پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ سابق وفاقی وزیر اور راولپنڈی کے حلقہ این اے 55کے ضمنی انتخاب میں اپنی پارٹی کے امیدوار شیخ رشید احمد پر گزشتہ روز انکے انتخابی دفتر کے باہر قاتلانہ حملہ کے نتیجہ میں انکے دو محافظوں سمیت تین افراد جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے جبکہ شیخ رشید خود بھی بھگدڑ میں زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے اس قدر تیزی سے فائرنگ کی کہ کوئی بھی سنبھل نہ سکا اور بھگدڑ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آور وقوعہ کے بعد اسلام آباد کی جانب فرار ہو گئے۔
اس افسوسناک واقعہ کی اطلاع ملتے ہی عوامی مسلم لیگ کے کارکن کثیر تعداد میں سڑکوں پر آگئے اور مخالفانہ نعرے بازی اور گھیرائو جلائو کرتے ہوئے ٹریفک بلاک کر دی جبکہ سی پی او راولپنڈی اور ایس پی راول ٹائون بھی پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جنہوں نے ابتدائی شواہد اکٹھے کئے اور درجنوں گولیوں کے خالی خول برآمد کرلئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کمشنر اور آر پی او راولپنڈی کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے اور اعلان کیا ہے کہ شیخ رشید احمد پر حملے کی تحقیقات کیلئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائیگی تاکہ حقائق کو منظرعام پر لا کر ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔ انہوں نے گزشتہ روز اس سلسلہ میں پنجاب اسمبلی میں اپنے چیمبر میں اعلیٰ سطح کے انتظامی اجلاس کی بھی صدارت کی جس میں واقعہ کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری‘ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے اپنے الگ الگ بیانات میں شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے ان سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔
راولپنڈی کے حلقہ این اے 55کے ضمنی انتخاب کی مہم کے آخری مراحل میں اس حلقہ کے اہم امیدوار شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملہ بلاشبہ قابلِ مذمت اور انتہائی افسوسناک واقعہ ہے‘ جس کا مقصد ملک میں سیاسی انتشار اور افراتفری کی فضاء کو فروغ دینا ہی نظر آتا ہے اور ممکن ہے ملک میں جاری دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے فائدہ اٹھا کر مسلم لیگ (ن) کے مخالف عناصر نے اس واقعہ کی آڑ میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ اس واقعہ کے اصل محرکات اور پس منظر کی نشاندہی تو وقوعہ کی تحقیقاتی رپورٹ سے ہی ممکن ہو سکے گی تاہم یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ وقوعہ کے بارے میں کسی حتمی نتیجہ تک پہنچنے سے پہلے ہی خود شیخ رشید احمد‘ حکمران پیپلز پارٹی کے بعض عہدیداروں اور مسلم لیگ (ق) کے قائدین کی جانب سے فوری طور پر اس وقوعہ میں مسلم لیگ (ن) کو مورد الزام ٹھہرا دیا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جو خود بھی ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے‘ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال میں کسی ممکنہ سانحہ یا دہشت گردی کی کسی واردات سے بچنے کیلئے ہی الیکشن کمشن سے لاہور اور راولپنڈی کے متعلقہ حلقوں کے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کی استدعا کی جاتی رہی ہے‘ جس کی بنیاد پر انتخابات کے التواء کو خود شیخ رشید احمد نے اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کیا جبکہ ان پر قاتلانہ حملہ سے مسلم لیگ (ن) کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں‘ تاہم شیخ رشید اور مسلم لیگ (ن) کے مخالفین اس واقعہ سے بھی اپنے سیاسی مقاصد اور مفادات حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی اس واقعہ کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد کردی ہے جس سے سیاسی محاذ آرائی کو مزید فروغ حاصل ہو سکتا ہے اور اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ملک کی سالمیت کے درپے عناصر سیاسی محاذ آرائی سے فائدہ اٹھا کر اس واقعہ کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہونگے۔ جیسے کراچی میں گزشتہ دو ماہ سے جاری سیاسی کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کی سالمیت کے درپے عناصر نے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی بنیاد پر حکومتی سیاسی اتحاد میں بھی دراڑیں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور امن و امان کی صورتحال بھی انتہائی مخدوش ہو چکی ہے اور مخلوط حکومت کی گڈگورننس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملہ بھی ایسی ہی کوئی سوچی سمجھی سازش ہو سکتی ہے جس کے باعث پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) اور اسکی دیگر مخالف جماعتوں کے مابین سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کرکے سسٹم کی بساط لپیٹے جانے کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے اس لئے سسٹم کے ساتھ وابستہ اور اسکے استحکام کے خواہش مند سیاسی عناصر کو جذباتیت سے ہٹ کر سوچنا چاہئے اور اس واقعہ کے بارے میں اپنی مرضی کا نتیجہ اخذ کرکے فوری الزام تراشی کا سلسلہ شروع کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ ایسا اقدام ان ملک دشمن اور غیرجمہوری عناصر کے مقاصد کو تقویت پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے‘ جو اس وطنِ عزیز اور جمہوریت کے ہرگز خیرخواہ نہیں اور ملک کی سالمیت پر اوچھا وار کرنے کیلئے موقع کی تاک میں بیٹھے ہیں۔
شیخ رشید احمد نے اپنی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں خود بھی کسی کو نامزد نہیں کیا اور پنجاب حکومت کے ترجمان کے بقول وقوعہ کا مقدمہ شیخ رشید احمد کی استدعا کے عین مطابق درج کیا گیا ہے‘ اس لئے اب بہتر یہی ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں قانون اور انصاف کے تمام مراحل طے ہونے دیئے جائیں اور اس دوران متعلقہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین بلیم گیم کا سلسلہ ترک کر دیں۔ قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق انکوائری مکمل ہونے دیں اور شیخ رشید احمد خود بھی تفتیشی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور وقوعہ کے حوالے سے انکے جو بھی تحفظات ہیں‘ وہ انکوائری ٹیم کے سامنے رکھیں تاکہ وہ حقائق و شواہد کی روشنی میں آزادانہ طور پر کسی حتمی نتیجے تک پہنچ سکے۔ دوران تفتیش اس وقوعہ کے حوالے سے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا وقوعہ کے اصل ملزمان کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہو گا جبکہ اس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گا تو سسٹم کے درپے غیرجمہوری عناصر کے مقاصد کو تقویت پہنچانے پر منتج ہو گا‘ سیاسی محاذ آرائی میں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کی روش نے ہی اب تک محترمہ بے نظیر بھٹو کے اصل قاتلوں کو بے نقاب نہیں ہونے دیا اور محترمہ کے سانحۂ قتل کے روز ہی میاں نواز شریف کے قافلے پر فائرنگ کے نتیجہ میں مسلم لیگ (ن) کے ایک درجن کے قریب کارکنوں کے سانحۂ قتل کے ملزمان بھی قانون و انصاف کے شکنجے سے اب تک بچے ہوئے ہیں اس لئے اب ایسی سیاست بازی میں الجھ کر شیخ رشید احمد کو بھی اپنی پارٹی کے وفادار کارکنوں کا خون ناحق ضائع نہیں جانے دینا چاہئے۔ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور وقوعہ کے اصل محرکات کی تہہ تک پہنچنے میں معاونت کریں‘ ورنہ یہ واقعہ بھی تاریخ کے صفحات میں نقاب اوڑھے اور دستانے پہنے ہوئے نامعلوم قاتلوں کا کھوج لگانے کا محض تقاضہ کرتا ہی نظر آئیگا۔
کالا باغ ڈیم بنائیں
جرأت مندی سے کام لیں
بھارتی انڈس واٹر کمشنر نے اسلام ہیڈ ورکس کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مقامی افراد نے بھارت کیخلاف سخت احتجاج کیا۔ بھارتی انڈس واٹر کمشنر اورنگا ناتھن بھی دریائے ستلج کی صورتحال دیکھ کر پریشان ہو گئے اور بھارتی وفد کے ارکان نے اسلام ہیڈ ورکس اور دریائے ستلج کی تصاویر بھی بنائیں۔ اس موقع پر مقامی لوگوں نے سخت احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس میں کہا گیا کہ بھارت نے ناجائز طور پر پاکستان کا پانی روکا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کمی ہے اور زراعت بے پناہ مسائل کا شکار ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں پانی کی کمی آئندہ برس 60 فیصد تک ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر ہو جائیگی۔ پاکستان کو نقصانات سے بچانے کیلئے ماہرین نے قرار دیا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے بغیر ملک چند سالوں میں غذائی اجناس کی قلت والا ملک بن جائیگا۔ ہر سال اربوں ڈالر کا زرِمبادلہ گندم چینی دالوں اور دیگر اشیائے خورد و نوش کیلئے درکار ہونگے۔ ممتاز انجینئر اور واپڈا کے سابقہ چیئرمین شمس الملک نے کہا ہے اور پاکستان کے آبی ماہرین کا مؤقف یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کے علاوہ باقی چھ سات بڑے ڈیم بھی تعمیر ہونے چاہئیں جن میں کم از کم ایک سال کیلئے پانی ذخیرہ کیا جا سکے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انرجی کا بحران پیدا کرنے کیلئے بھارت نے اربوں روپے سندھ میں بعض لوگوں کو دیئے ہیں تاکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کی جا سکیں اور بھارت اپنی اس سازش میں کامیاب رہا ہے۔ تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو پورا مغربی پاکستان وادیٔ سندھ ہے‘ صرف صوبہ سندھ دریائے سندھ کا مالک نہیں ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں کو دریائے سندھ پر برابر کا حق حاصل ہے اس لئے وفاقی حکومت دریائے سندھ پر جتنے بھی ڈیم بن سکتے ہیں بنائے۔ پانی کا جہاں تک تعلق ہے اس میں بارشوں اور طغیانیوں کا پانی جمع ہو گا اور یہ پانی سال بھر تک چاروں صوبوں میں زراعت کے کام آئیگا۔ بھارت ہمارا پانی چوری کرکے اس پر ڈیم بنا رہا ہے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جو پانی دیا ہے ہم اسے بحیرہ عرب میں ڈال کر ضائع کر رہے ہیں اور دنیا ہماری اس حماقت پر ہنس رہی ہے اور اس وقت پانی کی کمی ساٹھ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ہمارے تربیلا اور منگلا کی گنجائش بہت کم ہو گئی ہے۔ اس سلسلہ میں جو لوگ بھی مخالفانہ طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں‘ انہیں عقل کے دروازے دکھائے جائیں۔ دشمن کے چند ایجنٹوں کی خاطر پوری قوم اور ملک کو تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی حکومت کے ساتھ بھی پانی کیلئے اسکی زبان میں گفتگو کی جائے اور بھارت کو بتا دیا جائے کہ پاکستان کا ہر شہری بھوکا مرنے اور اپنی سرزمین کو بنجر دیکھنے کی بجائے بھارت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔
پاکستان میں بلیک واٹر
کی موجودگی کا اعتراف اور انکار
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ قمر الزمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں بلیک واٹر کا کوئی وجود ہے نہ ہی اس نام کی کوئی سکیورٹی ایجنسی رجسٹرڈ ہے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین عبدالقادر پٹیل کی زیر صدارت اجلاس کے دوران تمام کمیٹی ارکان نے بلیک واٹر کے حوالے سے وزارت داخلہ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلیک واٹر موجود نہیں تو وہ غیر ملکی کون ہیں جو اسلحہ سے لیس دندناتے پھرتے ہیں۔ اس حوالے سے قوم کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ خفیہ ایجنسیوں اور امریکی سفارتخانے سے رپورٹ لے کر ایک واضح بیان دے۔
گزشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے پاکستان کے دورے کے موقع پر بلیک واٹر کی پاکستان میں موجودگی کا اعتراف کیا تھا۔ دو روز قبل صوبہ سرحد کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور بھی اپنے صوبے میں بلیک واٹر کی سرگرمیوں کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ گزشتہ روز وزیر داخلہ رحمن ملک نے مولانا فضل الرحمن کو فون پر صرف اسلام آباد کی حد تک کہا کہ دارالحکومت میں بلیک واٹر موجود نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا اصرار تھا کہ اسلام آباد میں بلیک واٹر کے اہلکاروں کی تعداد 9ہزار ہے۔ متعلقہ وزارت کی یہ ڈھٹائی کی انتہا ہے کہ تمام تر ثبوتوں کے باوجود میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ کیا ان کے بیانات سے حقیقت چھپ سکتی ہے؟ یہ امریکی وزیر دفاع کے بیان کو کیسے جھٹلا سکتے ہیں؟ پھر ایسے حالات ہیں جبکہ ہر بڑے شہر میں یہ لوگ جعلی نمبر پلیٹ کی گاڑیوں میں بلا لائسنس اسلحہ لئے گھوم رہے ہیں جو قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے اور ایجنسی کو خاطر میں نہیں لاتے‘ بھلے ان کا نام بلیک واٹر کے بجائے XE ہو یا ڈائن کارپ ان کی طرف سے عام پاکستانیوں کو ہراساں کرنا‘ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ کوئی بھی خود مختار مملکت ایسی مداخلت برداشت نہیں کر سکتی۔ حکومت نے جس طرح ڈرون حملوں میں پاکستانیوں کی درجنوں ہلاکتوں پر بھی احتجاج کرنا چھوڑ دیا ہے اسی طرح بلیک واٹر کی پاکستان دشمن سرگرمیوں کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔
حکومت کو پاکستان کی سالمیت استحکام اور خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ بلیک واٹر یا اس جیسی کسی ایجنسی کی امریکی سفارتخانے کو ضرورت ہے تو اسکی سرگرمیاں سفارتی دائرہ کار میں صرف سفارتخانے تک محدود رہنی چاہئیں۔ حکمرانوں کو اندر کا خوف اگر بلیک واٹر کے خلاف کارروائی سے روک رہا ہے تو عوام کو اجازت دیدی جائے وہ خود ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف نوٹس لے لیں گے تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اور قوم کو صحیح صورتحال سے آگاہ کرے۔