وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے فرائض ادا کریں‘ ہم شخصیات کے بجائے اداروں کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم گڈگورننس کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں‘ وہ وقت دور نہیں جب آئین پر سے آمروں کے لگائے گئے داغ مٹا دینگے۔ انکے بقول پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی 1973ء کے آئین کی واپسی کیلئے کام کر رہی ہے تاہم بعض عناصر حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
بلاشبہ جمہوریت کا استحکام اداروں کے استحکام کے ساتھ ہی وابستہ ہے اور اگر تمام ریاستی اداروں کو انکی آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا آزادانہ موقع ملتا رہے تو اس سے جمہوریت کی گاڑی سبک خرامی سے اپنی منزل کی جانب گامزن رہے گی اور کسی طالع آزماء کو اسے ڈی ٹریک کرنے اور ماورائے آئین اقدام کے تحت منتخب جمہوری نظام پر شب خون مارنے کی جرأت نہیں ہو سکتی۔ خرابیاں اسی وقت پیدا ہوتی ہیں جب کسی ریاستی آئینی ادارے کا سربراہ آئین میں متعین اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے خود کو عقلِ کل اور سیاہ و سفید کا مالک سمجھ بیٹھتا ہے‘ اگر آئین کیمطابق ہر ادارہ اپنے فرائض کی ادائیگی کو شعار بنائے تو کسی طالع آزماء جرنیل کے ذہن میں ماورائے آئین اقدام کے تحت اقتدار پر براجمان ہونے کا خناس پرورش ہی نہیں پا سکتا۔ ماضی میں اگر طالع آزماء جرنیلوں کو اپنی آئینی ذمہ داریوں سے تجاوز کرنے اور جمہوریت پر شب خون مارنے کا موقع ملا تو اس میں یقیناً دیگر آئینی اداروں کی کمزوریوں کا بھی عمل دخل تھا‘ جنہوں نے اپنے متعینہ آئینی فرائض سے روگردانی کی تو طالع آزماء جرنیلوں کو بھی ماورائے آئین اقدامات کا موقع ملتا رہا جبکہ انگریز کے پروردہ سیاست دانوں کے مفاداتی ٹولے نے بھی طالع آزماء جرنیلوں کے ذہنوں میں اقتدار کا خناس پالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اس طرح طالع آزمائوں کو جمہوریت دشمن اسٹیبلشمنٹ‘ سول و خاکی بیورو کریسی اور سیاست میں موجودہ جاگیرداروں کے سازشی ٹولے کی آشیرباد حاصل ہوتی رہی اور عدلیہ بھی نظریہ ضرورت ایجاد کرکے بندوق کی طاقت کے آگے سرتسلیم خم کرتی رہی۔
اگر انتظامیہ‘ مقننہ اور عدلیہ کے ادارے اپنے اپنے آئینی اختیارات کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے چوکنا اور مستعد ہوتے تو کسی ادارے کو دوسرے ادارے میں نقب لگانے‘ اسکے اختیارات اپنے دامن میں سمیٹنے اور دوسرے ادارے کو ملیامیٹ کرنے کی کبھی جرأت نہ ہوتی۔ 1973ء کا اصل آئین وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام پر مبنی ہے جس کی روح کے مطابق سسٹم کو چلایا جاتا تو آئین میں دخل درمعقولات کے دروازے کبھی نہ کھلتے مگر اس آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے خود ہی آئین میں یکے بعد دیگرے چھ ترامیم کراکے نہ صرف طاقت کا توازن بگاڑا‘ بلکہ وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کا تصور ہی تبدیل کر دیا۔ اگر وہ تمام ریاستی اور حکومتی اختیارات اپنی ذات میں سمونے کی کوشش نہ کرتے تو ممکن تھا کہ جمہوری نظام مستحکم ہو جاتا اور سسٹم کی بساط الٹانے کیلئے طالع آزمائوں کی نیت میں بھی فتور نہ پیدا ہوتا۔
اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی73ء کے آئین کی واپسی اور اس پر لگے ہوئے آمروں کے داغ جلد مٹانے کی قوم کو نوید سنا رہے ہیں تو انہیں سلطانی ٔ جمہور میں موجود آمرانہ رویوں کی تبدیلی کیلئے بھی اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں کیونکہ ساری خرابیاں ان رویوں کی ہی پیدا کردہ ہیں۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ عوام نے موجودہ حکمرانوں کو جرنیلی آمریت اور اسکی تمام نشانیاں مٹانے کا ہی مینڈیٹ دیا ہے اور اس مینڈیٹ کا یہی تقاضہ تھا کہ وفاقی پارلیمانی نظام پر مبنی آئین کا حلیہ بگاڑنے والی تمام آئینی دفعات اور شقوں کو پارلیمنٹ کے ذریعہ آئین سے یکسر حذف کردیا جاتا اور اس معاملہ میں مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حاصل ہونے والے تعاون سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا مگر آئین کو اسکی اصل شکل میں بحال کرنے کے بار بار کے دعوئوں کے باوجود 17ویں آئینی ترمیم اور آئین میں شامل صدر کے صوابدیدی اختیارات کے خاتمہ کیلئے نہ صرف اب تک کوئی عملی پیش رفت نہیں کی گئی بلکہ جرنیلی آمریت والے صدر کے ان اختیارات کو بودے دلائل کی بنیاد پر ایوان صدر میں برقرار رکھنے کی بھی وکالت کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم خود بھی متعدد بار یہ دلیل دے چکے ہیں کہ کیا صدر مملکت اپنی ہی پارٹی کی حکومت اور اسمبلی کو توڑ دیں گے‘ حالانکہ ماضی میں انکی ہی کی پارٹی کے صدر انکی ہی پارٹی کی حکومت اور اسمبلی کو 58(2)B کی تلوار کے ذریعہ کاٹ چکے ہیں۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ صدر آصف علی زرداری جرنیلی آمریت والے اپنے اختیارات کی پارلیمنٹ کو واپسی کا خود بھی فخریہ انداز میں اعلان کر چکے ہیں اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی منتخب ایوان کے اندر اور باہر متعدد بار 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کا قوم کو تحفہ دینے کا دعویٰ کر چکے ہیں مگر موجودہ اسمبلی کی آئینی معیاد کے دو سال پورے ہونے کے بعد بھی آئین کے چہرے سے جرنیلی آمریت کے لگائے گئے بدنما دھبے نہیں دھل سکے اور محض زبانی جمع خرچ سے قوم کو مطمئن کئے رکھنے اور جرنیلی صوابدیدی اختیارات کو ایوان صدر میں سجائے رکھنے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ جب اپوزیشن کی جانب سے 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کا بل ایوان میں لانے کا تقاضہ کیا جاتا ہے تو حکومتی اتحادی اے این پی کو ڈھال بنا کر عذر پیش کر دیا جاتا ہے کہ وہ آئینی پیکیج میں صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کا ایشو بھی طے کرانا چاہتی ہے جبکہ اے این پی کی قیادت کی جانب سے 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ کو کبھی صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے ساتھ مشروط نہیں کیا گیا۔
17ویں آئینی ترمیم کا معاملہ تو ایک جانب جبکہ موجودہ سلطانی ٔ جمہور میں تو جرنیلی آمریت کی تمام پالیسیوں اور باقیات کو بھی سنبھال کر رکھا گیا ہے اور آئین کا حلیہ بگاڑنے اور اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کرنے کے جرم میں جس جرنیلی آمر کا آئین کی دفعہ 6 کے تحت ٹرائل ہونا چاہئے‘ اسے نہ صرف پروٹوکول دیکر ایوان صدر سے رخصت کیا گیا بلکہ اسے قانونی اور آئینی شکنجے سے بچنے کیلئے محفوظ راستہ بھی فراہم کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ بھی چشم کشا ہے کہ سابق جرنیلی آمر مشرف کو دن رات تنقید کا نشانہ بنانے والی پیپلز پارٹی کی حکومت اب اس جرنیلی آمر کیخلاف کرپشن کے 39 سنگین مقدمات کو خاموشی سے ہضم کر گئی ہے اور ان مقدمات کو پیپلز پارٹی کی ویب سائٹ سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
ان حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا موجودہ حکمرانوں سے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ خود بھی بطور ریاستی آئینی ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرینگے اور آئین پاکستان کو جرنیلی اور سول آمروں کی جانب سے لگائے گئے بدنما دھبوں سے پاک کر دینگے۔ اگر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اپنے دعوئوں اور اعلانات کے مطابق آئین کا وفاقی پارلیمانی ڈھانچہ بحال کر دیتے ہیں جس کیلئے یقیناً انہیں مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا بھرپور تعاون حاصل ہو گا تو قوم کیلئے اس سے بڑا تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے‘ تاہم انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ قوم اب الفاظ کی جادوگری سے مطمئن ہونے والی نہیں‘ عوام تو گڈگورننس کے معاملہ میں پہلے ہی اپنے منتخب حکمرانوں سے بدگمان اور عاجز آچکے ہیں‘ اگر وزیراعظم آئین سے آمروں کے داغ مٹانے کا وعدہ بھی پورا نہ کر سکے تو عوام کا اس سسٹم سے بھی اعتماد اٹھ جائیگا۔
پاکستانی دریائوں کا پانی
کیوں بند کیا جا رہا ہے
پاکستان انڈس واٹر کمیشن کا وفد مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انڈس رور پر بنائے جانے والے ڈیموں کے معائنہ کیلئے موقع پر جائیگا۔ سید جماعت علی شاہ نے پاکستان میں موجود بھارتی ٹیم سے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم مقبوضہ کشمیر میں بنائے جانے والے منصوبوں کا معائنہ کرنا چاہتی ہے تاکہ مغربی دریائوں پر پانی کے سلسلہ میں بنائے جانے والے منصوبوں کے بارے میں آگاہی ہو سکے۔ کیونکہ پاکستان کو اندیشہ ہے کہ ان پراجیکٹس کے ذریعہ پانی میں ہیرا پھیری ہو رہی ہے‘ بھارتی وفد نے اصولی طور پر اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم کے دورہ کو جلد سے جلد آخری شکل دینے کا وعدہ کیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ جون اور جولائی میں پاکستانی ٹیم کو بھارتی ڈیمز اور منصوبوں کا معائنہ کرنے کیلئے دورہ کی دعوت دی جائیگی۔ صورتحال کے بارے میں جو کچھ بتایا گیا ہے‘ وہ بہت خوفناک ہے۔ بھارتی ٹیم کے لیڈر نے جب پاکستانی دریائوں کی حالت دیکھی تو وہ خود حیران اور پریشان رہ گئے ہیں۔ شاید انہیں یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ بھارت نے پاکستانی دریائوں کا گلہ بالکل دبا دیا ہے۔ پاکستان کے دریا خشک ہو چکے ہیں اور بھارت اب نئے ڈیمز بنانے کیلئے دریائے سندھ‘ جہلم اور چناب کو بھی اسی طرح خشک بنانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ پاکستانی حکام اس سلسلہ میں زیادہ سرگرمی سے عالمی میڈیا اور رائے عامہ کو اس سے باخبر کرنے کی کوشش کریں کیونکہ بھارت دریائوں کا پانی روک کر پاکستان کو بنجر صحرا بنانے کیلئے جو سازش کر رہا ہے‘ یہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایک خوفناک جرم ہے۔ پاکستان کے سیاست دان وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں‘ محض اپنے اقتدار میں رہنے اور مسلسل رہنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ وہ پاکستان کے مفادات اور مستقبل میں دلچسپی بالکل ظاہر نہیں کر رہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ محب وطن حلقے اس طرف توجہ دیں اور بھارت پر دبائو بڑھایا جائے کہ وہ پاکستان کا پانی بند کرکے پاکستان کو حالت جنگ میں جانے پر مجبور نہ کرے۔ سید جماعت علی شاہ اور انکی ٹیم کو چاہئے کہ وہ بھارت کا دورہ کرکے اس سلسلہ میں تمام حقائق سے عوام اور دنیا کو آگاہ کرے۔
سب سے بڑے صوبہ کو
نظر انداز کرنا مناسب نہیں
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مقامی حکومتوں سے متعلق اہم اجلاس میں پنجاب کو مدعو نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے مسلم لیگ (ن) کے سنیٹر پرویز رشید نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر سے متعلق ایک اعلیٰ سرکاری ذریعہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ایوان صدر کے اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ صوبہ سندھ‘ سرحد‘ اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ نے صدر سے ملاقات کا وقت مانگا تھا اس لئے انہیں مشترکہ طور پر بلایا گیا۔ جبکہ یہ بلدیاتی اداروں کے بارے میں کوئی باقاعدہ اجلاس نہ تھا۔ وزراء اعلیٰ نے صدر کو الگ الگ اپنے صوبے کے ایشوز بتائے اور جب انہوں نے پولیس آرڈر اور مقامی حکومتوں کی بات کی تو صدر نے کہا کہ انہیں بین الصوبائی رابطہ کمیٹی میں وزیراعظم کے سامنے اٹھائیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی شکایت یہ ہے کہ جب تین صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو صدر صاحب نے بلوا لیا تھا تو پھر چوتھے صوبے کے سربراہ کو بھی بلوا لیتے۔ سب سے بڑے صوبہ کو نظر انداز کر کے باقی صوبوں کو اکٹھا کر کے جو بھی گفتگو کی گئی۔ پنجاب کو اس سلسلہ میں شکوک و شبہات ہو سکتے ہیں۔ ایوان صدر میں اگر صرف ایسے صوبوں کو بلایا جائے جہاں صدر کی سیاسی پارٹی اور ہم خیال افراد کی حکومت ہے اور اس میں پنجاب کو صرف اس لئے وہاں نہ بلایا جائے کہ پنجاب میں ایک ایسی پارٹی کی حکومت ہے جو کہ مرکز میں حزب اختلاف میں شامل ہے تو اس سے صدر کا وفاق کی علامت کا تشخص متاثر ہو گا۔
ایوان صدر کو وفاق اور اسکی اکائیوں میں ربط و ضوبط برقرار رکھنے کی خاطر کسی صوبے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے جن خدشات و تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایوان صدر کو ان کے ازالہ کی طرف آنا چاہئے اور کھلے عام اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو یقین دلانا چاہئے کہ وفاقی حکومت آئندہ ایسے اجلاسوں اور میٹنگز میں حکومت پنجاب کو بھی مدعو کیا کرے تاکہ صوبے اور وفاق کے درمیان غلط فہمیاں بڑھ نہ سکیں۔
پتنگ بازی
لغویات پر پابندی برقرار
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے امتناع پتنگ بازی آرڈی ننس کیخلاف دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اپنے عبوری فیصلے میں پتنگ بازی پر پابندی کو جائز قرار دیدیا ہے اور کہا ہے کہ چند لوگوں کیلئے عوام کی جان و مال کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا اور نہ ہی ایک تہوار کے نام پر معصوم اور بے گناہ لوگوں کے گلے کاٹنے کی اجازت دی جا سکتی ہے لہذا پتنگ بازی کی اجازت دینا پنجاب اور بالخصوص لاہور کے عوام کے مفاد کیخلاف ہے۔فاضل عدالت نے اس سلسلہ میں چیف سیکرٹری پنجاب کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے جس کیمطابق جس سال پتنگ بازی کی اجازت دی گئی تھی اس سال18 افراد جاں بحق اور75 افراد زخمی ہوئے جبکہ واپڈا کو بھی پانچ ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ فاضل عدالت کا فیصلہ مستحسن اور عوام کی خواہشات کیمطابق ہے۔ واقعتاً پتنگ بازی ایک لا یعنی اور ہندووانہ شوق اور بے مقصد مصروفیت ہے اس سے عام افراد کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور گنجان آبادی میں بجلی کی تنصیبات کے علاوہ راہ چلتے افراد بھی اس برے شوق سے متاثر ہوتے ہیں۔ پتنگ بازی کے نام پر جن لغویات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انکی کسی بھی مہذب سوسائٹی میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ فاضل عدالت کا فیصلہ عوام کی خواہشات کے عین مطابق ہے اور سوسائٹی کا ہر طبقہ اس فیصلہ کا خیر مقدم کریگا۔