وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اس وقت کالاباغ ڈیم موجود ہوتا تو سیلاب سے اتنا نقصان نہ ہوتا‘ اگر آج بھی اس ڈیم پر اتفاق رائے ہو جائے تو حکومت اس ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کر دیگی۔ گزشتہ روز ملتان میں سیلاب سے متعلق ایک بریفنگ کے دوران اور ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے ایک کروڑ 40 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں‘ جبکہ لاکھوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے اتفاق رائے کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ اگر قوم اور تمام سیاسی جماعتیں اس ڈیم کی تعمیر پر متفق ہو جائیں تو پھر کسی کو اعتراض نہیں ہو گا۔ انکے بقول کالاباغ ڈیم کو 1985ء میں اس وقت سیاسی ایشو بنایا گیا تھا جب صوبہ خیبر پی کے کے ایک وزیر نے اعلان کیا تھا کہ یہ ڈیم انکی لاش پر ہی بنے گا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے تکنیکی ماہرین اپنا کردار ادا کریں‘ اگر یہ ڈیم اتفاق رائے سے بن جاتا ہے تو ہمارے لئے بہت مددگار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 1947ء میں ہمیں ملک چاہیے تھا‘ آج اس مشکل گھڑی میں ہمیں جذبے والی قوم چاہیے‘ سیلاب کی تباہی گزشتہ عشروں کی تمام تباہیوں سے زیادہ ہے۔ یہ ملکی تاریخ کا بدترین سیلاب ہے لیکن مجھے امید ہے کہ ہم عوام کی مدد سے اس چیلنج سے نمٹ لیں گے۔
بلاشبہ سیلاب کی تباہ کاریاں ملک گیر ہیں اور دوسرے مرحلے میں بھارت کی جانب سے دریائے چناب‘ جہلم اور سندھ میں زیادہ پانی چھوڑنے کے نتیجہ میں آنیوالے سیلاب نے تو خیبر پی کے‘ سندھ اور پنجاب کے کئی محفوظ شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ نوشہرہ اور مظفرگڑھ سے انسانی آبادی کا انخلاء کرایا جا رہا ہے‘ جیکب آباد اور شکارپور کو بھی خالی کرالیا گیا ہے‘ گیارہ بارہ لاکھ کیوسک فٹ تک آنیوالے خوفناک سیلابی ریلے سے گدو‘ سکھر اور کوٹری بیراجوں کو بھی خطرہ لاحق ہے‘ لورالائی میں 20 ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں‘ دریائے جہلم میں مزید پانی آنے سے درجنوں دیہات تباہ ہو گئے ہیں اور شاہراہ قراقرم 22 مقامات پر بند ہو چکی ہے۔ جنوبی پنجاب میں پٹرول کی قلت ہے‘ سیلاب زدہ علاقوں میں ہی نہیں‘ ملک کے دیگر مقامات پر بھی اشیائے خوردنی ناپید ہو رہی ہیں‘ سبزیوں‘ پھلوں اور دیگر اجناس کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔ عملاً قحط کی کیفیت پیدا ہوتی نظر آرہی ہے جبکہ کارخانے اور فیکٹریاں بند ہونے سے بے روزگاری کا سیلاب بھی ایک نئے عذاب کو دعوت دیتا نظر آرہا ہے۔ بلاشبہ اس سیلاب نے ملک کی بنیادیں ہلا دی ہیں اور اقوام متحدہ بھی تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں 2004ء کے سونامی سے زیادہ ہیں‘ سیلاب سے ٹوٹنے‘ بکھرنے والی قوم کو دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کیلئے ایک طویل عرصہ درکار ہو گا‘ ابھی تو متاثرین زلزلہ کی بحالی بھی مکمل نہیں ہو سکی‘ سیلاب کی تباہ کاریاں تو اس سے کہیں زیادہ ہیں‘ اس لئے قومی تعمیر کے جذبے کو فروغ دینے کیلئے یہی لمحہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
قدرتی آفات کو ٹالا تو نہیں جا سکتا‘ مگر تدبر اور تدبیر سے انکے نقصانات تو کم کئے جا سکتے ہیں‘ کالاباغ ڈیم کے منصوبے میں بھی ایسا تدبر موجود ہے جس سے قومی اقتصادی و معاشی ترقی کے دروازے ہی نہیں کھلیں گے‘ یہ سیلابی ریلوں کا دبائو کم کرنے کا بھی باعث بنے گا۔ ہمارے دشمن بھارت نے اسی حکمت عملی کو پیش نظر رکھتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی بھی پرواہ نہیں کی اور ہماری جانب سے ڈیم نہ بنانے کی کوتاہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے ہمارے حصے میں آنیوالے دریائوں پر بھی چھوٹے بڑے 62 سے زائد ڈیم تعمیر کرلئے‘ اس سے بھارت کی توانائی کی ضرورت ہی پوری نہیں ہو رہی‘ وہ اپنی زرعی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ان ڈیموں کے پونڈز میں پانی ذخیرہ بھی کرلیتا ہے‘ چنانچہ جب بارشوں کے موسم میں اسکے پاس پانی وافر ہو جاتا ہے تو وہ ایک سازش کے تحت سارا فالتو پانی ہماری جانب چھوڑ دیتا ہے‘ اسکی جانب سے ہمارے حصے کا پانی روکنے کی نیت بھی ہماری تباہی کی ہوتی ہے اور وہ ہماری تباہی کی نیت سے ہی سارا فالتو پانی ہماری جانب چھوڑ دیتا ہے‘ اس لئے بھارت کی ان سازشوں کا توڑ بھی کالاباغ ڈیم سمیت ضرورت کے تمام ڈیم تعمیر کرکے کیا جا سکتا ہے لیکن ان ڈیموں کا خاتمہ بھی ضروری ہے جو بھارت نے ناجائز طور پر تعمیر کئے ہیں۔
یقینی بات ہے کہ ہماری دھرتی پر جتنے زیادہ ڈیم بنیں گے‘ اتنا ہی سیلابی موسموں میں پانی کے بہائو کی شدت میں کمی آئیگی اور ڈیموں کے پونڈز میں پانی ذخیرہ ہونے کے بعد ہماری خشک زمینوں کو سیراب کرنے کے بھی کام آئیگا مگر اس تباہی کی ہرگز نوبت نہیں لائے گا جس کا آج ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘ پھر جس منصوبے میں ہمارے لئے اتنی حکمت اور تدبیریں موجود ہیں‘ اس سے گریز اپنے پائوں پر خود ہی کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم کو آج کالاباغ ڈیم کی افادیت کا احساس ہوا ہے تو یقیناً انہیں اس ڈیم کی مخالفت کے پس منظر کا بھی علم ہو گا۔ یہ پس منظر بھی ہماری سالمیت کیخلاف بھارتی سازشوں پر ہی مبنی ہے جس نے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کیلئے سندھ اور خیبر پی کے میں اپنی لابیز کو متحرک کیا‘ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعہ ان میں اربوں روپے تقسیم کئے گئے جن کی وساطت سے یہ زہریلا پروپیگنڈہ کیا گیا کہ کالاباغ ڈیم تعمیر ہوا تو اس سے دریائے سندھ کا رخ تبدیل کرنیوالا پانی نوشہرہ اور مردان کو ڈبودے گا‘ اے این پی نے ایک مخصوص ایجنڈے اور اپنی مفاداتی سیاست کی بنیاد پر اس پروپیگنڈے کو ہوا دی اور ولی خان نے یہ بیان بھی داغ دیا کہ کالاباغ ڈیم تعمیر کیا گیا تو ہم اسے ڈائنامائیٹ مار کر اڑا دینگے۔ بھارت کو تو پاکستان کی ترقی کیلئے کالاباغ ڈیم کی افادیت کا علم تھا اس لئے اس نے اس ڈیم کی مخالفت کیلئے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں جبکہ بدقسمتی سے ہمارے سیاست دانوں میں بھارتی سازشوں کا توڑ کرنے کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہو سکا بلکہ کالاباغ ڈیم پر سیاست کرکے بھارتی سازشوں کو تقویت پہنچانے کا ہی اہتمام کیا گیا۔
اب قدرت نے سیلاب کی شکل میں عذاب نازل کرکے کالاباغ ڈیم کے بغیر ہی نوشہرہ اور مردان کو ڈبو دیا ہے اور ملک گیر تباہی کا اہتمام کر دیا ہے تو کالاباغ ڈیم کے مخالفین کی رائے کو اب بھی اتفاق رائے کیلئے اہمیت دینے کی کیا ضرورت ہے‘ انجینئر شمس الملک جو خود اس علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ جیسے تکنیکی ماہرین نے تو کالاباغ ڈیم کی فزیبلٹی کی تیاری کے مراحل میں ہی اس ڈیم کے مخالفین کو ٹھوس اور دوٹوک جواب دے دیا تھا کہ اس سے نوشہرہ یا ملک کا کوئی دوسرا علاقہ ہرگز نہیں ڈوبے گا۔ وزیراعظم کے بقول اگر تکنیکی ماہرین نے ہی کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہے تو ان کا یہ کردار پہلے سے موجود ہے‘ اس لئے آپ اتفاق رائے کی منافقت کو اب کالاباغ ڈیم کے راستے کی رکاوٹ بنانے سے گریز کریں اور اللہ کا نام لے کر اس کی تعمیر کا بیڑہ اٹھا لیں۔ اگر اب بھی اسکی مخالفت میں کوئی آواز اٹھے گی تو سیلاب سے تباہ ہونے والے نوشہرہ اور مردان کے عوام ہی ان سے نمٹ لیں گے‘ قوم تو اس ڈیم کی تعمیر پر مکمل متفق ہے‘ قومی جذبات کا اندازہ لگانا تو بے شک کالاباغ ڈیم پر ریفرنڈم کرا دیں‘ اس سے معدودے چند مخالفین کو بھی جواب مل جائیگا مگر اب اسکی تعمیر میں مزید پس و پیش سے کام نہ لیں۔
اس ڈیم کی تعمیر کیلئے اب تک جتنا کام ہو چکا ہے اور جتنی رقم صرف کی جا چکی ہے‘ اس کی تعمیر کسی نئے ڈیم سے زیادہ آسان ہو گی اور اس پر مزید لاگت اور وقت بھی کم صرف ہو گا اس لئے دشمن ملک کی لابیز کی مخالفت کی پرواہ نہ کریں اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیں۔ اس سے ہماری توانائی کی ضروریات ہی پوری نہیں ہونگی‘ ہم آئندہ کیلئے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی محفوظ رہیں گے۔ کالاباغ ڈیم تعمیر ہو گا تو یقیناً دیگر ڈیمز کی تعمیر کے راستے بھی کھل جائیں گے اس لئے جیسے بھی ہو‘ اب کالاباغ ڈیم کی تعمیر میں کوئی تاخیر نہ کی جائے‘ قدرت نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہمیں ماضی کی غلطیوں کا احساس دلایا ہے تو اب ان غلطیوں کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔
اسرائیلی کمپنی کو ٹھیکہ کس نے دیا؟ گڈگورننس کا ایک اور مظاہرہ
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پی ایس او کی طرف سے پٹرول پمپس کی مانیٹرنگ کے نظام کا پراجیکٹ اسرائیلی کمپنی کو دینے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک سے غداری کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاک ترک کے نام کے کور میں کام کرنے والی کمپنی میں بھارت اور اسرائیل کے اہم عہدیدار کام کر رہے ہیں جو پاک فوج سمیت ملک کے اہم دفاعی مقامات کی جاسوسی کر رہے ہیں۔
کمیٹی نے اسرائیلی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کی فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے پندرہ روز کے اندر تحقیقات کی رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے‘ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کمپنی کے ڈائریکٹرز میں بھارت کے مادھو لال اور اسرائیل کے حاضر سروس میجر جنرل ڈیم مالز شامل ہیں۔پی ایس او پاکستان سٹیٹ آئلز ایک سرکاری کمپنی ہے‘ اس کمپنی نے 2008ء میں اس پاک ترک کمپنی کے نام کی آڑ میں کام کرنیوالی کمپنی کو ٹھیکہ دیا اور اڑھائی تین برس میں اس کمپنی نے پاکستان کے تمام دفاعی و حساس مقامات پر اپنا مواصلاتی نظام فٹ کردیا ہے‘ جس میں جی ایچ کیو اور ریڈ زون کا علاقہ بھی شامل ہے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی قابل تحسین ہے کہ اس نے اڑھائی تین برس کے بعد ہی اس کمپنی کا سراغ لگا لیا وگرنہ ہمارے ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو تو ایسی غفلت اور بدترین کارکردگی پر حکومت کی طرف سے بہت سے ’’تمغے‘‘ ملنے چاہئیں۔
قائمہ کمیٹی کی طرف سے پندرہ روز میں انکوائری رپورٹ طلب کرنا بھی حیرت انگیز ہے‘ پندرہ روز میں تو لوگ دفتر کے دفتر بدل دیتے ہیں‘ قائمہ کمیٹی کو چاہیے تھا کہ متعلقہ حکام کو ساتھ لے کر پی ایس او کے دفتر پر چھاپہ مارتی اور متعلقہ ریکارڈ اپنے قبضہ میں لے لیا جاتا اورپھر یہ ڈیل کے کرنے والوں کیخلاف غداری اور ملک دشمنی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرا دیئے جاتے۔
پوری قوم موجودہ حالات اور انکی سنگینی پر افسردہ ہے‘ موجودہ حکومت نے عوام کو بے حد مایوس کیا ہے‘ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے یہ حکومت حکمرانوں کے مسائل حل کر رہی ہے‘ خفیہ ایجنسیاں ملک و قوم کا تحفظ کرنے کے بجائے سیاست دانوں اور صحافیوں کی جاسوسی پر مامور ہیں‘ بہرطور سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو اب اس اہم مسئلہ کا انکشاف کرنے کے بعد اسے منطقی انجام تک بھی پہنچانا چاہیے اور ذمہ دار لوگوں کو شدید سزائیں دلوانے تک کمیٹی کے ارکان کو خاموش نہیں ہونا چاہیے۔
جرمن پولیس نے مسجد اور ملحق کلچرل سنٹر بند کر دیا
جرمن پولیس نے ہیمبرگ میں ایک مسجد اور اس سے ملحق کلچرل سنٹر بند کر دیا‘ ہیمبرگ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مسجد میں 9/11 کے واقعہ میں ملوث مبینہ دہشت گردوں کا آنا جانا تھا۔
جرمنی بھی اسی روش پر چل پڑا ہے جو پوری مغربی دنیا نے مسلمانوں کیخلاف اختیار کر رکھی ہے‘ حیرانی ہے کہ پاکستان میں عیسائیت اور عیسائی پوری طرح آزاد ہیں‘ انکے چرچ اور گرجے محفوظ ہیں‘ وہ آزادانہ اپنی عبادت کرتے ہیں اور انکی دیگر مذہبی تقریبات میں بھی کوئی رخنہ نہیں ڈالا جاتا بلکہ پاکستان کے چرچوں اور مذہبی مراکز میں بیرونی دنیا کے عیسائیوں کا آنا جانا بھی لگا رہتا ہے مگر ہمارے ہاں پولیس یا کسی حکومتی ادارے نے کبھی کسی طرح کا کوئی الزام نہیں لگایا اور نہ ہی کسی چرچ کی بندش کا حکم دیا ہے۔ جرمن ہوم ڈیپارٹمنٹ کو کیا الہام ہوا ہے کہ جرمنی کی ایک مسجد اور اس سے ملحق کلچرل سنٹر کو بند کر دیا گیا‘ کیا اس طرح جرمنی میں بہتری پیدا ہو گی؟ جرمن حکومت کو اس بے جا الزام کا نوٹس لینا چاہیے اور ہماری خارجہ امور کی وزارت کو بھی اس کا پرزور نوٹس لینا اور احتجاج کرنا چاہیے۔
جرمنی کی حکومت کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ نائن الیون کے دہشت گردوں نے مساجد اور کلچرل سنٹروں میں ٹھکانہ نہیں بنایا‘ ویسے بھی یہ نائن الیون کا واقعہ ایک خود ساختہ ڈرامہ تھا جس کا مقصد مسلمانوں کو کچلنا اور انکے اثرات کو ختم کرنا تھا‘ اس لئے کہ اسلام جس تیزی سے پھیل رہا ہے‘ مغرب اس سے خوفزدہ ہے۔ حکومت جرمنی کو چاہیے کہ مسلمانوں کے ساتھ بہتر تعلقات کی خاطر مسجد کو کھولے اور اسکے ساتھ مسلمانوں کے کلچرل سنٹر کو واگزار کرے۔