پاکستان بھارت جامع مذاکرات کے طریق کار پر وزیر خارجہ کی خوش فہمی ..... حکومت کشمیر اور پانی کا تنازعہ پس پشت ڈالنا چاہتی ہے؟

ـ 9 فروری ، 2010
بھارت نے پاکستان کو اس ماہ 18 یا 25؍ فروری کیلئے مذاکرات کی باضابطہ دعوت دیدی ہے‘ اس سلسلہ میں بھارتی میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ مذاکرات خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر ہونگے‘ جن میں بھارت بلوچستان سمیت تمام معاملات پر پاکستان سے بات کرنا چاہتا ہے جبکہ ان مذاکرات میں انسداد دہشت گردی اور دراندازی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔
مذاکرات کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت جامع مذاکرات کے طریق کار پر متفق ہو گئے ہیں‘ انہوں نے ٹائمز آف انڈیا کو اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ کشمیر پر پیشرفت ہوئی تو اس معاملہ میں کشمیریوں کی خواہش کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ انکے بقول مشرف دور میں بھارت سے مسئلہ کشمیر پر ہونے والی بات چیت اور اس حوالے سے پیش رفت کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں‘ اس صورت میں بھارت سے مذاکرات وہیں سے شروع کئے جائینگے‘ جہاں سے ٹوٹے تھے۔ مشرف دور میں کشمیر پر اگر کسی تجویز پر بات ہوئی ہے تو یہ بعض افراد کا ذاتی فعل ہو سکتا ہے‘ مسئلہ کشمیر کے بارے میں یہ کہنا حقائق کے برعکس ہو گا کہ اس کا حل ہماری جیب میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر ہمارے مقدمے میں سچائی ہے۔
بھارت کی جانب سے ہمارے ساتھ مذاکرات پر اچانک آمادہ ہو جانا بے سبب نہیں اور اس کا پس منظر مبینہ دہشت گردی کے تدارک کیلئے ہم پر دبائو مزید بڑھانا نظر آتا ہے جس میں بھارت کو یقیناً امریکہ کی تھپکی بھی حاصل ہوئی ہو گی۔ بھارت کی جانب سے مذاکرات کے جس ایجنڈے کا عندیہ دیا گیا ہے‘ اس میں بھی انسداد دہشت گردی اور ’’دراندازی‘‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جس سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہئے کہ بھارت کشمیر اور پانی کے تنازعہ پر نہیں‘ صرف انسداد دہشت گردی کے ایجنڈہ پر ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا چاہتا ہے اور اس معاملہ کو بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اس حالیہ بیان سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستانی ریاستی عناصر ملوث ہیں اور سرحد پار سے نہ صرف بھارت میں دہشت گردی کی جا رہی ہے بلکہ جعلی کرنسی نوٹ چھاپ کر بھی بھارت سمگل کئے جا رہے ہیں‘ ان کا یہ کہنا کہ جموں و کشمیر کی آزادی اور مائو نواز تحریکیں بھارت کی آزادی کیلئے خطرہ ہیں‘ یہ واضح اشارہ ہے کہ بھارت جہاد کشمیر کو بھی دہشت گردی قرار دیتا ہے اور وہ مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل کیلئے پاکستان کے ساتھ کبھی مذاکرات کی راہ پر نہیں آئیگا۔
اگر بھارت اپنی اس ہٹ دھرمی کی موجودگی میں ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا خواہاں ہے جسے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنی سفارتی فتح قرار دے رہے ہیں اور مذاکرات کے طریق کار پر بھی اتفاق رائے پیدا ہونے کے داعی ہیں تو اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مذاکرات ہمارے لئے سودمند ہونگے یا اسکے نتیجہ میںہم مزید بھارتی دبائو کے نیچے آجائیں گے۔ وزیر خارجہ کا یہ کہنا کہ مشرف دور میں کشمیر ایشو پر ہونے والی کسی پیش رفت کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اس لئے اب بھارت کے ساتھ مذاکرات وہیں سے شروع ہونگے‘ جہاں سے ٹوٹے تھے‘ درحقیقت مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا ہے‘ جس کیلئے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مشرف دور میں بھارت کے ساتھ خفیہ یا باضابطہ مذاکرات کا جو بھی سلسلہ شروع ہوا‘ کشمیر اسکے ایجنڈے پر نہیں تھا‘ اس لئے یہ مذاکرات جن ایشوز پر شروع ہوئے اور ٹوٹے اب وہیں سے بحال ہونگے۔ سابق سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان کو بھارت کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی کیلئے غالباً اسی مقصد کے تحت پاکستان کا نمائندہ مقرر کیا گیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے مشرف کے طے کردہ ایجنڈے کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں جبکہ وزیر خارجہ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ مشرف کے مذاکرات کے ایجنڈے میں کشمیر کا کہیں تذکرہ نہیں ملا۔
جب بھارت نے ان مذاکرات میں انسداد دہشت گردی کو مرکزی حیثیت دی ہے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی مذاکرات کے طریق کار پر اتفاق رائے کا اظہار کر رہے ہیں تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان مذاکرات کا فوکس صرف دہشت گردی اور بھارتی زبان میں دراندازی ہو گی جس پر بھارت ہم سے دہشت گردی اور دراندازی روکنے اور اس کیلئے مزید موثر اقدامات بروئے کار لانے کا تقاضہ کریگا۔ اگر یہ مذاکرات بھارت کی مرضی اور منشاء کیمطابق نتیجہ خیز ہوتے ہیں تو یہ صورتحال ہماری جانب سے نہ صرف کشمیر پر اپنے دیرینہ اور اصولی مؤقف سے دستکش ہونے کے مترادف ہو گی بلکہ اس سے جہاد کشمیر کو دہشتگردی قرار دلانے کی بھارتی سازش بھی کامیاب ہو جائیگی‘ اس لئے قوم اپنے حکمرانوں سے بھارت کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا پس منظر اور اسکی تفصیلات بتانے کا تقاضہ کرنے میں حق بجانب ہے۔
اس وقت جبکہ ہمارا یہ مکار دشمن اپنے جنگی جنوں میں ہماری سالمیت کیخلاف گھنائونی سازشوں اور اپنی جنگی تیاریوں اور دفاعی حصار مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں مصروف ہے‘ جس کی بنیاد پر وہ ہمیں گیدڑ بھبکیاں بھی لگا رہا ہے‘ اب اس نے تین ہزار کلو میٹر تک مار کرنیوالے اگنی میزائل کا تجربہ بھی کرلیا ہے‘ جبکہ وہ ہمارے خلاف آبی دہشت گردی میں بھی مسلسل مصروف کار ہے‘ اسکے ساتھ امن کی بات کرنا اور دو طرفہ مذاکرات میں کشمیر اور پانی کے بنیادی تنازعات کو ایجنڈے کا حصہ نہ بنانا‘ اس موذی دشمن کے سامنے اپنی کمزوری کو ظاہر کرنے کے مترادف ہے۔
دراصل بھارت ہمیں مذاکرات میں الجھا کر ہماری توجہ ملک کی سرحدوں اور دفاع سے متعلق معاملات سے ہٹائے رکھنا چاہتا ہے‘ جبکہ وہ خود درپردہ بھی اور کھلے عام بھی اپنی جنگی‘ دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔ اس طرح وہ تمام محاذوں پر ہمیں کمزور بنا کر اور ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ہماری سالمیت پر اوچھا وار کرنا چاہتا ہے‘ اگر ہمارے حکمران ’’امن کی آشا‘‘ کے چکمے میں کسی خوش فہمی کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تو وہ ملکی اور قومی مفادات کے تقاضوں سے انحراف کرینگے مگر قوم انہیں وطن عزیز کو موذی دشمن کیلئے تر نوالہ بنانے کی قطعاً اجازت نہیں دیگی۔
اس تناظر میں حکومت کو بھارت کیساتھ مذاکرات سے پہلے واضح ایجنڈہ طے کرانا چاہئے اور اگر بھارت کشمیر اور پانی کے تنازعات کو ایجنڈے میں شامل کرنے پر آمادہ نہ ہو تو اس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے صاف انکار کر دیا جائے اور اس پر واضح کر دیا جائے کہ اگر اسے اور اسکے سرپرست امریکہ کو علاقائی اور عالمی امن مقصود ہے تو پھر کشمیری عوام کو یو این قراردادوں کیمطابق حق خودارادیت دے کر انکی امنگوں کیمطابق کشمیر کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا جائے‘ اگر بھارت سے مذاکرات کرنے ہیں تو کشمیر میں رائے شماری کے طریقہ کار پر ہو سکتے ہیں اور جہاں تک دہشت گردی کا معاملہ ہے‘ اس کا سب سے بڑا نشانہ ہم خود بن رہے ہیں‘ جس کے پیچھے بھارتی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے‘ اس لئے ہمارے حکمران مذاکرات کے بھارتی ٹریپ میں نہ آئیں تو یہی ملک کی سلامتی کیلئے بہتر ہے۔
پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر پھر بھی ڈرون حملے کیوں جاری ہیں؟
وفاقی وزیر دفاعی پیداوار عبدالقیوم خان جتوئی نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس ڈرون طیارے گرانے کی ٹیکنالوجی موجود ہے‘ پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو ملکی سلامتی کیلئے ڈرون طیارے مار گرانے کا فیصلہ کرینگے۔ اوچ شریف میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کا دفاع اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ دشمن میلی نظر سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔
امریکی جاسوس طیاروں کے حملہ میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں‘ امریکی حکام کے مطابق ان میں صرف 14 امریکہ کو مطلوب تھے‘ باقی جاں بحق ہونے والے معصوم بچے عورتیں اور بے گناہ افراد ہیں۔ صرف ایک آدھ آدمی کی تلاش میں پوری بستی کو تباہ کرکے رکھ دینا کہاں کی انسانیت اور انصاف ہے۔ انہی حملوں کے ردعمل میں خودکش بمبار پیدا ہوئے ہیں جس سے پورا پاکستان بدامنی ‘ آگ اور خون کی لپیٹ میں ہے۔ پہلے ڈرون حملے کے بعد اس کا بھرپور جواب دیا جاتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بش کے دور صدارت کے آخری دنوں میں قوم کو تسلی دیا کرتے تھے کہ اوبامہ کے اقتدار میں آنے کے بعد ڈرون حملے بند ہو جائیں گے لیکن اوبامہ دور میں ان حملوں میں مزید شدت پیدا ہو گئی۔ پہلے تو حکمران کچھ احتجاج بھی کرتے تھے‘ اب بالکل خاموش ہیں۔ زبان سے تو قیوم جتوئی جیسے منسٹر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر قرار دیتے ہیں‘ اندر سے شاید ان کو یقین نہیں ہے‘ تبھی ڈرون حملوں کی صلاحیت ہونے کے باوجود ان کو گرانے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی بات کرتے ہیں‘ عملی اقدامات نہیں کرتے۔ ڈرون حملوں کے خاتمے کا ایک ہی واحد اور بہترین حل پاکستان کی فضاء میں پرواز کرنیوالے ڈرون مار گرانا ہے۔ ایک ہی گرالیا گیا تو دوسرا ادھر کا رخ کرنے کی جرأت نہیں کریگا۔
جلد انصاف کیلئے ججوں کی خالی اسامیاں فوری پُر کی جائیں
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ججز کی تعیناتی آئین کیمطابق ہونی چاہئے‘ آج بھی ہم پرانی ڈگر پر چل رہے ہیں اور ماورائے آئین اقدامات کی باتیں ہوئیں تو وکلاء کی جدوجہد رائیگاں چلی جائیگی۔
انصاف کے حوالے سے سائلوں کیلئے مقدمات میں تاخیر اور کرپشن بہت بڑے مسائل ہیں‘ چیف جسٹس پاکستان عدلیہ خصوصی طور پر ماتحت عدلیہ میں کرپشن کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں اور اس حوالے سے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پشاور میں ہی وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ بعد عدلیہ میں کرپشن کرنیوالے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو‘ بہرحال چیف جسٹس کی خصوصی دلچسپی سے عدلیہ میں کرپشن ضرور ختم یا کم ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس فوری انصاف کے بھی قائل ہیں‘ اپنی حد تک وہ اس پر عمل پیرا بھی ہیں‘ لیکن عام سائل کو فائدہ تبھی ہو گا‘ جب عدالتوں میں ججوں کی تعداد ضرورت کیمطابق ہو گی ۔ لاہور ہائیکورٹ میں پچاس ججوں کی آسامیاں ہیں‘ جن میں سے آدھی سے زیادہ خالی ہیں۔ چیف جسٹس کی سفارشات گورنر کے پاس موجود ہیں‘ جن کی منظوری نہیں دی جا رہی۔ یہی صورتحال سرحد ہائیکورٹ کی بھی ہے۔ ججوں کی تقرری کا ایک آئینی طریقہ کار موجود ہے‘ اس پر اگر کوئی اختلاف موجود ہے تو ججوں کی تعیناتی لامحدود مدت کیلئے تو مؤخر نہیں کی جانی چاہئے۔ ایسے ہی اقدامات جو کسی بھی طرف سے ہوں‘ سستے اور فوری انصاف کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ حکومت کو بلاتاخیر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں ججوں کی خالی اسامیاں پر کرنی چاہئیں‘ اس سے سب سے زیادہ متاثر عام پاکستانی ہو رہے ہیں۔
برطانیہ جانیوالے طلباء کی ایئرپورٹ سے واپسی
ایک خبر کے مطابق برطانیہ نے غیرملکی طلبہ کیلئے ویزوں کا اجراء محدود کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے پاکستان سے امتیازی سلوک کرتے ہوئے اسلام آباد ایئرپورٹ سے 12 طلباء کو تعلیمی ویزے ہونے کے باوجود واپس بھیج دیا۔ تعلیمی ویزا جاری کرنے سے قبل دوسرے ممالک مکمل چھان بین کرتے ہیں‘ امریکہ اور یورپی ممالک تو خصوصی طور پر سکروٹنی کے نام پر بال کی کھال تک اتارنے پر اتر آتے ہیں۔ اصولی طور پر ویزا کے اجراء کے بعد طلباء کیلئے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے‘ اگر پھر بھی برطانیہ کو کوئی تحفظات تھے تو ایئرپورٹ پر طلباء کو روکنے کیساتھ ہی ان سے وصول شدہ رقم بھی بمعہ معاوضہ ٹکٹ واپس کر دینی چاہئے تھی۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ انکی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرے‘ لیکن آجکل برطانیہ اور امریکہ میں مسلمانوں خصوصی طور پر پاکستانیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے‘ شک گزرنے پر بھی نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیکر عقوبت خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ والدین کو بچوں کا مستقبل ضرور عزیز ہے لیکن انکی جان سے زیادہ عزیز نہیں۔ حالات کی نزاکت کا خیال رکھیں اور یہیں پاکستان میں جہاں ہزاروں طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں‘ وہیں اپنی اولاد کو بھی تعلیم دلائیں۔ ساتھ ہی حکومت کو بھی ایسا اہتمام کرنا چاہئے کہ جس تعلیم کی خاطر طلباء کو امریکہ و برطانیہ جانا پڑتا ہے‘ وہ ان کو یہیں پاکستان میں دستیاب ہو۔ چین کو بھی ایسے مسائل کا سامنا تھا‘ اس نے دوسرے ممالک سے پروفیسرز کی خدمات حاصل کیں اور اعلیٰ تعلیم کا بدوبست اپنے ہاں کر دیا جس کی خاطر اسکے طلباء کو دوسرے ممالک جانا پڑتا تھا‘ پاکستان میں بھی اعلیٰ ماہرین تعلیم موجود ہیں‘ اگر کچھ دوسرے ممالک سے بھی منگوانا پڑتے ہیں تو یہ خسارے کا نہیں‘ منافع کا سودا ہے۔ یہ تعلیم سستی بھی پڑیگی اور وہ طلباء بھی مستفید ہو سکیں گے جو دوسرے ممالک جا کر تعلیم حاصل کرنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter