال بھی انہی کی میزبانی میں ایوان صدر میں ہو گی۔
17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ اور دیگر آئینی اصلاحات کے پیکیج کی بلی بدقسمتی سے گزشتہ دو سال سے تھیلے سے باہر نکل ہی نہیں پا رہی‘ جس کے باعث 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کے معاملہ میں عوام کے ذہنوں میں حکمرانوں کی نیت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری امر ہے جبکہ 18 فروری 2008ء کے انتخابات کے ذریعہ قوم کی جانب سے دیئے گئے سلطانی ٔ جمہور کے مینڈیٹ کا اولین تقاضا وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کے آئینی ڈھانچے کی بحالی کا تھا‘ جو 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کے بغیر ممکن نہیں مگر پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے نہ صرف 17ویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل صدر کے آمرانہ صوابدیدی اختیارات کے خاتمہ کے معاملہ میں پس و پیش سے کام لینا شروع کر دیا بلکہ یہ اختیارات صدر کے پاس ہی رہنے دینے کیلئے مختلف بہانے اور جواز بھی پیش کرنا شروع کر دیئے گئے جن میں صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کا بہانہ بھی شامل تھا جبکہ اس وقت تک حکومتی حلیف اے این پی نے نام کی تبدیلی کو 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کیساتھ مشروط نہیں کیا تھا۔ حکمران پیپلز پارٹی کی جانب سے چھوڑے گئے اس ’’فیلر ‘‘کی بنیاد پر بعدازاں اے این پی کے قائدین نے بھی صوبہ سرحد کا نام پختونخوا رکھنے کی تکرار شروع کردی اور چند روز قبل وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے یہ بیان بھی داغ دیا کہ سرحد کا نام پختونخوا رکھوائے بغیر مجوزہ آئینی پیکیج منظور نہیں ہونے دیا جائیگا۔
اگر حکمران پیپلز پارٹی کی نیت نیک ہوتی تو مرکز میں مسلم لیگ (ن) کے اشتراک سے مخلوط حکومت قائم ہوتے ہی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کے بل کی منظوری حاصل کی جا سکتی تھی جس کیلئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے صدر آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کیساتھ بھوربن اور مری میں تحریری اور زبانی معاہدے بھی کئے تھے مگر ان معاہدوں کی پاسداری کی گئی‘ نہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور جرنیلی آمریت کی آئینی شقوں کے خاتمہ کیلئے کسی اخلاص کا مظاہرہ کیا گیا۔ چنانچہ حکومتی اتحاد میں ہی بدگمانیاں پیدا نہیں ہوئیں‘ سلطانی ٔ جمہور کا مینڈیٹ دینے والی قوم کے ذہنوں میں بھی وفاقی حکمرانوں کی نیت کے بارے میں شکوک و شبہات نے جنم لینا شروع کر دیا‘ اگرچہ سینیٹر رضا ربانی کی سربراہی میں پارلیمنٹ کی آئینی اصلاحات کمیٹی قائم کر دی گئی مگر 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کی اولین ترجیح کو گاہے بگاہے دیگر ایشوز پیدا کرکے پس پشت ڈالا جاتا رہا اور پیپلز پارٹی کے عہدیداروں اور وزراء کے بیانات کے ذریعہ بھی اس خدشے کو تقویت ملتی رہی کہ حکومت صدر کے صوابدیدی آئینی اختیارات کے خاتمہ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
اب پیپلز پارٹی کے اقتدار کے دو سال بعد صدر زرداری کی جانب سے قوم کو خوشخبری دی جا رہی ہے کہ اس ماہ کے آخر تک آئینی اصلاحات کے پیکیج کو حتمی شکل دے دی جائیگی اور اتفاق رائے سے 1973ء کا آئین اسکی اصل شکل میں بحال کر دیا جائیگا۔ جبکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ ماہ رائے ونڈ میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ آئینی اصلاحات کا پیکیج 23 مارچ سے پہلے پارلیمنٹ میں پیش کرکے منظور کرالیا جائیگا جس میں 17ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ بھی شامل ہے‘ بعدازاں انہوں نے ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت قوم کو بہت جلد 1973ء کے آئین کی بحالی کی خوشخبری دینگے۔
صدر اور وزیراعظم کے ان اعلانات کے باوجود 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کے معاملہ میں حکومت کی صفوں میں گومگو اور پس و پیش کی حکمت عملی غالب نظر آتی ہے‘ آئینی اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی نے گزشتہ روز ہی اعلان کیا ہے کہ آئینی پیکیج پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ قوم کو یہ ’’نوید‘‘ بھی سنا چکے ہیں کہ 17ویں آئینی ترمیم مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے کچھ حصے ختم ہونگے۔
اس حوالے سے بعض مصدقہ ذرائع سے یہ بات بھی منظر عام پر آچکی ہے کہ آئینی اصلاحات کمیٹی نے آئینی پیکیج کے جس مسودہ کی منظوری دی ہے‘ اس میں صدر کے صوابدیدی آئینی اختیارات کے خاتمہ کے باوجود 17 اہم صدارتی اختیارات برقرار رہیں گے اور ان میں سے تین اختیارات وہ ہیں جو جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور آمریت میں 8ویں آئینی ترمیم اور آر سی او کے تحت آئین میں شامل کرائے تھے۔ ان میں اہم ترین اختیار آئین کی دفعہ 48(6) کے تحت صدر کو حاصل ہے جو قومی اہمیت کے کسی بھی معاملہ کو قومی ریفرنڈم کیلئے پیش کرنے سے متعلق ہے۔ یہ اختیار صدر اپنی صوابدید پر یا وزیراعظم کے مشورے سے استعمال کر سکتے ہیں‘ جو جنرل ضیاء الحق نے 1985ء میں بحالی آئین آرڈر (آر سی او) کے تحت اپنی کٹھ پتلی اسمبلی کے ذریعہ حاصل کیا تھا۔ اسی طرح آئین کی دفعہ 46, 45 (بشمول تمام شقوں کے) دفعہ 75 اور دفعہ 99 کے اختیارات بھی صدر کے پاس رکھنے کی آئینی اصلاحات کمیٹی نے منظوری دی ہے جبکہ مشترکہ مفادات کی کونسل‘ قومی اقتصادی کونسل کی تشکیل اور اٹارنی جنرل‘ آڈیٹر جنرل اور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے تقرر کے آئینی اختیارات بھی مجوزہ آئینی پیکیج کے تحت صدر کے پاس ہی رہیں گے‘ اس لئے آئینی اصلاحات کے بارے میں حکومت کی نیت پر شک نہ بھی کیا جائے تو بھی آئینی اصلاحات کمیٹی کے منظور کردہ آئینی اصلاحات کے پیکیج کی بنیاد پر آئین کے وفاقی پارلیمانی ڈھانچے اور 1973ء کے آئین کی اصل شکل میں بحالی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا‘ جبکہ صدر زرداری قوم کو یہی خوشخبری دے رہے ہیں کہ 1973ء کا آئین اپنی اصل شکل میں بحال کیا جائیگا۔
چہ قلندرانہ گفت
جسٹس جاوید اقبال کی چشم کشا تقریر
سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس جاوید اقبال نے وسائل کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان یقینی طور پر غریب ملک نہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے اسے غریب بنا دیا ہے۔ وسائل کے غیرمنصفانہ استعمال کی روش نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ہمارے ملک میں ہمیشہ ناقص مینجمنٹ رہی ہے‘ اب پوری قوم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وسائل کا منصفانہ استعمال کیا جائے۔ مسٹر جسٹس جاوید اقبال فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ملک بھر سمیت آزاد جموں وکشمیر اور گلگت‘ بلتستان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی دو روزہ ورکشاپ ’’فنانشل مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن‘‘ کے افتتاحی سیشن کے شرکاء میں تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ فاضل جسٹس نے گزشتہ حالات کا بالکل درست تجزیہ کیا ہے اور انہوں نے آئندہ سوچنے سمجھنے کیلئے جو راہ دکھائی ہے‘ وہ بہت ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے اس ملک کے وسائل کی اس قدر لوٹ مار کی ہے کہ انکے اربوں ڈالرز کا سرمایہ غیرملکی بنکوں میں گل سڑ رہا ہے اور ہمارے بہت سے صنعت کاروں کی فیکٹریاں اور کارخانے ملک سے باہر لگے ہوئے ہیں۔ خود بیرون ملک سرمایہ کاری کرکے وہ دنیا کو دعوتیں دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور یہ بے پناہ امیر لوگ اپنی املاک پر ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے۔ انکے گھروں پر سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اور وہ دنیا کی انتہائی قیمتی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں مگر اپنے اثاثہ جات میں لکھتے ہیں کہ انکی گاڑی نہیں اور نہ ہی مکان ہے۔ ملک کو لوٹنے والے صرف ٹیکس سے بچنے کیلئے ایسے ادنیٰ درجہ کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ بیرون ملک اربوں ڈالر مالیت کی نقد اور پراپرٹی کے باوجود وہ اثاثہ جات میں اپنے آپ کو مقروض ظاہر کرتے ہیں۔ مسٹر جسٹس جاوید اقبال نے درست کہا ہے کہ ایسے افراد کا احتساب کرنا ضروری ہے اور عوام کو چاہئے کہ ایسے لیڈروں کے چہروں کو پہچانیں اور منتخب کرتے ہوئے انکی لوٹ مار اور ناجائز اثاثوں کو سامنے رکھ کر محب وطن لیڈروں اور صرف مال و دولت سے محبت کرنے والوں کے درمیان امتیاز کریں۔ ایئرمارشل (ر) اصغر خان جیسے بزرگ لیڈر کے اس بیان کو نظر میں رکھیں کہ قوم نے دونوں طرف کرپٹ ترین لیڈروں کو منتخب کرکے سخت غلطی کی ہے۔ جس کا ازالہ عوام خود ہی کر سکتے ہیں۔ اگر عوام ان تمام حقائق کا ادراک نہیں کرینگے تو یہ قوم ہمیشہ غریب اور بین الاقوامی قرضوں میں جکڑی رہے گی اور لیڈر جونکوں کی طرح اس کا خون چوستے رہینگے۔ جو قوم اپنے معاملات کا خود احتساب نہیں کرتی اللہ تعالیٰ اسکے حالات کو بدلنے کیلئے خود زمین پر نہیں آتے۔
سندھ کے خدشات دور کرنے
کے اقدامات کئے جائیں
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کالاباغ ڈیم کو سیاست کی نذر کر دیا گیا ہے‘ اس ڈیم میں بہت زیادہ اکنامک پوٹینشل ہے‘ جو ہماری معیشت کیلئے اہم ہے۔ ہمیں سندھ کے عوام کو قائل کرنا ہو گا کہ یہ ڈیم سندھ سمیت ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سندھ سے آنے والے نوجوانوں‘ سے ملاقات اور لاہور میں بم دھماکوں سے متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے اور وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم معاشی لحاظ سے انتہائی اہم منصوبہ ہے‘ البتہ سندھ کے عوام کے خدشات کو دور کئے بغیر اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔ میاں شہباز شریف کے بڑے بھائی میاں نواز شریف نے وزیر اعظم کی حیثیت سے کالاباغ ڈیم بنانے کا اعلان بھی کر دیا تھا‘ اس سلسلہ میں صوبہ سرحد کے بڑے انجینئرز‘ انجینئر شاہ نواز خان‘ انجینئر شمس الملک خان اور انجینئر امیر مقام کے علاوہ دیگر بڑے بڑے انجینئرز نے انکی حمایت کی تھی اور صوبہ سرحد کے خدشات اور سندھی لیڈروں کے اعتراضات کے مکمل جواب دیئے تھے۔ اس منصوبہ پر صوبہ سرحد سے زیادہ سندھ کے کچھ دوسرے درجہ کے لیڈر جو علاقائی اور لسانی گروپس سے تعلق رکھتے ہیں‘ جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ آئی پی پیز اور بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ سمیت کوئی پراسرار ذرائع ان کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ وہی کالاباغ ڈیم کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام کو سستی بجلی نہ ملے اور حکومت مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور رہے اور ان لوگوں کے وظیفے چلتے رہیں۔ انجینئر شمس المک نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ منگلا اور تربیلا ڈیم کے بننے سے صوبہ سندھ کو ملنے والے پانی کی مقدار ڈیڑھ گنا سے بھی زائد ہو گئی ہے اور کالاباغ ڈیم بننے سے بھی اس میں مزید اتنا ہی اضافہ ہو جائیگا اور کم قیمت بجلی ملک بھر کے عوام کو بونس میں ملے گی۔ میاں شہباز شریف کو بھی ان حقائق کا علم ہونا چاہئے کہ سندھ کے عوام کالاباغ ڈیم کے مخالف نہیں ہیں‘ انہیں گمراہ کرنے کیلئے غلط حقائق بتائے جاتے ہیں۔ بھارت دریائے سندھ کا پانی روک رہا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں‘ مگر کالاباغ ڈیم بنانے کی بات پر یہ جذباتی ہو جاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سندھ کے عوام سے براہ راست بات کر سکتے ہیں‘ وہ عوام کے درمیان مفاہمت کرائیں اور سندھ کے جن لوگوں کو خدشات ہیں‘ وہ دور کرانے کیلئے اقدامات کریں۔
کرکٹرز کو انتہائی سزائیں
پاکستان کرکٹ بورڈ نے تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے محمد یوسف، محمد یونس خان پر کرکٹ کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کر دئیے ہیں جبکہ شعیب ملک اور رانا نوید الحسن پر ایک ایک سال کی پابندی لگا دی ہے۔ محمد یوسف اور یونس خان کے آپس میں جھگڑوں کی وجہ سے ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی جس کی وجہ سے ان دونوں کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی لگائی گئی ہے۔ دورہ آسٹریلیا میں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر رانا نوید الحسن اور شعیب ملک پر ایک ایک سال کی پابندی لگائی گئی ہے۔ شاہد آفریدی نے بال ٹمپرنگ کرکے ملک کا نام بدنام کیا اسلئے اس پر تیس لاکھ روپے جرمانہ لگایا گیا ہے جبکہ وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل کو تیس لاکھ اور عمر اکمل کو بیس لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے‘ انکی کارکردگی 6 ماہ تک مانیٹر کی جائیگی۔ دورہ آسٹریلیا کے موقع پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سے جہاں پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلی ہے وہیں ملک کی بدنامی بھی ہوئی ہے‘ ایسے کھلاڑیوں کو واقعی سزائیں دی جانی چاہئیں جس سے نہ صرف انکی اصلاح ہو بلکہ آنیوالے کھلاڑی بھی سبق حاصل کریں۔ کھلاڑیوں کو کرکٹ بورڈ کی تحقیقاتی کمیٹی نے جن سزاؤں کی سفارش کی بورڈ نے من و عن تسلیم کرکے ان پر عملدرآمد کا اعلان کر دیا۔ یونس خان اور محمد یوسف پاکستانی کرکٹ کا اثاثہ ہیں‘ ان سے جو غلطی ہوئی اسکی سزا ان کو ضرور ملنی چاہئے۔ انہوں نے کوئی قتل نہیں کیا کہ تاحیات پابندی لگا دی گئی۔ سزا سے انکی اصلاح کی کہاں گنجائش نکلتی ہے اس سزا سے تو انہیں کرکٹ سے باہر نکال دیا گیا ہے‘ انکی سزا پر نظرثانی ہونی چاہئے اور چیئرمین بورڈ کو بھی سوچنا چاہئے کہ جب وہ چلنے سے بھی عاجز ہیں تو خود کرکٹ بورڈ کی جان کیوں نہیں چھوڑتے؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter