صدر زرداری کا دورۂ فرانس و برطانیہ، کیا کھویا کیا پایا؟.... میڈیا کے کان مروڑنے کی بجائے اپنی اصلاح کریں
ـ 9 اگست ، 2010
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک صدی کے دوران اتنی شدید بارشیں اور سیلاب نہیں آیا، اگر مجھے پتہ ہوتا کہ سیلاب سے اتنی تباہی آئیگی تو میں فرانس اور برطانیہ کے دورے پر نہ آتا اور ملک میں رہ کر متاثرین کی بحالی کیلئے کردار ادا کرتا۔ گزشتہ روز برطانیہ کے شہر برمنگھم میں پیپلز پارٹی کے کنونشن سے خطاب اور ایک انٹرویو کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے دوران انہیں دہشت گردی کیخلاف پاکستان کے کردار کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کے بقول ٹی وی چینلز اور اخباری بیانات کی سرخیوں پر سیاست نہیں چلتی۔ وہ سیاسی اداکاروں سے نہیں ڈرتے۔ پیپلز پارٹی کے تین چیئرپرسن شہید ہوئے ہیں۔ ان میں وہ بیگم نصرت بھٹو کو بھی شہید ہی سمجھتے ہیں۔ ان شہادتوں کے باوجود انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کا چیئرمین بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو، شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کے بعد اب ان کی قبر بھی گڑھی خدا بخش میں ہی ہوگی۔ ہمیں جینا بھی آتا ہے اور مرنا بھی۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کی خاطر نہیں، اپنی انا اور اصولوں کی خاطر جیل کاٹی ہے اور 12 برس ڈکٹیٹر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جئے بھٹو کہا ہے۔ اگر ہم اپنے بھائیوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کمزور ہیں۔ انہوں نے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے بلاول اور بختاور بھٹو زرداری کی جانب سے 20، 20 لاکھ اور اپنی جانب سے 10 لاکھ روپے صدارتی ریلیف فنڈ میں جمع کرانے کا اعلان کیا۔ برمنگھم میں انہیں پیپلز پارٹی ورکرز کنونشن میں اس وقت بدمزگی کا سامنا کرنا پڑا جب اگلی نشستوں میں سے ایک بزرگ شخص نے اپنے دونوں جوتے ان کی جانب اچھال دئیے جبکہ اس تقریب کے دوران کنونشن ہال کے اندر اور باہر انکے خلاف نعرے بازی اور ان کی برطانیہ آمد کے سلسلہ میں احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔
جس وقت صدر زرداری کے فرانس اور برطانیہ کے دورے کا اعلان ہوا اس وقت ملک میں مون سون کی شدید بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں سے تباہ کاریوں کا عمل شروع ہوچکا تھا اور محکمہ موسمیات اور آبی ماہرین کی جانب سے سیلاب کی مزید اور بڑی تباہ کاریوں کی پیشگی اطلاع دی جا رہی تھی۔ اسی بنیاد پر ان کی بیرونی دورے پر روانگی سے قبل ہی مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں اپنا دورہ منسوخ کرنے اور سیلاب زدگان کی ڈھارس بندھانے کیلئے ان کے درمیان رہنے کے مشورے دینے کا عمل شروع ہوگیا تھا جبکہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے علاوہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے اپنے دورہ بھارت کے دوران براہ راست پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کرنے اور رعونت بھرے لہجے میں پاکستان کو وارننگ دینے کے معاملہ نے بھی بالخصوص صدر کے دورہ برطانیہ کے فیصلہ پر تنقید کے دروازے کھولے جس میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے باور کرایا کہ وزیراعظم کیمرون پاکستان کے بارے میں اپنا بیان واپس نہیں لیں گے۔
اس صورتحال میں دانشمندی کا یہی تقاضہ تھا کہ صدر زرداری پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا جواز پیش کرکے فرانس اور برطانیہ کا دورہ منسوخ کردیتے جس سے سفارتی آداب پر بھی کوئی زد نہ پڑتی مگر انہوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں اور برطانوی وزیراعظم کے طرزعمل سے پاکستان کی ہونیوالی سبکی سے بھی پہلوتہی کرتے ہوئے اپنے بیٹے بلاول کی سیاسی رونمائی کی خاطر فرانس اور برطانیہ کے دورے پر جانا ضروری سمجھا۔ جس وقت وہ بیرونی دورے پر روانہ ہوئے، خیبر پی کے کا 90 فیصد علاقہ سیلاب میں ڈوب چکا تھا۔ جنوبی پنجاب بھی سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں تھا اور سیلابی ریلا سندھ کی جانب بڑھ رہا تھا اس لئے یہ کہنا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے کہ انہیں سیلاب سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کا علم ہوتا تو وہ فرانس اور برطانیہ کے دورے کا کبھی پروگرام نہ بناتے جبکہ ان کے پارٹی عہدیدار اور خود وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تو انکے بیرونی دورے کے حق میں دلائل دیتے رہے ہیں جس سے عام فہم آدمی کو بھی سمجھ آجاتی ہے کہ ان کی اوّلین ترجیح سیلاب زدگان کی امداد کیلئے اپنا کردار ادا کرنا نہیں بلکہ ملک سے باہر جانا ہی تھا اس لئے اگر انکے بیرونی دورے کے حوالے سے اندرون اور بیرون ملک انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اس پر انہیں اور حکمران پیپلز پارٹی کو خفگی کا اظہار کرنے اور میڈیا کے کان مروڑنے کے بجائے اپنی صفیں درست کرنی چاہئیں اور ملکی و قومی مفادات کے تقاضوں کے مطابق اپنی سیاسی ترجیحات متعین کرنی چاہئیں۔
صدر مملکت بہرصورت وفاق کی علامت ہیں جنہیں ہر صورت ملکی و قومی مفادات کی پاسداری کرنی ہے اور اقوام عالم میں اپنے ملک کی سربلندی کیلئے کردار ادا کرنا ہے۔ اگر وہ مصیبت میں گھرِی قوم کو تنہا چھوڑ کر اور ملک کی آزادی و خودمختاری کے تقاضوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے محض اپنے خاندانی ذاتی مفادات کی خاطر بیرونی دورے کے شیڈول میں تبدیلی کے بھی روادار نہیں ہوں گے تو ملکی اور قومی مفادات کی بات کرتے ہوئے انکے اس کردار کو کیسے نظرانداز کیا جاسکے گا۔ چنانچہ اسی پس منظر میں انہیں ملک کے اندر ہی نہیں، ملک سے باہر بھی کڑی تنقید کا اور برمنگھم میں انہیں اپنی ہی پارٹی کے کنونشن میں ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر بدمزگی کا یہ واقعہ نہ ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا کیونکہ جناب آصف علی زرداری بہرصورت صدر مملکت ہیں جن کے بیرونی دورے کے موقع پر انکے ساتھ ہونیوالے ’’حسن سلوک‘‘ سے عالمی برادری میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے مگر بدقسمتی سے اس جگ ہنسائی کا اہتمام بھی خود ہی کرایا گیا ہے۔ اگرچہ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر برمنگھم کنونشن میں صدر زرداری کی جانب جوتے پھینکنے کے واقعہ کو من گھڑت قرار دے رہے ہیں مگر ان کے اکیلے کی جانب سے لاعلمی کا اظہار وقوعہ کے نہ ہونے کو تو ثابت نہیں کرسکتا جبکہ کنونشن ہال کے اندر اور باہر صدر زرداری کیخلاف فلک شگاف نعرہ بازی بھی ہورہی تھی۔ میڈیا کے دو گروپوں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ برمنگھم کنونشن میں صدر زرداری کے ساتھ پیش آنیوالے ناگوار واقعہ کی خبر دینے کی پاداش میں کیبل آپریٹرز کو انکے ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ابھی تک ان ٹی وی چینلوں کی کہیں سے بھی بندش کی اطلاع موجود نہیں ہوئی، پھر بھی اگر حکومت کی جانب سے اس بارے میں کیبل آپریٹرز کو کسی قسم کی ہدایات دی گئی ہیں تو یہ انتہائی افسوسناک اور آزادی اظہار کا بنیادی حق سلب کرنے کے مترادف ہے اس لئے حکومت کو ایسا کوئی قدم اٹھانے سے گریز کرنا چاہئے جس سے میڈیا کی آزادی پر کسی قسم کی زد پڑتی ہو۔
اسکے ساتھ ساتھ حکمران پیپلز پارٹی اور خود صدر زرداری سنجیدگی اور ٹھنڈے دل کے ساتھ اپنے فرانس اور برطانیہ کے دورے کا جائزہ لیں اور خود سوچیں کہ انہوں نے اس دورے سے کیا کھویا اور کیا پایا؟ انکے اس دورے سے پاکستان کی نیک نامی ہوئی ہے یا اسکی ہزیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور جن مقاصد کی بنیاد پر وہ اس دورے پر نکلے تھے آیا وہ مقاصد پورے ہوپائے ہیں یا نہیں، اگر وہ دیانتداری اور غیر جانبداری سے جائزہ لیں گے تو انہیں جواب نفی میں ہی ملے گا۔ اگر انہوں نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے موقف پر قائل کرلیا ہوتا تو مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کے بارے میں کیمرون کے توہین آمیز ریمارکس کی واپسی کا تذکرہ ضرور شامل ہوتا۔ اگر انہیں ٹھینگا دکھایا گیا ہے تو انکے اس دورے کے سوائے اسکے اور کیا مقاصد حاصل ہوئے ہیں کہ وہ اپنے اس دورے کے حوالے سے ہمہ وقت تنقید کی زد میں رہے اور اپنے بیٹے بلاول کی سیاسی رونمائی تک نہ کراسکے جو انکے دورے کا مقصدِ اوّل تھا۔ انہیں بہرصورت اب ہی ملک واپس آکر سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہونیوالے ملک کے کروڑوں باشندوں کی ڈھارس بندھانی چاہئے اور ان کی بحالی کیلئے ریاستی، حکومتی سرکاری مشینری کو متحرک کرنا چاہئے اور تباہ حال بھائیوں کی امداد کیلئے خود کو ایثار و قربانی کی مثال بنانا چاہئے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں تو ابھی نہ صرف جاری ہیں بلکہ ان میں اضافہ بھی ہورہا ہے اور اب سندھ اس کی زیادہ لپیٹ میں ہے جبکہ ہمارے شاطر دشمن بھارت کی سازش کے تحت مزید سیلاب آنے کا خطرہ بھی موجود ہے کیونکہ موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارت دریائے راوی میں بھی پانی چھوڑ کر لاہور کو ڈبونے کی بھی منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے۔ صدر مملکت اور وفاقی حکومت کو خطرے کا ادراک کرتے ہوئے اس مکروہ بھارتی سازش کا بروقت توڑ کرنے کی حکمت عملی طے کرنی چاہئے اور اپنی تمام توجہ اور توانائیاں سیلاب سے تباہ ہونیوالے علاقوں کی بحالی اور تعمیر پر صرف کرنی چاہئیں ورنہ سیلاب پر بھی سیاست کرنے کا موقع تو حکومت خود ہی فراہم کررہی ہے۔
کراچی میں امن و امان ضابطہ اخلاق کی تیاری
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ کراچی میں فوج بلانے کی ضرورت نہیں ہم نے سٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر امن قائم کرنے کیلئے ایک منصوبہ تیار کرلیا ہے جس پر وفاقی وزیر داخلہ عملدرآمد کرائیں گے۔
کراچی میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے اتحادی جماعتوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی ایم کیو ایم اور اے این پی کے سینئر راہنمائوں نے دس نکاتی ضابطۂ اخلاق تیار کیا ہے جسے وزیراعظم کی پریس کانفرنس میں جاری کیا گیا جس پر تینوں سیاسی جماعتوں کے سینئر لیڈروں اور وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے دستخط کئے ہیں۔ضابطۂ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کیلئے لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا اور ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کی جائے گی تینوں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے اپنے متعلقہ علاقوں میں سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کو آرڈی نیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔
کراچی… منی پاکستان اور پاکستان کی اقتصادی شہہ رگ ہے۔ کراچی میں امن و امان پور ے ملک کی سلامتی کا ضامن ہے اور کراچی میں جو بھی لوگ رہتے ہیں وہ کراچی کے امن و امان کے بھی ذمہ دار ہیں۔ اگرچہ کراچی میں موجود تین بڑی اور حکومتی اتحادی پارٹیوں نے اس امن معاہدہ کے ضابطۂ اخلاق پر دستخط کئے ہیں۔ زیادہ مناسب یہ تھا کہ اس سلسلہ میں کراچی کی مذہبی تنظیموں اور ایسی جماعتوں جن کی اسمبلی میں نمائندگی نہیں ہے انہیں بھی شامل کرلیاجاتا اور انہیں بھی اس ضابطۂ اخلاق کا پابند بنا لیاجاتا تو مقامی سطح پر یہ ساری تنظیمیں اس کی پابند ہوجاتیں اور اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی پیدا ہوجاتی۔ پاکستان کا ہر فرد کراچی میں امن و امان کو مضبوط تر دیکھنا چاہتا ہے۔ اب تک جو ہوچکا سو ہوچکا اب اگر فریقین کراچی میں امن کی بحالی پر متفق ہوئے ہیں تو محض زبانی جمع خرچ تک ہی محدود نہ رہیں ، ضابطۂ اخلاق کو خلوص نیت کے ساتھ عملی جامہ بھی پہنائیں اور ایک دوسرے کے بارے میں تمام کدورتیں دل سے نکال دیں تاکہ کراچی فی الواقع دوبارہ امن و آشتی کا گہوارہ بن سکے۔
انہیں کڑی سزائیں دیں
دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق افغان شہریوں سمیت 90 ہزار غیر ملکیوں کوشناختی کارڈ جاری کرنے والے 153 ملازمین کے خلاف نادرا نے مقدمات درج کرا دئیے ہیں وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کو جاری 90 ہزار شناختی کارڈ اور پاسپورٹس کو فوری طورپر منسوخ کردیا گیا ہے اور تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔
شناختی کارڈز اور پاسپورٹ کا اجراء ایک بہت ہی حساس مسئلہ ہے دنیا کے کسی بھی ملک میں شناختی کارڈ بنوانے کا عمل بہت ہی سخت اورشفاف بنایا جاتا ہے اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ نہ بن سکیں۔ اب ہمارے ہاں جو لوگ یہ جرم کرتے پکڑے گئے ہیں۔انکے خلاف صرف مقدمات کا اندراج ہی کافی نہیں ہے۔ انکی املاک اور بنک اکائونٹس کو بھی چیک کیاجائے۔ناجائز کمائی گئی دولت کو بحقِ سرکار ضبط کرنے کے بعد ان لوگوں کے خلاف ملک دشمنی کے قوانین کے تحت کارروائی کی جائے اور جن لوگوں نے یہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹس حاصل کئے ہیں۔ ان افراد میں سے جو بھی گرفتار ہوسکتے ہیں انہیں انکے متعلقہ ممالک بھجوانے سے قبل اس جعلسازی کی سزا دی جائے جو انکی پاکستان میں جائیداد اور بنک اکائونٹس کی ضبطی کی صورت میں ہونی چاہئے اور ایسے لوگوں کاداخلہ پاکستان میں ہمیشہ کیلئے ممنوع قراردیاجائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں