این آر او نظرثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ .... حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر اسکی روح کے مطابق عمل کرے

ـ 10 دسمبر ، 2011
سپریم کورٹ نے این آر او نظرثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے این آر او کی منظوری نہیں دی۔ وفاق کے وکیل کو سنا گیا‘ وہ کوئی دلیل نہیں پیش کر سکے۔ طے شدہ قانونی اصول ہے کہ نظرثانی کے مرحلے میں دستاویز پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ وفاق کے وکیل کو مذکورہ دستاویزات پڑھنے کی اجازت دی گئی‘ عدالتی کارروائی کے دوسرے ہاف میں وفاق کے وکیل موجود نہیں تھے۔ عدالت عظمٰی نے اپنے فیصلے میں مزیدلکھا کہ این آر او آئین کی متعدد شقوں کے منافی ہے‘ این آر او کے تحت ختم مقدمات 2007ءکی پوزیشن پر بحال کئے جائیں‘ عدالتیں این آر او کے تحت مقدمات کی دوبارہ سماعت شروع کریں۔ این آر او فیصلے پر بلاتاخیر عمل کیا جائے‘ فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی کیلئے مانیٹرنگ سیل بنایا جائیگا جس کی سربراہی چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے کوئی جج کرینگے۔
سپریم کورٹ کی طرف سے جمعرات کو رات گئے این آر او کیس کے تفصیلی فیصلے کے اجراءنے ایک مرتبہ پھر اس کالے قانون سے استفادہ کرنیوالے افراد کے چہرے بے نقاب کر دیئے۔ اس فیصلے کی روشنی میں این آر او سے استفادہ اور استنثیٰ حاصل کرنے والوں کےخلاف تمام مقدمات 5 اکتوبر 2007ءسے قبل کی پوزیشن پر واپس چلے گئے ہیں‘ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایسے 8 ہزار سے زائد افراد جنہیں عام اصطلاح میں این آر او زدہ کہا جاتا ہے‘ عدالتوں میں اپنے گھناﺅنے جرائم کا پھر سامنا کرینگے۔ ساتھ ہی ساتھ عدالت عظمٰی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ ہدایت بھی جاری کر دی ہے کہ وہ ان مقدمات کی سنجیدگی سے پیروی کرے۔ قوم کو یاد ہے کہ این آر او کے تحت مراعات حاصل کرنیوالے افراد صرف کرپشن‘ اقرباپروری اور اختیارات سے تجاوز کرنیوالے ہی شامل نہیں بلکہ ایک بڑی تعداد فوج داری مقدمات میں بھی ملوث ہے‘ جن میں قتل و غارت گری‘ اغواءبرائے تاوان‘ لوٹ مار اور اسی نوعیت کے دیگر مقدمات شامل ہیں۔
مذکورہ فیصلہ سپریم کورٹ نے حکومت کی طرف سے دائر کردہ نظرثانی کی اپیل پر کیا ہے جس میں این آر او سے متعلق دیگر پہلو بھی اب نمایاں ہو گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے این آر او پر فیصلہ دسمبر 2009ءمیں کیا تھا۔ اسے ایک ناقابل عمل قانون قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آئین کی روح کے منافی اقدام ہے۔ اس فیصلے کی زد میں آنیوالے اہم افراد میں صدر آصف علی زرداری اور انکے رفقاءکے علاوہ ایم کیو ایم کے کئی رہنماءشامل تھے۔ یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنوں کو این آر او سے فائدہ پہنچ رہا تھا۔ اسکے باوجود ایم کیو ایم نے این آر او کو قومی اسمبلی میں لانے کی شدید مخالفت کی تھی جس کے بعد پارلیمنٹ نے اسے پیش کرنے کی صورت میں قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ سیاسی حلقوں‘ سول سوسائٹی اور میڈیا نے بھی اس قانون کی عملداری پر شدید احتجاج کیا تھا۔ اندریں حالات جبکہ پیپلز پارٹی کے کو۔چیئرمین شدید دباﺅ کا شکار ہیں۔ عدالت کے تفصیلی فیصلے کا اس مرحلے پر اجراءانکی مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گا۔ یہ مشکلات انکی ذاتی ہو سکتی ہیں۔ وہ وسیع تر قومی مفاد میں سوچیں تو ان کیلئے این آر او فیصلے پر عملدرآمد آسان ہو جائیگا۔ سپریم کورٹ کے پہلے فیصلے پر صدر مملکت کے حامیوں نے آئینی استثنیٰ کا واویلا کیا تھا۔ یوں آج تک وہ اسکی دسترس سے محفوظ رہے۔
پیپلز پارٹی اپنی ابتدا ہی سے فوجی آمروں کیخلاف جدوجہد کرتی آئی ہے‘ اسکے بانی چیئرمین کو تو انکے سامنے نہ جھکنے کی پاداش میں جان تک دینا پڑی۔ مرحومہ بینظیر بھٹو نے نہ جانے کن وجوہات پر ایک فوجی آمر کے ساتھ گفت و شنید کے بعد اس کالے قانون کے مسودے پر دستخط کئے تاہم اسی قانون کے باعث انکی اور انکے شوہر نامدار کی پاکستان واپسی ممکن ہوئی۔ مگر یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ جلد ہی خود بینظیر بھٹو نے احساس ہونے پراین آر او کو” قانون ِبد“ قرار دیا تھا جس کا تذکرہ انہوں نے اپنی دوسری کتاب ”مفاہمت“ میں بھی کیا ہے۔ چونکہ سپریم کورٹ کے فل بینچ نے جس میں 17 ججز شامل ہیں‘ یہ حکومتی اپیل خارج کر دی ہے۔ اب حکومت کے پاس اسکے فیصلے پر عملدرآمد کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما اعتزاز احسن کو بھی یہ کہنا پڑا کہ حکومت کے پاس اس پر عملداری کے سوا مفر کا کوئی راستہ باقی نہیں ہے۔ گو اعتزاز کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں ہے لیکن وہ زرداری کے بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ زرداری نے دبئی سے فون کرکے انہیں کہا تھا کہ بلاول کا خیال رکھنا۔ اعتزاز تو یہاں تک کہہ گئے کہ اب سوئس حکومت کو خط لکھنا ہی پڑیگا۔ یہی رائے دیگر ماہرین قانون کی بھی ہے مگر دوسری طرف گیلانی حکومت کسی صورت ایسا کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ بابر اعوان صاحب نے جو سابق وزیر قانون بھی ہیں‘ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بارے میں جو زبان استعمال کی ہے وہ توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے تو سوئس حکام کے ساتھ خط و کتابت کی دستاویز کی فراہمی کے حوالے سے Over my dead body بھی کہا تھا۔ اگر حکومت نے ایسے مشیروں کے مشوروں پر عمل جاری رکھا تو سمجھے کہ اسکے دن پورے ہو گئے ہیں۔
کوئی معاشرہ قانون پر عملداری کے بغیر پنپ نہیں سکتا کیونکہ دنیا بھر کے کسی بھی ملک میں انصاف کا معیار چانچنے کیلئے وہاں کی عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کو پیمانہ بنایا جاتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت اپنے رویے میں تبدیلی کرکے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو سنجیدگی سے لے۔ بقول شخصے دیر آید درست آید۔ جن لوگوں نے قوم و ملک کو لوٹا‘ قتل و غارت گری میں ملوث رہے‘ دنیا کا کوئی قانون اور اخلاقیات ان کو ریلیف دینے کی روادار نہیں ہیں۔ این آر او سے استفادہ کرنیوالے کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ ان پر ناجائز مقدمات قائم کئے گئے۔ آج عدلیہ آزاد ہے‘ استفادہ کرنیوالوں کی اکثریت کا تعلق حکمران جماعتوں سے ہے۔ وہ اپنے عہدے چھوڑیں‘ بجائے اسکے کہ عدالتیں ان کو طلب کریں۔ یہ خود کو عدالتوں میں پیش کرکے خودکو کلیئر کروائیں جس سے انکی عوام میں ساکھ میں اضافہ ہو گا۔ استثنیٰ کی بات کرکے آپ قوم کے سامنے خود کو مجرم ثابت کر رہے ہیں۔ کیا قوم طویل عرصہ تک اپنا مستقبل مجرموں کے ہاتھ میں دے سکتی ہے؟
امریکی جنگ سے علیحدگی میں ہی عافیت ہے
ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک اتحادی ہماری فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرےگا، علاوہ ازیں قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی نے وزارت دفاع اور خارجہ سے ماضی میں پاکستان، امریکہ اور نیٹو کے درمیان طے پانے والے ہر قسم کے تحریری اور زبانی معاہدوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
پاکستان 70 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنے اور 40 ہزار افراد کی قربانی دینے کے باوجود امریکی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن نیٹو نے پاکستان کی ان تمام تر قربانیوں کو سبوتاژ کرکے سلالہ چیک پوسٹ پرحملہ کرکے 24 فوجیوں کو شہید کیا، نیٹو آج جھوٹ بول رہا ہے کہ یہ حملہ غیر ارادی تھا، بالفرض اگر اس جھوٹ کو سچ تسلیم کر لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیٹو فورس نے پاکستانی فوج کے رابطے جام کیوں کر دیئے تھے، پھر نیٹو ہیلی کاپٹروں کو جیٹ طیاروں کی کمک کس بنا پر دی گئی تھی؟ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے تو کہا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں نیٹو فوج پاک فوج سے دہشت گردوں کو چھڑوا کر افغانستان لے گئی تھے۔ ہمارے 40 ہزار افراد انہیں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں لیکن امریکہ ان کی حفاظت کیلئے اپنے اتحادیوں کو خون میں نہلا رہا ہے۔ یہود و نصاریٰ کی دہری پالیسی اس خطے میں کبھی امن قائم نہیں ہونے دےگی۔ حکومت پاکستان کو اس وقت اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے اور امریکہ کےساتھ کسی سطح پر بھی تحریری اور زبانی کوئی بھی معاہدہ نہیں کرنا چاہیے، قومی سلامتی پر قائم پارلیمانی کمیٹی نے محکمہ دفاع اور خارجہ سے امریکہ اور نیٹو کے درمیان ماضی میں طے پانے والے تمام معاہدوں کی تفصیلات طلب کی ہیں جو خوش آئند ہے۔ ان تمام معاہدوں کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہیے، اس طرح نیٹو کنٹینرز سے شاہراہوں کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا معاوضہ طلب کرنا چاہیے، ڈرون حملوں میں جاں بحق افراد کا بھی عالمی قوانین کے مطابق معاوضہ طلب کیا جائے، افغانستان سرحد پر جدید ترین اسلحہ اور آلات سے لیس چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ اس طرح اینٹی ایئر کرافٹ گنیں نصب کی جائیں اور ملکی سلامتی کی طرف بڑھنے والے دشمن کے ناپاک ہاتھوں کو کاٹ دینا چاہیے، حکومت اس پر استقامت اختیار کرے، جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے درست کہا ہے کہ اگر امریکہ معافی بھی مانگے تب بھی تعلقات ختم کر دینے چاہئیں۔ میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ معافی مانگنے تک سپلائی بحال نہیں ہونی چاہیے۔ میاں صاحب کو بھی بہادری دکھانی چاہیے، قوم کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے کہیں ان کی نظر میں وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کے دروازے وائٹ ہاﺅس سے ہو کر تو نہیں آتے، میاں صاحب قوم کی امیدوں پر پانی مت پھیریں۔
قائد کے خاندان کو حسب ِ مرتبہ منصب سے نوازا جائے
لاہور ہائی کورٹ کے روبرو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے نواسے اور نواسی کی مالی معاونت کےلئے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ رانا علیم الدین ایڈووکیٹ کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا، بانی پاکستان کے نواسے اسلم جناح اور نواسی خورشید بیگم کراچی میں کرائے کے ایک گھر میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ان کی مالی معاونت کےلئے حکومت پاکستان کو احکامات صادر کرے۔
بانی پاکستان نے مملکت خداداد کےلئے جو جائیداد وقف کی آج اس کی مالیت کھربوں کھربوں روپے ہے۔ مسلمانوں کو انگریز کی غلامی سے چھڑانے اور ہندو کی غلامی سے بچانے پر قوم بانی پاکستان اور ان کے خاندان کی جس قدر بھی ممنون اور شکر گزار ہو، کم ہے۔ آج بانی پاکستان کے خاندان کو جن حالات کا سامنا ہے وہ صرف المیہ ہی نہیں بلکہ حکمرانوں کےلئے شرم کا مقام بھی ہے۔ قائد کا خاندان کوئی اتنا بڑا نہیں کہ قوم ان کی مالی معاونت بھی نہ کر سکے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کو شایان شان مرتبہ دیا جائے بلکہ مکان الاٹ کرنے اور وظیفہ مقرر کرنے کے بجائے انکے حسب مرتبہ منصب سے نوازا جائے۔
سندھ کے سیلاب متاثرین کی خبر کون لے گا؟
زیریں اور وسطی سندھ کا 46 ہزار کلومیٹر رقبہ بدستور زیر آب ہے۔ پونے آٹھ لاکھ بارش زدگان خیمہ بستیوں مےں مقیم ہےں۔ علاج و تعلیم کی کوئی سہولت موجود نہیں۔ مفت کھاد اور بیج کی فراہمی کا عمل تعطل کا شکار ہے جبکہ پاکستان کارڈ بھی تمام کو جاری نہ ہو سکے۔
یہ کیوں ہے کہ ہمارے ہاں بارش ہو یا سیلاب، گزر جاتا ہے، مگر اُنکے تباہ کن اثرات اتنی دیر تک رہتے ہےں کہ پھر بارشوں اور سیلابوں کا موسم آ جاتا ہے اور سدباب کےلئے کوئی انتظامات بھی نہیں کئے گئے ہوتے۔ حکومت اسی المیے پر غور کرے کہ یہ اسکی ذمہ داری ہے، اب جبکہ 46 ہزار کلومیٹر رقبہ زیر آب ہے تو اس پانی کی نکاسی کا کوئی بندوبست کیا جائے، اور جو زمین خشک ہو چکی ہے وہاں فصل اُگانے کےلئے مفت بیج کھاد فراہم کی جائے، ٹیکس معاف کیا جائے، زرعی قرضے جاری کئے جائیں جو بلاسود ہوں۔
متاثرین کی رہائش کا معقول انتظام کیا جائے اور اسکے ساتھ ہی تعلیم اور علاج کی سہولیات بھی بہم پہنچائی جائیں، حکمران کیوں ان متاثرین کی ضرورتوں اور مجبوریوں کا نوٹس نہیں لے رہے۔ لوگوں کو محروم رکھ کر کیوں اُن مےں منفی جذبات پیدا کئے جا رہے ہےں، جو آگے چل کر حکومت کےلئے مسائل کھڑے کر سکتے ہےں یہ نوٹ ارباب بست و کشاد پر واضح کر دینا چاہتا ہے، کہ بارش زدگان کی اوپر بیان کردہ تمام ضروریات و مشکلات کا فوری بندوبست کرے، ورنہ کرسیوں پر کیوں بوجھ بنے ہوئے ہےں۔ حکومت نے جو کچھ کیا‘ نہ کیا اپنی جگہ لیکن روزنامہ نوائے وقت نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے متاثرین کیلئے ضروری سامان روانہ کیا جس پر کمانڈر لاجسٹک ایریا میجر جنرل شوکت اقبال نے ”نوائے وقت ریلیف“ فنڈ کے تحت سندھ کے متاثرین بارش کی امداد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ نوائے وقت کے امدادی سامان کا ایک ایک بیگ امانت کے طور پر متاثرین تک پہنچایا جائیگا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں