سوال کوٹ ڈیم کی تعمیر کا بھارتی منصوبہ .... اب محض احتجاج کا نہیں، عملی اقدامات کا وقت ہے

ـ 8 فروری ، 2010
بھارت نے دریائے چناب پر سوال کوٹ ڈیم کے نام سے ایک اور ڈیم کی تعمیر شرو ع کردی ہے۔ ہماری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس ڈیم کی بلندی 646فٹ ہے۔ اس طرح یہ ڈیم ہمارے تربیلا اور منگلا ڈیم سے بھی اونچا ہے جس میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بگلیہار ڈیم کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ہے۔ اس ڈیم کو دو ارب ڈالر کی مالیت سے تیار کیا جارہا ہے اور بھارتی وزارت داخلہ اس ڈیم کی تعمیر کی نگرانی کر رہی ہے۔ یہ ڈیم دریائے چناب پر ضلع ڈوڈہ اور اودھم پور میں تعمیر کیا جا رہا ہے جو پاکستان کی سرحد سے صرف 70 میل کے فاصلے پرہے۔ آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوال ڈیم کی تعمیر رکوانے کی کوشش نہ کی گئی تو پاکستان کی معیشت بالخصوص زراعت مکمل طور پر تباہ ہوجائے گی۔
اس وقت جبکہ ’’امن کی آشا‘‘ کے نام پر مخصوص مفادات کے حامل دونوں ممالک کے میڈیا گروپس کی جانب سے چلائی جانیوالی مہم کی بنیاد پر پاکستان بھارت مذاکرات کی بحالی کا ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے اور اس معاملہ میں بھارت کی جانب سے پیش رفت ہونے کا عندیہ دیا جا رہا ہے جبکہ بھارتی واٹر کمشنر اورنگا ناتھن بھی ہمارے دریائوںیا ندی نالے کہہ لیجئے کا معائنہ کرنے یکایک ہمارے ملک میں آن وارد ہوئے ہیں، ہمارے حکمرانوں اور متعلقہ حکام کو ہماری سالمیت کے خلاف دوستی کی آڑ میں زہریلی بھارتی سازشوں سے باخبر اور ہوشیار رہنا چاہئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت نے ہماری زرخیز دھرتی کو بنجر بنانے اور ہمیں صومالیہ اور ایتھوپیا جیسے حالات سے دوچار کرکے بھوکا پیاسا مارنے کی نیت کے تحت ہمارے خلاف آبی دہشت گردی شروع کر رکھی ہے جس کا آغاز سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے نیلم پر بگلیہار ڈیم کی تعمیر سے کیا گیا ہے یہ ڈیم اس ڈیزائن سے تعمیر کیا گیا کہ نہ صرف اس کے ذریعہ پانی زیادہ سے زیادہ سٹور ہو بلکہ کشمیر کے راستے اس دریا کے ہماری جانب آنے والے پانی کا بہائو بھی کم ہو جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے آبی ماہرین عالمی فورموں پر اس بھارتی سازش کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم تھے جنہوں نے عالمی بنک سے رجوع کرنے کیلئے پاکستان کا کیس بے دلی سے تیار کیا اور یہ کیس ہار کر اپنا سا منہ لے کر وہاں سے واپس آگئے جبکہ اس سے ہماری سالمیت کا درپے ہمارے اس موذی دشمن کے حوصلے مزید بلند ہوگئے اور اس نے ہماری جانب آنے والے دریائوں پر 62 سے زائد ڈیمز کی تعمیر شروع کرکے ہمارے حصے کے کم و بیش سارے پانی پر ڈاکہ ڈال لیا نتیجتاً ہمارے دریا، نہریں اور ہماری زرعی اراضی کو سیراب کرنے والے نالے تک خشک ہونا شروع ہوگئے۔ اس بھارتی سازش کے نتیجہ میں اس وقت ہمیں عملاً خشک سالی کا سامنا ہے جو بدترین قحط پر منتج ہوگی اور جب پانی نہ ملنے کے باعث ہماری زرخیز زمین ہمارے لئے گیہوں، اجناس اور ہمارے ڈھور ڈنگر کیلئے چارہ پیدا کرنے کے قابل نہیں رہے گی تو ہمارے دشمن کیلئے ہمیں بھوکا پیاسا مار کر موت کی وادی کی جانب دھکیلنا اور ایک کمزور پاکستان پر اپنا خونیں پنجہ گاڑنا انتہائی آسان ہو جائے گا۔
اس صورت حال میں جب دریائے چناب پر سوال کوٹ ڈیم کا بھارتی منصوبہ بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا تو بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر کے راستے آنے والا ہمارے حصے کا پانی مکمل بند ہونے کی صورت میں ہمیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپنے تجارتی اور ثقافتی مفادات کی خاطر بھارت کے ساتھ دوستی کیلئے ’’امن کی آشا‘‘ کی مہم چلانے والوں کو کیا اس بھارتی سازش کا احساس و ادراک ہے؟ اور اگر ادراک ہونے کے باوجود وہ بھارت کے ساتھ دوستی کی فکر میں غلطاں ہیں تو کیا وہ بھارت کو ہماری سالمیت کا گلا گھونٹنے کا موقع دے کر اپنے وطن عزیز کے ساتھ دشمنی نہیں کر رہے؟ اب تو عالمی ذرائع سے یہ رپورٹیں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں کہ بھارت نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر رکوانے کیلئے ایک سازش کے تحت سندھ میں اپنی لابی قائم کی جسے پراپیگنڈہ مہم کیلئے چھ ارب روپے فراہم کئے گئے، جبکہ اب دریائے چناب پر سوال کوٹ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ تیار کرکے بھارت ہمیں بھوکا پیاسا مارنے کی ٹھانے بیٹھا ہے۔
یقینا اسی نیت کے تحت بھارت نے کشمیر پر اپنا تسلط جمایا ہوا ہے تاکہ اس کی جانب سے آنے والے دریائوں کا جب چاہے پانی روک لے اور ہمیں موت کی وادی کی جانب دھکیل دے۔ اس لئے یہ امر بعیدازقیاس ہے کہ بھارت کسی عالمی دبائو یا اپنی کسی مجبوری کے تحت ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی سے ہٹ دھرمی سے دستکش ہو جائے گا اور کشمیری عوام کو حق خودارادیت دے کر انہیں پاکستان کے ساتھ الحاق کا موقع فراہم کرے گا۔ اگر وہ ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوا ہے تو لازماً اس کے پس منظر میں ہماری سالمیت کے خلاف اس کی کسی سازش کا عمل دخل ہوگا اس لئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ایسی کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ ہمارا یہ موذی اور مکار دشمن مذاکرات کی میز پر ہمارے ساتھ کشمیر اور پانی کے تنازعات کے ہماری خواہش اور ضرورت کے تحت حل پر آمادہ ہو جائے گا اور یو این قراردادوں کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیری عوام کو رائے دہی کا موقع فراہم کرے گا۔ ہماری بنیادی ضرورت اس وقت ملک کی سالمیت کو دشمن کی زہریلی سازشوں سے بچانے کی ہے جس کیلئے کسی لجاجت سے کام لینے اور اپنی کمزوری ظاہر ہونے دینے کے بجائے ہمیں اس دشمن کو دو ٹوک الفاظ میں باور کرانا ہوگا کہ اگر اس نے ہمارے حصے کا پانی روکے رکھنے کی پالیسی برقرار رکھی تو اپنا حق لینے کیلئے ہم اس کے ساتھ ایٹمی جنگ سے بھی گریز نہیں کریں گے کیونکہ یہ ہماری زندگی اور موت کا سوال ہے۔
جب وفاقی وزیر برائے امور کشمیر میاں منظور احمد وٹو کو بھی یہ احساس ہو چکا ہے کہ بھارت کی طرف سے ڈیموں کی تعمیر سے پاکستان بنجر ہوسکتا ہے تو پھر حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر بھارت سے پاکستان کا پانی روکنے پر کیوں سخت احتجاج نہیں کیا جاتا اور اپنی گردن پر اس موذی دشمن کو خونیں پنجہ گاڑنے کا کیوں موقع فراہم کیا جا رہا ہے اور اگر بھارت کی جانب سے بچھائی جانے والی مذاکرات کی بساط میں کشمیر اور پانی کا مسئلہ ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں تو مذاکرات کے اس بھارتی جال میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ یقینا ہماری زندگی اور موت کا سوال ہے اس لئے حکومت کو نہ صرف بھارتی آبی دہشت گردی کا توڑ کرنا چاہئے بلکہ اپنی شہہ رگ کشمیر کو اس کے خونیں پنجہ سے بزور چھڑانے کی بھی ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ اب محض زبانی جمع خرچ اور رسمی احتجاج کا نہیں، اپنے دشمن کے دانت کھٹے کرنے کیلئے عملی اقدامات کا وقت ہے جس میں ہماری کسی کمزوری کا تاثر ہمارے دشمن کے حوصلے مزید بلند کرسکتا ہے۔
پریڈ… منسوخ نہیں ہونا چاہئے!
یوم پاکستان کے حوالے سے 23 مارچ کو ہونے والی سب سے بڑی تقریب تینوں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے۔ وزارتِ دفاع اور عسکری ذرائع نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید نے مشترکہ پریڈ منسوخ کئے جانے کی وجوہات سے وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے جس پر انہوں نے اسکی باقاعدہ منظوری دے دی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس وقت ڈیڑھ لاکھ سے زائد فوج پاک افغان سرحدوں پر متعین ہے جبکہ ہزاروں فوجی سوات مالا کنڈ میں سیکور ٹی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے تعینات ہیں۔ اس لئے پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ باقی تقریبات اپنے روائتی انداز میں شیڈول کے مطابق ہونگی۔
یقینا پریڈلین میں جو دلخراش سانحہ رونما ہوا تھا 23 مارچ کی تقریب پریڈ ایسی ہی کسی صورتحال سے بچنے کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے مگر اسکا بہتر طریقہ یہی تھا کہ اس تقریب پر سیکورٹی بہت زیادہ سخت کر دی جاتی۔ حاضرین کی تعداد کم کر دی جاتی مگر یہ تقریب افواج پاکستان ملتوی نہ کرتیں کیونکہ سال بھر لوگ اس قومی تقریب کا انتظار کرتے ہیں اور اس تقریب کے ذریعہ افواج کے شان و شکوہ کا مظاہرہ ہوتا ہے فوجی اسلحہ کی نمائش ہوتی ہے۔ تقریب ملتوی کرنے سے دہشت گردوں کو خوشی ہو گی کہ ان کی کوشش کئے بغیر پاکستانی فوجی میدان سے ہٹ گئی ہیں۔ اس سے افواج کے تاثر میں کمی ہو گی اور دشمن پر ہماری کمزوری ظاہر ہوگی۔ حفاظتی بندوبست کو فول پروف کر کے پریڈ ضرور کرانی چاہئے اس پریڈ میں چونکہ دنیا بھر کے سفارتی ذرائع بھی ہماری عسکری طاقت کا مظاہرہ دیکھتے ہیں اور وہ گزشتہ تین سال سے اس پریڈ کو نہ دیکھ کر یقیناً منفی تاثر ہی لیں گے۔ بہرطور قوم کے مجموعی وقار کا مسئلہ ہے۔ یہ پریڈ ملتوی یا منسوخ نہیں ہونی چاہئے۔ حکومت کو اس سلسلہ میں فیصلہ پر نظرثانی کرنی چاہئے۔
صدر اوبامہ کے نام… لارڈ نذیر احمد کا خط
برطانوی ہاوس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے شفاف ٹرائل اور انکی رہائی کیلئے تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے امریکی صدر کو ایک خط بھی لکھا ہے اورباور کرایا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کا شفاف ٹرائل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس میں آزاداور غیر جانب دار وکلا اور میڈیا کو سماعت کی اجازت دی گئی۔
لارڈ نذیر احمد نے اپنے خط میں امریکی صدر کو لکھا ہے کہ گوانتاناموبے جیل سے رہائی پانے والے دو برطانوی شہریوں نے گواہی دی ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کو بگرام ایئربیس پر دیکھا تھا، انہوں نے کہا کہ یہ ظلم کی انتہا ہے کہ پہلے ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان سے اٹھایا گیا پھر پانچ برس تک غائب رکھا گیا اور سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ڈاکٹر عافیہ پر جھوٹامقدمہ بنایا۔ ایسے حالات میں امریکی عدالت کا فیصلہ محض کینگرو کورٹ کا فیصلہ ہوگا۔ جسکی وجہ سے اس خطہ میں موجود امریکی فوجوں کو اسکے پاکستانی اتحادیوں سمیت کام کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں جس سے سکیورٹی صورتحال میں خرابی پیدا ہوگی اور خطے میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کوبھی شدید دھچکا لگے گا۔
برطانوی ہائوس آف لارڈز کے رکن عزت مآب لارڈ نذیر کی طرف سے امریکی صدر کو لکھا گیا یہ خط انتہائی وقیع اور مدلل دستاویز ہے۔ جس میں امریکی صدر کو امریکی عدالتوں اور امریکی جمہوریت اور انسانی حقوق کے سلسلہ میں امریکی کردار کی اصل صورت دکھائی گئی ہے۔ امریکی حکومت پراس خط کا کیا اثر ہوتاہے۔ اسکا تو معلوم نہیں البتہ لارڈ نذیر احمد نے انسانی، دینی اور جمہوری اقدار کا حق ادا کردیا ہے۔ اگر امریکی صدر نے انکے خط کو نظرانداز کردیا تو پھر پوری قوم لارڈ نذیر احمد کے زیر قیادت تحریک چلانے کیلئے تیار ہوگی انہوں نے ایک پاکستانی مسلمان خاتون کے سلسلہ میں اپنے اثر و رسوخ اور شخصیت کے ذریعہ جو کام کیا ہے وہ ہم سب پاکستانیوں کیلئے ایک یادگار مثال ہے۔
’’انصاف میں تاخیر بھی نہ ہو…‘‘
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی ایک کٹھن ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کیلئے بار اور بنچ کو ملکر ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ وہ کراچی بار‘ خیرپور بار‘ سندھ بار کونسل اور مختلف ضلعی بار ایسوسی ایشنوں کے وفود سے بات چیت کررہے تھے۔
فاضل چیف جسٹس نے ملنے والوں کو یقین دلایا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی پر عملدرآمد اور اس میں بیان کردہ اہداف کے حصول کیلئے مکمل تعاون کیا جائیگا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی یقین دہانی قابل قدر ہے اور وہ خود جانتے ہیں کہ انکی جاری کردہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کو پوری قوم نے بنظر تحسین پسند کیا ہے۔ عوام کا سب سے بڑا مسئلہ‘ فوری انصاف ہے‘ اس وقت ماتحت عدلیہ اور اعلیٰ عدلیہ میں ہزاروںایسے مقدمات بھی زیرالتواء ہیں جو قیام پاکستان سے قبل دائر کئے گئے ہیں اور تین نسلیں مقدمہ لڑتے ہوئے فیصلے کے انتظار میں گزر گئیں۔ یورپ اور امریکہ میں زیرالتواء مقدمات نبٹانے کیلئے اچھے وکلاء کو ایڈہاک ججوں کے طور پر مقرر کردیا جاتا ہے اور وہ دو تین مہینے میں عدالتوں کا یہ جمع شدہ بار ختم کردیتے ہیں ۔انصاف کا سسٹم اس طرح بنایا جائے کہ وکلاء کی طرف سے تاخیری حربوں کو جج خود ہی ناکام بنائیں اور جلد فیصلہ کرنے کی روایت شروع کی جائے۔ سستا انصاف وہی ہوگا جو جلد دستیاب ہوسکے۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ اس لئے ماتحت عدلیہ سے اعلیٰ عدلیہ تک سارے عدالتی نظام کو اس انقلابی روح سے آشنا کرنے کی ضرورت ہے جسے اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہر جگہ متعارف کرا رہے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter