بھارت کی جانب سے پاکستان کی زبردست دفاعی تیاریوں کا اعتراف اور ہماری سلامتی کے تقاضے .... مکار دشمن سے کسی خیر سگالی کی توقع ہرگز نہ رکھیں

ـ 9 دسمبر ، 2011
بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ 26 نومبر کے ممبئی حملوں پر ہماری جوابی کارروائی کے امکان پر پاکستان نے اپنی سرحدوں پر زبردست دفاعی تیاریاں کرلی تھیں اور اپنی دفاعی تنصیبات کی دھڑا دھڑ تعمیر شروع کر دی تھی جن میں بنکرز‘ اگلی چوکیوں اور آبزرویشن کے ٹاورز کی تعمیر بھی شامل ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے اعداد و شمار کے ساتھ پاکستان کی دفاعی تیاریوں کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے 2007ءمیں 63 اور 2008ءمیں 85 بنکر تعمیر کئے جبکہ پاکستان نے صرف 2009ءمیں 133 اور پھر 2010ءمیں 159 بنکر تعمیر کئے اور رواں سال بھی اکتوبر کے آخر تک پاکستان نے مزید 119 بنکر تعمیر کرلئے ہیں۔ بھارتی حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے 2009ءمیں آبزرویشن ٹاورز کی تعمیر دو گنا کردی جبکہ 2008ءمیں پاکستان نے مزید 24 آبزرویشن ٹاور تعمیر کئے تھے۔ اسی طرح پاکستان نے اگلی چوکیوں کی تعداد 2007ءمیں 34 سے بڑھا کر 54 اور 2009ءمیں 67 کردی تھی۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس خطے میں بھارت ہی ہمارا اصل اور بڑا دشمن ہے جس نے تشکیل پاکستان کے وقت سے ہی اسے آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا۔ وہ نہ صرف پاکستان کی سالمیت کےخلاف جارحانہ عزائم رکھتے ہوئے اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہے بلکہ پاکستان پر تین جنگیں مسلط کرکے اپنے مکروہ عزائم کا عملی مظاہرہ بھی کر چکا ہے۔ 1971ءکی جنگ میں تو اس نے ایک گھناﺅنی سازش کے تحت اپنی تخلیق ”مکتی باہنی“ کے ذریعے اس ملک خداداد کو دولخت بھی کر دیا اور باقیماندہ پاکستان کو ہڑپ کرنے کی نیت سے ایٹمی صلاحیت بھی حاصل کرلی اور 1974ءمیں ایٹمی دھماکہ کرکے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کا پیغام بھی پہنچا دیا۔ اس صورتحال میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے سوا اور کیا چارہ کار تھا جبکہ ملک کی سالمیت اور سرحدوں کا دفاع ہی حکومتی اور عسکری قیادتوں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس تناظر میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھارتی جارحانہ عزائم کا توڑ کرنے کیلئے 1974ءمیں ہی پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا اور نوجوان سائنس دان ڈاکٹر اے کیو خان کو ہالینڈ سے بلوا کر انہیں پاکستان کے ایٹمی پراجیکٹ کی ذمہ داریاں سونپ دیں اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ ان کا یہ اعلان بھی پاکستان کے دفاعی نکتہ نظر سے خاصہ موثر ثابت ہوا کہ کشمیر کی آزادی کیلئے ہم بھارت سے ہزار سال تک بھی جنگ لڑنے کو تیار ہیں۔
بھارت جیسے کمینے اور مکار دشمن کی سازشوں اور توسیع پسندانہ عزائم کا توڑ کرنے کیلئے حقیقی میدان جنگ کے ساتھ ساتھ اس سے نفسیاتی جنگ جیتنا بھی ضروری ہوتا ہے چنانچہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی بہترین حکمت عملی کے باعث پاکستان کو بھارت پر نفسیاتی برتری بھی حاصل ہوئی اور جنرل ضیاءالحق کے دور میں جب بھارت پاکستان پر نئی جنگ مسلط کرنے کی تیاری مکمل کئے بیٹھا تھا‘ جنرل ضیاءنے کرکٹ ڈپلومیسی کے تحت اچانک بھارت کا دورہ کرکے اس وقت کے وزیراعظم راجیوگاندھی کے کان میں سرگوشی کی کہ ہم ایٹم بم بنا چکے ہیں اس لئے ہم پر جنگ مسلط کرنے کا انجام سوچ لیں۔ اس سرگوشی سے بھارت پر اتنا لرزہ طاری ہوا کہ پاکستان کیخلاف اسکے سارے جنگی عزائم جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ اسی طرح جب مئی 1998ءمیں بھارت نے بدمست ہو کر پھر تین ایٹمی دھماکے کئے اور ساتھ ہی پاکستان کو للکارے مارنا شروع کر دیئے تو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے قومی جذبات اور امنگوں کی پاسداری کرتے ہوئے 28 مئی کو چاغی کی پہاڑیوں میں بھارت کے تین ایٹمی دھماکوں کے جواب میں یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کرکے بدمست بھارت کا نشہ ہرن کردیا۔
ہماری بہترین دفاعی حکمت عملی کے باعث اگرچہ بھارت ہم پر باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی اب تک جرات نہیں کر سکا تاہم اسکے جارحانہ‘ توسیع پسندانہ عزائم میں کوئی کمی نہیں آئی اور امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ روس اور دوسرے ممالک سے ایٹمی اور دفاعی معاہدے کرکے وہ انکی معاونت سے جدید ترین اسلحہ اور جنگی ساز و سامان کے ڈھیر لگا چکا ہے اور دفاعی ماہرین کے بقول اس وقت بھارت کے پاس پاکستان سے چار گنا زیادہ جنگی ساز و سامان اور جدید اسلحہ موجود ہے جس کی وہ گاہے بگاہے نمائش بھی کرتا رہتا ہے اور اس وقت راجستھان میں پاکستان کی سرحد کے قریب اسکی جنگی مشقیں بھی جاری ہیں جس کا مقصد پاکستان کو بھارتی برتری کا احساس دلانے کے سوا اور کچھ نہیں جبکہ چین بھی بھارت کے جارحانہ توسیع پسندانہ عزائم سے خطرہ محسوس کر رہا ہے۔ آج اگر بھارتی فوجیں مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے متوالے نہتے کشمیری عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہیں جس کی کشمیری حریت قیادت نشاندہی کرتے ہوئے پوری دنیا کی توجہ اس بھارتی سفاکی کی جانب مبذول کرا رہی ہے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو ختم کرنے کے مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے اس نے کیا کیا جنگی تیاریاں نہیں کر رکھی ہونگی۔ اس صورتحال میں اگر ایٹمی قوت کی بنیاد پر پاکستان کو بھارت پر نفسیاتی برتری حاصل نہ ہو تو وہ ممبئی حملے ہی نہیں‘ کسی بھی معمولی واقعہ کو جواز بنا کر پاکستان پر چڑھائی کر دے جبکہ اسکی جانب سے پاکستان کی سالمیت کو ہمہ وقت خطرات لاحق ہیں۔ بالخصوص موجودہ صورتحال میں جبکہ امریکہ بھی ہماری سالمیت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے اور نیٹو ہیلی کاپٹروں کی مہمند ایجنسی والی جارحیت کیخلاف پاکستان کی حکومتی اور عسکری قیادتوں کے سخت ردعمل پر دفاعی پوزیشن اختیار کرکے بھی پاکستان کو مہمند ایجنسی جیسے حملے کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں تعاون جاری رکھنے کا تقاضہ کر رہا ہے‘ بھارت بھی ہماری کسی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کیلئے موقع کی تاک میں بیٹھا ہے چنانچہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں سرحدوں کے دفاع کے تقاضوں کے مطابق اضافہ کیا ہے تو اس کیلئے بھارت نے ہی اپنے جارحانہ عزائم کا بار بار اظہار اور عملی مظاہرہ کرکے پاکستان کو اپنے دفاع کے تمام وسائل اور ذرائع بروئے کار لانے پر مجبور کیا ہے۔
بھارت کو اگر پاکستان کی دفاعی تیاریوں کا احساس ہے تو اسے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کی خاطر اپنے جارحانہ عزائم سے خود ہی باز آجانا چاہیے اور کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کو یو این قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرکے خطے میں امن و آشتی کی بنیاد رکھنی چاہیے اور اچھا ہمسایہ ہونے کا ثبوت فراہم کرنا چاہیے۔ اگر بھارت اپنے جارحانہ توسیع پسندانہ عزائم سے باز آجائے تو دونوں جانب کے کثیر دفاعی اخراجات عوام کی ترقی و خوشحالی کےلئے بروئے کار لائے جا سکتے ہیں مگر مکار ہندو بینئے سے ایسی خیرسگالی کی کبھی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ پاکستان کی دفاعی تیاریوں کے بارے میں بھارتی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ سے تو یہی منکشف ہوتا ہے کہ بھارت کو ہماری دفاعی تیاریوں کی جزئیات تک کا علم ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کر چکا ہو گا۔ یہ صورتحال ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کیلئے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کیونکہ بھارت کو سرحدوں کے قریب پاکستان کی دفاعی تیاریوں کے ہر پہلو کا علم ہے تو کل کو وہ ہماری ایٹمی تنصیبات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کر سکتا ہے جو امریکہ بھارت دونوں کا مشترکہ ایجنڈہ ہے۔ اس صورتحال میں بھارتی سازشوں کا موثر توڑ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی افواج کو ہمہ وقت مستعد و چوکس رکھنے کی بھی ضرورت ہے چنانچہ دفاعی حکمت عملی کے تحت بہتر یہی ہے کہ امریکی مفادات کی جنگ میں بروئے کار لائی جانیوالی تمام افواج پاکستان کو اس جنگ سے مستقل طور پر نکال کر پاکستان بھارت اور پاکستان افغانستان سرحدوں پر تعینات کر دیا جائے تاکہ دشمن کو کسی بھی جانب سے ملک کی سالمیت پر وار کرنے کا موقع نہ مل سکے۔
صدر زرداری کی علالت حکومتی ترجمانوں نے کنفیوژن پیدا کی
صدر آصف علی زرداری کی علالت اور علاج کےلئے دبئی جانے کی خبروں سے ملک میں پھیلی ہوئی افواہوں پر بات کرتے ہوئے سابق وزیر قانون اور اہم کیسوں میں حکومتی وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے اپنی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ افواہیں ناکام نجومیوں کا ظالمانہ مذاق ہے، آئین کو توڑنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو گی، پاکستان میں بنگلہ دیش ماڈل نہیں چلے گا۔ حکومت کو ایک دن بھی مینڈیٹ کےمطابق کام نہیں کرنے دیا گیا۔ ایوان صدر کی طرف سے عاشورہ کے بعد صدر کے پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا اعلان کیا گیا تھا۔ سیاسی حلقے قبل از وقت خطاب کو میمو سکینڈل اور این۔ آر۔ او فیصلے کے تناظر میں دیکھ رہے تھے کہ اچانک صدر کی علالت کی خبر آ گئی۔ بیماری کا کوئی وقت مقرر ہے نہ قدرت کے کاموں میں کسی کو استثنیٰ حاصل۔ پھر مریض کی مرضی کہ جہاں چاہے علاج کرائے۔ صدر زرداری کو دبئی کا امریکی ہسپتال اچھا لگا، جہاں وہ چھ سال پہلے ہارٹ اٹیک کے بعد جا چکے تھے‘ وہ وہاں چلے گئے۔ انکی روانگی پر پاکستان میں افواہوں کا جو طومار بندھا اس میں کوئی اور نہیں خود صدر زرداری کے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار قسم کے دوست شامل ہیں جو خود کو حکومتی ترجمان ظاہر کرکے بغیر تصدیق کے اپنی اپنی ہانکتے رہے۔ کسی نے کہا وہ صحت یاب ہیں، انکے معمول کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ کسی نے دل کے دورے کی بات کی کسی نے کہا علاج کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کو ملنے گئے ہیں۔ قصہ مختصر جتنے خوشامدی اتنی باتیں۔ پھر بلاول بھٹو کی زیر صدارت پارٹی اجلاس اور ان سے وزیر اعظم گیلانی کی ملاقات نے معاملات کو مزید مشکوک بنا دیا۔ قبل ازیں صدر زرداری جب بھی طویل دورے پرملک سے باہر گئے پاکستان میں سرکاری معاملات معمول کےمطابق چلتے رہتے تھے، ضرورت تھی کہ پہلے روز ہی کنفیوژن کو دور کیا جاتا لیکن ایک مزید ترجمان بابر اعوان نے میڈیا پر آ کر اس میں مزید اضافہ کر دیا۔ ان کی باتوں سے نظر آتا ہے کہ شاید حکومت کی کہانی ختم ہونے کو ہے۔ آخر اس واویلے کا کیا مقصد کہ حکومت کو ایک دن بھی مینڈیٹ کےمطابق کام نہیں کرنے دیا گیا۔ کنفیوژن کے خاتمے اور افواہوں سے بچنے کی لئے ضروری ہے کہ ایوان صدر کا ترجمان زرداری صاحب کی علالت صحت یابی‘ ممکنہ واپسی یا دیگر معاملات پر باضابطہ بیان جاری کرے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار خاموشی اختیار کرتے تو افواہیں پھیلتیں نہ صورتحال اس حد تک مخدوش اور کنفیوژ ہوتی۔
نصابی کتاب میں قائد اعظم کے نکات میں تحریف کرنیوالوں کو سزا دی جائے
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے آٹھویں جماعت کی کتاب معاشرتی علوم میں قائد اعظم کے 14 نکات میں سے 12ویں نکتہ کو مختصر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ مسلمانوں کو ہر قسم کا مذہبی و ثقافتی تحفظ دیا جائے جبکہ 12 واں نکتہ مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان مذہب اور عائلی قوانین پر مشتمل تھا۔ محکمہ تعلیم نے امریکی دباﺅ پر پہلے نصاب تعلیم سے جہاد کی آیات کو نکالا، اب قائد اعظم کے الفاظ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ 14نکات میں کمی بیشی کرے، نوجوان نسل کے ذہنوں میں الجھاﺅ پیدا کرنے کیلئے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حکومت سے لیکر عام شہری تک ہر ایک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ قائد و اقبال کے فرمودات اقوال مشن اور فکر کو نسل نو تک پہنچائے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے۔ یوم قائد پر بڑی تقریبات نظریہ کا انعقاد پاکستان کے تحفظ اور کارکنان تحریک پاکستان کی حوصلہ افزائی کیلئے کیا گیا۔ اب تو ایوان قائد اعظم کی تعمیر کا بیڑا بھی نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے اٹھا لیا ہے۔
48کنال پر محیط ایوان قائد اعظم جب تکمیل کو پہنچے گا تو انشاءاللہ قائد کے فرمودات کی حفاظت کا ذمہ اٹھا لے گا، ایوان قائد اعظم قیام پاکستان کی تاریخ اور اس کے مقاصد کے حوالے سے ایک قومی عمارت ہو گی جس میں ایک ہزار سے زائد یادگار تاریخی تصاویر پر مشتمل ”قائد اعظم تصویری گیلری“ ہو گی۔ اسکے علاوہ پاکستان کی ترقی، تاریخ، دو قومی نظریہ اور تاریخی دستاویز سے متعلق الگ الگ گیلریز ہوں گی۔ ایک آڈیٹوریم ہو گا جس میں ایک ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی، اساتذہ، طلبائ، صحافیوں، قانون ساز اداروں کے ارکان ایوان صنعت و تجارت اور دوسری تنظیموں کیلئے بین الصوبائی تربیتی ورکشاپ منعقد ہوں گی، جس میں ”قائد اور اقبال“ کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر تربیت کی جائےگی، پنجاب اور وفاق کی حکومت نے اس منصوبے میں حوصلہ افزا فنڈ مہیا کئے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ مخیر خواتین و حضرات سمیت ہر صوبائی حکومت بھی مکمل سرپرستی کرے تاکہ اس منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ قائد اعظم کے نکات میں 12 واں نکتہ کس نے مختصر کیا، حکومت پنجاب اس سلسلے میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ ہو۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں