امریکی جرنیل کا بیان اور ہماری سلامتی کے تقاضے

ـ 8 مارچ ، 2010
امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ پاکستان نے انتہاء پسندی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے تاہم اس کے باوجود ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسلام آباد کو امریکی اطمینان کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتے۔ گزشتہ روز ایک سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتہاء پسندی پاکستان کے وجود کیلئے خطرہ ہے اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فاٹا میںدیگر انتہاء پسند عناصر بھی موجود ہیں جن کے قبائلی علاقوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں تین مختلف مواقع پر ہم نے پاکستان کو تنہاء چھوڑ دیا تھا، ان کے بقول القاعدہ کو افغانستان میں دوبارہ ٹھکانہ بنانے سے روکنا پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ ہدف ہے لیکن پاکستان افغانستان میں اپنی سٹرٹیجک گہرائی چاہتا ہے اور اس حوالے سے امریکہ اور پاکستان کے مفادات مختلف ہو جاتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اس خطہ میں امریکی مفادات کی جنگ میں پاکستان کے فدویانہ کردار پر امریکی حکام کی جانب سے عدم اطمینان کا اظہار نہ کیا گیا ہو۔ امریکی ڈومور کے تقاضے امریکی مفادات کی جنگ میں ہمارے باوردی اور سول حکمرانوں کے ملکی و قومی مفادات کے منافی کردار پر عدم اطمینان ہی کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پراس خطہ میں شر وع کی گئی امریکی مفادات کی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان بھی ہمارا ہوا ہے اور دہشت گردی کا ملبہ بھی ہم پر ڈالا جا رہا ہے جس میں صرف امریکہ ہی نہیں، اس کی شہہ اور سرپرستی میں ہمارا مکار دشمن بھارت بھی ہمیں ڈکٹیٹ کرانے اور ڈومور کے تقاضے کرنے سے باز نہیں آتا اور امریکی پالیسیوں کا دم بھرنے والے ہمارے حکمرانوں نے وطن عزیز کی یہ حالت بنادی ہے کہ مسلمانوں کی لاشوں کے کشتوںکے پشتے لگانے والے مسلم کُش ظالم سربئین حکمران بھی مبینہ دہشت گردی کی جنگ میں اپنے ہی شہریوں کو مارنے اور مروانے والے ہمارے حکمرانوں کے اس کردار پر انہیں شاباش دے رہے ہیں، جبکہ ہمارا مکار دشمن بھارت تو ہمارے ساتھ امن مذاکرات کے نام سے ہی بدک جاتا ہے اور اس کا اولین تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ پہلے اپنی دھرتی پر دہشت گردی کے خاتمہ کو یقینی بنائیں، پھر ہم اس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہماری پیٹھ میں گھونپنے کیلئے اپنی آستینوں میں چھپائے ہوئے خنجر سمیت بھارت کے سکھ پردھان منتری ہمارے برادر اسلامی ملک سعودی عرب جاتے ہیں اور وہاں بھی یہی تاثر دیتے ہیں کہ بھارت میں دہشت گردی کی کارروائیاں پاکستان کی جانب سے آنے والے دہشت گردوں کے ذریعے ہو رہی ہیں جبکہ یہ حقیقت جان کر بھی کہ ہمارے اس مکار دشمن نے شروع دن سے ہمیں بطور آزاد اور خود مختار قبول نہیں کیا، وہ کشمیر پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے ہم پر تین جنگیں مسلط کر چکا ہے، ایک گھنائونی سازش کے تحت ہمارے وطن عزیز کو دولخت کرچکا ہے اور اب وہ باقیماندہ پاکستان کے بھی درپے ہے جس کی سالمیت پارہ پارہ کرنے کیلئے وہ نہ صرف اپنی جنگی دفاعی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے بلکہ ہمارے خلاف آبی دہشت گردی کا بھی مرتکب ہورہا ہے جبکہ اس کے تربیت یافتہ دہشت گرد افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہو کر یہاں دہشت و بربریت کا بازار گرم کرنے کی مذموم سازشوں میں ہمہ وقت مصروف ہیں جس کے ثبوت بھی بھارتی حکام کے حوالے کئے جا چکے ہیں، ہمارے قابلِ احترام سعودی حکمرانوں کی جانب سے مبینہ دہشت گردی کے حوالے سے یہ کہہ کر بھارتی موقف کو ہی تقویت پہنچائی گئی کہ پاکستان کے سیاستدان دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے متحد ہو جائیں اور اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دیں۔ ہمارے برادر اسلامی ملک سعودی عرب ہی نہیں پوری دنیا کو اس کا علم ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑمیںشروع کی گئی امریکی مفادات کی اس جنگ میں اب تک ہمارے شہریوں کی 30 ہزار 457 شہادتیں ہو چکی ہیں اور شہید ہونے والے ان شہریوں میں 21ہزار 672 سویلین اور 8 ہزار 785 فوجی افسران اور جوان شامل ہیں جو فوجی آپریشن، امریکی ڈرون حملوں، ان کے ردعمل میں ہونے والے خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری بدترین وارداتوں کی بھینٹ چڑھے۔ جبکہ ان شہداء سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا مستقبل بھی تاریک ہوا ہے۔ اس عظیم جانی نقصان کے علاوہ امریکی مفادات کی اس جنگ میں کم از کم 35 ارب ڈالر کا نقصان ہماری ملکی اور قومی معیشت کو برداشت کرنا پڑا ہے اور اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کا عمل رکنے کے باعث اقتصادی ترقی کا پہیہ جامد ہو چکا ہے اور ہماری معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ پھر بھی امریکہ کو ہمارے کردار پر اطمینان حاصل نہیں ہو رہا اور اس کی اختیار کی گئی ’’افپاک پالیسی‘‘ میں دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر ہماری سرزمین ہی کو ہدف بنایا گیا ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ امریکی ڈرون حملے بھی بدستور جاری ہیں جس پر ہمارے حکمرانوں کو اب رسمی احتجاج کی بھی جرأت نہیں ہو پاتی جبکہ ہماری دھرتی کو ادھیڑنے، بکھیرنے اور یہاں سے اسلام کے نام لیوائوں کو چن چن کر قابو کرنے کیلئے امریکی ایجنسیوں اور بلیک واٹر جیسی دہشت گرد نجی تنظیم نے اس وطنِ عزیز کے چپے چپے پر اپنی گھنائونی سازشوں کے جال بچھائے ہوئے ہیں۔ کراچی، پشاور، اسلام آباد، لاہور اور ملک کے دوسرے شہروں میں مسلح امریکی غنڈے دندناتے پھرتے ہیں جن کے دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں ملوث ہونے کے ثبوت بھی موجود ہیں، پھر بھی امریکی حکام اور اوبامہ انتظامیہ مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ میں ہمارے کردار سے مطمئن نہیں۔ اسے اطمینان تو اس وقت ہوگا جب اس وطنِ عزیز کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی اس کی اور اس کے حاشیہ نشین بھارت کی خواہش پوری ہوگی۔ اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے آئندہ ماہ نیویارک میں طلب کی گئی پاکستان بھارت مشترکہ میٹنگ بھی اسی سلسلہ کی کڑی نظر آتی ہے۔ جس میں پاکستان اور بھارت کے وزراء اعظم کی ملاقات کا اہتمام کیا جا رہا ہے جبکہ اس میٹنگ سے پہلے بھارت کو مبینہ دہشت گردی کا ملبہ ہم پر ڈالنے کا بھرپور موقع فراہم کرکے ایسی فضا بنائی جا رہی ہے کہ ہم مذاکرات کی میز پر بھارت کے سامنے اس کے مجرم بنا کر بٹھائے جائیں تاکہ اسے کشمیر پر اپنی ہٹ دھرمی تسلیم کرانے کا موقع مل سکے۔
ہمارے حکمرانوں کو جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے بیان کا اسی تناظر میں جائزہ لینا چاہئے اور امریکی فرنٹ لائن اتحادی بنے رہنے کی پالیسی پر نظرثانی کرکے خود کو فی الفور امریکی مفادات کی جنگ سے باہر نکال لینا چاہئے اور امریکہ بھارت کو اپنا مشترکہ دشمن سمجھتے ہوئے دفاع وطن کے تقاضے نبھانے چاہئیں، اس کیلئے ضروری ہے کہ اس ضمن میں چین کیساتھ رابطے بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہی شہریوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن فی الفور بند کرکے ان سے مذاکرات کئے جائیں اور مسلح افواج کو ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور کردیا جائے اور دونوں مکار دشمنوں کو باور کرا دیا جائے کہ دفاع وطن کیلئے ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اگر انہیں علاقائی اور عالمی امن مطلوب ہے تو وہ ہمیں اپنے ایٹمی بٹن تک ہاتھ لے جانے پر مجبور نہ کرے۔
بجلی کے نرخوں میں اضافہ… ظلم کی انتہا ہے!
نیپرا بجلی کی تیاری میں استعمال ہونے والے ایندھن کے نرخ بڑھا دئیے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ دو پیسے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ نیپرا کی طرف سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق پیداواری کمپنیوں کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں دسمبر میں 40 پیسے اور جنوری میں 62 پیسے اضافہ کیا گیا تھا۔ ایک روپیہ دو پیسے اضافہ کا اطلاق 50 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں پر نہیں ہو گا۔
رجسٹرار نیپرا سید سفیر حسین نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔ گزشتہ پانچ ماہ میں بجلی کے نرخ 37 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ بجلی کے نرخ پہلے ہی بہت زیادہ ہیں اور اس ہوش ربا اضافہ سے غریب عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ یہ فیول ایڈجسٹ منٹ کے نام پر بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہے۔ حکمرانوں کو یہ غور کرنا چاہئے کہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام میں سے چالیس فیصد سے زائد خطِ غربت کے نیچے رہ رہے ہیں۔ پاکستان میں بے روزگاری غربت اور مفلسی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ عوام بھوکے مر رہے ہیں۔ غریب عوام اپنے بچوں کو بیچ رہے ہیں۔ آٹا چینی، گھی دالیں، عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ مرغی کاگوشت انڈے تو اب صرف امراء کے میزوںکی زینت ہیں۔ غریبوں کیلئے دال ساگ کے امکانات بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر اور وزارت خزانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ڈکٹیشن لے کر اپنے ہم وطنوں کی زندگی تلخ تر کر رہے ہیں۔ پاکستان میں انرجی کا بحران مستقل طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں اڑیسہ صوبہ میں یونیورسٹی کے طلباء نے آج سے چند برس قبل کوڑا کرکٹ کو جلا کر اس سے بجلی پیدا کرنے کا تجربہ کیا۔ اسکی کامیابی کے بعد اس تجربہ کو صوبہ کے کئی شہروں میں دہرایا گیا۔ اور اب کئی صوبوں میں اسی ٹیکنالوجی کے ذریعہ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جو نہ صرف بہت کم قیمت ہے بلکہ اس کی وجہ سے شہر میں کوڑا کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر بھی ختم ہو گئے ہیں۔کیا پاکستان کی یونیورسٹیوں میں فزکس، کیمسٹری اور دیگر سائنسی علوم پڑھائے نہیں جاتے۔ ہماری یونیورسٹیوں کے طلبا یہ تجربات کیوں نہیں کرتے؟۔ پاکستان کے قومی رہنماؤں کو چاہئے کہ انرجی کے بحران کا مستقل حل تلاش کریں۔ پاکستان کے دریاؤں کو بھارت روک کر پاکستان کو بنجر اور ویران کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کو اس اقدام سے روکنا اور پاکستان میں بھاشا اور کالا باغ ڈیم سمیت بڑے بڑے ڈیم تعمیر کئے جائیں جن سے بجلی ملے گی اور زراعت کیلئے پانی کا ذخیرہ بھی ہو گا۔ حکومت کو چاہئے کہ بجلی کے نرخوں میں نئے اضافہ کا فیصلہ فی الفور واپس لے لے کیونکہ عوام کے صبر کا پیمانہ پہلے ہی لبریز ہوچکا ہے۔
پاکستانی شہریوں کے وقار میں اضافہ
فاٹا کے نو ارکان سینٹ پر مشمل وفد نے جو امریکی دعوت پر واشنگٹن گیا تھا، واشنگٹن ائرپورٹ پر سکیننگ کے توہین آمیز عمل سے گذرنے سے انکار کرتے ہوئے امریکہ کا دورہ منسوخ کر دیا اور ائرپورٹ سے ہی وطن واپس آنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے قبل برطانیہ کے مانچسٹر ائرپورٹ پر 2 پاکستانی مسلم خواتین نے بھی سکینروں کے سامنے گزرنے سے انکار کر دیا۔ دونوں خواتین اسلام آباد آ رہی تھیں۔ دونوں خواتین نے سکیننگ کرانے کی بجائے 800 پاؤنڈ ٹکٹ ضبط کرا دئیے اور بغیر سامان لئے اپنے گھر واپس چلی گئیں۔
ائرپورٹس پر باڈی سکیننگ کا قانون امریکہ برطانیہ اور چند دیگر مغربی ممالک میں نافذ کیا گیا ہے اور یہ صرف پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک کے شہریوں کیلئے ہے۔ جو کہ صرف جسمانی تلاشی کا طریقہ ہی نہیں بلکہ مذکورہ بالا ممالک کے شہریوں کی توہین و تضحیک کیلئے نافذ کیا گیا ہے۔ اگر یہ واقعی فول پروف تلاشی کا اہتمام ہوتا تو بلاامتیاز تمام مسافروں کیلئے ہوتا۔ اور اس میں کسی سے امتیازی سلوک کی گنجائش نہ پیدا کی جاتی۔ پاکستان کے 18 کروڑ عوام برطانیہ کی دو خواتین اور سینٹ آف پاکستان میں فاٹا کے نو ارکان کے جذبۂ خودداری اور غیرت کو ہدیہ تبریک اور سلام پیش کرتے ہیں۔ سینٹ کے اس وفد کے ارکان نے جو کہ امریکہ کی د عوت پر ہی امریکہ گئے تھے اس توہین آمیز عمل سے گزرنے سے انکار کرکے پاکستان کے ہر شہری کے دل کو چھو لیا ہے۔ پاکستان کے عوام ان تاریخی شخصیات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور جن لوگوں نے ملک و ملت کی سربلندی کیلئے غیرت کا مظاہرہ کیا وہ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ ان دو خواتین اور سینٹ کے نو ارکان نے غیرت حمیت کے مظاہرہ سے پاکستان اور اس کے شہریوں کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔
کرکٹ کے بعد ہاکی میں بھی میچ فکسنگ؟
ہاکی ورلڈ کپ کے پُول میچ میں جنوبی افریقہ سے بھی عبرت ناک شکست کھانے کے بعد پاکستان سیمی فائنل اور اس ٹورنامنٹ سے بھی باہر ہوگیا جبکہ آئندہ منعقد ہونیوالی ہاکی چیمئینز ٹرافی سے بھی اپنی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان ہاکی ٹیم نے خود کو دور کرلیا ہے۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم ورلڈ ہاکی کپ میں سب سے کمزور ٹیم ہے جس سے شکست کھانا پی ایچ ایف کے چیئرمین قاسم ضیاء کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
عالمی کرکٹ سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کی پے در پے ناکامیوں کے بعد قوم کو پاکستان ہاکی ٹیم سے امیدیں وابستہ تھیں کہ وہ وکٹری سٹینڈ پر پہنچ کر قومی کھیلوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی مایوسی کی فضا کو دور کرے گی مگر اس نے تو دشمن ملک بھارت میں جا کر لٰٹیا ہی ڈبو دی ہے۔ کرکٹ کے بعد ہاکی میں، جو ہمارا قومی کھیل ہے، شکستوں کے ذلت آمیز سلسلہ سے لوگوں کے ذہنوں میںبجا طور پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ یہ محض کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی ہے یا ہاکی میں بھی میچ فکسنگ کی لعنت اپنے اثرات دکھا رہی ہے۔ اگر یہ ناقص کارکردگی ہے تو کرکٹ اور ہاکی کے بزرجمہروں کو سنجیدگی سے اصلاحی اقدامات بروئے کار لانے چاہئیں اور بجائے اس کے کہ پے در پے ناکامیوں کا داغ لگوایا جائے، مناسب ہوگا کہ کچھ عرصہ کیلئے ان دونوں کھیلوں کی بساط لپیٹ دی جائے اور کرکٹ اور ہاکی کیلئے نئے قومی کھلاڑیوں کا چنائو کرکے انہیں تربیت کے سخت مراحل سے گزارا جائے اور اس کے بعد انہیں عالمی ٹورنامنٹوں میں بھجوایا جائے تاکہ کھیل کے میدان میں پاکستان کو مزید ناکامیوں اور بدنامیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter