پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے کوئٹہ میں بلوچ رہنماﺅں سے ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں نوجوانوں کو اٹھا کر غائب کیا جا رہا ہے‘ انکی مسخ شدہ نعشیں پھینکی جا رہی ہیں‘ ہم نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں سے پوچھتے ہیں کہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کے واقعات کا تدارک کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟ نواب اکبر بگتی کو جس طرح آمرانہ دور میں شہید کیا گیا‘ اس پر پیپلز پارٹی کی مرکزی اور صوبائی حکومت نے کیا اقدامات کئے؟ جب تک ان باتوں کا حساب نہیں لیا جاتا‘ بلوچستان میں قیام امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ میاں نواز شریف نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے مسئلے پر جلد اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کریگی جس میں بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی خود کرینگے۔
بلوچستان کا مسئلہ اتنا گنجلک اور پیچیدہ نہیں‘ جسے سلجھایا نہ جا سکے۔ بات اچھی منصوبہ بندی‘ نیک نیتی اور عزم و ارادے کی ہے‘ کوئی بھی مسئلہ کبھی گولی اور طاقت سے حل نہیں ہوا‘ بڑی بڑی جنگوں اور قتل و جدال کے بعد بھی بالآخر معاملات مذاکرات کی میز پر ہی طے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کیلئے تو دشمن بھی ایک میز پر آجاتے ہیں‘ بلوچستان میں بوجوہ ہتھیار اٹھانے والے تو ہمارے اپنے بھائی ہیں جن کو حکمرانوں کی بے اعتنائی اور ہر مسئلہ طاقت کے ذریعے حل کرنے کے زعم نے دلبرداشتہ کردیا۔ بدقسمتی سے آمرانہ تو آمرانہ‘ جمہوری ادوار میں بھی بلوچوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ایوب دور میں نواب نوروز خان کو قرآن کا واسطہ دیکر پہاڑوں سے اتارا گیا اور انکے بیٹوں اور ساتھیوں کو پھانسی لگا دی گئی۔ اسکے بعد سے بلوچوں کا حکمرانوں کے وعدوں‘ دعوﺅں اور قسموں پر سے اعتبار اٹھ گیا۔ اب نواز شریف قوم پرست رہنماﺅں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں‘ ماہ ڈیڑھ ماہ قبل وہ سردار عطاءاللہ مینگل سے ملے تو گزشتہ روز طلال بگتی اور دیگر رہنماﺅں سے ملاقات کرکے اپنی حد تک بلوچوں کے مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ بلوچستان میں امن کے قیام کیلئے یہ اچھی پیشرفت ہے۔
میاں نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی بات کی ہے‘ اب اسکے انعقاد میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے‘ تاخیر صوبے کے مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیگی۔ میاں نواز شریف نے بلوچ رہنماﺅں کے جس اجتماع سے خطاب کیا‘ وہیں پر نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سینیٹر ڈاکٹر مالک بلوچ اور مرکزی سینئر نائب صدر حاصل بزنجو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لگی آگ بجھانے کیلئے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی مدد درکار ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ میاں نواز شریف بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے آواز بلند کریں اور مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ ہم جمہوریت کے استحکام اور بلوچستان کے مسئلے کا مثبت حل نکالنے کیلئے ہر فورم پر ان کا ساتھ دینگے....۔ یہ امر بھی تقویت کا باعث ہے کہ بلوچ نیشنلسٹ قیادت نے بھی مجوزہ اے پی سی کے انعقاد کی حمایت کا اعلان کیا اور میاں نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
بلوچستان کے عوام ایک عرصہ سے اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ انکی محرومیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ معدنی وسائل سے مالامال اس صوبے کے عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں تک سے محروم ہیں۔ یہی بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ٹارگٹ کلنگ‘ بڑی تعداد میں نوجوانوں کا لاپتہ ہونا‘ مسخ شدہ نعشوں کا ملنا اور تعلیم و روزگار جیسی بنیادی سہولتوں کا انحراف وہ مسائل ہیں‘ جنہوں نے صوبے کی نوجوان نسل کو تقریباً بغاوت پر آمادہ کر دیا ہے جس کا فائدہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار رکھنے کی خواہشمند قوتوں بالخصوص ہمارے ازلی دشمن بھارت نے اٹھایا۔ افغانستان میں موجود بھارت کے 14قونصل خانے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی اسلحہ اور سرمایہ سے مدد کر رہے ہیں‘ جس کے ثبوت وزیراعظم اور وزیر داخلہ اٹھائے تو پھرتے ہیں لیکن کوئی عملی اقدام یا جوابی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ پہلے اقدام کے طور پر بلوچستان سے غیرملکی مداخلت ختم کرانا اشد ضروری ہے۔ یہی غیرملکی عناصر بلوچستان کے امن کو تباہی سے ہمکنار کئے ہوئے ہیں اور انہیں بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ماضی میں کی جانے والی کوششیں یا اصلاحات صرف اس وجہ سے ناکام ہوئی کہ انکے نفاذ کیلئے جس سیاسی عزم کی ضرورت ہوتی ہے‘ وہ ناپید تھا۔
سابقہ دور حکومت میں چودھری شجاعت حسین اور مشاہد حسین پر مبنی کمیٹی نے بلوچستان کی نیشنلسٹ قیادت سے مذاکرات کے بعد ایک بارہ نکاتی فارمولا سینٹ میں پیش کیا تھا‘ جو آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے‘ جسے قوم پرست قیادت کی مکمل حمایت حاصل تھی‘ مشرف کے آمرانہ خناس کی وجہ سے نہ صرف اس فارمولے کے ایک بھی پوائنٹ پر عمل درآمد نہیں کیا گیا بلکہ اکبر بگتی کے قتل جیسے بلوچوں کو مشتعل کرنے کے اقدام کا ارتکاب کیا گیا۔ موجودہ قیادت کے سربراہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد بلوچ قوم سے ماضی کی زیادتیوں کی معافی مانگی مگر بعدازاں یہ اعلان بھی کردیا کہ یہ معافی انہوں نے صدر کی حیثیت سے نہیں‘ ذاتی حیثیت سے مانگی تھی۔ بہتر تھا کہ زرداری صاحب بلوچ ہونے کے ناطے کوئٹہ میں جا بیٹھتے اور بلوچوں کے مسائل کے حل تک واپس نہ لوٹتے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آغاز حقوق بلوچستان کے نام پر ایک پیکیج کا اعلان کیا مگر اس پر بھی عمل ندارد۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کے پیش نظر بلوچستان کے عوام وفاق سے مایوس ہیں‘ جہاں تک صوبائی حکومت کا تعلق ہے‘ صوبے کے عوام اسے اپنا نمائندہ نہیں مانتے۔وہ مانیں بھی کیوں جب وزیراعلیٰ قتل و غارت پر افسوس کرنے کے بجائے آنسو پونچھنے کیلئے ٹشوﺅں کے ٹرک کی بات کرے۔
ایک اور بڑی وجہ جس نے نفرت کی فصیلیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ وہ وہاں فوج فرنٹیئر کانسٹیبلری اور سیکورٹی ایجنسیز کا بھاری تعداد میں موجود اور مقامی تنظیموں اور افراد کیخلاف کارروائی کرنا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکورٹی ایجنسیز پر جائز و ناجائز الزام تراشی کی جاتی ہے‘ وہیں ان کا کردار بلوچستان کی ترقی کیلئے بھی لائق تحسین ہے۔ پانچ ہزاربلوچ نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرنا‘ وہاں ٹریننگ اکیڈمیز کا قیام اور سڑکوں کی تعمیر ہونا یہ سب انہی دفاعی اداروں کا مرہون منت ہے۔ فوج کے سربراہ جنرل کیانی بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ ان اداروں کی وہاں موجودگی بلوچستان کے تحفظ اور ترقی کیلئے ضروری ہے تاہم مقامی بلوچ قیادت کے اس مطالبے پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وہاں غیرضروری فوجی اپریشن سے گریز کیا جائے۔ امید ہے کہ جنرل کیانی اپنے اقدامات سے بلوچوں کو مطمئن کردینگے۔
صوبے کی صورتحال مزید مخدوش اس وقت ہوئی جب جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں معروف بلوچ رہنماءنواب اکبر بگتی کو انکے ساتھیوں سمیت قتل کردیا گیا۔ بگتی قبیلہ اور دیگر سیاسی جماعتوں کا اس وقت سے مطالبہ ہے کہ فوجی آمر کیخلاف مقدمہ قائم کرکے نہ صرف اسے گرفتار کیا جائے بلکہ اسے قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ بلوچوں کو یہ گلا بھی ہے کہ انکے معدنی ذخائر سے استفادہ تو پورا ملک کرتا ہے مگر بلوچوں کو ان سے محروم رکھا گیا جس کی بدترین مثال یہ ہے کہ سوئی گیس اپنی دریافت کے چالیس سال بعد کوئٹہ میں میسر آئی اسی طرح سیندک اور ریکوڈک جیسے کھربوں ڈالر کے منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے بلوچوں سے مشاورت تک نہیں کی گئی۔
مجوزہ اے پی سی جہاں ناراض بلوچ قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر لا سکتی ہے‘ اس اے پی سی کی سفارشات حکومت کو ایک پیکیج کی صورت میں پیش کی جائیں جو پارلیمنٹ سے آسانی سے منظور ہو سکتی ہیں۔ اسکے بعد حکومت نیت نیتی سے ان کا نفاذ کرے۔ اسکے ساتھ ساتھ بلوچ رہنماءجو پاکستان میں زیر زمین ہیں‘ یا بیرون ممالک پناہ لئے ہوئے ہیں‘ ان کو غیرمشروط پر معافی دیکر صوبے میں لا کر اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ اگر بلوچستان کے مسئلے کا جلد حل دریافت نہ کیا گیا تو وہاں موجود غیرملکی عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع ملے گا جس سے کوئی بھی ناقابل تلافی نقصان ہونے کا احتمال ہے۔ جس کا وطن عزیز کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتا۔ میاں نواز شریف نے اگر بلوچوں کے مسائل حل کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے تو لازم ہے کہ اپنی پوری توجہ اس پر مرکوز کردیں اور کسی بھی مرحلے پر بلوچوں کو مایوس نہ ہونے دیں۔
سیاست دان اپنے مفاد کیلئے ماں جائی دھرتی کو تقسیم نہ کریں
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہم نئے صوبوں کے حق میں ہیں‘ نئے صوبوں کیلئے کام نہ کیا تو تاریخ معاف نہیں کریگی جبکہ آئینی اصلاحات پر تحلیل شدہ خصوصی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کیلئے قومی اسمبلی میں بحث غیرآئینی اور غیرقانونی ہے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سرائیکی صوبہ بنانے کیلئے بضد ہیں‘ لیکن اسکے ردعمل میں جو طوفان برپا ہو گا‘ جو مشکلات آئینگی‘ وہ اس سے چشم پوشی کئے ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز بھی قومی اسمبلی میں نئے صوبوں کے معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی‘ وزیراعظم اور وزیر مذہبی امور خورشید شاہ اعلان کر چکے ہیں کہ سرائیکی صوبہ کابل آئندہ اجلاس میں پیش کرینگے جبکہ پیپلز پارٹی کے ہی رہنماءاور آئینی اصلاحات پر تحلیل شدہ خصوصی کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی کہہ رہے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو کافی اختیارات مل چکے ہیں۔ اسکے تحت نئے صوبوں کے متعلق سب سے پہلے قرارداد صوبائی اسمبلی میں منظور کرانا ہو گی۔ نئے صوبوں کیلئے قومی اسمبلی میں بحث کرانا غیرآئینی اور غیرقانونی ہے لیکن اسکے باوجود وزیراعظم سرائیکی صوبے کا بل اسمبلی کے آئندہ سیشن میں لانے کیلئے بضد ہیں۔ جب ملک کا چیف ایگزیکٹو ہی قانون کی پابندی نہیں کریگا‘ تو عوام سے کیسے توقع رکھی جا سکتی ہے۔ اب تو پوٹھوہار اور فاٹا کو بھی صوبہ بنانے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ کراچی کی پارٹی تو پہلے ہی چاہتی ہے کہ نئے صوبوں کا پینڈورا بکس کھول کر سندھ کو بھی تقسیم کرکے اپنی اجارہ داری قائم کی جائے‘ اسی لئے وہ صوبوں کی تقسیم کا واویلا کررہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہ اپنی سیاسی دکانداری کو چمکانے کیلئے قائداعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان کو صوبستان مت بنائیں۔ اسی ملک کو مضبوط کرنے کی جدوجہد کریں۔ لسانی بنیادوں پر ملک کو تقسیم کرنا انتہائی خطرناک ہو گا۔ یہ ماں جائی دھرتی ہے‘ کوئی غیرت مند بیٹا اپنی ماں کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کر سکتا ہے‘ ارکان پارلیمنٹ نے اس ماں جائی دھرتی کے تحفظ کی قسم اٹھا رکھی ہے‘ لہٰذا اپنے حلف کا خیال کرتے ہوئے اسکی حفاظت کریں نہ کہ اس میں انتشار پھیلانے کی کوشش کریں۔
صدر عدالت عظمٰی سے تصادم اختیار نہ کریں
صدر آصف زرداری نے کہا ہے: میمو پر پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ مانوں گا۔ پروا نہیں کیا ہوتا ہے‘ قوم ہمیں ہر صورتحال کیلئے تیار دیکھے گی۔
صدر کا یوں واشگاف کہنا ہے کہ میمو پر صرف پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ مانیں گے‘ سیدھا سیدھا عدالت عظمٰی کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرنے کے مترادف ہے جو کہ کسی طرح بھی مناسب نہیں اور یہ کہنا انتہائی خطرناک صورتحال کو دعوت دیتا ہے کہ پروا نہیں کیا ہوتا ہے‘ قوم ہمیں ہر صورتحال کیلئے تیار پائے گی۔ایسے ریمارکس دونوں بڑے ریاستی اداروں کیلئے حددرجہ تشویشناک ہیں۔ جب میمو کیس عدالت عظمٰی کمیشن کے زیر سماعت ہے تو پارلیمنٹ سپریم کورٹ سے اوپر نہیں کہ اسکی ایک قائمہ کمیٹی کے فیصلے کو سپریم کورٹ پر ترجیح دی جائے۔ ملک اس وقت جن تشویشناک حالات سے گزر رہاہے‘ اس میں سارا دخل موجودہ حکومت کی بیڈگورننس کا ہے اور اب اوپر سے یہ میموگیٹ کا معاملہ ‘ ایسے میں صدر ایک ذمہ دار منصب دار اور ملک و قوم کے کسٹوڈین کی حیثیت رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے قائم کردہ کمیشن کے فیصلے کا انتظار کریں۔ وہ یوں سپریم کورٹ کو نظرانداز نہ کریں اور اپنے وزراءکو بھی خبردار کریں کہ وہ عدالت عظمٰی کے بارے میں محتاط زبان استعمال کریں۔ صدر کا بیان دو اداروں کے ٹکراﺅ پر مبنی ہے‘ جو ہرگز قومی مفاد میں نہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب معاہدوں کو جلد پایہ تکمیل تک بھی پہنچائیں
وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترکی کے شانہ بشانہ ترقی و خوشحالی کا سفر طے کرینگے، مفاہمت کی 4 یادداشتوں پر دستخط کئے گئے، معاہدوں سے ترکی کے ساتھ دوطرفہ تعاون کی نئی مثال قائم ہوگی۔
میاں شہباز شریف کا دورہ ترکی انتہائی مثبت رہا، مستقبل میں جس کے دوررس اثرات مرتب ہونگے۔ ٹرانسپورٹ، تعلیم، سالڈو ویسٹ مینجمنٹ اور ٹریفک مینجمنٹ کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے امکانات روشن ہیں بلکہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی مشینری کی رقم بھی دے دی ہے۔ دو چار روز تک مشینری پاکستان پہنچ جائےگی جس سے یقینی طور پر صفائی ستھرائی کے کاموں میں بہتری آئےگی۔ امید ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے بھی مشینری بھی جلد پاکستان پہنچ جائیگی۔ میاں شہباز شریف بات کے دھنی اور عزم کے پکے ہیں، ان سے یہی امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ ترک حکام سے طے پانے والے تمام معاہدوں کو فی الفور پایہ تکمیل تک پہنچائینگے تاکہ دورے کی افادیت کھل کر سامنے آسکے۔