سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کے پانچ رکنی بینچ نے بادی النظر میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بددیانت‘ آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب اور صدر آصف علی زرداری کو اپنے آئینی حلف کی پاسداری نہ کرنے کا ملزم قرار دیکر این آر او کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے چھ مختلف آپشن متعین کر دیئے ہیں اور اس معاملہ کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ کا وسیع تر بینچ تشکیل دینے کے سلسلہ میں کیس چیف جسٹس پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔ عدالت عظمٰی کا یہ وسیع تر بینچ اس کیس کی 16 جنوری سے سماعت شروع کر یگا‘ فاضل عدالت نے چیئرمین نیب فصیح بخاری اور وفاقی سیکرٹری قانون مسعود چشتی کو 16 جنوری کو ذاتی طور پر وسیع تر بینچ کے روبرو پیش ہونے کی بھی ہدایت کی۔ فاضل عدالت نے جو چھ آپشنز متعین کئے‘ انکے تحت تجویز کیا گیا ہے کہ وزیراعظم اور وفاقی سیکرٹری قانون کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے یا آئین کی دفعہ 63(G) کا الزام لگا کر وزیراعظم کو پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا جائے یا این آر او کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے عدالتی کمیشن قائم کر دیا جائے یا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے اور عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے۔ فاضل عدالت عظمٰی نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ عدالت نے اس کیس میں مختلف مواقع پر عبوری احکام جاری کئے مگر وفاقی حکومت دو سال سے عدالتی حکم پر عملدرآمد میں دلچسپی نہیں لے رہی اور مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ عدالت نے ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے صدر زرداری کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا اور قرار دیا کہ اس انٹرویو میں صدر واضح طور پر اعلان کر چکے ہیں کہ این آر او کیس کے فیصلہ کے ایک حصے پر عملدرآمد نہیں کیا جائیگا۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ وزیراعظم نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ اپنے فرائض آئین کے مطابق دیانتداری سے ادا کرینگے اور ذاتی مفاد کو ترجیح نہیں دینگے جبکہ انہوں نے آئین کے تحفظ کا حلف بھی اٹھایا ہے مگر وزیراعظم نے آئین سے وفاداری کے بجائے اپنی سیاسی جماعت سے وفادار نبھائی جبکہ سیاسی جماعت سے وفاداری ریاست سے وفاداری سے اہم نہیں۔
فاضل عدالت نے آئین کی دفعہ 62(1) کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں ہو سکتا جو دیانتدار اور امین نہ ہو۔ اس بنیاد پر وزیراعظم بادی النظر میں دیانتدار آدمی نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے بھی صدر مملکت کا عہدہ سنبھالتے ہوئے آئین کی پاسداری کا حلف لیا تھا اور حلف کی پاسداری نہ کرنے پر صدر کیخلاف بھی آئین کی دفعہ 62(1) کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ فاضل عدالت نے این آر او کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد نہ کرنے پر چیئرمین نیب کو بھی بادی النظر میں مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ یہ کیس اس لئے سپریم کورٹ کے وسیع تر بینچ کو بھجوایا جا رہا ہے کہ کل کو یہ نہ کہا جائے کہ حکومت کو سنا نہیں گیا۔
عدالت عظمٰی کے ان احکام سے بلاشبہ حکمرانوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ عدلیہ آئین کی بالادستی قائم کرنے اور اسکی ہر صورت پاسداری کرانے کے عزم پر کاربند ہے‘ اسی بنیاد پر فاضل عدالت نے حکمرانوں کو باور کرایا کہ کوئی بھی آئین و قانون سے بالاتر نہیں اس لئے یہ نہیں دیکھا جائیگا کہ کس کیخلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ عدالتیں بلاخوف و خطر کام کرتی رہیں گی۔ اس تناظر میں آئین کی پاسداری سے متعلق عدالتی فیصلہ کسی کیلئے ناخوشگوار صورتحال کا باعث بنتا ہے تو اپنے آئینی حلف کی پاسداری نہ کرنے اور آئین کے تحفظ کے تقاضے بروئے کار نہ لانے والے ہی اسکے ذمہ دار ہونگے۔
عدالت عظمٰی کے اس فیصلہ سے بادی النظر میں صدر اور وزیراعظم اپنے آئینی حلف کی پاسداری نہ کرنے کے مرتکب قرار دیئے جا چکے ہیں اور اس بنیاد پر وہ آئین کی دفعہ 62(1) کے تحت نااہلیت کی زد میں آچکے ہیں چنانچہ عدالت عظمٰی کی اس رولنگ کی روشنی میں بادی النظر میں ان دونوں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات کے اقتدار پر فائز رہنے کا جواز بھی ختم ہو گیا ہے۔ یہ فاضل عدالت کے دائرہ اختیار میں تھا کہ وہ معاملہ چیف جسٹس کو ریفر کرنے کے بجائے خود ہی فیصلہ صادر کر دیتی جس کے بارے میں سابق چیف جسٹس سعیدالزمان صدیقی نے بھی اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ عدالت کو خود ہی فیصلہ صادر کر دینا چاہیے تھا کیونکہ اب حکومت کو گند اچھالنے کا موقع ملے گا۔ تاہم فاضل عدالت نے حکومت کو صفائی کا مکمل موقع فراہم کرنے کیلئے معاملہ وسیع تر بینچ کو بھجوا دیا ہے جبکہ عدالتی احکام میں جو آپشنز متعین کئے گئے ہیں‘ وہ اب وسیع تر بینچ کے فیصلہ کا حصہ قرار پائینگے تو انکی بنیاد پر موجودہ حکمرانوں کے اقتدار کا جواز ختم ہو جائیگا۔
چونکہ حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیات کی جانب سے پہلے ہی واضح عندیہ دیا جا چکا ہے کہ صدر کیخلاف سوئس اکاﺅنٹس سے متعلق نیب کے مقدمات کھلوانے کیلئے حکومت کی جانب سے سوئس عدالتوں کو کوئی مراسلہ نہیں بھجوایا جائیگا اس لئے وسیع تر بینچ کے روبرو بھی حکومت کے اس موقف میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نظر نہیں آرہی اور محسوس یہی ہو رہا ہے کہ حکمران دانستہ طور پر ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں جو عدلیہ کے ذریعے انکے اقتدار کے خاتمہ پر منتج ہوں۔ اس تناظر میں حکمران یقیناً سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں اس لئے اب خطرہ موجود ہے جس کا آئینی اور قانونی ماہرین کی جانب سے اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس کیس کی آئندہ تاریخ سماعت سے پہلے پہلے عدلیہ کیخلاف اپنی پروپیگنڈہ مشینری کا محاذ گرم کرکے گرد اڑانے کا سلسلہ شروع کر دیگی جس پر فاضل ججوں کی زندگیوں کو خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔
فاضل بینچ کا فیصلہ صادر ہونے کے بعد ڈاکٹر بابر اعوان نے جس جارحانہ انداز میں کمرہ عدالت میں روسٹرم پر آکر میڈیا سے بات چیت کی اور عدالت کی اتھارٹی کو چیلنج کیا‘ اس سے عدلیہ کیخلاف حکومت کے آئندہ کے عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اداروں کے ٹکراﺅ اور محاذآرائی کی اس فضا میں امور حکومت و مملکت کو خوش اسلوبی سے چلانا ممکن نہیں رہے گا۔ یہ صورتحال ان مقتدر قوتوں کیلئے کڑا امتحان ہو گی جنہوں نے آئین کے تابع رہتے ہوئے سول معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کا عہد کر رکھا ہے جبکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ خود بھی دوٹوک الفاظ میں باور کرا چکے ہیں کہ اب کسی ماورائے آئین اقدام کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند ہو چکے ہیں۔ اگر اب حکومت کی جانب سے عدلیہ پر گند اچھالنے کے عمل سے ملک میں افراتفری اور انارکی کی فضا قائم ہوتی ہے اور عدلیہ کیلئے آزاد فضا میں کام کرنا عملاً ناممکن بنادیا جاتا ہے تو کیا پھر ملک کو جنگل کے معاشرے کی جانب دھکیلا جانا قبول کرلیا جائیگا یا آئین کی پاسداری کے تقاضے نبھاتے ہوئے ملک کو سرزمین بے آئین بننے سے بچانے کی کوئی تدبیر سوچی جائیگی؟ اس صورتحال میں ملک و مملکت کو لاقانونیت سے بچانے کیلئے بہرصورت مقتدر قوتوں نے ہی اپنا کردار ادا کرنا ہے اس لئے چاہے بادل نخواستہ ہی سہی‘ ان قوتوں کو آنیوالی ممکنہ صورتحال کا ابھی سے سدباب کرلینا چاہیے کیونکہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی رولنگ میں بادی النظر میں موجودہ حکمرانوں کو آئین کی خلاف ورزی اور چیئرمین نیب کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا جا چکا ہے جن سے یہ توقع ہرگز نہیں کہ وہ عدالت عظمٰی کے وسیع تر بینچ میں اپنے سابقہ طرز عمل پر معافی مانگ لیں گے۔ جنہوں نے پہلے ہی دمادم مست قلندر کا نعرہ لگا کر سیاسی شہید بننے کا فیصلہ کر رکھا ہے وہ اب آئین کے تقاضے نبھانے اور عدلیہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھنے کی راہ پر تھوڑا آئینگے‘ اس لئے قبل اسکے کہ ملک میں لاقانونیت‘ افراتفری اور انارکی کی صورت میں ایسے ناخوشگوار حالات پیدا ہوں کہ پھر کسی مقتدر اتھارٹی سے بھی سنبھالے نہ جا سکیں اور خونریزی پر منتج ہوں‘ عقلمندی اور فہم و بصیرت کا یہی تقاضہ ہے کہ ملک‘ آئین اور آئینی اداروں کو کسی کی ضد اور انا کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے اور حکمرانوں کی پیدا کی جانیوالی خرابی کا جو بھی علاج کارگر ہو سکتا ہے‘ اسے بروئے کار لانے سے گریز نہ کیا جائے‘ ضروری نہیں کہ ماضی جیسے ماورائے آئین اقدامات کی طرح براہ راست فوجی حکمرانی کی راہ ہی اختیار کی جائے۔ اگر اصلاح احوال کیلئے وقتی طور پر ”بنگلہ دیش ماڈل“ کا راستہ اختیار کرلیا جائے تو اس سے سانپ بھی مر جائیگا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔ عبوری سیٹ اپ کے ذریعہ ملک کو آئین اور جمہوریت کی پٹڑی پر گامزن رکھا جا سکتا ہے۔ اصلاح احوال کی خاطر بادل نخواستہ کڑوی گولی کھانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں‘ بصورت دیگر مستقبل کا نقشہ اس ملک پر جنگل کے راج کی نشاندہی کر رہا ہے جس سے ملک کی سالمیت کے تحفظ کی بھی ضمانت نہیں مل سکے گی۔
امریکیوں کا حقانی کی جان کو خطرے کا واویلا
امریکہ کے سابق 16 اعلیٰ عہدیداروں نے اپنی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے نام خط میں کہا ہے کہ واشنگٹن میں سابق سفیر حسین حقانی کی جان کو خطرہ ہے، امریکہ کا یہ کہہ کر کہ میمو گیٹ سکینڈل پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، اظہار لاتعلقی درست نہیں، امریکی حکومت کو سابق سفیر کی جسمانی تشدد کے بغیر ان کےخلاف شفاف کارروائی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرنا چاہئیں۔
امریکی پالیسی سازوں کے ذہن سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی امریکی برتری کا خناس نہیں نکلتا۔ میمو کیس پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں زیر سماعت ہے جس کو حسین حقانی کی طرح حکومت بھی کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دیتی ہے جس کی انکی نظر میں کوئی حقیقت نہیں، حسین حقانی کے بقول انہوں نے اس کیس کی شفاف تحقیقات کیلئے اپنے سفارتی منصب سے استعفیٰ دیا تھا۔ وہ کسی تھانے میں بند نہیں جہاں ان پر تشدد ہو سکتا ہے، وہ وزیر اعظم ہاﺅس میں مقیم ہیںجو پاکستان کا محفوظ ترین مقام ہے، امریکیوں کی نظر میں کیا حقانی کو وزیر اعظم سے جان کا خطرہ ہے؟ حقانی اپنے وطن میں اعلیٰ ترین عدالت کے حکم پر تشکیل دیئے گئے کمیشن کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ ان پر منصور اعجاز نے سنگین الزامات لگائے، وہ غلط ثابت ہو گئے تو حقانی سرخرو ہو کر نکلیں گے، الزامات درست ثابت ہوئے تو اسکی سزا کا فیصلہ عدالت کرےگی۔ انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں تو اس سے امریکیوں کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھ رہا ہے؟ پاکستانی حکومتیں پالیسیاں ترتیب دیتے ہوئے امریکی ڈکٹیشن کو مد نظر رکھتی ہیں۔ پاکستان میں عدلیہ آزاد اور خود مختار ہے، اس سے کوئی بھی مرضی کا فیصلہ حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستانی قوم کو عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔ سابق امریکی عہدیدار بھی فکر مند نہ ہوں۔ عدلیہ انصاف کے تقاضے پورے کرےگی۔ امریکی حکومت نے درست کہا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ امریکی انتظامیہ اسے پاکستان کا اندرونی معاملہ سمجھتے ہوئے خواہ مخواہ کی مداخلت کی عادت سے باز رہے گی۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس میں مقیم حقانی کے بارے میں امریکی ترجمان خاتون نولینڈ بھی کہہ رہی ہیں کہ حقانی کی حفاظت کا معقول بندوبست کیا جائے۔
بھگدڑ سے طالبات کی اموات
الحمرا کلچر کمپلیکس لاہور میں ایک نجی گروپ آف کالجز کے زیراہتمام میوزیکل شو کے اختتام پر بھگدڑ مچنے سے تین طالبات جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہو گئیں۔ اس شو میں طالبات کی اکثریت سمیت 7 ہزار افراد شریک تھے۔ ابتدائی معلومات کےمطابق تقریب کے اختتام پر سکیورٹی گارڈز نے دروازے نہ کھولے جس سے زیادہ رش پڑنے پر بھگدڑ مچی۔ اس افسوسناک سانحہ پر کالج انتظامیہ کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
والدین بڑی بڑی فیس برداشت کرکے اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میںاس اعتماد کے ساتھ بھجواتے ہیں کہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ وہ محفوظ بھی رہیں گے۔ لیکن جب کسی بھی غیر ذمہ داری یا غفلت کے باعث بچے یا بچی کی نعش گھر پہنچتی ہے تو والدین پر ایک قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ جس تقریب میں 7 ہزار افراد شریک ہوں اس کو محفوظ تر بنانے کےلئے متعلقہ ادارے کی انتظامیہ کو خصوصی اقدامات کرنا چاہئیں تھے۔ طالبات کو ہر صورت ڈسپلن قائم رکھنے کی بریفنگ دی گئی ہوتی تو بھگدڑ مچنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیاں ضرور ہونی چاہئےں لیکن تمام تر حفاظتی اقدامات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔ گذشتہ سال فیصل آباد کے ایک نجی سکول کے کلرکہار پکنک کےلئے لائے گئے 30 کے قریب بچے بس حادثے میں چل بسے تھے۔ گزشتہ روز گجرات میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے ایک طالب علم جاں بحق ہو گیا۔
وزیراعلیٰ نے الحمرا کلچرل کمپلیکس حادثے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے اس سے سکیورٹی گارڈز یا کالج انتظامیہ قصور وار ٹھہرے گی لیکن اس سے مرنے والی بچیوں کی زندگی تو واپس نہیں آسکتی۔ ضرورت آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔ اس کےلئے نہ صرف حکومت طلبہ و طالبات کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے سخت ضوابط بنائے بلکہ تعلیمی اداروں کو خود بھی اصلاحی اقدامات تجویز کرکے لاگو کرنا چاہئیں اور والدین کو ایسے معاملات میں پہلے دلچسپی لینی چاہیے۔