ماڈل ٹائون خودکش دھماکہ‘ حکومتی دعوے اور اصل حقائق

ـ 9 مارچ ، 2010
ماڈل ٹائون بلاک لاہور کے رہائشی علاقہ میں قائم حکومت پنجاب کی سپیشل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کی عمارت پر خودکش کار بم حملہ کے نتیجہ میں پیر کی صبح ایک درجن سے زائد افراد جاں بحق اور 60 سے زائد افراد زخمی ہو گئے‘ ان میں 29 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے ایس آئی اے کی پوری عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی جبکہ قرب و جوار کی رہائشی عمارتوں میں بھی خوفناک زلزلے کی کیفیت پیدا ہو گئی اور متعدد عمارتوں کی چھتوں اور دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ صبح سوا آٹھ بجے ہونے والے اس دھماکے کی آواز کئی کلو میٹر تک سنی گئی جبکہ دھماکے کی جگہ پر 18 فٹ چوڑا اور 16 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔ ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ کے بقول اس دھماکے میں چھ سو کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے لاہور میں حساس ادارے کی عمارت پر خودکش دھماکے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کی فوری طبی امداد کی ہدایت کی جبکہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس واقعہ کے بارے میں آئی جی پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ مون مارکیٹ کے سانحہ کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور گزشتہ تین ماہ سے دہشت گردی سے محفوظ تھا اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی خودکش حملوں اور دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں کمی نظر آرہی تھی‘ جبکہ چار روز قبل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے‘ تاہم صوبائی دارالحکومت کے پوش ایریا میں گزشتہ روز خودکش دھماکہ کی خوفناک واردات سے ملک کے عوام ایک بار پھر خوف و دہشت کی فضاء کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ ماڈل ٹائون دھماکے پر شہریوں میں اس لئے بھی تشویش کی فضا پیدا ہوئی ہے کہ یہ لاہور کے حلقہ این اے 123 کے ضمنی انتخاب کے پولنگ سے ایک روز قبل ہوا‘ رحمان ملک نے تو گزشتہ روز بھی یہی بیان دیا کہ سوات میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے جبکہ انہوں نے ماڈل ٹائون دھماکہ کی ذمہ داری بھی کالعدم تحریک طالبان پر عائد کی ہے۔
سیکورٹی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ماڈل ٹائون کی شہری آبادی میں قائم حساس ادارے کی اس عمارت میں اہم ملزمان سے تفتیش کی جاتی تھی اور دو روز قبل ایک اہم طالبان کمانڈر کو بھی تفتیش کیلئے اسی عمارت میں لایا گیا تھا‘ اس لئے اس عمارت کو نشانہ بنانے کا مقصد تفتیش سے متعلق ریکارڈ کو ضائع کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ اصولی طور پر تو کسی سیکورٹی یا تفتیشی ایجنسی کا دفتر شہری آبادی میں قائم نہیں کیا جانا چاہئے‘ کیونکہ دہشت گردی اور خودکش حملہ آوروں کا ہدف بالعموم سیکورٹی ایجنسیاں اور فورسز ہی ہوتی ہیں‘ اسی تناظر میں ماڈل ٹائون سوسائٹی کی جانب سے ماڈل ٹائون میں خصوصی تفتیشی ایجنسی کا دفتر قائم کئے جانے پر عرصہ دراز سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا اور سوسائٹی کے صدر کرنل (ر) طاہر کاردارنے گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو متعدد مراسلات بھی بھجوائے تھے کہ یہاں سے حساس ادارے کے دفاتر کو منتقل کر دیا جائے‘ معروف دینی سکالر ڈاکٹر اسرار احمد بھی جن کا مدرسہ حساس ادارے کی متذکرہ عمارت کے قریب واقع ہے‘ شہریوں کیلئے اس عمارت کے سیکورٹی رسک ہونے کے بارے میں متعلقہ حکام کو متوجہ کرتے رہتے تھے اور محکمہ داخلہ پنجاب نے اس ماہ 4 مارچ کو ایک سرکلر کے ذریعے تمام پولیس حکام کو آگاہ بھی کیا تھا کہ دہشت گرد خفیہ اداروں کی عمارات کو نشانہ بنا سکتے ہیں‘ اسکے باوجود حکومت کی ایجنسیوں نے متذکرہ حساس ادارے کے دفاتر شہری آبادی سے منتقل کرنے اور شہریوں کی حفاظت کیلئے خصوصی اقدامات بروئے کار لانے کی زحمت گوارا نہ کی جبکہ اب گورنر پنجاب سلمان تاثیر دہشت گردی کے اس واقعہ پر بھی اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے بقول وزیراعلیٰ شہباز شریف کو اب کھل کر بتانا ہو گا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں یا قوم کے ساتھ ہیں؟ دوسری جانب صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور وزیر ہوتے ہوئے بھی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حساس اداروں کے دفاتر شہری آبادیوں سے باہر منتقل ہونے چاہئیں۔ حالانکہ اس سے قبل بھی 11 مارچ 2008ء کو لاہور میں ماڈل ٹائون ایف بلاک اور حمیدنظامی روڈ کے شہری علاقوں میں ایف آئی اے کی عمارات میں دھماکے کئے گئے تھے۔ اگر ان افسوسناک واقعات میں شہریوں کے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کا احساس کرتے ہوئے حساس اداروں کے دفاتر شہری آبادیوں سے باہر منتقل کر دیئے جاتے تو گزشتہ روز ماڈل ٹائون کی شہری آبادی میں خودکش حملہ کی نوبت نہ آتی۔
ایسے واقعات میں صدر‘ وزیراعظم اور دیگر حکومتی شخصیات کی جانب سے محض افسوس کے اظہار اور تفتیش کا حکم دینے کی روایتی کارروائیوں سے تو شہریوں کو ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی تلافی نہیں ہو سکتی‘ نہ ہی لواحقین کیلئے چند لاکھ کے امداد کے اعلان سے انکے زخم مندمل ہو سکتے ہیں‘ اگر حکومت نے امریکی مفادات کی پرائی جنگ اپنے گلے ڈالی ہوئی ہے تو اسے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کا بھی خصوصی انتظام کرنا چاہئے تھا‘ جبکہ اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہی ہوا ہے‘ جنہیں اپنے پیاروں کی ناگہانی موت یا انکے عمر بھر کیلئے اپاہج ہونے کا صدمہ ہی برداشت نہیں کرنا پڑتا‘ کاروبار تباہ ہونے کے باعث انہیں روٹی روزگار کے بدترین مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ طرفہ تماشہ ہے کہ جس امریکہ کی خاطر ملک اور عوام کا ناقابل تلافی نقصان کیا جا رہا ہے‘ وہ پھر بھی ہمارے حکمرانوں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور آئے روز ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے کئے جاتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا ہے جس کے ردعمل میں ملک کے کسی نہ کسی علاقے میں خودکش حملے کی کوئی نہ کوئی واردات رونما ہوتی رہتی ہے۔
ماڈل ٹائون خودکش دھماکہ کے پس پردہ کیا محرکات اور عوامل کارفرما ہیں‘ اس کے بارے میں تو تفتیش کی حتمی رپورٹ سے ہی کوئی نتیجہ اخذ ہو سکے گا تاہم بادی النظر میں یہ واقعہ کراچی سے اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی آدم یحیٰی غدن کی گرفتاری اور حساس ادارے کی متذکرہ عمارت میں طالبان کمانڈروں کی مبینہ موجودگی کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے‘ اس لئے بجائے اسکے کہ حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعوئے کئے جائیں‘ بہتر یہی ہے کہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کا باعث بننے والی حکومت کی امریکہ نواز پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور بے فیض امریکہ کے ساتھ فرنٹ لائن اتحادی والا کردار ترک کرکے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی اپریشن فی الفور بند کردیا جائے اور ملک میں قیام امن کی خاطر مقامی طالبان کے ساتھ امن جرگوں کے ذریعہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ امریکہ خود تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ افغانستان سے اپنی واپسی کا محفوظ راستہ تلاش کر رہا ہے اور ہمیں بدترین دہشت گردی میں پھنسائے چلا جا رہا ہے۔ اس لئے ماڈل ٹائون خودکش دھماکہ سے سبق سیکھتے ہوئے شہری آبادیوں میں قائم حساس اداروں کے تمام دفاتر فی الفور شہر سے باہر منتقل کر دیئے جائیں اور مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیکر دونوں جانب سے اپنے شہریوں اور کلمہ گو مسلمان بھائیوں کا خون بہانے کا سلسلہ ترک کر دیا جائے‘ یہی ہماری ملکی اور قومی سلامتی کا تقاضہ ہے۔
بانیان پاکستان کو خراج عقیدت
پیش کرنے کا بہترین طریقہ
حمید نظامی میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام یومِ حمید نظامی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ صرف اسلامی انقلاب ہی پوری دنیا کے مسائل حل کر سکتا ہے‘ پاکستان کیلئے ’’3جیم‘‘ جمہوریت‘ جہاد اور جوہری صلاحیت بہت ضروری ہیں‘ پاکستان کے حکمران کو امریکہ کے بجائے پاکستانی عوام کی تائید حاصل کرنی چاہئے۔ نوائے وقت حمید نظامی کی ادارت کے پہلے روز سے لے کر آج تک نظریہ پاکستان اور قومی مفادات کے تحفظ کی جنگ لڑ رہا ہے۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور انکے ساتھیوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو انگریز کی غلامی سے نکال کر ہندوئوں کی غلامی میں جانے سے بڑی دانشمندی سے بچایا‘ تقسیم ہند کے بعد پاکستان دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک تھا‘ بانی ٔ پاکستان اسے اسلام کی تجربہ گاہ اور اسلام کا قلعہ بنانا چاہتے تھے‘ قائداعظم کی زندگی وفا کرتی تو یقیناً پاکستان انکی امنگوں اور خواہشات کا آئینہ دار ہوتا۔ قائداعظم کی رحلت کے بعد یہاں انکے پائے کا کوئی لیڈر نہیں تھا‘ وہیں جو مخلص اور خود کو پاکستان کیلئے وقف کر دینے والے تھے‘ ان کو حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر نظرانداز کرنا شروع کر دیا۔ سیاسی اختلافات‘ ذاتیات تک جا پہنچے جو توانائیاں ملک و قوم کی ترقی وخوشحالی کیلئے استعمال ہونی چاہئیں تھیں‘ وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے استعمال کی گئیں‘ جس کا فائدہ طالع آزمائوں نے اٹھایا۔ پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد آدھا عرصہ فوجی آمروں کی دسترس میں رہا اور اکثر جمہوری حکمرانوں نے بھی آمرانہ ہتھکنڈے اپنائے۔ قاضی حسین احمد نے اپنے خطاب میں حمید نظامی کا قول درست دہرایا کہ بری سے بری جمہوریت بھی آمریت سے کہیں بہتر ہے۔
آج بظاہر تو وطن عزیز میں جمہوریت رائج ہے لیکن اسکے ثمرات کہیں نظر نہیں آتے۔ گزشتہ آمرانہ دور کی طرح آج بھی پاکستان کو امریکہ کی باجگزار ریاست بنایا ہوا ہے‘ ڈرون حملے ہو رہے ہیں‘ پاک فوج اپنے ہی لوگوں جن کو قائداعظم نے پاکستان کا بازوئے شمشیر زن قرار دیا تھا‘ کیخلاف برسر پیکار ہے‘ انکے ردعمل میں پورا ملک دہشت گردی اور خودکش حملوں کی لپیٹ میں ہے۔ عوام مہنگائی‘ بیروزگاری اور بدامنی کی چکی میں پس رہے ہیں‘ صحت تعلیم اور انصاف کی سہولیات انکو میسر ہونی چاہئیں‘ وہ ان سے دور ہیں۔ آج پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے‘ عالم اسلامی کی نظر میں بھی اسی پر ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں کی کمزوریوں اور کمزور پالیسیوں کے باعث پاکستان کا دنیا میں وہ مقام نہیں رہا‘ جو ہونا چاہئے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام تر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کو قائد اور اقبال کے طرز فکر کیمطابق حقیقت میں اسلامی جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کیلئے حکمران اور سیاست دان اپنا کردار ادا کریں۔ یہ بانیان پاکستان اور حمید نظامی جیسے تحریک پاکستان کے کارکنوں اور صحافت اور سیاست کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
بھارت کیساتھ پانی کے تمام معاملات
عالمی فورمز پر اٹھائے جائیں
پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کشن گنگا پراجیکٹ کی تعمیر میں سندھ طاس سمجھوتے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ وہ اس ڈیم پر بجلی پیدا کرنے کے بعد پانی کا رخ موڑ کر وولر جھیل میں ڈال دیتا ہے جس سے دریائے نیلم میں پانی 27 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ پاکستان اس پراجیکٹ کو عالمی عدالت میں لے جائیگا۔ اسکی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
پاکستان نے کشن گنگا پراجیکٹ کے حوالے سے بھارت کو اعتراضات سے آگاہ کیا تھا بھارت نے ان اعتراضات کو مسترد کر دیا تو پاکستان کے پاس عالمی عدالت سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا تاہم حکومت پاکستان کی طرف سے اس میں بہت دیر کر دی گئی ہے۔ یہ معاملہ کشن گنگا پراجیکٹ کے آغاز کے ساتھ ہی اٹھانا چاہئے تھا۔ عالمی بنک نے بھی کشن گنگا کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بھارت نہ صرف کشن گنگا کے ذریعے دریائے نیلم کا 27 فیصد پانی روک رہا ہے بلکہ کشمیر سے پاکستان آنیوالے دیگر دریاؤں پر 62 سے زائد ڈیموں کی تعمیر سے پاکستان کو ریگستان میں بدلنے کی مذموم سازشوں پر بھی عمل پیرا ہے۔ اس حوالے سے معاملات بھی پوری تیاری کے ساتھ یو این، عالمی بنک، عالمی عدالت انصاف اور دیگر جو بھی مناسب عالمی فورمز ہیں پر اٹھانے چاہئیں۔
پاکستان بگلیہار ڈیم کا معاملہ ورلڈ بنک میں لے گیا تھا لیکن اپنا کیس صحیح طریقے سے پیش نہ کر سکا جس کے باعث بگلیہار ڈیم آج آپریشنل ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ عالمی فورمز پر بھارت کے ساتھ پانی اور ڈیموں کی غیر قانونی تعمیر کے معاملات لے جانے کیلئے سفارشیوں اور سیرو سیاحت کے شوقین نام نہاد ماہرین کے بجائے ان امور پر اتھارٹی مانے جانے والے ماہرین کو بھیجا جائے۔ اصل کام تنازعات کو عالمی فورمز پر لے جانا نہیں بلکہ ان کو صحیح طریقے سے پیش کرنا اور اپنے حق میں فیصلہ کرانا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے درست کہا کہ بھارت کو پا کستان کا پانی ہر صورت دینا پڑیگا۔ یہ تبھی ممکن ہے جب پاکستان کے حصے کے پانی کی واگزاری کیلئے درست اور صحیح سمت میں کوشش کی جائیگی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter