بھارتی وزیراعظم کی اے پی سی میں حریت رہنمائوں کا شرکت سے انکار..... استصواب ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے

ـ 10 اگست ، 2010
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی ہے‘ جو آج 10؍ اگست کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہی ہے۔ بھارتی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری عوامی احتجاج کو روکنے کیلئے بھارتی وزیر داخلہ کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں‘ چنانچہ روز بروز بگڑتے ہوئے حالات پر قابو پانے کیلئے بھارتی وزیراعظم نے کشمیر کی تمام سیاسی پارٹیوں کی کانفرنس طلب کی ہے جس میں مقبوضہ وادی میں قیام امن کیلئے لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ دوسری جانب میر واعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی سمیت آل پارٹیز حریت کانفرنس کے تمام رہنمائوں نے اس کانفرنس میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی سے اپنی افواج واپس بلوائے‘ بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اس سلسلہ میں گزشتہ روز پارلیمنٹ کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری شورش سیاسی مسئلہ ہے‘ اس لئے اس کا حل بھی مذاکرات کے ذریعہ ہی نکالا جائے۔ بھارتی وزیراعظم کی طلب کردہ کانفرنس میں شرکت کیلئے مقبوضہ کشمیر سے ایک سیاسی وفد بھی نئی دہلی پہنچ گیا ہے‘ جس میں نیشنل کانفرنس‘ کانگرس‘ بی جے پی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماء شامل ہیں‘ تاہم اپوزیشن جماعت پی ڈی پی نے اس وفد کا حصہ بننے سے معذرت کرلی ہے۔
مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج کے پے بہ پے مظالم سے عاجز آئے ہوئے کشمیری عوام نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اپنی آزادی کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے مسلح بھارتی افواج کے آگے سینہ سپر ہونے کی ٹھانی ہے چنانچہ وہ بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم بھی برداشت کر رہے ہیں اور کشمیری حریت پسندوں کے شانہ بشانہ تحریک آزادی ٔ کشمیر میں عملاً شریک بھی ہیں۔ نتیجتاً مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج کے پائوں اکھڑ رہے ہیں اور ہزیمتوں کا سامنا کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف اپنے حکمرانوں کو باور کرا رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی جنگ جیتنا اب بھارتی افواج کے بس کی بات نہیں رہی‘ اس لئے بھارتی افواج کو مقبوضہ وادی سے ہٹا کر کشمیری عوام کے دل جیتنے کی کوشش کی جائے اور اس مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔
بھارتی وزیراعظم خود بھی دو ماہ قبل سری نگر کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لے چکے ہیں‘ اس وقت بھی کشمیری عوام کی تحریک مزاحمت کو روکنے کیلئے تمام سرکردہ کشمیری قائدین بشمول سید علی گیلانی کو گرفتار کرکے گھروں یا جیل میں نظربند کیا جا چکا تھا‘ پھر بھی کشمیری عوام اپنے قائدین کی کال پر جرأت و پامردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فوج کی لاٹھی‘ گولی اور آنسو گیس کی شیلنگ کے سامنے سینہ سپر تھے‘ جان‘ مال کی قربانی دے رہے تھے اور اپنی اس تحریک کے ذریعے بھارتی وزیراعظم کو باور کرا رہے تھے کہ وہ کشمیر کی آزادی کے بغیر قیام امن کو بھول جائیں‘ بھارتی وزیر اعظم نے سیکورٹی فورسز کے حصار میں اور عملاً کرفیو کی صورتحال میں سری نگر کا دورہ مکمل کیا اور وہاں سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات میں منعقد کئے گئے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے انہیں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ کشمیری عوام بھارتی فوجوں کے مظالم کے باوجود اپنے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ پانچ سال کے دوران ساٹھ ہزار انسانی جانوں کی قربانیوں نے بھی انکے حوصلے پست نہیں کئے۔ پھر وہ اس مسئلہ کا سیاسی حل کیلئے قائل ہو کر مقبوضہ وادی سے واپس آئے مگر بدقسمتی سے مکار ہندو بنیاء کی اٹوٹ انگ کی ہٹ دھرمی اسے سیدھی راہ پر نہیں آنے دیتی اور اس نے کشمیر پر بزور طاقت تسلط جمائے رکھنے کی ہی ٹھانی ہوئی ہے۔
مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تو یقیناً وہی ہے جو اقوام متحدہ نے پہلے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کی درخواست پر سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں منظور کی گئی اپنی دو الگ الگ قراردادوں میں پیش کیا ہے اور یہ حل کشمیری عوام کو استصواب کا حق دینے کا ہے تاکہ وہ اپنی آزاد مرضی سے اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں۔
اگر بھارت نے شروع دن سے ہی مسئلہ کشمیر کے حل کے اس فارمولے کو قبول کرلیا ہوتا اور مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کراکے کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلہ کا اختیار دے دیا جاتا تو یہ خطہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن چکا ہوتا اور دونوں پڑوسی ممالک پر امن بقائے باہمی کے آفاقی فلسفہ کی بنیاد میںایک دوسرے کی معاونت سے اپنے اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور علاقائی امن و استحکام کے مراحل طے کر چکے ہوتے مگر بدطنیت ہندو بنیاء نے جسے شروع دن سے ہی آزاد اور خودمختار پاکستان ایک آنکھ نہیں بھایا‘ اس خطے کو امن و سلامتی کی راہ پرگامزن ہی نہیں ہونے دیا۔
تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت اصولی طور پر کشمیر کا پاکستان کے ساتھ ہی الحاق ہونا ہے جس کے بغیر پاکستان کا وجود نامکمل ہے‘ اگر ہندو بنیاء نے شروع دن سے ہی اس فارمولے کو تسلیم کرکے کشمیر پر لاگو کردیا ہوتا تو کشمیر کا تنازعہ کبھی پیدا ہی نہ ہوتا۔ یہ تنازعہ جب بھی حل ہونا ہے‘ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں ہی حل ہونا ہے جس کیلئے کشمیری عوام یکسو ہو کر گزشتہ 60 سال سے زائد عرصہ سے جدوجہد میں مصروف ہیں‘ ہزاروں جانوں کی قربانیوں اور بھارتی افواج کے پیدا کردہ دوسرے بے شمار مصائب و مسائل کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور وہ اپنی جدوجہد نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہیں‘ بلکہ اب اس جدوجہد میں شدت بھی پیدا ہو گئی ہے تو بھارت کو جان لینا چاہیے کہ مذاکرات کا کوئی ہتھکنڈہ کشمیری عوام کو انکی متعینہ منزل سے نہیں بھٹکا سکتا اور یہ منزل کشمیر کی آزادی کے سوا اور کوئی نہیں۔ مذاکرات کا ڈرامہ تو بھارت ہمیشہ کشمیری عوام کے جذبات کی شدت کم کرنے اور انکی توجہ منزل سے ہٹانے کیلئے رچاتا ہے جس کا مقصد محض وقت کو ٹالنے کا ہوتا ہے‘ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس مسئلہ کو حل کرنے کا نہیں ہوتا‘ کشمیری قائدین کو چونکہ بھارتی چالبازیوں کا بخوبی علم ہے اس لئے وہ کبھی بھارت کی جانب سے بچھائے گئے کسی جال میں نہیں آئے‘ بھارتی وزیراعظم کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس بھی ایسا ہی ایک ٹریپ ہے جسے کشمیری عوام پہلے بھی اپنی جدوجہد کے بل بوتے پر ناکام بنا چکے ہیں‘ چنانچہ آل پارٹیز حریت کانفرنس نے نہ صرف منموہن سنگھ کی طلب کردہ اے پی سی میں شمولیت سے انکار کیا ہے بلکہ بزرگ کشمیری لیڈر سید علی گیلانی نے 14 اگست کو مقبوضہ وادی میں یوم پاکستان منانے کا بھی اعلان کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ بھارتی حکومت سے اگر کوئی بات ہو سکتی ہے تو وہ صرف استصواب پر ہی ہو سکتی ہے۔ حریت کانفرنس کے رہنمائوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بھارت پہلے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے اور مقبوضہ کشمیر سے اپنی افواج نکال لے‘ اسکے بعد ہی اسکے ساتھ ڈائیلاگ ہو سکتے ہیں۔
کشمیر پر یقیناً ہمارا بھی شروع دن سے یہی اصولی مؤقف ہے کہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرکے وہاں یو این قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرائی جائے‘ اس رائے شماری میں کشمیری عوام جو بھی فیصلہ دیں گے وہ ہمیں قابل قبول ہو گا جبکہ بھارت رائے شماری سے اس لئے بدکتا ہے کہ اسے کشمیری عوام کے ارادوں کا پہلے ہی سے علم ہے چنانچہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو روکنے کی خاطر ہی اس نے یو این قراردادوں کو پس پشت ڈال کر کشمیر پر فوج کشی کی اور وہاں بزور طاقت اپنا تسلط جما کر بھارتی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کو اپنی ریاست کا درجہ دے دیا‘ اگر اب وہ اپنی اس ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے مذاکرات کے ڈرامے سے کشمیری عوام کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس میں اسے کسی صورت کامیابی حاصل نہیں ہو گی‘ اس لئے بھارت کو کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈالنے کے بجائے اس کا ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے تناظر میں جائزہ لینا ہو گا اور حقائق کو تسلیم کرکے کشمیری عوام کو استصواب کا حق دینا ہو گا‘ اس کے بغیر مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بھارتی آرمی چیف بھی اپنے حکمرانوں کو یہی راہ سمجھا رہے ہیں‘ اس لئے بہتر ہے کہ علاقائی اور عالمی امن کی خاطر اسی راہ پر آجائے‘ ورنہ کشمیری عوام کی بے مثل جدوجہد اب کامیابی سے ہمکنار ہونے کو ہے۔ سید علی گیلانی نے 14 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں یوم پاکستان منانے کا اعلان کیا ہے‘ تو یہ اعلان محض اعلان نہیں رہے گا‘ کیونکہ پاکستان کے ساتھ الحاق ہی کشمیری عوام کی منزل ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی اس منزل کے حصول کیلئے کشمیری عوام کا ساتھ دینا چاہیے اور بھارت کے مذاکرات کے کسی ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے۔ مکار ہندو بنیاء کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر نہ پہلے کبھی کچھ حاصل ہوا ہے‘ نہ آئندہ ہو سکتا ہے‘ اس وقت لوہا گرم ہے‘ بھارتی فوجیں کشمیر سے پسپائی اختیار کر رہی ہیں‘ اس پر ہماری جانب سے بھی دبائو بڑھے گا تو کشمیری عوام کیلئے منزل کا حصول اور بھی آسان ہو جائیگا۔ کشمیری عوام کی ’’بھارتیو! کشمیر چھوڑ دو‘‘ کی جدوجہد اب کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرتی نظر آرہی ہے۔
حکومت پر اعتماد ہی نہیں‘ مدد کون کریگا؟
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں حالیہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی اور نقصان ہوا ہے‘ عالمی برادری اس موقع پر سیلاب متاثرین کی مدد کرے۔ سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کا ابھی تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا‘ یہ اربوں ڈالر کا نقصان ہے‘ اس کیلئے ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے بات کرینگے۔
سیلاب اور مون سون سے پہلے ہونیوالی بارشوں کے بارے میں محکمہ موسمیات بہت پہلے سے ہمیں خبردار کر رہا تھا مگر ہمارے حکمرانوںکو اس سلسلہ میں کوئی فکر ہی نہ تھی۔ ہمارے وزیراعظم اور حکومت کی پوری مشینری جعلی ڈگریاں رکھنے والے ارکان اسمبلی کے دفاع اور انکے ضمنی انتخابات میں کامیابی کیلئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں مصروف تھے‘ اور صدر مملکت اپنے بیٹے کی سیاسی رونمائی کیلئے فرانس کے محلات دیکھنے اور لندن جانے کیلئے بے چین تھے‘ وہ عوام کو پانی میں غرق ہوتا دیکھ کر بھی لندن چلے گئے۔ اس طوفان بلاخیز کا اگر قبل ازوقت اندازا کرکے بچائو کیلئے دس فیصد بھی توجہ دی جاتی تو ہم لوگ اس بے پناہ تباہی اور بربادی سے بچ سکتے تھے۔
سیلاب اور بارش کی تباہ کاریوں کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا‘ سندھ میں گیارہ لاکھ کیوسک پانی کے ریلے کے بعد کیا صورتحال سامنے آتی ہے۔ اس کا اندازہ بھی چند روز کے بعد ہی ہو سکے گا اور ابھی تو خطرہ ہے کہ بھارت دریائے راوی کا پانی بھی چھوڑ دیگا تاکہ لاہور سمیت باقی ماندہ پنجاب بھی ڈوب جائے۔ عالمی برادری سے امداد کی اپیلیں زیادہ موثر ہونے کی امید نہیں‘ وفاقی حکومت کو اپنے وسائل پر ہی زیادہ بھروسہ کرنا پڑیگا۔ حکومت میں شامل ارب پتی سیاست دان بھی سامنے آئیں‘ قوم کے مشکل وقت میں اپنا سرمایہ بھی خرچ کریں‘ بنکوں میں چھپایا ہوا دھن باہر نکالیں۔ حکومت پنجاب سیلاب زدگان کی مدد کر رہی ہے‘ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اس مشکل وقت میں انتہائی متحرک کردار ادا کیا ہے۔ وفاقی حکومت ان کے مطالبہ کے مطابق امدادی رقم ادا کرے تاکہ وہ زیادہ بہتر کارکردگی سرانجام دے سکیں۔ ریڈیو‘ ٹیلی ویژن کی رپورٹس کے مطابق پورے ملک میں سیلاب زدگان اور متاثرین کی مدد کیلئے فوج نے جو کردار ادا کیا ہے‘ وہ بے پناہ خراج تحسین کا مستحق ہے۔ البتہ وفاقی حکومت کی طرف سے سیلاب زدگان کا تاثر یہی سامنے آیا ہے کہ وفاقی حکومت اور منتخب نمائندوں کی طرف سے صرف باتیں ہی باتیں کی جا رہی ہیں‘ جاپان اور دوسرے ممالک سے آنیوالاامدادی سامان اور رقوم فوری طور پر ضرورتمند متاثرین میں تقسیم کی جائیں۔ وفاقی حکومت عالمی برادری سے امداد کی توقع کر رہی ہے‘ مگر عالمی برادری تذبذب کا شکار ہے‘ ان کے نزدیک پاکستانی لیڈروں خصوصاً موجودہ حکومت کی شہرت قابل اعتماد نہیں ہے۔ عالمی برادری کو یہ بھی علم ہے کہ کس لیڈر کا کس قدر سرمایہ غیرملکی بنکوں میں موجود ہے اور یہ سب کس طرح حاصل کیا گیا ہے؟
پشتونوں کی جلائی گئی دکانیں
متحدہ کے رکن صوبائی اسمبلی سید رضا حیدر کے قتل کے بعد نامعلوم دہشت گردوں نے شہر میں پشتونوں کے قتل عام کے علاوہ انکی گاڑیاں‘ درجنوں مارکیٹوں اور سینکڑوں پتھاروں کو بھی نذر آتش کر دیا۔
شہر بھر میں پشتونوں کی جلائی گئی املاک کے نقصان کے تخمینہ کیلئے آل پختون قبائل یوتھ ونگ کی ایکشن کمیٹی کی طرف سے کئے گئے سروے کے مطابق پشتونوں کی جلائی گئی دکانوں اور پتھاروں کی تعداد سولہ سو ہے جس سے مجموعی طور پر اڑھائی ارب روپے کا نقصان ہوا ہے اور ایک ماہ کے دوران جلائی گئی دکانوں اور پتھاروں کی تعداد 22سو ہو گئی ہے‘ جس کیلئے ابھی تک سرکاری طور پر امداد کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ پشتون نمائندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قرضے لے کر اپنے گھر اور مکان بیچ کر یہ کاروبار شروع کیا تھا۔ کراچی میں امن قائم کرنے کیلئے ضروری ہے جس گروہ نے بھی یہ ساری تخریب کاری کی ہے‘ ان کو گرفتار کرکے سخت سزائیں دی جائیں اور جن کا مالی نقصان ہوا ہے‘ انہیں اس کا معاضہ ادا کیا جائے تاکہ امن بحال کرنے میں آسانی ہو۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter