بون کانفرنس کا اعلامیہ‘ ڈرون حملے جاری رکھنے کا امریکی اعلان اور وزیراعظم گیلانی کی خوش فہمی .... اب نیٹو کی سپلائی لائن مستقل بند رکھنا ہی ہمارے مفاد میں ہے
ـ 8 دسمبر ، 2011
جرمنی کے شہر بون میں منعقدہ ایک روزہ نیٹو کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے جبکہ افغانستان کے امن و استحکام اور ترقی میں پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان کا کردار کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے‘ اس حوالے سے پاکستان بون کانفرنس میں شرکت کرتا تو اس میں سب کا فائدہ ہوتا۔ انکے بقول افغانستان غیرمستحکم ہوا تو اس کا پڑوسی ممالک کو ہی زیادہ نقصان ہو گا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کی جانب سے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات اور دہشت گردی کی جنگ میں تعاون جاری رکھنے سے متعلق بیان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ صورتحال حوصلہ افزاءہے اور ہمیں پاکستان کے تعمیری کردار کی ہی توقع ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منعقد ہونےوالی اس عالمی نیٹو کانفرنس میں بھارت اور افغانستان نے علاقائی حالات کی خرابی کا پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا جبکہ نیٹو کانفرنس کے اعلامیہ میں پاکستان اور ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کا بوجھ مزید برداشت کریں۔ کانفرنس میں افغانستان کے مسئلہ کے حل کیلئے مفاہمتی عمل کی بھی توثیق کی گئی اور کہا گیا کہ مفاہمتی عمل افغانوں کی رہنمائی میں ہی شروع ہو گا۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ جس افغانستان کے امن و استحکام اور ترقی کیلئے پاکستان کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اس سے اپنا کردار بروئے کار لانے کا تقاضہ کیا جا رہا ہے اور اس تناظر میں بون کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے‘ اس افغانستان کے کٹھ پتلی صدر کرزئی پاکستان کی سالمیت کے ہی درپے ہیں اور بھارت اور نیٹو فورسز دونوں کی جانب سے پاکستان کی سالمیت کیخلاف سازشوں کیلئے افغان سرزمین ہی استعمال کی جاتی ہے۔ بھارتی ایجنسی ”را“ نے بھی اپنے دہشت گردوں کو افغانستان میں تربیت دلوا کر وہیں سے اسلحہ اور تخریب کاری کے دوسرے سامان سمیت پاکستان بھجوایا‘ جنہوں نے یہاں دہشت و وحشت کا بازار گرم کرکے پاکستان کی سالمیت کو کمزور بنانے کی سازش کی جبکہ امریکہ کے ایبٹ آباد اپریشن کے بعد کرزئی حکومت کی معاونت سے نیٹو فورسز نے طالبان کے بھیس میں دہشت گردی کی ایک کھیپ تیار کی جنہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر یہاں چیک پوسٹوں پر حملے کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا جبکہ گزشتہ ماہ نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے افغانستان ہی سے اڑ کر مہمند ایجنسی میں پاکستان کی سلالہ چیک پوسٹوں پر وحشیانہ بمباری کی جس میں پاکستان کے 24 فوجی جوان شہید اور کم و بیش اتنے ہی زخمی ہوئے۔ اس صورتحال میں تو بون کانفرنس کا انعقاد افغان سرزمین پر پاکستان کی سالمیت کیخلاف ہونیوالی سازشوں کا سدباب کرنے کیلئے کیا جانا چاہیے تھا جبکہ پاکستان کے پاس تو مہمند ایجنسی میں نیٹو حملوں کے بعد اس کانفرنس میں شمولیت کا کوئی جواز ہی موجود نہیں رہا تھا۔ اس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ سمیت مختلف مندوبین نے پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسکی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ افغان صدر کرزئی اور بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے براہ راست پاکستان پر ہی الزام عائد کیا کہ علاقائی کشیدگی کا وہی ذمہ دار ہے جو پاکستان دشمنی ہی نہیں‘ اس حقیقت کو بھی جھٹلانے کے مترادف ہے کہ اس خطہ میں امن و سلامتی کو نائن الیون کے بعد امریکی نیٹو افواج کی افغانستان آمد سے خطرات لاحق ہوئے ہیں جبکہ امریکی مفادات کی جنگ میں شریک ہو کر پاکستان خود بھی بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہے جس سے بھارت کو بھی فائدہ اٹھانے کا موقع ملا جبکہ کٹھ پتلی افغان صدر کرزئی بھی اپنے اقتدار کی بیساکھیاں مضبوط بنانے کیلئے امریکی نیٹو فورسز کو پاکستان کے اندر کارروائیوں کیلئے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے رہے ہیں۔
اس خطہ میں امریکی جارحانہ توسیع پسندانہ عزائم کیخلاف تو یورپی نیٹو ممالک ہی نہیں‘ امریکہ کے اپنے عوام بھی سراپا احتجاج ہیں جو نیٹو افواج کی افغانستان سے واپسی کا مسلسل تقاضہ کر رہے ہیں۔ بون کانفرنس کے موقع پر بھی اسی تناظر میں بون اور لندن میں وہاں کے مقامی باشندوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ بون کانفرنس میں شریک جرمنی اور روس کے مندوبین میں سے بھی انکی خواتین ارکان نے ہلیری کلنٹن کی تقریر کے موقع پر احتجاجاً کانفرنس کا بائیکاٹ کیا اور باور کرایا کہ جس کانفرنس میں اصل فریق پاکستان اور سابقہ افغان طالبان حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہے تو اس کانفرنس سے خطہ میں قیام امن کے مقاصد کیونکر پورے ہو پائیں گے۔ یہ مندوب خواتین مہمند ایجنسی میں نیٹو ہیلی کاپٹروں کے حملے کی بھی سخت مذمت کر رہی تھیں۔ کیا یہ صورتحال علاقائی اور عالمی امن کیلئے خطرے کو دعوت دینے والے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کیلئے لمحہ فکریہ نہیں کہ انکے توسیع پسندانہ عزائم اور پالیسیوں کو خود انکے عوام بھی قبول نہیں کر رہے جبکہ واشنگٹن انتظامیہ اپنے ان عزائم کی تکمیل میں اتنی اندھی ہو چکی ہے کہ پاکستان کیخلاف جارحیت کے ارتکاب پر وہ معافی مانگنے کو بھی تیار نہیں بلکہ پاکستان کو آج بھی پینٹاگون کی جانب سے باور کرایا جا رہا ہے کہ اگر اس نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں تعاون نہ کیا تو مہمند ایجنسی جیسے دوسرے حملے کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح امریکہ کے دفاعی حکام بھی پاکستان کو باور کرا رہے ہیں کہ شمسی ایئربیس خالی کرنے کے باوجود ڈرون حملے جاری رکھے جائینگے جن کا انکے بقول متبادل انتظام کرلیا گیا ہے۔
یہ امریکی پالیسی تو مفاہمت کے بجائے پاکستان کے ساتھ کھلی دشمنی اور اعلان جنگ کے مترادف ہے‘ جس کی موجودگی میں پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ کا ساتھ دینے کا تقاضہ کرنا اور اس سے تعاون برقرار رکھنے کی توقع کرنا پرلے درجے کی حماقت ہو گا۔ پاکستان کی حکومت نے یقیناً اسی تناظر میں ملکی مفادات اور قومی امنگوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعاون کی پالیسی پر نظرثانی کا فیصلہ کیا اور فوری اقدام کے طور پر نیٹو کی سپلائی روک لی‘ امریکہ سے شمسی ایئربیس 15 دن کے اندر خالی کرنے کا تقاضہ کیا اور ڈرون حملوں کے بارے میں بھی سخت پالیسی اختیار کی جبکہ بون کانفرنس کا بائیکاٹ بھی اسی تناظر میں کیا گیا جو بروقت‘ مناسب اور ٹھوس فیصلے تھے جن پر قوم کی جانب سے اطمینان کا اظہار بھی کیا گیا اور یہ پیغام بھی دیا گیا کہ ملک کی بقاءو سلامتی کے تحفظ کیلئے پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
اگر آبرومندی پر مبنی اس پالیسی کو برقرار رکھا جائے اور امریکی مفادات کی جنگ سے مکمل علیحدگی اختیار کرلی جائے تو اس میں ہماری بقاءو سلامتی کی ضمانت موجود ہے تاہم وزیراعظم گیلانی کے گزشتہ روز کے اس بیان سے قوم کو سخت مایوسی ہوئی کہ نیٹو حملے کے باوجود ہم امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ روابط کی بحالی میں اب دیر نہیں لگے گی۔ وزیراعظم کی یہ رجائیت پسندی تو امریکہ کیلئے پاکستان کے نرم چارہ ہونے کا پیغام دینے کے مترادف ہے جبکہ ہمارے جرنیلی اور موجودہ سول حکمرانوں کی ایسی مفاہمانہ پالیسیوں سے ہی امریکہ کو ہم پر غالب آنے کا موقع ملتا ہے اور ہماری سالمیت پر وار کرنے کیلئے اس کا سفر آسان ہو جاتا ہے۔ اگر امریکہ آج بھی ہماری سرزمین پر ڈرون حملے جاری رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور مہمند ایجنسی جیسی کسی دوسری کارروائی کی بھی دھمکی دے رہا ہے تو پھر وزیراعظم کس خوش فہمی میں امریکہ کےساتھ اچھے تعلقات کی بحالی کے خواہش مند ہیں؟
اب ملکی اور قومی مفادات کا تو یہی تقاضہ ہے کہ نیٹو کی سپلائی مستقل طور پر بند کردی جائے اور شمسی ایئربیس کے علاوہ امریکہ کے زیر استعمال دیگر ایئربیسز بھی اس سے خالی کرالئے جائیں اور آئندہ کسی ڈرون کو پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس صورتحال میں ہی ہم اپنی خودمختاری تسلیم کرا سکتے ہیں اور ملک کی سالمیت کو بیرونی جارحیت کے خطرات سے بچا سکتے ہیں جبکہ اب امریکہ کےساتھ کسی نرم رویے کے ہم کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتے اور نہ ہی بھارت یا افغانستان کےساتھ‘ جس نے اپنی فوج کو بھارت سے تربیت دلوانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پاکستان کےساتھ دوستی ہے یا دشمنی؟ کیا فرماتے ہیں ” قرضی صاحب“ بیچ اس مسئلے کے؟
خسارہ.... بھارت کےساتھ تجارت کی ضرورت ہی کیا!
ہمارے کامرس رپورٹر کےمطابق دشمن ملک بھارت کو تجارت کےلئے انتہائی پسندیدہ قرار دینے کے جنون میں مبتلا پاکستان کو بھارت سے تجارت کے دوران رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں تیس کروڑ 78 لاکھ ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا۔ہمارے حکمرانوں نے بھارت کو تجارت میں پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا جواز یہ بتایا تھا کہ بھارت پاکستان کی یورپی یونین کے ساتھ تجارت کے راستے کھولتے ہوئے ڈبلیو ٹی او میں پاکستان کی شمولیت کے حق میں ووٹ دےگا۔ بھارت نے ایسا ہی کیا لیکن بنگلہ دیش کو اُکسا کر پاکستان کےخلاف ”بغل میں چھری منہ میں رام رام“ کا بھرپور کردار ادا کیا۔ مسئلہ کشمیر کی موجودگی اور ساڑھے سات لاکھ بھارتی سفاک سپاہ کے نہتے کشمیریوں پر مظالم کے دوران بھارت سے تجارت اور تعلقات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اسے پسندیدہ قرار دینا تو تحریک آزادی کے لاکھوںکشمیری شہدا کے خون سے غداری ہے۔ پاکستان کو تو بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی راہ پر ہی نہیں آنا چاہیے لیکن جب پاکستان کی WTO میں شرکت ممکن نہیں ہو سکی تو بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے لینا چاہیے تھا لیکن حکمران بدستور قوم پر ایسا فیصلہ مسلط کرنے پر بضد ہیں جس میں خسارہ ہی خسارہ ہے۔ رواں مالی مال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران بھارت سے تجارت میں30 کروڑ 78 لاکھ ڈالر خسارہ ہوا جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے پانچ کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔ کوئی احمق ہی ایسی تجارت پر مطمئن ہو گا جو اصولوں کو پامال اور کشمیریوں کی امنگوں کا خون کرکے کی جا رہی ہو جس میں سراسر خسارہ ہی ہے، حکمران ہوش کے ناخن لیں، بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کاسٹیٹس واپس لیں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت کےساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات اور تجارت سے باز رہیں۔
مسافر وں بسوں کو سی این جی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے
صوبائی دارالحکومت لاہور میں عوام کی سہولت کےلئے سڑکوں پر لائی جانےوالی نئی بسیں سی این جی کی وجہ سے پہلے دو ہفتوں کے دوران ہی بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔ ہفتہ میں تین روز گیس کی بندش کے باعث نئی بسیں اپنے اڈوں پر کھڑی رہتی ہیں۔ سی این جی بس کمپنیوں کے بقول حکومت پنجاب نے یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ بسیں گیس لوڈشیڈنگ کے شیڈول سے مستثنیٰ ہونگی۔آج لاہور، کراچی، ملتان، پشاور اور راولپنڈی جیسے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید قلت ہے، پنجاب حکومت نے لاہور کےلئے 78 بسوں کی پہلی کھیپ منگوائی۔ دیگر شہروں کےلئے مزید بھی منگوائی جا رہی ہیں۔ جب پہلے سے منگوائی گئیں بسیں ہی کامیابی سے اپنا سفر طے نہیں کر رہیں تو مزید لانے واالوں کی حوصلہ شکنی ہو گی ساتھ ہی سفر کے حوالے سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ محکمہ گیس مرکز کے ماتحت ہے۔ لاہور میں پیپلز پارٹی کے ووٹرز اور سپورٹرز کی بھی کمی نہیں اس لئے مرکزی حکومت صرف مسلم لیگ ن کو ٹف ٹائم دینے کی خاطر عوامی مفادات کےخلاف فیصلے نہ کرے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب مرکزی حکومت کے کردار پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ وزیر اعظم گیلانی عوامی مفاد میں اگر ہفتہ میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم نہیں کراسکتے تو کم از کم بسوں کا پہیہ رواںکھنے کیلئے سی این جی بسوں کو تو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دے دیں۔ اسکے ساتھ ساتھ حکومت کو ایران سے گیس درآمد کرنے کے معاہدے پر بھی تیزی سے عمل کرتے ہوئے قوم کو گیس کی قلت سے نجات دلانے کے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
حکومت شیشے کے استعمال پر فی الفور پابندی عائد کرے
شیشہ کے بے دریغ استعمال نے فیشن ایپل لڑکیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، شیشے کے نقصانات سگریٹ نوشی سے بھی زیادہ ہیں، اسکے استعمال سے گلے اور سانس کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں، جبکہ تمباکو والے پان اور گٹگے کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ کیفے مالکان نے اپنے کاروبار کو عروج دینے کیلئے نوجوان نسل کو تباہ کرنا شروع کر رکھا ہے۔ پابندی کے باوجود کیفے مالکان نے نوجوان نسل کو نشی بنا دیا ہے، پوش علاقوں میں ہر ویک اینڈ پر منعقد ہونےوالی خصوصی ڈانس پارٹیوں کے شرکاء چرس، شراب، شیشہ اور گٹگے کا استعمال عام کرتے ہیں، جس سے پھیپھڑوں کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کو سخت قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ سر عام کیفوں پر موت تقسیم نہ ہو۔ والدین کو بھی اپنی اولاد کو کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ نوجوان نسل اگر بے راہ روی پر چل پڑی تو اسے سنبھالنا مشکل ہو جائےگا۔ ہمارے ہاں لڑکوں اور لڑکیوں میں موبائل فون، انٹرنیٹ کے بے جا استعمال نے بہت ساری قبیح چیزوں کو جنم دیا ہے اس طرح تمباکو والے پان اور چھوٹی عمر کے بچوں میں سگریٹ کا بڑھتا استعمال معاشرے کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دےگا۔ سکولز کالجز کے اساتذہ اور گھروں میں والدین اس پر خصوصی توجہ دیں اور اپنی اولاد کی تربیت اچھے انداز سے کریں کیونکہ جب معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، تو اسکی ابتداءگھر سے ہی ہوتی ہے بگڑے ہوئے معاشرے کو سدھارنا مشکل ہوتا ہے۔ حکومت بھی اس سلسلے میں سختی کرے جہاں جہاں کیفوں میں موت تقسیم ہو رہی ہے اس کا فی الفور سدباب کریں اور کیفے مالکان معصوم بچوں پر رحم کرتے ہوئے اس کاروبار کو فی الفور بند کریں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں