چینی وزیر خارجہ کا پاک چین لازوال دوستی کا اعادہ

ـ 10 مارچ ، 2010
عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ ینگ زچی نے کہا ہے کہ کشمیر اور اروناچل پردیش کے معاملہ میں ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی‘ چین ان مسائل کا فوری حل چاہتا ہے۔ گزشتہ روز بیجنگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان اور بھارت کے مابین حل طلب مسائل سلجھانے میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں اور اس نازک صورتحال میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دوستی پائیدار بنیادوں پر ہے‘ یہ محض ہتھیاروں کی خریداری کا معاملہ نہیں اور کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ پاک چین دوستی محض مفادات کی پیداوار ہے۔ انکے بقول بھارت کے ساتھ جاری سرحدی تنازعہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا‘ چین اپنے مفادات پر کسی بھی طرح کی سودا بازی نہیں کر سکتا‘ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اس نازک مرحلہ پر پاکستان کی مدد کرے۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ چین ہمارا قابل بھروسہ دوست اور اس خطہ میں ہمارا فطری اتحادی ہے جس نے ہر آزمائش اور ہر کٹھن گھڑی میں ہمارا بے لوث ساتھ دیا ہے اور ہمالہ سے ابلنے والے چشمے پاک چین دوستی کے انمٹ رشتے کا ہی پیغام لاتے ہیں جبکہ بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور اکھنڈ بھارت کے جنون میں ہماری سالمیت ہی کے درپے نہیں رہتا اور کشمیر کو ہڑپ کرنے کی نیت ہی نہیں رکھتا‘ چین کے ساتھ بھی اسکے توسیع پسندانہ جنونیت کی وجہ سے تنازعات چلتے رہتے ہیں۔ 1961ء میں بھارت نے نیپال کی سرحد سے ملحق چین کے علاقے اروناچل پردیش پر اپنا غاصبانہ قبضہ قائم کرنے کیلئے فوجی چڑھائی کی مگر اسے چین کے ہاتھوں منہ کی کھانا پڑی اور اسی تنازعہ پر 1962ء میں چین بھارت جنگ میں بھارت کو ذلت آمیز پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت چین نے سیاچن سے ملحقہ پہاڑی علاقہ حاصل کیا تو بھارت اس پر بھی اپنا کلیم جتانے آگیا اور گزشتہ سال وہاں ناجائز طور پر سڑک کی تعمیر شروع کر دی جس پر چین نے اسے اس سڑک کی تعمیر سے جبراً روک دیا۔
اس تناظر میں چین کو بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کا بھی مکمل احساس و ادراک ہے اور ہمارے ساتھ اسکی لازوال اور بے پایاں دوستی کا بھی یہی پس منظر ہے جس میں کوئی مصلحت یا مفادات آڑے نہیں آسکتے کیونکہ علاقائی امن و سلامتی کے حوالے سے پاکستان اور چین کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اسی بنیاد پر چین نے کشمیر پر ہمیشہ ہمارے اصولی مؤقف کا ساتھ دیا ہے جبکہ پاکستان بھارت جنگوں میں بھی چین نے امریکہ جیسا منافقانہ طرز عمل اختیار کرنے کے بجائے کھل کر ہمارا ساتھ دیا اور اب بھی وہ بھارتی جارحانہ عزائم کا مقابلہ کرنے کی خاطر پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کیلئے اسکی معاونت کرتا رہتا ہے۔ چین کی ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان میں تیار ہونے والا پاک فضائیہ کا جے ایف 17 تھنڈر جنگی جہاز پاک چین قابل اعتماد دوستی کا بین ثبوت ہے۔
چونکہ اروناچل پردیش کے کچھ علاقے پر بدستور بھارت کا ناجائز قبضہ ہے اس لئے اس خطہ کی دفاعی حکمت عملی اور علاقائی تدبر کی بنیاد پر پاکستان اور چین ایک دوسرے کے فطری اتحادی بنتے ہیں اور ان حقائق کی بنیاد پر ہمیں چین کے سوا کسی اور پر تکیہ نہیں کرنا چاہئے۔ اگر بھارت کو اسکی توسیع پسندانہ جنونیت کا سبق سکھایا جا سکتا ہے تو وہ پاکستان چین دفاعی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ بھارت یقیناً پاک چین دوستی سے ہی خوفزدہ ہے اور علاقائی تنازعات میں وہ پاکستان اور چین کو ایک ہی پلڑے میں رکھتا ہے جبکہ اسی پس منظر میں بھارت کے آرمی چیف دیپک کپور نے اپنی مکار ہندو بنیاء لیڈر شپ کی آشیرباد سے دو ماہ قبل بڑھک لگائی تھی کہ بھارت اپنی دفاعی برتری کی بنیاد پر پاکستان اور چین کے دارالحکومتوں کو بیک وقت 96 گھنٹے میں مفلوج کر سکتا ہے۔ اس گیدڑ بھبکی میں بھی بھارت کے توسیع پسندانہ خبث باطن کی ہی جھلک نظر آتی ہے جس کی بنیاد پر وہ شہتیروں کو جپھے ڈالنے کے سپنوں میں کھویا ہوا ہے‘ اس لئے اس کا نشہ پاکستان چین سٹریٹجک دفاعی تعاون سے ہی ہرن کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت جبکہ امریکی مفادات کی جنگ میں اسکے فرنٹ لائن اتحادی کا رضاکارانہ کردار قبول کرکے ہمارے حکمرانوں نے ملک کی سالمیت کو سخت خطرات سے دوچار کردیا ہے اور گزشتہ دو سال سے بدترین دہشت گردی کی زد میں آنے کے باعث ہمیں بے بہا جانی اور مالی نقصان کے ساتھ ساتھ اقتصادی بدحالی کا بھی سامنا ہے‘ جسے ہمارا مکار دشمن بھارت اپنے لئے غنیمت سمجھ کر ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے بیتاب نظر آرہا ہے اور اسکی توسیع پسندانہ جنونیت کو امریکہ کی مکمل سرپرستی اور آشیرباد حاصل ہے‘ اس لئے اس نازک موقع پر چین کے وزیر خارجہ نے پاکستان چین دوستی کی بنیادوں کی پائیداری کا اعلان کرکے درحقیقت ہماری طرف للچائی نظریں گاڑے ہوئے ہمارے دشمنوں کو باور کرایا ہے کہ وہ پاکستان کو تنہا نہ سمجھیں اور اس پر کسی قسم کی جارحیت کے ارتکاب کی غلطی نہ کریں کیونکہ علاقائی تعاون میں پاکستان اور چین کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
چونکہ امریکہ بھارت کے ساتھ جنگی دفاعی تعاون کیلئے بے شمار معاہدے کرکے اسے جدید ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے‘ اسکے آنگن میں جدید ایٹمی ہتھیاروں کے ڈھیر لگا چکا ہے اور اسکے برعکس ہمیں باور کرا رہا ہے کہ خطے کی سٹریٹجیکل اہمیت میں وہ بھارت ہی کو فوقیت دیتا ہے‘ اس لئے پاکستان کے ساتھ بھارت جیسے دفاعی تعاون کے معاہدے نہیں کر سکتا اور اسے ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم نہیں کر سکتا تو ہمیں امریکہ کے ساتھ چپکے رہنے اور اسکے مفادات کی جنگ میں خود کو جھلساتے رہنے کی کیا ضرورت ہے؟ چین نے پہلے بھی کبھی ہمیں مایوس کیا ہے نہ تنہا چھوڑا ہے‘ وہ موجودہ نازک حالات میں بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہے تو ہمارے حکمرانوں کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے امریکہ سے گلوخلاصی کراکے خودکو مکمل طور پر چین کے پلڑے میں ڈال دینا چاہئے اور اسکے ساتھ مشترکہ دفاعی حکمت عملی طے کرکے اس خطہ میں امریکہ‘ بھارت اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کی گھنائونی سازشوں کا توڑ کرنا چاہئے۔ ہم دفاعی میدان میں ہی نہیں‘ زراعت اور توانائی کے شعبوں میں بھی چین کا تعاون حاصل کر سکتے ہیں اور اسکے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کی آبی جارحیت کا توڑ بھی کر سکتے ہیں‘ ہمیں بہرصورت دوست کو دوست اور دشمن کو دشمن ہی سمجھنا چاہئے کیونکہ جو قومیں دوست دشمن کی پہچان نہیں کر پاتیں‘ وہ دوست نما دشمنوں کی سازشوں میں گھر کر صفحۂ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہیں۔
سٹیل ملز… لوٹی ہوئی رقوم کا قبرستان نہ بننے دیں
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سٹیل ملز توہین عدالت کیس میں وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو عدالت میں حاضری سے استثناء دینے کی درخواست منظور کرلی۔ فاضل عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان سٹیل ملز کرپشن ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی ہے‘ جن لوگوں نے کرپشن کی ہے‘ ان سے رقم ہر صورت میں وصول کی جائیگی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی کہا ہے کہ تمام ادارے اپنے اپنے معاملات کو خود درست کریں اور یہ ضروری نہیں کہ عدالت ہر مسئلہ کا ازخود نوٹس لے۔
فاضل عدالت نے پاکستان کے تمام اداروں کو ایک قسم کا بہت رہنماء اور ہمیشہ کام آنے والا مشورہ دیا ہے کہ ہر ادارہ کو چاہئے کہ وہ اپنے معاملات کو درست راستے پر ڈال دے اور اپنے حسابات کو درست رکھے۔ جب بھی چیک ہوں اس ادارے کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان سٹیل ملز کے بارے میں درست کہا ہے کہ اس میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی ہوئی ہے اور یہ ڈکیتی مسلسل ہو رہی ہے۔ چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر صاحبان مسلسل پکڑے جا رہے ہیں‘ ان میں سے کئی بڑے بڑے لوگ جن پر اربوں روپے خردبرد کرنے کے الزامات بھی موجود ہیں‘ اور یہ سب صاحبان حکومت کی تحویل میں ہی ہیں‘ ان سے خردبرد کی گئی رقوم برآمد کی جانی چاہئیں۔ چیف جسٹس کی ہدایت کیمطابق ملک کے وہ تمام ادارے جہاں کروڑوں اور اربوں روپے کی خردبرد کے الزامات ہیں‘ ایسی رقوم کو واگزار کراکر سرکاری خزانہ میں جمع کرانی بھی شروع کرائیں۔ ہر ادارہ میں ایماندار اور دیانت دار افراد پر مشتمل ایک احتساب کمیٹی بنائی جائے جو جاری اخراجات پر ساتھ ساتھ احتسابی کارروائی کرتی رہے تاکہ خردبرد کو موقع پر کسی غیرملکی بنک میں پہنچنے سے پہلے ہی پکڑ لیا جائے۔
پاکستان سٹیل ملز ایک ایسا قومی ادارہ ہے کہ اگر ہم اس کا خود احتسابی نظام بہت مضبوط بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو سٹیل ملز جہاں بلامبالغہ ہزاروں افراد کام کرتے ہیں‘ کے روزگار کا تحفظ بھی ہو گا اور ایک اہم ترین قومی ادارہ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
یہ بات قابل اعتماد و اعتبار نہیں کہ سٹیل ملز کے ملازمین میں ایماندار اور دیانت دار لوگ اب باقی نہیں رہے‘ یقیناً ہونگے‘ انہیں سامنے لایا جائے اور انہیں مناسب تحفظ فراہم کیا جائے اور سٹیل ملز کے یہ لوگ اپنے چوروں اور ڈاکوئوں کا خود احتساب کریں جو روزانہ کے عمل میں شامل ہو۔ پیداوار کے نرخوں اور وزن کے ساتھ ساتھ خام مال کی خریداری پر گہری نظر رکھ کر احتساب کے عمل کو شروع کیا جا سکتا ہے یا پھر سٹیل ملز کے مختلف مراحل کے حصوں کو خودمختار بنا کر ہر حصہ کے احتسابی عمل کو کڑا اور سخت بنالیا جائے‘ اختیارات میں صوابدیدی اختیارات ختم کئے جائیں‘ اس کیلئے فاضل عدالت عظمٰی سے مسلسل رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ سٹیل ملز کو لوٹی ہوئی رقوم کیلئے قبرستان نہ بننے دیں‘ پاکستان سٹیل ملز سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے‘ ان میں زیادہ تر محنت کش غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں یہ سب لوگ اپنے روزگار کی حفاظت کیلئے کمربستہ ہو جائیں تو سٹیل ملز میں کوئی بے ایمانی کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔
کرکٹرز کو سزائوں کی سفارش
آسٹریلیا میں پاکستان ٹیم کی شکست اور بال ٹمپرنگ کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ چیئرمین بورڈ اعجاز بٹ کو پیش کردی گئی جس میں ذرائع کے مطابق آفریدی‘ اکمل برادران کو جرمانے‘ شعیب ملک‘ رانا نوید پر ایک سال پابندی کی سفارش کی گئی ہے۔
دوسرے ممالک کے دورے پر جانیوالے فنکار اور کھلاڑی اپنے ملک کے سفیر ہوتے ہیں‘ ان سے امید تو ملک کا نام روشن رکھنے کی کی جاتی ہے اگر انکی حرکتوں سے ملک کی بدنامی ہو تو قابل برداشت نہیں۔ بڑے کھلاڑیوں کے نخرے ضرور برداشت کئے جائیں لیکن اسکی بھی ایک حد ہونی چاہئے۔ ہار اور جیت کھیل کاحصہ ہے‘ جان بوجھ کر ٹیم کو شکست سے دوچار کرنا‘ لڑائی جھگڑے‘ بال ٹمپرنگ جیسی حرکات پر اگر تحقیقاتی کمیٹی نے سزائوں کی سفارش کی ہے تو اس پر عملدرآمد بھی ہونا چاہئے‘ ساتھ بورڈ میں ہونے والی کرپشن اور بدعنوانیوں کا بھی سدباب کیا جائے۔
موجودہ چیئرمین کو بورڈ میں ہونے والی بہت سی بدعنوانیوں اور بداعمالیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے‘ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جمشید دستی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ان کا بس چلے تو اعجاز بٹ کو جیل میں ڈال دیں‘ وقت ٹی وی کے ساتھ اپنے انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ جو کچھ بٹ صاحب نے بورڈ کے ساتھ کیا‘ میرا باپ بھی ایسا کرے تو معاف نہ کروں۔ اعجاز بٹ چیئرمین بنے تو اعلان کیا کہ بچت کی خاطر تمام ڈائریکٹروں کے عہدے ختم کردونگا‘ لیکن نہ صرف ڈائریکٹروں کے عہدے بدستور موجود ہیں‘ بلکہ ڈائریکٹر جنرل کا الگ سے عہدہ بھی تخلیق کرلیا گیا جس کی مراعات اور تنخواہ کا پیکیج دس لاکھ کے قریب ہے۔ باقی ڈائریکٹروں کی تنخواہیں بھی لاکھوں میں ہیں۔ انکی کارکردگی کا اندازہ ٹیم میں سیاست‘ لڑائی جھگڑوں اور شکست کی صورت میں سامنے ہے۔
صدر مملکت جو بورڈ کے پیٹرن انچیف بھی ہیں‘ کرکٹ بورڈ میں ہونیوالی بدعنوانیوں کا فوری نوٹس لیں اور معاملات ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے سابق کھلاڑیوں کے سپرد کریں۔ ساتھ ہی چیئرمین بورڈ کو تحقیقاتی کمیٹی کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ بھی میڈیا کو فوری طور پر جاری کی جائے‘ اس کو روکنے اور سنبھال کر رکھنے میں کیا حکمت ہے؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter