حکمران کسی تلخ صورتحال سے بچنے کیلئے خود ہی انتخابات کا اعلان کردیں

ـ 9 جنوری ، 2012
انتخابات کے قبل از وقت انعقاد کا امکان اور وزیراعظم گیلانی کے دعوے
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملک میں تبدیلی صرف الیکشن کے ذریعے ہی آنی چاہئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات کی گہماگہمی ہو، ہم نعرے بازی اور ہنگاموں سے گھبرانے والے نہیں۔ گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیہ کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق کی جماعت ہے اور عدلیہ کے احترام پر یقین رکھتی ہے۔ ہم عوام میں سے ہیں اور الیکشن لڑنے والوں میں سے ہیں، ہمیں الیکشن سے کوئی ڈرا نہیں سکتا۔
ملک اور سسٹم کو بار بار کے مارشل لاﺅں، جرنیلی آمریتوں اور ماورائے آئین حکمرانیوں نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اسکے پیش نظر کوئی جمہوریت پسند اور ملک کی خیرخواہی کا درد رکھنے والا کوئی بھی شہری کسی ماورائے آئین اقدام کے تحت حکومت کی تبدیلی کا خواہشمند نہیں ہوگا جبکہ عوام نے تو مشرف کی جرنیلی آمریت سے عاجز آکر ہی فروری 2008ءکے انتخابات کے ذریعے سلطانی¿ جمہور کے حق میں ووٹ دے کر اس کی راہ ہموار کی جس کی بنیاد پر موجودہ حکمرانوںکومسندِ اقتدار پرفائز ہونے کا موقع ملا۔ جمہوری نظام کوپروان چڑھانے اور مضبوط بنانے کیلئے جتنے سازگار حالات موجودہ حکمرانوں کے حصے میں آئے اس کی بنیاد پرتو انہیںسلطانی¿ جمہور کے ثمرات عام آدمی تک پہنچا کر نہ صرف سسٹم کے استحکام کی بنیاد رکھ دینی چاہئے تھی بلکہ اپنے اقتدار کو بھی ہر قسم کے خطرات سے محفوظ کرکے اگلی ٹرم کیلئے بھی اپنے اقتدار کو یقینی بنا لینا چاہئے تھا۔ بے شک وزیراعظم اور انکی حکومت کو آئندہ انتخابات سے اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہورہا ہوگا مگر کیا انہیں سنجیدگی کے ساتھ اس امر کا جائزہ نہیں لینا چاہئے کہ انکے اقتدار کے آغاز ہی میں عوام کیوں اتنے زچ ہوگئے تھے کہ جرنیلی آمریت ہی کی طرح ان سے بھی خلاصی کا سوچنے لگے۔
اگرچہ آج صدر زرداری بھی عوامی اور قومی مسائل کے معاملہ میں حکومت کی ناکامی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور آج بھی انہیں پیپلز پارٹی کا ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کا نعرہ آئندہ انتخابات میں بھی اپنی پارٹی کی کامیابی کی ضمانت بنتا نظر آرہا ہے مگر زمینی حقائق تو اسکے قطعی برعکس ہیں، کیونکہ عوام کو جتنے گھمبیر مسائل کا سامنا سلطانی¿ جمہور کے موجودہ دور میں کرنا پڑا ہے، اسکا جرنیلی آمریتوں میں بھی وہ تصور نہیں کرسکتے تھے۔ موجودہ حکمرانوں کے اقتدار کے چار سال کے قریب پہنچنے والے اقتدار کے دوران عوام کو اپنے مسائل کے حل کے معاملہ میں سکون کا ایک لمحہ بھی میسر نہیں آسکا۔ مشرف کی جرنیلی آمریت کی پیدا کردہ قباحتیں اپنی جگہ، انہوں نے ملک کی خودمختاری کا سودا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور آج بھی ملک بیرونی جارحیت کے خطرات میں گھرا انہی کی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے مگر آج عوام کو بجلی اور گیس کی سنگین لوڈشیڈنگ، روزافزوں مہنگائی، بیروزگاری، براہ راست اور بلواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار اور لاقانونیت کی شکل میں جن گھمبیر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مشرف آمریت کے دوران عوام ایسی بدحالی کا کبھی شکار نہیں ہوئے تھے جبکہ سلطانی¿ جمہور میں تو روٹی روزگار کے مسائل میں الجھے عوام عملاً زندہ درگور ہوگئے ہیں۔
اگر تو موجودہ حکمرانوں نے مشرف کے امریکی فرنٹ لائن اتحادی والے کردار سے رجوع کرکے قومی غیرت و حمیت پر مبنی پالیسیاں اختیار کرلی ہوتیں، قانون اور آئین کی حکمرانی کی راہ ہموار کرکے عدلیہ اور دوسرے آئینی اداروں کے احترام کو اپنا شعار بنالیا ہوتا، میرٹ کو لاگو کردیا ہوتا، خود سے منسوب کرپشن کی داستانوں سے خلاصی حاصل کرلی ہوتی اور من مانیوں کے بجائے گڈگورننس کی مثال قائم کی ہوتی تو ممکن ہے سسٹم کے استحکام کی خاطر عوام اپنے مسائل پر درگزر کرتے ہوئے موجودہ حکمرانوں کیلئے رطب اللسان رہتے مگر انہوں نے تو اپنے اقدامات اور پالیسیوں سے سلطانی¿ جمہور کو ناکام ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہی وہ حالات ہیں جو طالع آزما جرنیلوں کے ماورائے آئین اقدام کیلئے نادر موقع بنا کرتے ہیں مگر ان حکمرانوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ عسکری قیادتوں سے لے کرعدلیہ اور اپوزیشن تک تمام سٹیک ہولڈر جمہوریت کو چلانے اور مستحکم بنانے کے عزم پر کاربند ہیں اس لئے موجودہ حکمرانوں کو ماضی جیسے کسی ماورائے آئین اقدام کا کوئی دھڑکا ہے نہ ایسے کسی اقدام کا کوئی امکان موجود ہے جبکہ عوام سلطانی¿ جمہور کے پیدا کردہ مسائل سے زچ ہو کر تنگ آمد بجنگ آمد کی نوبت لا رہے ہیں تو کم از کم انہیں انتخابات کے ذریعے تبدیلی کا راستہ نظر تو آنا چاہئے۔
یہی وہ حالات ہیں جن کی بنیاد پر کم و بیش تمام سیاسی، دینی جماعتوں کے قائدین عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومت سے فوری انتخابات کے انعقاد کا تقاضہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ چنانچہ پبلک جلسوں کی شکل میں انکی رابطہ عوام مہم عملاً انتخابی مہم کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اس حوالے سے میاں نوازشریف اور عمران خان انتخابات کے فوری انعقاد کو ملکی اور عوامی مسائل کا حل سمجھتے ہیں تو مولانا فضل الرحمن بھی قبل از وقت انتخابات کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی کو آئین کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں اور جماعت اسلامی بھی اب انتخابات کے بائیکاٹ کی غلطی نہیں دہراناچاہے گی جبکہ حکومتی اتحادیوں کی صفوں میں بھی قبل از وقت انتخابات کی سوچ ابھر رہی ہے۔ چنانچہ اے این پی اور ایم کیو ایم متحدہ ہی نہیں، حکمران پیپلز پارٹی بھی عوامی دباﺅ کے تحت قبل از وقت انتخابات کا سوچنے پر مجبور ہوچکی ہے جس کی کورکمیٹی کے اجلاس میں نہ صرف سینٹ کے انتخابات مارچ کے مقررہ وقت کے بجائے فروری میں کرانے کا طے کیا گیا بلکہ صدر زرداری کے بقول عام انتخابات بھی مقررہ وقت سے پہلے کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں۔
اس تناظر میں اگر انتخابات کے ذریعے ہی تبدیلی کی فضا سازگار ہے تو حکومت کو مقررہ وقت سے پہلے انتخابات کے انعقاد کا بلاتاخیر اعلان کردینا چاہئے اور عوامی توقعات کے مطابق موجودہ سال 2012ءکو انتخابات کا سال قرار دیدینا چاہئے۔ اگر صدر اور وزیراعظم اپنی حکومت کی کارکردگی کے معاملہ میں اتنے ہی پراعتماد ہیں تو انہیں نئے مینڈیٹ کیلئے عوام کے پاس جانے میں کوئی خوف محسوس نہیں ہونا چاہئے تاہم اگر ان پر اپنی آئینی ٹرم پوری کرنے کی سوچ ہی غالب رہی تو اپنے مسائل سے عاجز آئے عوام جس طرح آج ملک بھر میں سراپا احتجاج بنے کم و بیش روزانہ سڑکوں پر اور اقتدار کے ایوانوں کے سامنے مظاہرے کرتے، دھرنے دیتے نظر آرہے ہیں، اس عوامی بے چینی اور اضطراب کا تدارک کرتے ہوئے کہیں پھر سے ماورائے آئین اقتدار کی راہ ہموار نہ ہوجائے۔ اگر اب تک کسی نے ایسا اقدام نہیں اٹھایا تو اس میں موجودہ حکمرانوں کی فہم و بصیرت کا کوئی کمال نہیں ہے کیونکہ انہوں نے تو قدم قدم پر ماورائے آئین اقدام کو ہی دعوت دی ہے اور اب بھی عدلیہ کے ساتھ براہ راست ٹکراﺅ مول لیکر وہ اسی راہ پر گامزن ہیں۔ انہیں سسٹم کے استحکام کیلئے فکرمند حلقوں اور عوام کے صبر کا مزید امتحان نہیں لینا چاہئے اور خود ہی آئندہ انتخابات کا شیڈول جاری کردینا چاہئے۔ اس سلسلہ میں اگر وہ اپوزیشن لیڈر میاں نوازشریف کو اعتماد میں لیکر کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں جس کی حکومتی حلقوں سے اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں تو اس کیلئے بھی انہیں کوئی تاخیر نہیں کرنی چاہئے اور بلوچستان کے ایشو پر انکی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس سے پہلے ہی ان سے رابطہ کرکے معاملات طے کرلینے چاہئیں جس کیلئے ممکن ہے فضا دونوں جانب سے سازگار ہو مگر حکمرانوں نے اپنے کسی اعتماد کی بنیاد پر آئینی ٹرم پوری کرنے کی ضد برقرار رکھی تو پھر عوام کے ذہنوں میں پروان چڑھنے والی تبدیلی کی سوچ خود اپنا راستہ ڈھونڈ لے گی۔ تبدیلی تو بہرصورت اب ناگزیر ہوچکی ہے۔ اگر تبدیلی انتخابات کے ذریعے لانی ہے تو پھر عوامی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ابھی سے یہ راستہ اختیار کرلیا جائے اور فوری طور پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرکے ایک آزاد الیکشن کمیشن تشکیل دیدیا جائے جو شفاف طریقے سے انتخابی فہرستیں تیار کرکے انتخابی شیڈول کا اعلان کرے اور عوامی مینڈیٹ کی روشنی میں آئینی اور جمہوری طریقے سے انتقال اقتدار کی راہ ہموار کرے۔ اگر بدقسمتی سے انتقال اقتدار کا کوئی دوسرا راستہ اختیار ہوا تو موجودہ حکمرانوں پر ہی اسکی ذمہ داری عائد ہوگی۔
مشرف ہنود و یہود نصاریٰ کا ایجنٹ
سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے اسرائیلی اخبار پارٹنر کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک حقیقت ہے۔ پاکستان اسے تسلیم کرکے سفارتی تعلقات قائم کرے۔ اسرائیل بھی ایک نظریاتی ریاست ہے اسے تسلیم کرنے سے پاکستان بھارت کے قریب آسکتا ہے اور عالمی سطح پر یہودیوں کی مخالفت اور میڈیا کی تنقید سے بچ سکتا ہے۔
پرویز مشرف خود ساختہ جلا وطنی کے بعد واشنگٹن کے تعاون سے پاکستان واپس آنے کیلئے کوشاں ہیں۔ وہ خود یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ امریکہ پر یہودیوں کا اس قدر اثر ہے کہ کوئی بھی امریکی یہودیوں کی حمایت کے بغیر الیکشن نہیں جیت سکتا۔ پاکستان میں مشرف پر قتل کے مقدمات کے علاوہ غداری کے الزامات بھی ہیں۔ وہ نہ صرف ان مقدمات سے نجات چاہتے ہیں بلکہ سیاست میں بھی گہر ی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں مشرف کی طرف سے اسرائیل اور صہیونیت کی حمایت سمجھ میں آجاتی ہے ۔ امریکہ کو بھی شاید کسی مُہرے کی تلاش ہے جبکہ مشرف تو امریکہ کا آزمودہ ہے۔ یہ مشرف ہی تھا جس نے نائن الیون کے بعد بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورا ملک افغانستان پر حملوں کیلئے امریکہ کے حوالے کردیا تھا۔اس سے بڑا ٹاﺅٹ اور ایجنٹ شاید ہی امریکہ کو پاکستان سے مل سکے۔ اوپر سے اسرائیل بھی امریکہ کو مشرف کی حمایت کی سفارش کر دے تومشرف کیلئے پاکستان بحفاظت واپسی ممکن ہونے کے ساتھ ساتھ ان کیلئے سیاست میں اہم کردارادا کرنے کے راستے بھی کھل سکتے ہیں خفیہ اکاﺅنٹس اس کے علاوہ ہوسکتے ہیں۔ اسرائیل کی حمایت کیلئے مشرف کا استدلال انتہائی بودا ہے۔ ا نکے بقول پاکستان 1948 سے فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ پالیسی اب حالات اور حقائق کے مطابق تبدیل ہونی چاہئے۔ مشرف بتائیں حالات کیا تبدیل ہوئے؟ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کو ختم کرنے کی پالیسی پرگامزن ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی جارحیت میں اضافہ ہورہا ہے۔فلسطینیوں کے سینے پرزخم لگا کر اسرائیلی ریاست قائم کی گئی۔مشرف بڑی ڈھٹائی سے اسے نظریاتی ریاست قرار دے رہے ہیں۔اسرائیل اور بھارت سے قربت کا درس دے کر مشرف نے صرف عالمی قوتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب تک مسئلہ کشمیر وفلسطین حل نہیں ہوجاتے بھارت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔مشرف نے اسرائیل بھارت اور امریکہ کی حمایت میں بیان دے کر پاکستان کے موقف کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے اورخود کوہنود و یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ ثابت کردیا ہے جس کا سپریم کورٹ کو نوٹس لیتے ہوئے ان کے سیاست میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کرنی چاہئے اور پراسیکیوٹر ایف آئی اے کے اعلان کے مطابق ملک واپس آنے کی صورت میں انہیں فی الفور گرفتار کرکے قانون وانصاف کے کٹہرے میں لایاجائے گا ، ایسے بد بختوں کا یہی علاج ہے۔
حامد کرزئی کا خبثِ باطن
افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ امریکہ غلط مقام پر جنگ لڑ رہا ہے،دہشت گردی کیخلاف جنگ افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان کے اندر طالبان کے ٹھکانوں کیخلاف ہونی چاہئے۔
حامد کرزئی منافقت کا لبادہ اوڑھ کرپاکستان کواپنا اسلامی بھائی گردانتا ہے لیکن درحقیقت اس کے مکروہ عزائم اوراسکی پالیسی شیطانی اتحاد ثلاثہ والی ہی ہے ،امریکہ میں ہوٹل میں افغانی کباب بنانا چھوڑ کر امریکی آشیر باد سے وہ تخت کابل پر آبیٹھے ا ور خبث باطن اگلنے لگے، وہ اپنی بَلا ہمارے گلے میں ڈالناچاہتے ہیں اگر انہیں اس جنگ سے اتنی ہی نفرت ہے تو امریکہ کا بوریا بستر گول کرنے کا بندوبست کیوں نہیں کرتے؟ کبھی وہ ذاتی مفاد کیلئے کہتے ہیں کہ اگر بھارت یا پاکستان کی جنگ ہوئی تو افغانستان پاکستان کا ساتھ دیگا تو بھارتیوں کی دھمکیوں سے ڈر کر وہ اپنے بیان سے رجوع کرتے ہیں۔ ایسے بزدل اور شاطر آدمی سے کسی خیر کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے۔
پاکستان نے 50 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی ان کی ضروریات پوری کیں یہی حامد کرزئی سالہال سال تک پشاور میں مقیم رہا افغانیوں کا قتل عام کروا کر آج یہ مگر مچھ کے آنسو روتا ہے۔پاکستانی حکمرانوں کو اس بہروپئے کرزئی سے ہوشیار رہناچاہئے اور جس طرح نیٹو افواج کی زمینی سپلائی روک کر اس کا حقہ پانی بند کردیا ہے جیسا کہ جنرل(ر) حمیدگل نے کہا ہے اب فضائی راستے پر بھی پابندی عائد کردینی چاہئے تاکہ شیطانی اتحاد ثلاثہ کے پاکستان بارے خطر ناک عزائم خاک میں مل جائیں،سلالہ چیک پوسٹ کے بعدعسکری حکام کا جو موقف سامنے آیا پوری قوم نے اس کی تائید کی۔ آج ڈرون حملے بند ہوچکے ہیں اس کے رد عمل میں ہونے والے خودکش حملے بھی بند ہوچکے ہیں آج امریکہ افغانستان سے ناکام ہوکر واپسی کی تیاریاں کر رہا ہے تو ہمیں پاکستان کے طالبان کے ساتھ مل بیٹھ کر مستقبل کا لائحہ عمل تشکیل دیناچاہئے امریکیوں کے ساتھ ہی انکا لے پالک حامد کرزئی بھی چلا جائے گا ہمیں ایسے چال باز اور منافق لوگوں سے مستقبل میں محفوظ رہنے کا بندوبست بھی کرناچاہئے اور امریکہ کے ساتھ کسی سطح پر بھی اب تعاون کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں