ملعون امریکی پادری کا قرآن مجید کو (نعوذباللہ) جلانے کا اعلان..... پوری امت ِ مسلمہ حرمت ِ قرآن ورسول ﷺ پر کٹ مرنے کو تیار ہے
ـ 9 ستمبر ، 2010
چرچ آف فلوریڈا کے عیسائی مبلغ ٹیری جونز کی جانب سے نائن الیون کے واقعہ کے تناظر میں 11؍ ستمبر کو قرآن مجید کو نعوذباللہ جلانے کے اعلان نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں زبردست اشتعال پیدا کر دیا ہے اور اس ملعون عیسائی مبلغ کیخلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ روز افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی ریلی نکالی اور امریکی صدر اوبامہ کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ملعون پادری کے پتلے نذر آتش کئے۔ اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں بھی مسلمانوں نے امریکی سفارت خانے کے باہر شدید احتجاج کیا‘ پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں ٹیری جونز کی اس ناپاک سازش کیخلاف دن بھر احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے اور اوبامہ حکومت سے تقاضہ کیا جاتا رہا کہ وہ ملعون ٹیری جونز کو پٹہ ڈالے اور اسے توہینِ قرآن کی مذموم حرکت سے باز رکھے ورنہ اس کا خمیازہ خود امریکہ کو بھگتنا پڑیگا۔
اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلوریڈا میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کو (نعوذباللہ) جلانے کے منصوبے پر عمل کیا گیا تو اسکے بیرون ملک امریکی فوجیوں کی سلامتی پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ اس سے افغانستان میں ہماری امن کی مجموعی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ کو باور کرایا کہ یہ دنیا بھر میں امریکہ کے اسلامی کمیونٹی سے تعلقات کیلئے بھی دھچکا ثابت ہو گا۔ دریں اثناء جنرل پیٹریاس کے نائب لیفٹیننٹ جنرل ولیم کیلڈول نے بھی واضح کیا کہ اس اقدام سے افغانستان میں امریکی فوج کے اہلکاروں کی سلامتی سخت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ٹیری جونز کے اس مذموم منصوبے پر عملدرآمد کو رکوانے کیلئے فلوریڈا میں اسلام‘ عیسائیت‘ یہودیت اور ہندومت کے پیروکاروں نے 10؍ ستمبر کی رات ایک خصوصی اجتماع برائے امن کا اہتمام کیا ہے جبکہ ٹیری جونز اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے جس کے بقول اسلام اور شریعت ہی نائن الیون کے واقعہ کی ذمہ دار ہے۔ وائٹ ہائوس کی جانب سے بھی امریکی ملعون پادری ٹیری جونز کی اس مذموم سازش پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
بے شک قرآن مجید کی حفاظت خدائے بزرگ و برتر نے اپنے ذمہ لی ہوئی ہے اور کسی ملعون سرکش پادری کی گستاخانہ حرکت سے اس الہامی کتاب کی حرمت و تقدس میں کوئی کمی ہو سکتی ہے‘ نہ قرآن کی تعلیمات کو چار دانگِ عالم میں پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ قرآن مجید لاکھوں کروڑوں فرزندان توحید کے سینوں میں محفوظ ہے اور یہ آفاقی دین کی وہ روشنی ہے جس سے دین و دنیا کی فلاح کی ضمانت مل رہی ہے۔ حضرت نبی ٔ آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والا یہ صحیفۂ آسمانی درحقیقت ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور بندے کے خدا سے تعلق کی سیڑھی ہے جس میں کسی قسم کی ترمیم و تحریف کی کسی کو جرأت ہوئی ہے‘ نہ رہتی دنیا تک کوئی ایسی گستاخی کا مستوجب ہو سکتا ہے۔ بطور مسلمان اور بطور حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہمارا عقیدہ ہے کہ جو بھی بدبخت توہینِ قرآن یا شانِ رسالتؐ میں گستاخی کا سوچے گا‘ تباہی و بربادی اور ہمیشہ کی رسوائی اس کا مقدر ہو گا مگر حرمتِ قرآن کا تحفظ مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے اس لئے کوئی بھی مسلمان چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ موجود ہو‘ گستاخانِ قرآن و رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیفرکردار تک پہنچانے کا خود کو پابند سمجھتا ہے کیونکہ بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ حرمت قرآن و رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کٹ مرے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا‘ اس لئے ٹیری جونز جیسے ملعون کا ناپاک وجود کون مسلمان ہو گا جو برداشت کریگا؟ اگر یہ ملعون اپنی اس ناپاک سازش کے تحت عالمی امن اور مذہبی ہم آہنگی کو تاراج کرنے کی نیت رکھتا ہے تو خود اوبامہ انتظامیہ کو اسکی سرکوبی کرنی چاہیے اور اس گند سے اپنی دھرتی کو پاک کرلینا چاہیے‘ ورنہ اسکی مذموم حرکت سے پوری دنیا میں طوفان کھڑا ہو جائیگا اور نائن الیون جیسا کوئی دوسرا واقعہ تو معمولی اقدام ہو گا‘ پورے امریکہ کی اینٹ سے اینٹ بج سکتی ہے۔
اوبامہ کے پیشرو جنونی بش نے تو نائن الیون کے خودساختہ واقعہ کی آڑ میں مسلم امہ کیخلاف باقاعدہ صلیبی جنگ شروع کر دی تھی‘ جس کا انکی اپنی زبان سے اظہار ہوا‘ چنانچہ انسانی حقوق کے اس نام نہاد چیمپئن کے ہاتھوں اس خطہ میں دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں جن ننگِ انسانیت جرائم کا ارتکاب ہوا ہے اور شرفِ انسانیت کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں‘ اسکی بنیاد پر امریکہ پہلے ہی دنیا میں نفرت کی علامت بن چکا ہے اور اگر اب اوبامہ انتظامیہ کی ڈھیل سے ٹیری جونز جیسے ملعون کو اہانت قرآن کی ہلہ شیری مل گئی تو اس خودساختہ مہذب معاشرے کے پتھر کے زمانے کی جانب لوٹنے میں بھی کوئی دیر نہیں لگے گی۔
امریکی ویب‘ ماسٹر وکی لیکس نے پہلے ہی دنیا میں دہشت گرد برآمد کرنے والا مکروہ امریکی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ عالمی امن کے تحفظ کا راگ الاپتے ہوئے امریکہ خود ہی عالمی امن کے درپے ہے۔ چنانچہ عالمی برادری اب اسی تناظر میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملات کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے۔ اس حوالے سے عالمی برادری میں پہلے ہی اسکی تنہائی کا اہتمام ہو رہا ہے۔ اگر ملعون ٹیری جونز کی ناپاک سازش پر عملدرآمد ہو گیا تو امریکہ مہذب انسانی معاشرے کی فہرست سے بھی خارج ہو جائیگا۔ مسلمانانِ عالم تو بلاشبہ حرمتِ قرآن و رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کٹ مرنا جانتے ہیں‘ وہ ملعون ٹیری جونز کے ہوش ٹھکانے لگا دینگے مگر اوبامہ انتظامیہ کو خود بھی عقل کے ناخن لینے چاہئیں کہ اس کا ایک شہری اسلام دشمنی کے جنون میں عالمی برادری میں پورے امریکہ کی سلامتی کو دائو پر لگا رہا ہے تو اسے کیوں نہ اسکی ناپاک حرکت سے پہلے ہی نکیل ڈالی جائے اس لئے امریکی صدر کو جن کیلئے انکے خاندان کے اسلامی پس منظر میں مسلمانانِ عالم نرم گوشہ رکھتے تھے‘ کم از کم امریکی نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل پیٹریاس کی وارننگ کی جانب ہی توجہ دے لینی چاہیے کیونکہ ٹیری جونز کی مذموم حرکت بیرونی دنیا میں صرف امریکی فوجیوں کیلئے نہیں‘ تمام امریکی باشندوں کی سلامتی کیلئے سنگین نتائج کا باعث بنے گی اور امریکہ کے اندر نائن الیون جیسے واقعات کسی حساب کتاب میں بھی نہیں رہیں گے۔ کیا یہ سازش عالمی امن کو تہس نہس کرنے کے مترادف نہیں ہے؟ پھر امریکہ کس منہ اور کس زبان سے نائن الیون جیسے واقعات کا ملبہ مسلم امہ پر ڈال کر ان پر دہشت گردی کا لیبل لگوائے گا؟ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ صرف ملعون ٹیری جونز کو ہی نکیل نہ ڈالی جائے‘ ایسی ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہر ملعون کے ہوش ٹھکانے پر لگائے جائیں اور ویب سائٹس‘ فیس بک اور یوٹیوب کے ذریعے توہین قرآن و رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور فیشن اپنانے اور فروغ دینے والے تمام بدبختوں کا قلع قمع کیا جائے۔ حکومت پاکستان کو بھی ملعون ٹیری جونز کے ناپاک ہاتھ رکوانے کیلئے اوبامہ انتظامیہ پر بھرپور دبائو ڈالنا چاہیے اور انہیں ایسی گستاخی کے سنگین نتائج سے آگاہ کرنا چاہیے۔ ملت اسلامیہ تو حرمتِ قرآن و رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کٹ مرنے کیلئے ویسے ہی تیار بیٹھی ہے‘ منکرین قرآن و اسلام کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے‘ تمام الہامی کتب کا تحفظ مسلمانوں کے تو ایمان کا حصہ ہے‘ اگر وہ دوسری الہامی کتب کی اہانت برداشت نہیں کر سکتے تو قرآن مجید کی توہین کیسے برداشت کر پائیں گے؟
بلوچستان کو آپ نے دیا کیا ہے؟
وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں اساتذہ‘ مزدوروں‘ دکانداروں اور دیگر بے گناہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ پر حکومت کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا قیام امن کیلئے نوابزادہ حربیار مری‘ براہمداغ بگٹی اور خیر بخش مری سے رابطے کئے مگر مثبت جواب نہیں آیا ہم نے پہلے پیار سے بات کی اب سوات طرز کا ایکشن ہو گا اور نتیجہ خود قوم اپنی آنکھوں سے دیکھے گی۔
وزیر داخلہ رحمن ملک کو معلوم ہونا چاہئے کہ سابقہ حکمرانوں کا کیا ہوا قوم آج بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور موجودہ حکمرانوں نے بھی جو کچھ کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ بے چاری قوم ہی دیکھ رہی ہے۔ بلوچستان میں ایک احساس محرومی ہے۔ وہاں کے عوام اور قبائلی لیڈروں کا خیال ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ جسے وہ پنجاب کا نام دیتے ہیں۔ بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار کر رہی ہے۔ بلوچستان کی گیس کی قیمت کم دی جا رہی ہے۔ بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر وہاں ترقیاتی کام بہت کم ہوئے ہیں۔ وہاں کے عوام کو ملازمتوں میں حصہ کم دیا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے عوام‘ سیاسی لیڈروں اور قبائلی سرداروں کی شکایات پر اب تک باقاعدہ غور نہیں کیا گیا۔ بلوچستان کے منتخب عوامی نمائندوں اور اسمبلیوں سے باہر لیڈر شپ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔ حکومت نے حقوق بلوچستان کے نام سے جو پیکج تیار کیا تھا اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ وزیراعظم اور حکومت کے دیگر سرکردہ لیڈروں کو بلوچستان جاتے ہوئے کیا پریشانی ہے وہ اسلام آباد میں بیٹھ کر بلوچستان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں؟ بلوچستان کے عوام کو بتایا جائے کہ حکومت نے عوام کیلئے کیا کیا ہے؟ حکومت بلوچستان کے عوام کو یہ بھی نہیں بتا سکی کہ بلوچستان کے سرداروں اور نوابین نے گوادر کا علاقہ ایک عرب ریاست کو دیا ہوا تھا۔ مگر وفاقی حکومت پاکستان کے ایک پنجابی وزیراعظم نے یہ علاقہ خرید کر اسے بلوچستان میں شامل کیا تھا۔ صدر زرداری کا دعویٰ ہے کہ وہ بلوچ ہیں تو پھر وہ بلوچستان میں بیٹھ جائیں بلوچستان کے عوام کے تمام مطالبات پر توجہ دیں اور انہیں صوبائی خود مختاری اور دیگر تمام اختیارات دئیے جائیں اور ان کا احساس محرومی دور کیا جائے۔ وہاں یہ سارا آئینی قانونی کام کرنے کے بعد وہاں کے شہریوں کیلئے اعلیٰ تعلیمی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور قانون کی حکمرانی قائم کی جائے۔ اس کے بعد بلوچستان کے عوام کی دلجوئی ہو گی۔ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلوچ عوام کے ساتھ محبت بھرا سلوک کیا جائے اور انکا دل جیتنے کیلئے ہر آئینی اقدام اٹھایا جائے۔
پراسیکیوٹر جنرل کی برطرفی کا آرڈر جاری کریں
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سیکرٹری قانون کو ہدایت کی ہے کہ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر کو فراہم کی جانیوالی تمام مراعات واپس لے لی جائیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر اسکی روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے۔ وزیر قانون نے بھی اسکی تائید کی ہے مگر پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر نے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔
عرفان قادر کا موقف ہے کہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے‘ وزارت قانون کے ماتحت نہیں ہے اور ان کا تقرر صدر مملکت نے کیا ہے‘ وہی انہیں اس عہدہ سے علیحدہ کر سکتے ہیں اور صدر کے تحریری احکامات ملنے تک وہ اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان ملک و قوم کی سب سے بڑی عدالت ہے‘ جب عدالت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل کا تقرر ہی غلط ہوا ہے اور انکے ساتھی قانون دانوں جن میں نیب کے دو سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل بھی شامل ہیں‘ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ موجودہ پراسیکیوٹر جنرل اس عہدہ پر تعیناتی کے اہل ہی نہ تھے‘ سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹھیک ہے۔ ان حالات میں ملک کے ہر شہری کی طرح مسٹر عرفان قادر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے تقرر کی مبادیات کو سمجھیں۔ جب 17 رکنی فاضل سپریم کورٹ یہ قرار دے رہی ہے کہ انکی تقرری درست نہیں ہوئی تو اس پر حیل و حجت وہ کر ہی نہیں سکتے۔ فاضل سپریم کورٹ کا حکم درست ہے‘ انہیں اسکے احترام میں سرنڈر کر دینا چاہیے۔ ایک قانون دان کی حیثیت سے یہی ان کا فرض بنتا ہے اور فاضل سپریم کورٹ انہیں گرفتار کرنے کا حکم بھی دے سکتی تھی جو شایدایک سنیئر قانون دان کی عزت بچانے کیلئے نہیں دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی ہر حال میں احترام اور تعمیل کی جانی چاہیے‘ صدر مملکت کو بھی چاہیے کہ اس سلسلہ میں بلاتاخیر اپنے احکامات جاری کریں۔ جن کے ذریعہ عرفان قادر کی برطرفی کی توثیق کردی جائے۔ سپریم کورٹ کے ساتھ اس چپقلش کی وجہ سے ملک میں حالات زیادہ دگرگوں ہو جائینگے۔ سپریم کورٹ کو توہین عدالت کے الزام میں عرفان قادر کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دینا چاہیے‘ جرم تو ثابت ہو ہی چکا ہے‘ اندر بھی کرنا ضروری بنتا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں